علمی ، ادبی ، تعلیمی اور تربیتی درسگاہ

علمی ، ادبی ، تعلیمی اور تربیتی درسگاہ

Share

اسلام ، ادب ،تصوف ، فلسفہ ، سیاست ، سائنس ، منطق ، ثقافت

26/05/2021

طائف ستہ و اذکار لطائف ***

1- لطیفہ قلب
قلب سے مراد گوشت کا ٹکرا نہیں بلکہ ایک لطیفہ ہے جس میں ﷲ فیض ودیعت فرماتا ہے۔
اسے قلب حقیقی کہا جاتا ہے لطیفہِ قلب کا مقام انسان کے جسم میں بائیں پستان کے نیچے دو 2 انگشت کے فاصلے پر مائل بہ پہلو ہے اس کی فناء قلب پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات افعال کا ظہور ہے اس کی علامت ذکر کے وقت ماسویٰ اللہ کا نسیان اور ذاتِ حق کے ساتھ محوّیت ہے (اگرچہ تھوڑی دیر کے لیے ہو) اس کی تاثیر رفعِ غفلت اور دفعِ شہوت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔
لطےفی قہب مقام احدیت اور ولایئت صغٰری کا ہے یہ مقام حضرت آدم علیہ اسلام کے زیر قدم ہے۔
**** ذکر کا طریقہ ****
زبان کو تالو کے ساتھ لگا کہ اسم ذات ( اللّہ ) 2100 مرتبہ سے شروع کر کہ حد تعداد 24000 مرتبہ روزانہ ذکر کریں۔
اس کا نور سرخ ہے اور اس کے نور سے مرتبہ علم الیقین حاصل ہوتا ہے
**********************************************
2- لطیفہ روح
اس کا مقام انسان کے سینے میں دائیں پستان کے نیچے دو انگشت کے فاصلے پر مائل بہ پہلو ہے۔ اس کی فناء روح پر اللہ تعالیٰ کی صفات ثبوتیہ کا ظہور ہے۔ اس کی علامت ذکر کے وقت کیفیاتِ ذکر (قلبی و روحی) میں اضافہ و غلبہ ہے۔ اس کی تاثیر غصّہ و غضب کی کیفیّت میں اعتدال اور طبیّعت میں اصلاح و سکون کی کیفیت کا ظہور ہے۔
**** ذکر کا طریقہ ****
زبان کو تالو کے ساتھ لگا کہ اسم ذات ( اللّہ ) 1000 مرتبہ سے شروع کر کہ حد تعداد 2100 مرتبہ روزانہ ذکر کریں۔
یہ مقام حضرت نوح علیہ اسلام کے زیر قدم ہے اس کا نور سفید براق ہے اور اس کے نور سے مرتبہ حق الیقین حاصل ہوتا ہے
**********************************************
3- لطیفہ سر
اس کا مقام انسان کے سینے میں بائیں پستان کے برابر دو انگشت کے فاصلے پر مائل بہ وسط سینہ ہے اس کی فناء لطیفہ سِر پر اللہ تعالیٰ کی صفات کے شیونات و اعتبارات کا ظہور ہے اس کی علامات ہر دو سابق لطیفوں کی طرح اس میں ذکر کا جاری ہونا اور کیفیات میں ترقی رونما ہونا ہے
(یاد رہے کہ یہ مشاہدہ اور دیدار کا مقام ہے)
اس کی تاثیر طمع اور حرص کے خاتمے نیز دین کے اُمور کے معاملے میں بلا تکلف مال خرچ کرنے اور فکر آخرت کے جذبات کی بیداری سے ظاہر ہوتی ہے
**** ذکر کا طریقہ ****
زبان کو تالو کے ساتھ لگا کہ اسم ذات ( اللّہ ) 1000 مرتبہ سے شروع کر کہ حد تعداد 2100 مرتبہ روزانہ ذکر کریں۔
یہ مقام حضرت موسیٰ کلیم اللّہ علیہ اسلام کے زیر قدم ہے اس کا نور سبز ہے اور اس کے نور سے مرتبہ حقیقت الحق حاصل ہوتا ہے۔
**********************************************
4- لطیفہ خفی
اس کا مقام انسان کے سینے میں دائیں پستان کے برابر دو انگشت کے فاصلے پر مائل بوسط سینہ ہے۔ اس کی فناء صفات سلبیہ تنزیہ کا ظہور ہے۔ اس کی علامت اس میں ذکر کا جاری ہونا او عجیب و غریب احوال کا ظہور ہے اس کی تاثیر حسد و بخل اور کینہ و غیبت جیسی امراض سے مکمل نجات حاصل ہو جانے سے ظاہر ہوتی ہے اس کا نور نیلگوں ہے۔
**** ذکر کا طریقہ ****
زبان کو تالو کے ساتھ لگا کہ اسم ذات ( اللّہ ) 1000 مرتبہ سے شروع کر کہ حد تعداد 2100 مرتبہ روزانہ ذکر کریں۔
یہ مقام حضرت عیسٰی روح اللّہ علیہ اسلام کے زیر قدم ہے اس کا نور نیلگوں ہے اور اس کے نور سے مرتبہ حق الحقیقت حاصل ہوتا ہے۔
**********************************************
5- لطیفہ اخفی
اس کا مقام انسان کے جسم میں وسط سینہ ہے اس کی فناء مرتبہ تنزیہ اور مرتبہ احدیت مجردہ کے درمیان ایک برزخی مرتبے کے ظہور و شہود سے وابستہ ہے اور یہ ولائت محمدیہ علیٰ صاحبہ الصلوات کا مقام ہے اس کی علامت اس میں بلا تکلف ذکر کا جاری ہونا اور قرب ذات کا احساس و شہود ہے اس کی تاثیر فخر و غرور اور خود پسندی جیسی روحانی امراض سے رہائی پانے اور مکمل حضور و اطمینان کے حصول سے ظہور پزیر ہوتی ہے اس کا نور آنکھ کی پتلی کی ماند سیاہ ہے.
**** ذکر کا طریقہ ****
زبان کو تالو کے ساتھ لگا کہ اسم ذات ( اللّہ ) 1000 مرتبہ سے شروع کر کہ حد تعداد 2100 مرتبہ روزانہ ذکر کریں۔
یہ مقام سید الانبیاحضرت محمد مصطفی(ٖصل اللّہ علیہ واٰلہ وسلم) کے زیر قدم ہے اس کا نور آنکھ کی پتلی کی ماند سیاہ ہے اور اس کے نور
سے مرتبہ حق حاصل ہوتا ہے۔
**********************************************
6- لطیفہ نفس
اس کا مقام وسط پیشانی یا ام الدماغ ہے۔ بعض کے نزدیک اس کا مقام زیر ناف ہے اگرچہ بظاہر اختلاف معلوم ہوتا ہے لیکن ارباب عرفان کے نزدیک ابتدا اور انتہا کا فرق ہے۔ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے یوں تطبیق فرمائی ہے کہ اس کا سر ام الدماغ یا وسط پیشانی ہے اور اس کا قدم متصل زیر ناف ہے
(اہل کشف کے نزدیک ہر دو مقام نفس کے لحاظ سے برابر ہیں)
اس کا نور زرد سنہری ہے اس کی تاثیر نفسانیت اور سرکشی کے مٹ جانے عجز و انکسار کا مادہ پیدا ہونے اور ذکر میں ذوق و شوق بڑھ جانے سے ظاہر ہوتی ہے.
**** ذکر کا طریقہ ****
زبان کو تالو کے ساتھ لگا کہ اسم ذات ( اللّہ ) 1000 مرتبہ سے شروع کر کہ حد تعداد 2100 مرتبہ روزانہ ذکر کریں۔
یہ مقام حضرت ابراہیم خلیل اللّہ علیہ السلام کے زیر قدم ہے اس کا نور زرد سنہری ہے اور اس کے نور سے مرتبہ عین الیقین حاصل ہوتا ہے۔
**********************************************
7- لطیفہ قالبیہ
یہ عالم خلق کا بظاہر دوسرا لطیفہ ہے لیکن درحقیقت چاروں لطائف( ) پر مشتمل ہے اس کا مقام سارا قالب (جسم) ہے (بعض کے نزدیک متصل ناف ہے) اس کی علامت ہر ہر جزو بدن اور بال بال سے ذکر کا جاری ہوجانا اس کی تاثیر رذائل بشریہ اور علائق دینویہ سے رہائی پالینے سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس کا نور آتش نما ہے۔ حضرت عبد اللہ بن خراز رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کتابوں میں لکھی ہوئی باتوں کو علما جانتے ہیں، اشاروں کو دانا جانتے ہیں جبکہ لطائف کو سرداران مشائخ جانتے ہیں.

