Payam-e-Chitral

Payam-e-Chitral

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Payam-e-Chitral, Abbottabad.

"چترال کی پہچان، عوام کی آواز — پیامِ چترال | یہ پلیٹ فارم چترال کے حقیقی مسائل، مقامی خبریں، سماجی صورتحال اور عوامی احساسات کو اجاگر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، تاکہ ہر آواز بااثر انداز میں سامنے آ سکے اور حقائق تک رسائی آسان ہو سکے۔"

17/05/2026

“جھوٹ کے سائے میں زخمی ہوتا سچ”
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
اسلام آباد جیسے حساس اور باوقار دارالحکومت میں جب اغواء کی کوئی خبر سامنے آتی ہے تو صرف ایک خاندان ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ خوف، بے یقینی اور اضطراب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لوگ اپنے بچوں، بھائیوں اور عزیزوں کی سلامتی کیلئے پریشان ہو جاتے ہیں، ریاستی ادارے حرکت میں آتے ہیں، پولیس اور تحقیقاتی ٹیمیں دن رات ایک کرکے مغوی کی بازیابی کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرتی ہیں۔
کسی ماں کی آنکھوں سے نیند چھن جاتی ہے، کسی بہن کے لبوں پر دعائیں آ جاتی ہیں، کسی باپ کے چہرے پر فکر کی لکیریں نمایاں ہو جاتی ہیں، جبکہ پورا معاشرہ ایک انجانے خوف کے سائے میں داخل ہو جاتا ہے۔ ایسے واقعات صرف ایک فرد یا خاندان کا مسئلہ نہیں ہوتے بلکہ پورے ملک کی فضا کو متاثر کرتے ہیں۔
مگر افسوس اُس وقت کئی گنا بڑھ جاتا ہے جب بعد میں یہ حقیقت سامنے آئے کہ یہ سب ایک ڈرامہ تھا…
ایک جھوٹ…
ایک سازش…
اور ذاتی مفادات کیلئے رچایا گیا ایسا کھیل جس میں ریاستی اداروں، عوامی جذبات، سوشل میڈیا اور پورے معاشرے کو استعمال کیا گیا۔
اسلام آباد کے مبینہ اغواء کیس میں سامنے آنے والی تفصیلات نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نورالدین زنگی نامی شخص نے مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جعلی اغواء کا ڈرامہ رچایا، سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل کیں، مخالفین کو پھنسانے کی کوشش کی اور خود پر واجب الادا رقوم سے بچنے کیلئے ایک ایسا جھوٹا بیانیہ تخلیق کیا جس نے پورے ملک میں بے چینی پیدا کر دی۔
یہ محض ایک شخص کا فراڈ نہیں…
یہ ریاست کے اعتماد پر حملہ ہے۔
یہ عوامی جذبات کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔
یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محنت، وقت اور وسائل کا بے رحمانہ ضیاع ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس فراڈی ڈرامے کے دوران چترال جیسے پُرامن، باوقار اور مہذب معاشرے کا نام بھی ایسے انداز میں استعمال کیا گیا گویا ایک پُرامن خطے کی عزت اور ساکھ کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانا کوئی معمولی بات ہو۔
چترال ہمیشہ امن، اخوت، شرافت، تعلیم، رواداری اور حب الوطنی کی علامت رہا ہے۔ یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ پاکستان کی عزت، قانون کی پاسداری اور قومی وحدت کو ترجیح دی۔ ایسے میں اگر کوئی شخص اپنے ذاتی مفاد کیلئے چترال جیسے پُرامن معاشرے کو بدنام کرنے کی کوشش کرے تو یہ صرف ایک علاقے نہیں بلکہ پوری قوم کی توہین ہے۔
یہ سوال آج ہر باشعور پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ:
کیا نورالدین زنگی اکیلا تھا؟
یا اس کے پیچھے سوشل میڈیا پر سرگرم وہ تمام کردار بھی موجود تھے جنہوں نے اس جھوٹ کو پھیلایا، لوگوں کے جذبات سے کھیلا اور ایک منظم بیانیہ بنانے کی کوشش کی؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کیس کے تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جائے۔ صرف مرکزی ملزم کی گرفتاری کافی نہیں بلکہ ان تمام سہولت کاروں، سوشل میڈیا کے نام نہاد حمایتیوں اور خاموش کرداروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے اس جھوٹے ڈرامے کو پروان چڑھانے میں کسی بھی شکل میں کردار ادا کیا۔
کیونکہ ایسے جھوٹے ڈرامے صرف وقتی سنسنی پیدا نہیں کرتے بلکہ ان کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔
یہ حقیقی اغواء کے واقعات پر عوامی اعتماد ختم کرتے ہیں۔
یہ اصل مظلوموں کی آواز کو کمزور کرتے ہیں۔
یہ معاشرے میں سچ اور جھوٹ کے درمیان حدیں دھندلا دیتے ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر، یہ نوجوان نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ شہرت، ہمدردی اور ذاتی فائدے کیلئے جھوٹ بھی ایک ہتھیار بن سکتا ہے۔
آج اگر ایسے عناصر کو سخت انجام تک نہ پہنچایا گیا تو کل ہر دوسرا فراڈی شخص سوشل میڈیا کا سہارا لے کر ریاست، عوام اور پُرامن معاشروں کی عزت کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کرے گا۔
لہٰذا حکومتِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تحقیقاتی ایجنسیوں اور سائبر کرائم ونگ سے پُرزور مطالبہ ہے کہ اس کیس کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، تمام خفیہ کرداروں کو سامنے لایا جائے اور اس ڈرامے میں شریک ہر فرد کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ وہ دوسروں کیلئے نشانِ عبرت بن سکے۔
کیونکہ زندہ قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بلکہ سچ، انصاف، قانون اور اجتماعی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اور جب جھوٹ بولنے والے معاشرے میں ہیرو بننے لگیں تو پھر خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔






