28/04/2021

سلطان الاذکار ‘‘ھو ‘‘

اسم اللہ ذات کے ذکر کی چار منازل ہیں اللہ للہ لہ ھو اسم اللہ ذات اپنے مسمّٰی ہی کی طرح یکتا ' بے مثل اوراپنی حیرت انگیز معنویت وکمال کی وجہ سے ایک منفرد اسم ہے۔اس اسم کی لفظی خصوصیت یہ ہے کہ اگر اس کے حروف کو بتدریج علیحدہ کردیا جائے تو پھر بھی اس کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اورہر صورت میں اسمِ اللہ ات ہی رہتا ہے ۔ اسم اللہ کے شروع سے پہلا حرف اہٹا دیں تو للہ رہ جاتا ہے اور اس کے معنی ہیں'' اللہ کے لئے'' اور یہ بھی اسمِ ذات ہے قرآن مجید میں ہے:

للہ ما فی السمٰوٰت وما فی الارض
ترجمہ: ''اﷲ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے''۔
اور اگر اس اسم پاک کا پہلا '' ل ' ہٹا دیں تو '' للہ '' رہ جاتا ہے جس کے معنی ہیں''اس کے لئے'' اور یہ بھی اسمِ ذات ہے ۔ جیسے ارشادِ ربانی ہے:۔
لہ الملک ولہ الحمد وھو علٰی کل شیئ قدیر
ترجمہ: ''اسی کے لیے بادشاہت اور حمد وستائش ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے''۔
اور اگر دوسرا '' ل '' بھی ہٹا دیں تو '' ھو '' رہ جاتا ہے اور یہ اسمِ ضمیر ہے اور اس کے معنی ہیں'' وہ'' اور یہ بھی اسمِ ذات ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے:
ھو اللہ الذی لا الٰہ الا ھوترجمہ: وہی اﷲ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر ھُو (ذاتِ حق تعالیٰ)۔ فقراء اور عارفین نے '' ھو ' کو اسمِ اعظم اور سلطان الاذکار بتایا ہے۔
مام رازی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں '' ھو '' اسمِ اعظم ہے۔
شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ فتوحاتِ مکیہ جلد دوم میں فرماتے ہیں:
ھو عارفین کا آخری اور انتہائی ذکرہے۔''
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اس کو عارفین کا آخری اور انتہائی ذکر قرار دیا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ذاکراں را انتہا ھو شد تمام
ترجمہ: ذکرِ ھو ذاکرین کا انتہائی ذکر ہے ۔
ذکر ‘‘ ھو ‘‘ کرتے کرتے جب ذاکر کے وجود پر اسمِ ھو غالب آکر اُسے اپنے قبضے میں لے لیتا ہے تو اس کے وجود میں' ھو ‘ کے سوا کچھ نہیں رہتا۔(محک الفقر کلاں)
باھو با ھو فنا با ھو بقا شد
کہ اول آخر راز ھو بقا شد
ترجمہ: باھُوؒ ، ھو کے ساتھ فنا ہو کے بقا پاگیا کیوں کہ اوّل آخر ھو کا راز اُسے مل گیا۔
ہر کہ ذکر ھو باھو یافتہ
بشنود یاھو از کبوتر فاختہ
ترجمہ:جو شخص باھُوؒ سے ذکرِ ''یاھُو'' حاصل کر لیتا ہے اُسے ہر کبوتراورہر فاختہ کی زبان سے ذکرِ ''یاھُو'' سنائی دیتا ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے ظاہری وصال کے بعد یہ ذکر ان کے روحانی وارث اور امانتِ الٰہیہ کے حامل سروری قادری مشائخ عطا فرماتے ہیں۔