13/05/2026

نورالدین زنگی چترالی, ویڈیو کی حقیقت — ایک مکمل جائزہ
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
چند دنوں سے سوشل میڈیا خصوصاً مختلف چترالی پیجز اور واٹس ایپ گروپس میں ایک نوجوان “نورالدین زنگی چترالی” کے حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔ مختلف دعوے، الزامات، ویڈیوز اور تبصرے منظرِ عام پر آ رہے ہیں جنہوں نے نہ صرف چترالی عوام بلکہ پورے ملک میں تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ مؤقف سامنے آیا کہ مذکورہ شخص نے کاروبار اور سرمایہ کاری کے نام پر کئی چترالی افراد سے کروڑوں بلکہ اربوں روپے حاصل کیے اور بعد ازاں اچانک غائب ہو گیا۔
آج صبح سے ایک نئی ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں نورالدین زنگی مبینہ طور پر کچھ مسلح افراد کے قبضے میں دکھائی دے رہا ہے، جبکہ ویڈیو میں اغواء کار کروڑوں روپے تاوان کا مطالبہ کرتے سنائی دیتے ہیں۔ یہی ویڈیو اس وقت عوامی بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اس معاملے پر عوام کے تاثرات دو حصوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔ ایک طبقہ اس ویڈیو کو حقیقت قرار دے رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر واقعی نورالدین زنگی اغواء ہو چکا ہے تو یہ نہایت سنگین معاملہ ہے، جس میں فوری حکومتی اور ریاستی مداخلت ناگزیر ہے۔ ایسے افراد کا مؤقف ہے کہ انسانی جان ہر چیز سے مقدم ہے اور اگر کوئی شخص ڈاکوؤں یا جرائم پیشہ عناصر کے قبضے میں ہے تو اسے فوری بازیاب کرانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب ایک بڑا طبقہ اس پورے واقعے کو “ٹوپی ڈرامہ” قرار دے رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام منصوبہ بندی پہلے سے تیار کی گئی تاکہ چترالی عوام سے لیے گئے پیسے ہضم کیے جا سکیں اور ہمدردی حاصل کر کے مزید وقت خریدا جا سکے۔ سوشل میڈیا پر کئی افراد یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر واقعی اغواء ہوا ہے تو پھر اس کی مکمل تفصیلات، مقام، شواہد اور قانونی کارروائی کیوں منظرِ عام پر نہیں آ رہی؟ بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جدید دور میں جعلی ویڈیوز، منصوبہ بند ڈرامے اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا عام ہو چکا ہے، اس لیے ہر ویڈیو کو بغیر تحقیق کے سچ مان لینا دانشمندی نہیں۔
چترالی عوام اس وقت شدید کشمکش اور ذہنی اضطراب کا شکار ہیں۔ ایک طرف ہمدردی اور انسانی درد کا جذبہ ہے، تو دوسری طرف مالی نقصان اٹھانے والوں کا غصہ اور بے یقینی بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ معاملہ محض سوشل میڈیا بحث نہیں رہا بلکہ ایک سنجیدہ قومی اور قانونی مسئلہ بن چکا ہے۔
ایسے حساس اور پیچیدہ معاملے میں ضروری ہے کہ ریاستی ادارے فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں تاکہ حقیقت جلد از جلد قوم کے سامنے لائی جا سکے۔ اگر نورالدین زنگی واقعی اغواء ہوا ہے تو حکومتِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور متعلقہ سیکیورٹی ایجنسیاں پوری قوت کے ساتھ اسے بازیاب کرانے کے لیے کارروائی کریں، اور اغواء میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
لیکن اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہو جائے کہ یہ سب ایک منصوبہ بند ڈرامہ تھا، جس کا مقصد عوام کو دھوکہ دینا اور مالی فراڈ کو چھپانا تھا، تو پھر اس کے اصل کرداروں کو بھی نشانِ عبرت بنایا جانا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی شخص عوامی اعتماد اور جذبات سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے۔
یہ معاملہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے چترال کے وقار، اعتماد اور ساکھ کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں افواہیں آگ کی طرح پھیلتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہر شخص جذبات کے بجائے تحقیق اور ثبوت کو ترجیح دے۔ بغیر تصدیق کے کسی کے حق یا مخالفت میں فیصلہ دینا مزید انتشار پیدا کر سکتا ہے۔
اب نظریں ریاستی اداروں پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ کتنی سنجیدگی، دیانتداری اور تیزی کے ساتھ اس معمے کو حل کرتے ہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے؟ آیا واقعی ایک نوجوان ڈاکوؤں کے قبضے میں ہے یا پھر یہ سب ایک سوچا سمجھا کھیل ہے؟
قوم انتظار کر رہی ہے کہ سچ جلد سامنے آئے، مظلوم کو انصاف ملے، اور اگر کسی نے عوام کو دھوکہ دیا ہے تو اسے قانون کے مطابق عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے۔