باھو در ھو گم شدہ گم نام را کہ یافتہ؟
ہم صحبتم با مصطفٰی در نور فی اللہ ساختہ
ترجمہ: باھُوؒ تو '' ھو ' میں گم ہو گیا ہے ایسے گمنام کو بھلا کیسے پایا جا سکتا ہے؟ اور یوں نورِ ذاتِ الٰہی میں خود کو گم کرکے میں مصطفی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہم مجلس ہو گیا ہوں۔
باھو از میان ھو چشم فی بیند خدا
درمیان ھو ببین وحدت لقا
ترجمہ: باھُوؒ '' ھو ' کی آنکھ سے خدا کو دیکھتا ہے اے طالب تو بھی '' ھو ' کی آنکھ سے دیدارِوحدت کی بہار دیکھ۔
کسے بس ذکر گوید ھو ہویدا
وجودش می شود زاں نور پیدا
ترجمہ: جس شخص کے وجود میں ذکرِ ھو جاری ہو جاتا ہے اُس کا وجود نورِ ذات میں ڈھل جاتا ہے
اسم یاھو گشت باھو راہبر
پیشوائے شد محمد معتبر
ترجمہ: اسمِ اعظم ھو سے فنا فی اللہ کا مرتبہ حاصل ہوتا ہے اس لیے باھوؒ دِن رات ذکرِ ''یاھُو'' میں غرق رہتا ہے۔
باھو ھو برد یا آورد برد
ہر کہ بہ آں عین بیند کہ نمرد
ترجمہ: باھُو ؒ '' ھو ' میں فنا ہو کر زندہ جاوید ہو گیا اس میں کوئی تعجب نہیں کہ جو عین ذات کو دیکھ لیتا ہے وہ کبھی نہیں مرتا۔(عین الفقر)
اسم اعظم انتہائے با ھو بود
ورد باھو روز و شب یاھو بود
ترجمہ: اسمِ یاھُو نے باھُوؒ کا راہبر اور پیشوا بن کر اُسے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری سے مشرف کر دیا ہے۔
ابتدا ھو انتہا ھو ہر کہ باھو می رسد
عارف عرفاں شود ہر کہ باھو ھو شود
ترجمہ: ابتدا بھی '' ھو '' ہے اور انتہا بھی '' ھو '' ہے جوکوئی '' ھو ' تک پہنچ جاتا ہے وہ عارف ہوجاتا ہے اور '' ھو ' میں فنا ہو کر '' ھو ' بن جاتا ہے۔
اسم ھو سیف است باھو ہر زباں
قتل کن ایں نفس کافر ہر زماں
ترجمہ:باھُوؒ کی زبان پر ہر وقت اسمِ ھو کا ورد جاری رہتا ہے جو ایک ننگی تلوار ہے۔ اس تلوار سے وہ ہر وقت نفسِ قاتل کو قتل کرتا رہتا ہے۔
اگر تُو '' ھو '' کے اسرار حاصل کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے سوا ہر شے کو دِل سے نکال دے۔ (قربِ دیدار)
جس کے وجود میں ذکر اسمِ '' ھو ' کی تاثیر جاری ہو جاتی ہے اُسے '' ھو '(ذاتِ حق)سے محبت ہو جاتی ہے اور وہ غیر ماسویٰ اللہ سے وحشت کھاتا ہے۔ (عین الفقر)
جب کوئی دل کے ورق سے اسمِ '' ھو ' کا مطالعہ کر لیتا ہے تو پھر اُسے کوئی چیز اچھی نہیں لگتی ایسی حالت میں وہ خَلق کی نظر میں بے شعور ہوتا ہے مگر خالق کے ہاں وہ صاحبِ حضور ہوتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)
گزشتہ ادوار میں اسمِ اللہ ذات مندرجہ بالا چار منازل اللہ للہ لہ ھو میں طالبانِ مولیٰ کو عطا کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے سلطان الاذکار '' ھو '' جو حقیقتاً طالب کو بارگاہِ الٰہی میں لے جاکر ذاتِ حق تعالیٰ کی پہچان عطا کرتا ہے، تک پہنچنے کے لیے بہت وقت درکار ہوتا تھا، اور عموماً کمزور طالبانِ مولیٰ کی رسائی کبھی ' ھو ' تک ہو ہی نہ پاتی تھی۔ لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور مرشد کامل اکمل خادم سلطان الفقر حضرت سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس کے فیضِ بے بہا اور بے پناہ روحانی قوت کی وجہ سے طالبانِ مولیٰ کو بیعت کے فوراً بعد سلطان الاذکار '' ھو ' عطا کر دیا جاتا ہے اور تصور کے لیے سنہری اسمِ اللہ ذات عطا کیا جاتا ہے۔

31/03/2021

How the n**e videos and websites control and destroy your mind ..? How to control ..?
فحش ویڈیوز کے ذریعے آپ کے دماغ کو کیسے کنڑول اور خراب کیا جاتا ہے ۔۔؟

06/02/2021

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالی تمہیں ختم کر کے ایسی قوم کو لے آئے گا جو گناہ کریں گے اور پھر اللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں گے ۔۔!!
مسلم شریف : (2749)

19/09/2020

جمہوریت نے ہمیں ایک بُری عادت لگادی ہے اور وہ کہ اب ہم بہت ہی بُری طرح الجھ چکے ہیں۔ نظریاتی سیاست ہوتی نہیں ہے اور ہوتی تو مزید الجھن پیدا ہوتی۔ ایک طبقہ لبرل ہے اور وہ بھی بہت بڑی تعداد میں ہے۔ ایک طبقہ مذہبی ہے اور وہ بہت بڑی تعداد میں ہے۔ دونوں کا کسی نہ کسی طرح کنٹرول اور اختیار ہے۔ دونوں اپنی مرضی کی حکومت چاہتے ہیں۔ اب دونوں کی مرضی کا خیال کرتے کرتے بیچارہ آئین و قانون ایک کھچڑی بن چکا ہے۔ سب ہی کچھ اس میں آگیا ہے۔ اسلام بھی ہے، سیکولرزم بھی ہے۔
قوموں کو اپنی ترقی کے لیے کچھ عرصے تک ایک ڈائرکشن درکار ہوتا ہے۔ وہ کسی نہ کسی نکتہ پر متفق ہوتے ہیں، پھر آگے بڑھتے ہیں۔ یہودیوں کی قوم اگر اتنے غلبہ کے ساتھ اپنا ملک بنالیتی ہے اور ہم سے ضبط کرکے بنالیتی ہے، تو یہ نکتہ اتحاد ہی تھا جس نے ان کو جوڑا۔ وہ عبرانی زُبان جس کو بولنا یہودی چھوڑ چکے تھے، انہوں نے دوبارہ بولنا سیکھا اور اس کو اپنے اتحاد کی علامت بنایا۔ وہ متحد تھے، ہم بکھر چکے تھے۔ کچھ تو تھا جس نے ان کو جوڑا ہوا تھا۔ ایک ڈائرکشن تو تھا۔ ہمارے پاس تو وہ بھی نہیں ہے۔
ان سب کے ساتھ ہم کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں؟ کوئی خوش نہیں یہاں! مذہبی شخص کہتا ہے کہ پاکستان بڑا ہی غیر اسلامی اور کفریہ ملک ہے۔ سیکولر کہتا ہے کہ پاکستان مذہبی ملک ہے اور مذہبی جنونیوں سے بھڑا پڑا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں دونوں چیزیں داخل کرچکے ہیں۔ اور سب سے بڑا خطرہ یہی ہے۔ کوئی ڈائرکشن نہیں۔ اور مسئلہ ان سیکولر اور لبرل لوگوں کا بھی ہے اور مذہبی لوگوں کا بھی ہے۔ سیکولر کو نہیں پتا کہ پاکستان کس طرح کی سیکولر ریاست ہوگی، فرانسیسی یا امریکہ یا پھر کوئی نئی ایجاد ہوگی۔ مذہبی کو نہیں پتا کہ ہم مذہبی ریاست کونسی قائم کریں، اس پر بھی متفق نہیں۔
ہم لوگ اگر کسی اچھی صورتحال سے محروم ہیں، تو اس لیے کہ ہم اسی قابل ہیں۔ یہودیوں سے اللہ تعالیٰ نے حکومت چھین لی تھی اور بخت نصر کو ان کی جگہ حکومت دی تھی۔ قرآن میں اس کا ذکر ہے۔ کیوں؟ آپس میں عداوت تھی۔ بغض و عداوت ان کے سینوں میں جاگ رہی تھی۔ وہ ایک دوسرے کے خون کے دیوانے ہوچکے تھے۔ قرآن میں بھی ذکر ہے کہ یہودیوں نے عہد توڑا اور قتل کیے اور ہر طرح کے گناہ کیے۔ اللہ نے پھر سزا بھی دی۔ اب وہ متحد ہوگئے، تو اجر بھی دیا۔ آپ لوگ لڑتے رہیں فضول باتوں پر! اب تو تدبیر سے بھی توقع نہ رہی، اب تو دعاؤں پر ہی انحصار کرتا ہوں۔ اس کے بغیر تو بے سُکونی ہی ہے۔

14/08/2020

#آزادی ۔۔۔!

اَلَّـذِيْنَ اِنْ مَّكَّنَّاهُـمْ فِى الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلَاةَ وَاٰتَوُا الزَّكَاةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَـهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ۗ وَلِلّـٰهِ عَاقِـبَةُ الْاُمُوْرِ

وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور نیک کام کا حکم کریں گے اور برے کاموں سے روکیں گے اور ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے۔ (سورة الحج آیت 41)

09/08/2020

کیا یہ امریکہ کی سازش ہے ۔۔ ؟؟

23/05/2020

جب کوئی شخص آپ سے دعا کے لیے کہے تو ایک چیز پر غور کر لیں کہ آپ نے اس کو یہ Impression کہاں سے دیا ہے کہ وہ آپ کو دعا کے لیے کہے اتنی بڑی ذمہ داری آپ نے اپنے ذمہ کیسے لگا لی؟ کہیں اس میں بناوٹ تو نہیں؟ کہیں اس میں کچھ نقل تو نہیں آ گئی؟ مقصد یہ ہے کہ کہیں آپ نے اپنے بارے میں کوئی ایسا Impession تو Create نہیں کر دیا کہ آپ دعا کرنے والے ہیں کیونکہ جو شخص دعا کے لیے کہہ رہا ہے اس کو آپ پر یہ اعتماد کیسے ہوا کہ وہ آپ کو دعا کے لیے کہے کہیں آپ نے اپنے آپ کو غلطی سے نیک تو مشہور نہیں کر دیا اس کو کہاں سے مشاہدہ ہو گیا؟
دو طرح کے آدمی ہوتے ہیں دعا لیے کہنے والے ایک وہ شخص ہوتا ہے جس کو اشارہ ہو گیا کہ تیرے مسئلے کا حل فلاں شخص کے پاس ہے ۔ یا پھر یہ کہ وہ شخص دعا کرے تو تیرا مسئلہ حل ہو جائے گا اشارہ غائبانہ طور پر بھی ہو سکتا ہے ، خواب کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے اس سلسلے میں ایک کہانی سن لو ایک آدمی درویش تھا اس کا ایک دوست تھا جو شادی شدہ تھا دوست سفر پر جانے لگا تو اس نے سوچا مَیں سفر پر جا رہا ہوں اپنی بیوی کو مَیں کہاں بھیجوں اس نے سوچا فلاں درویش میرے دوست ہیں ان کی امان میں چھوڑ جاتا ہوں اس طرح میں باہر کا سفر کر کے واپس آ جاؤں گا ۔ صوفی صاحب نے اس عورت سے کہا کہ تُو زنان خانے میں چلی جا اس طرح وہ شخص سفر پر چلا گیا وہ عورت زنان خانے میں رہنے لگی اور صوفی اپنی عبادت گاہ میں رہا ۔ اس نے ایک دن پانی مانگا اس کی اپنی بیوی کی بجائے اس مہمان خاتون نے اس کو پانی کا گلاس پیش کیا اب صوفی نے اس کا ہاتھ دیکھا ہاتھ کے حوالے سے ذہنی طور پر کوئی تصویر بنائی لکھنے والے لکھتے ہیں یا کہنے والے کہتے ہیں کہ اس کا تقویٰ اور تصوف کا سارا قلعہ جو تھا وہ ٹوٹ گیا اس طرح کے وہ محروم ہو گیا اب وہ چِلاّنے لگ گیا کہ یہ کیا ہو گیا؟ اس وقت تو سمجھ نہیں آئی کہ یہ سب کیا ہو گیا ہے آخر کیا واقعہ ہو گیا ہے؟ وہ بے تاب ہو گیا کہ جگنو اڑ گئے ، پرندے اڑ گئے خیال چلا گیا اور تصور خالی ہو گیا خیال کی نعمت سے خالی ہو جانے کے بعد انسان کو سمجھ آتی ہے کہ اس نے کیا کھو دیا ہے اگر میزبان کے پاس کھانا ختم ہو جائے تو سب سے بُرا آدمی کون ہے؟ مہمان کیونکہ اب میزبان اس سے Avoid کرے گا جس آدمی کے پاس کھانا ختم ہو جائے وہ مہمان کو پسند نہیں کرے گا جس کے پاس بات ختم ہو جائے وہ سامع کو پسند نہیں کرے گا جس کے پاس جو چیز ختم ہو جائے وہ اس کے حاصل کرنے والوں کو پسند نہیں کرے گا ۔ یہ اصول کی بات ہے ۔ دوکان ختم ہو گئی تو اب گاہک کو کیا کرنا ہے؟ گاہک تو پھر مصیبت ہے اس صوفی درویش نے محسوس کیا کہ اس کا تصوف کمزور ہو گیا ہے پھر وہ وہاں سے پریشان ہو کے نکلا اس چیز کی تلاش میں جو کھو گئی تھی ضائع ہو گئ تھی جہاں بھی گیا کسی نے اس کو تسلی بخش جواب نہیں دیا ایک مجذوب درویش اسے ملا اس نے کہا کہ بات یہ ہے کہ آپ کوئی چیز ضائع کر بیٹھے ہیں ۔ کہنے لگا کہ مَیں بہت کچھ ضائع کر بیٹھا ہوں اس نے کہا کہ تمہارا علاج جو ہے فلاں آدمی کے پاس ہے ، اگر وہ دعا کرے تو تیرا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔ وہ اس آدمی کے پاس گیا ۔ آگے جا کے اس نے کوئی اور ہی منظر دیکھا وہاں دیکھا کہ ایک مجذوب قسم کا آدمی بیٹھا ہے اس کے پاس ایک چھوٹا سا خوبصورت لڑکا ہے وہ اس بچے سے پیار کرتا ہے اور اس کے پاس شراب کا پیالہ رکھا ہوا ہے وہ بچے کو شراب پلاتا ہے خود بھی شراب پیتا ہے اور اس سے پیار کرتا ہے اور بوسہ بھی دیتا ہے وہ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ صوفی نے سوچا یہاں سے واپس چلو کیونکہ یہ وہ آدمی نہیں ہو سکتا تب اس آدمی کو صوفی نے آواز دی کہ بابا کدھر جا رہا ہے ؟ اس نے کہا کہ مَیں آیا تھا کسی کام سے ، لیکن لگتا ہے کہ مَیں غلط جگہ پہ آ گیا ہوں اس نے کہا کہ تُو غلط جگہ پہ نہیں بلکہ صحیح جگہ پر آ گیا ہے مَیں تیرے لیے دعا کرتا ہوں تیرا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔ اس بزرگ نے دعا کی اور مسئلہ حل ہو گیا صوفی کو اپنا Contact واپس مل گیا صوفی صاحب نے کہا اب ایک اور سوال پیدا ہو گیا ہے سوال اب یہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہ کیا ہے؟ جب آپ نے میرا اتنا بڑا مسئلہ حل کر دیا تو محسن ہونے کی حیثیت سے یہ بتائیے کہ یہ کیا ہے ؟ جو آپ کر رہے ہیں یہ کیا ہے ؟ جو آپ نے میرے ساتھ کر دیا وہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ بڑی آسان سی بات ہے بات یہ ہے کہ یہ میرا بیٹا اور یہ ہے شربت بچے سے پیار کرتا ہوں کہ میرا بیٹا ہے اور شربت پی رہا ہوں کہ یہ میری خوراک ہے اس نے کہا یہ سب ایسا کیوں ہے؟ دیکھنے میں تو ایسا لگتا ہے جیسے شراب پی رہے ہیں اصل میں یہ کیا واقعہ ہے؟ اس نے کہا میں نے یہ سب اس لیے رکھا ہوا ہے کہ کوئی آدمی جاتے ہوئے اپنی بیوی میرے پاس نہ رکھ جائے!! تو یہ ہیں دعا کہ راز ۔

گفتگو والیم 2 صفحہ نمبر 25 28

قلندرِ وقت بابا جی حضور سرکار واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

23/05/2020

گفتگو ۲۱صفحہ۱۵۹
سوال:بعض بزرگوں کے ہاں بظاہر شریعت پر مکمل طور سے عمل نہیں ہوتا۔اس کی کیا وجہ ہے؟اس میں کوئی راز ہے کہ ہمیں ابھی سمجھ نہیں آرہی؟
قُطب ارشاد:
سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ ان لوگوں کی مخفل میں ابھی اور بیٹھیں۔پھر آپ کو بات سمجھ آجائے گی۔صرف سوال سے بات سمجھ نہیں آئے گی۔وہاں شریعت کی پابندی ہے'شریعت کی پابندی ہوتی ہے۔ہوا یہ ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ کہیں پہ شریعت کی پابندی کے باوجود دین کے بارے میں جھگڑا ہے'مثلاً یا رسول اللہﷺکانفرنس اور محمد رسولﷺکانفرنس الگ الگ ہو گئی تو پھر ان لوگوں نے بات کو خفیہ رکھ لیا۔ورنہ تو وجہ نزاع بن جاتی'جھگڑا ہو جاتا۔دین کے نام پر دین کے اندر جھگڑے موجود ہیں۔نام دین کا ہے اور لڑتے جا رہے ہیں۔مثلاً محرم دین کا نام ہے لیکن جھگڑا آج تک چلا آ رہا ہے۔آج کے دور میں پیدا ہونے والوں کے درمیان جھگڑا کیوں ہے؟ہوا یہ کہ دونوں ایک گھر میں پیدا ہوئے'ایک نے اپنی کتاب پڑھ لی اور دوسرے نے کوئی اور کتاب پڑھ لی'پھر آپس میں بحث کرنے لگ گئے اور جھگڑا پیدا ہو گیا۔اللہ کو شریعت مقدم ہے۔اگر ایک آدمی کو آواز دی جائے حضور پاکﷺنے آواز دی 'اس کو بلایا اور وہ کہے کہ میں نماز میں مصروف تھا اس لئے آپﷺکی آواز کا جواب نہیں دیا'تو آپ بتائیں کہ کیا یہ صحیح ہے'کیا ایسا ہونا چاہئے۔تو آپﷺکی آواز پر لبیک ہے۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ پہچان کی بات ہے۔اگر فارمولا استعمال کیا جائے اور وہ محبت کے بغیر ہو اور اطاعت کے بغیر ہو تو فارمولا جو ہے وہ فارمولا دینے والے کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔مثلاً اللہ کریم نے حکم فرمایا کہ میرے علاوہ سجدہ نہیں کرنا۔فرشتوں کو اس بات پہ پکا کر دیا۔تب شریعت یہ بن گئی کہ اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ نہیں کرنا۔کچھ عرصہ کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا کہ انی جاعل فی الارض خلیفہ میں زمیں پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں تو تم اس کو سجدہ کرو فسجدوا الاابلیس تو سب نے سجدہ کر دیا سوائے ابلیس کے'وہ جو فارمولا والا تھا'اس نے کیا کِیا؟وہ پچھلے فارمولے پہ رہا کہ یا اللہ آپ کے حکم کے مطابق آپ کے علاوہ سجدہ تو نہیں ہے۔اتنی سی بات پہ وہ راندۂ درگاہ ہو گیا۔فارمولا قائم رہنا چاہئے مگر اس فارمولے کا مقصد ضائع نہ ہو اور مقصد جو ہے وہ اطاعت بالمحبت ہے۔اگر اطاعت رہ جائے اور محبت نہ ہو تو بہتر ہے کہ وہ اطاعت نہ کی جائے۔مثلاً ایک فارمولا ہے مسجد بنانے کا'مگر اللہ تعالی نے ایک مسجد گرانے کا حکم فرما دیا۔وہ فارمولے کے مطابق صحیح تھی'مسجد تھی مگر مقصد میں صحیح نہیں تھی۔تو دین کے نام پر دین میں مل جانے والےکئی لا دین عناصر تھے'وہ جب شامل ہو گئے تو بزرگوں کو بہت ساری بات مخفی کرنی پڑ گئی۔ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ایسا ہونا چاہئے۔مگر یہ ان کی اپنی اپنی مصلحت ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں ۔تو اللہ کا تقرب دیکھنا چاہئے کہ وہ کہاں پر ہے۔وہ بزرگ اللہ کے دین پر پابندی سے عمل کرتے ہیں۔اگر کوئی وجوہات ہوں جن کی وجہ سے وہ ظاہر نہ ہونا چاہیں تو پھر یہ ان کی اپنی مصلحت ہے۔تو یہ ان سے پو چھا جائے۔اگر آپ لوگوں کو فارمولا مل گیا ہے'شریعت مل گئی ہے تو اب آپ کی تلاش کیا ہے؟مثلاً یہ دین ہے'قرآن شریف ہے اور حدیث شریف ہے۔اب اس کے بعد تلاش کی کیا ضرورت ہے۔اگر بعد میں تلاش کی واقعی ضرورت ہے تو سمجھو کہ ساری بات بیان نہیں ہوئی۔یہ باریک نکتہ ہے'ایسے سمجھ نہیں آئے گا۔یعنی اگرساری بات بیان ہو گئی تو پھرfurther کسی اور واقعے کی ضرورت نہیں ہے'کسی رومی رح کی ضرورت نہیں ہے'کسی اقبال کی ضرورت نہیں ہے'کسی رحمتہ اللہ علیہ کی ضرورت نہیں ہے۔یعنی پیغمبرﷺکے بعد کسی اور آدمی کا نام'اسلام میں قابل زکر ہونا'اس کی تو گنجائش ہی نہیں تھی۔اور لطف کی بات تو یہ ہے کہ سارے اسماء قابل زکر ہیں بلکہ واجبِ زکر ہیں ۔اللہ کریم نے فرمایا کہ میرے علاوہ کسی سے محبت نہیں کرنی۔غیر کا تو نام ہی اللہ نے مٹا دیا۔جب آپ نماز پڑھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں اپنی راہ دکھا'سیدھی راہ دکھا۔پھر اللہ تعالی نے خود ہی وضاحت فرمائی کہ اے اللہ صرف اپنی راہ دکھا یعنی کہ ان لوگوں کی جن پر تیرا انعام ہوا ہے۔اب وہ انعام کیا ہوتا ہے؟اگر ایک آدمی شہید ہو گیا'اس کے عمل میں کچھ کمی تھی مگر اب شہادت مل گئی ۔یہ آدمی کس مقام پر چلا گیا؟وہ مقربین میں شامل ہو گیا۔اب مقربین کی جو راہ ہے وہ بعض اوقات فارمولے سے باہر بھی ہے۔ایسا واقعہ ہو سکتا ہے ناں ۔وہ نفس کے گنجلک سے آزاد ہو گئے۔تو ایسے واقعات ہوتے ہیں۔دیکھنے والا صرف یہ سوچتا رہتا ہے کہ نفس کیا ہے'یہ واقعہ کیا ہے'اس شخص میں یہ خامی کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بجائے اس کے کہ وہ محبت سے بات کوسمجھے۔سوال تو آپ کا مشکل ہے مگر آپ جواب پہ غور کریں تو سمجھ آسکتی ہے۔شریعت جو ہے'اللہ کے حکم کے ساتھ پیغمبرﷺکے حکم کا بھی نام ہے۔اللہ نے ایک واقعہ خود ہی بیان فرمایا ہے'آپ نے دور کے ایک نامزد پیغمبر'اللہ کے حکم سے ایک انسان سے ملے۔اللہ نے ان کو ملایا۔اور واقعہ یہ ہوا کہ اس انسان نے ایک بچے کو قتل کر دیا۔پیغمبر کا فرض کیا تھا؟مقدمہ اوراس کو وہیں شوٹ کرا دینا'کہ تم نے شریعت نافذہ کیخلاف ورزی کی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ سارا راستہ ویسے نہیں ہے جیسا آپ سمجھ رہے ہیں ۔شرعی حکم کیا ہے؟قتل نہ کرنا۔اور اخلاقیات میں بھی یہی ہے۔ایک آدمی سے قتل ہوتا ہے اور وہ عمداً بھی ہے'وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں'شریعت میں یہ جائز نہیں ہے'اور یہ واقعہ پیغمبر کی موجودگی میں ہو رہا تھا۔پھر وہی آدمی پیغمبر سے کہتا ہے کہ تو ہمارے ساتھ نہیں چل سکتا ھذا فراق بینی وبینکم آپ چلیں اب'تشریف لے جائیں۔حالانکہ پیغمبر وہ ہیں مگر وہ شخص یہ کہہ رہا ہے۔اور پیغمبر ان کے کہنے پر چل رہے ہیں۔شریعت اپنی جگہ پر بالکل مصدقہ ہے'فائنل ہے اور اس کے اندر وہ لوگ سوز و گداز پیدا کرتے ہیں ۔وہ شریعت کو ترک نہیں کرتے کیونکہ شریعت ہی کو تو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔لیکن وہ تشدانہ شریعت سے گریز کرتے ہیں۔مثلاً مکان میں آگ لگی ہوئی ہے لیکن لوگ کہتے ہیں کہ پہلے شریعت کے احکامات کی پابندی کر لو۔تو پہلے آگ کو بجھا لینا چاہئے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ اگر پہلے پیٹ کی آگ لگی ہے تو اسے بھی بجھا لو'پہلے کھانا کھا لو پھر نماز پڑھنا۔یعنی اگر بہت بھوک لگی ہو تو زیادہ ڈسڑب نہ ہونا'تو اولیاء کرام نے کبھی شریعت کو مجروح نہیں کیا'نہ اسے بائپاس کیا ہے'نہ اسےviolateکیا ہے۔بزرگوں کے جتنے بھی آستانے ہیں کوئی آستانہ بھی آپ نے ایسا نہیں دیکھا ہوگا جہاں مسجد نہ ہو۔ہم نے تو کوئی نہیں دیکھا۔آپ نے شائد کوئی دیکھا ہو'مگر نہیں۔لاہور میں داتا صاحب رح کا آستانہ دیکھیں تو مسجد سارےلاہور میں سب سے اچھی ہے۔مسجد شریعت ہے'آستانے کو طریقت سمجھ لو۔تو انہوں نے طریقت کو مختصر کیا ہے اور شریعت کو زیادہ کِیا ہوا ہے۔ہر جگہ ایسا ہے۔میاں میر صاحب رح کی مسجد دیکھ لو'شاہ جمال رح کی مسجد دیکھ لو۔تو یہ لوگ شریعت کا اخترام کرتے تھے'بلکہ اپنے آستانے سے پہلے مسجد بنایا کرتے تھے'تو وہ شریعت کو violateنہیں کرتے۔آپ نے اس بات کا خیال نہیں کیا'غور نہیں کیا'ان لوگوں کی مخفل میں بیٹھا کریں'وہ اس کی کوئی نہ کوئی وجہ بتائیں گے'کوئی نہ کوئی بات سمجھائیں گے۔وہ کس طرح violate کرسکتے ہیں ۔جہاں بظاہر ترک ہے'وہاں کوئی اور بات ہوگی۔مثلاً کسی زمانے میں کوئی دل کا کافر ہو اور مسجد کا نظام سنبھال کے بیٹھا ہو تو جو جاننے والا مومن ہے اس سے اگر پوچھو گے تم کون ہو تو وہ کہے گا میں تو اسلام سے باہر ہوں۔اسی طرح وہ جان بھی بچاتا ہے اور ایمان بھی بچاتا ہے بلکہ ایمان کے کاغذات بچاتا ہے'کیونکہ آنے والے دور کو اس نے دینے ہیں۔اس کے پاس وہ پرزے پرزے ہوتے ہیں۔اگر ایک آدمی تلوار لے کہ کھڑا ہوتا ہے کہ وہاں سے کوئی صحیح مسلمان گزرے تو اسے ذبح کردے تو اس بزرگ سے پوچھیں کہ تو کون ہے تو وہ کہے گا کہ میں تو ایسے ہی ہوں
کافر عشق ہوں'بندۂ اسلام نہیں
تو وہ کاغذات لے کے آگے چلا گیا اور پھر اگلے دور میں جا کے ساری بات کھل گئی۔بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ وہ آنے والے دور کیلئے بات سنبھال کے رکھتے ہیں ۔اس لئے ان لوگوں کو بڑے غور سے دیکھا کرو۔اگر انہیں اخترام سے دیکھو گے تو پھر آپ کو معلوم ہو جائے گا اور اگر تنقید سے دیکھو گے تو پھر بات سمجھ نہیں آئے گی۔آپ کو بہت سے اولیاء کرام کے پاس جانے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ یہ دیکھو کہ اللہ تعالی نے اپنے ذمہ یہ کام لگا رکھا ہے کہ لوگوں کو ظلمات سے نور میں داخل کرے۔اور جن لوگوں نے اللہ کے اولیاء کا انکار کیا ان کو نور سے نکال کر ظلمات میں رجوع کرا دیتا ہے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ نے کسی کو اولیاء کہہ دیا'ولی کہہ دیا'بزرگ کہہ دیا اور پھر اس پر تنقید کر دی۔سمجھنے کی بات یہ کہ اس کی بات وہ جانے تو اپنی توڑ نبھا۔تو ہر ولی سے وابستگی کی بجائے ایک سے وابستگی ہو اور پوری ہو۔وہ لوگ تو ٹھیک کر رہے ہیں ۔آپ بہت لوگوں سے نہ ملیں بلکہ ایک آدھ ہو ۔وہ کسی وجہ سے'کسی دور میں'کسی حساب سے کوئی بات مخفی رکھتے ہیں ۔باقی تو ہر جگہ مسجد کا اخترام ہے'جماعت ہوتی ہے'زکر ہوتا ہے'فکر ہوتا ہے'درس قرآن ہوتا ہے اور باقاعدہ ہوتا ہے۔یہ ہر جگہ ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔
سرکار واصف علی واصف رح

07/05/2020

کوئی بھی رسولﷺ کے پیر کے مٹی کے بھی برابر نہیں ۔۔!
صلی اللہ علیہ وسلم 💔

09/04/2020



سُبْحَانَكَ اللهُمَّ پاکي ده تالره اى الله!
وَبِحَمْدِكَ او تالره ثنا ده
وتَبَارَكَ اسْمُكَ او برکت والا دى نوم ستا
وَتَعَالَى جَدُّكَ او لوړ دى شان ستا
وَلَاإِلَهَ غَيْرُكَ نشته د عبادت لايق بې له تانه

أَعُوذُ پناه غواړم
بِاللَّهِ په الله تعالى
مِنَ الشَّيْطَانِ د شيطان
الرَّجِيمِ رټلي شوي نه

بِسْمِ اللَّهِ شروع کوم په نوم د الله
الرَّحْمَنِ چې عام مهربانه دى
الرَّحِيمِ خاص رحم کوونکى دې

. اَلْحَمْدُ ټول صفتونه
لِلّٰهِ خاص الله لره دى
رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ۝۱ چې تربيت کوونکى د مخلوقاتو دى
الرَّحْمٰنِ چې عام مهربان دى
الرَّحِیْمِۙ۝۲ خاص رحم کوونکى دى
مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ۝۳ واکدار د قيامت د ورځې دى
اِیَّاكَ خاص تاته
نَعْبُدُ عبادت کوو
وَ اِیَّاكَ او خاص تا نه
نَسْتَعِیْنُؕ۝۴ مدد غواړو
اِهْدِنَا برابر کړې موږ
الصِّرَاطَ په لار
الْمُسْتَقِیْمَۙ۝۵ نيغه باندې
صِرَاطَ الَّذِیْنَ په لاره د هغه کسانو
اَنْعَمْتَ چې تا فضل کړى
عَلَیْهِمْ١ۙ۬ۦ په هغوى
غَیْرِ نه لار د هغه کسانو
الْمَغْضُوْبِ چې غضب کړى شوى
عَلَیْهِمْ په هغوى
وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠۝۷ او نه لارد ګمراهانو
آمين اى الله! زموږ دعاء قبوله کړې

الله اکبر (الله تعالى ډېر لوى دى)

قُلْ هُوَ اللّٰهُ ووايه، هغه الله تعالى
اَحَدٌۚ۝۱ يو دى
اَللّٰهُ الله تعالى
الصَّمَدُۚ۝۲ بې نيازه دى
لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ نه يې څوک زېږولى
وَ لَمْ یُوْلَدْۙ۝۳ او نه له چانه زېږيدلى
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ او نشته دهغه لپاره
كُفُوًا برابر
اَحَدٌ۠۝۴ هېڅوک
الله اکبر الله تعالي ډېر لوې دې
سُبْحَانَ پاکي ده
رَبِّيَ الْعَظِيمِ رب زما لره، چې لوى دى
سَمِعَاللهُ اوري الله تعالى
لِمَنْ وينا د هغه چا
حَمِدَهُ چې صفت يې کوي

رَبَّنَا اى ربه زموږ
لَكَ الْحَمْدُ تالره صفت دى

الله اکبر (الله تعالى ډېر لوى دى)

سُبْحَانَ پاکي ده
رَبِّيَ رب زما لره
الْأَعْلَى چې اوچت دى

الله اکبر (الله تعالى ډېر لوى دى)

التَّحِيَّاتُ ټول وينا والا عبادتونه
لِلَّهِ خاص الله لره دي
وَالصَّلَوَاتُ او ټول بدني عبادتونه
وَالطَّيِّبَاتُ او ټول مالي عبادتونه
السَّلاَمُ عَلَيْكَ سلام دې وي په تا باندې
أَيُّهَاالنَّبِيُّ اى پېغمبره
وَرَحْمَةُاللَّهِ او رحمت د الله تعالى
وَبَرَكَاتُهُ او برکتونه د هغه ( الله تعالی)
السَّلاَمُ علينا سلام دي وي پر مونږ باندې
وَعَلَى او په
عِبَادِ بنده ګانو
اللَّهِ د الله تعالى
الصَّالِحِينَ نېکانو باندې

أَشْهَدُ زه ګواهي کوم
أَنْ لاَإِلَهَ چې نشته د عبادت لايق
إِلَّا اللَّهُ مګر الله تعالى دى
وَأَشْهَدُ او زه ګواهي کوم
أَنَّ مُحَمَّدًا چې بېشکه محمد صلی الله علیه وسلم
عَبْدُهُ بنده د هغه (الله تعالی) دى
وَرَسُولُهُ او استازى د هغه (الله تعالی) دى

اللَّهُمَّ اى الله جل جلاله
صَلِّ رحم وکړې
عَلَى مُحَمَّدٍ په محمد صلی الله علیه وسلم
وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ او په کورنۍ د محمد صلی الله علیه وسلم
كَمَاصَلَّيْتَ لکه څرنګه چې تا رحم کړى
عَلَى إِبْرَاهِيمَ په ابراهيم عليه السلام
وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ او په کورنۍ د ابراهيم عليه السلام
إِنَّكَ بې شکه ته
حَمِيدٌ ستايلى شوى
مَجِيدٌ لوړ شان والا يې

اللَّهُمَّ بَارِكْ اى الله برکت و اوروې
عَلَى مُحَمَّدٍ په محمد صلی الله علیه وسلم
وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ او په اولادې د محمد صلی الله علیه وسلم
كَمَا بَارَكْتَ لکه تا چې برکت اورولى وو
عَلَى إِبْرَاهِيمَ په ابراهيم عليه السلام
وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ او په اولادې د ابراهيم عليه السلام
إِنَّكَ بېشکه ته
حَمِيدٌ ستايلى شوى
مَجِيدٌ لوړ شان والا يې.

اللَّهُمَّ اى الله
رَبَّنَا زمونږ ربه
آتِنَا راکړې مونږ ته
فِي الدُّنْيَا په دنيا کې
حَسَنَةً نېکي
وَفِي الآخِرَةِ او په اخرت کې
حَسَنَةً نېکي
وَقِنَا او وساتې موږ
عَذَابَالنَّارِ د عذاب د اور نه.

د دعا قنوت پښتو ژباړه هم اماده شوه 👇
اللَّهُـمَّ. . . . . . اى الله
انّا. . . . َ. . . . . بېشکه موږ
نَسْتَعِينُكَ. . . مدد غواړو تانه
وَنَسْتَغْفِرُكَ. او تانه بښنه غواړو
وَنُؤْمِنُ بِكَ. . .او ايمان مو راوړى په تاباندې
وَنَتَوکَلُ. . . . ..او توکل کوو
عَلَيْکَ. . . . . . . په تاباندې
وَنُثْنِي. . . . . . او صفت کوو
عَلَيْكَ الْخَيْرَ. . . ستا غوره
وَنَشْکُرُکَ. . . ..او موږ شکر کوو ستا
وَلَانَكْفُرُكَ. . . . او ستا ناشکري نه کوو
وَنَخْلَعُ. . . . . . . . موږ جدا کېږو
وَنَتْرُکُ. . . . . . . موږ پرېږدو
مَنْ. . . . . . . . . هغه څوک
يَّفْجُرُکَ. . . . . . چې د تا نافرماني کوي
اَلَهُمَّ. . . . . . . . يا الله مونږه
اِيَّاکَ. . . . . . . . . خاص تالره
نَعْبُدُ. . . . . . . . عبادت کوو
وَلَكَ نُصَلِّي. . .او تاته مونځ کوو
وَنَسْجُدُ. . . . . . . او سجده کوو
وَإِلَيْكَ. . . . . . . . او ستا طرف ته
نَسْعَى. . . . . . . منډې وهو
وَنَحْفِدُ. . . . . . . . او تيزي کوو
وَنَرْجُو. . . . . . . . . او اميد لرو
رَحْمَتَكَ. . . . . . . . ستا د رحمت
وَنَخْشَى. . . . . . . او وېرېږو
عَذَابَكَ. . . . . . . . ستا د عذاب نه
إِنَّعَذَابَكَ. . . . . . . بېشکه عذاب ستا
بِالْكُفَّارِ....... ......کافرانو پورې
مُلْحِقٌ. . . . . . . . پېوسته کېدونکى دى.
دعا قنوت
الَلَهُمَّ اِنَّا نَسْتَعِيْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَ نُؤْ مِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَيْکَ وَنُثْنِیْ عَلَيْکَ الْخَيْرَ وّ نَشْکُرُکَ وَلَانَکْفُرُکَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ يَّفْجُرُکَ اَلَهُمَّ اِيَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَ نَسْجُدُ وَاِلَيْکَ نَسْعَی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْاُ رَحْمَتَکَ وَنَخْشَی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَا بَکَ بّالْکُفَارِ مُلْحِقْ.
قدرمنو لوستونکو. په همدې پوسټ کې دعا قنوت. ژباړه نه وه. نو ومو غوښتل چې هغه هم پکې اډ کړو دا چې ټولو به نه وي ليدلى. نو غوره مو وګڼله چې بل پوسټ هم وکړو زما په وال يې لوستلى شئ

شير کول يې صدقــــــــه جاريه ده.

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

ملاکنڈ خیبر پختونخوا پاکستان
Peshawar