12/05/2026

ہنگامی اطلاع ..گمشدہ نوجوان کی تلاش

​انسانیت کے ناطے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں!

​انتہائی دردمندی کے ساتھ آپکو اطلاع دے رہے ہیں کہ ہم انتہائی پریشان کن صورتحال سے گزر رہے ہیں اس پریشانی میں ہمیں آپ تمام احباب کے تعاون کی سخت ضرورت ہے.

میرا بھانجا نام احتشام الدین ولد حِسام الدین
ساکنہ شیشی کوہ تار
جو کہ فی الحال چترال خورکشاندہ میں اپنے خالہ کے ہاں رہ کر ڈگری کالج میں تعلیم حاصل کر رہا تھا...
(فرسٹ ائیر کمپیوٹر سائنس )

کل بروز پیر صبح دس بجے سے تا حال لاپتہ ہے... اہل خانہ سخت پریشان ہیں.... اگر کسی کو اس نوجوان کے متعلق معلومات ہوں تو ان نمبروں پر رابطہ کریں...
اور دل ہی دل میں دعا بھی فرمائیں ....

جزاکم اللہ خیرا

نورالاسلام کجو. 03468277137
انوارالحق کجو. 03419252484
حسام الدین شیشی کوہ. 03429111328

Photos from Payam-e-Chitral's post 10/05/2026

غزان احمد افضل — چترال کی وادیوں سے اُبھرتا ہوا انسانیت کا چراغ
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
گزشتہ دنوں معزز اُستاد رحمت عزیز صاحب کی غزان احمد افضل کے حوالے سے ایک پوسٹ نظر سے گزری، جس میں انہوں نے غزان سے ملاقات کرکے اُس کے تاثرات قلمبند کیے تھے۔ یہ بچہ صرف چترال ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک رول ماڈل ہے۔ ایسے حساس دل، فطرت دوست اور رحم دل بچوں کی حوصلہ افزائی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ خصوصاً حکومتِ پاکستان اور محکمہ وائلڈ لائف کو چاہیے کہ غزان احمد افضل کی نہ صرف سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کرے بلکہ اُسے خصوصی ایوارڈ دے کر آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنایا جائے، تاکہ بچوں کے اندر فطرت، جانوروں اور ماحول سے محبت کا جذبہ فروغ پا سکے۔
چترال کی پُرفضا وادیوں میں پیدا ہونے والا یہ ننھا سا بچہ بظاہر ایک عام بچہ دکھائی دیتا ہے، مگر اُس کے اندر دھڑکنے والا دل غیر معمولی احساسات سے لبریز ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وہ ویڈیو شاید بہت سے لوگوں نے دیکھی ہوگی جس میں غزان ایک زخمی مرغابی کو اپنے سینے سے لگائے، آنکھوں میں آنسو اور دل میں امید لیے ویٹرنری ہسپتال کی طرف جا رہا تھا۔ مرغابی کی چونچ سے خون بہہ رہا تھا، مگر غزان اُسے بار بار چوم کر جیسے یہ یقین دلا رہا تھا کہ “میں تمہیں مرنے نہیں دوں گا۔”
لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ وہ معصوم پرندہ راستے ہی میں دم توڑ گیا۔ اُس لمحے ایک بچے کے چہرے پر جو کرب، بے بسی اور صدمہ تھا، وہ شاید ہزار تقریروں سے زیادہ اثر رکھتا تھا۔ غزان بار بار اُس مرغابی کو دیکھتا، اُس کی سانس چیک کرتا، شاید اُسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایک بے زبان پرندہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکا ہے۔ پھر اُس نے اپنے ننھے ہاتھوں سے قبر کھودی، مرغابی کو احترام سے دفن کیا، مٹی ڈالی اور خاموشی سے گھر لوٹ آیا۔ یہ منظر دراصل انسانیت کے زندہ ہونے کا اعلان تھا۔
آج کے دور میں جب انسان انسان کا خون بہا کر بھی بے حس ہو چکا ہے، جب ظلم، جنگ، نفرت اور طاقت کے نشے نے دنیا کو اندھا کر دیا ہے، وہاں چترال کا یہ ننھا بچہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت ابھی مری نہیں۔ ایک طرف دنیا میں ایسے سنگدل لوگ موجود ہیں جو معصوم انسانوں، عورتوں اور بچوں پر بم برسا کر بھی سکون سے سو جاتے ہیں، اور دوسری طرف غزان جیسے بچے ہیں جو ایک زخمی پرندے کی تکلیف برداشت نہیں کر پاتے۔ یہی فرق انسان اور درندے میں حدِ فاصل کھینچتا ہے۔
غزان احمد افضل کی سب سے بڑی خوبی صرف اُس کی رحم دلی نہیں بلکہ اُس کا شعور بھی ہے۔ جب اُس نے یہ کہا کہ “اگر ہم پرندوں کو ختم کر دیں گے تو زمین کیڑے مکوڑوں سے بھر جائے گی، فصلیں تباہ ہوں گی اور آخرکار انسان بھوکا مرے گا”، تو یہ محض ایک بچے کی بات نہیں تھی بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی فلسفہ تھا۔ یہ وہی فوڈ چین اور ماحولیاتی توازن کا تصور ہے جسے بڑے بڑے سائنسدان کتابوں میں بیان کرتے ہیں، مگر غزان اُسے اپنے دل سے محسوس کرتا ہے۔
یہ بات حیران کن بھی ہے اور خوش آئند بھی کہ ایک بچہ فطرت کے اس راز کو سمجھ چکا ہے کہ دنیا میں ہر مخلوق کی اپنی اہمیت ہے۔ اگر ایک نوع ختم ہو جائے تو پوری کائناتی زنجیر متاثر ہوتی ہے۔ یہی وہ شعور ہے جس کی آج انسانیت کو شدید ضرورت ہے۔ ہم نے جنگلات کاٹے، دریاؤں کو آلودہ کیا، چرند پرند کو تفریح اور شوق کے نام پر قتل کیا، اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ سیلاب، بیماریاں، ماحولیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات کیوں بڑھ رہی ہیں۔
غزان کا یہ کہنا کہ “شکار صرف اُس انسان کو کرنا چاہیے جس کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہو”، دراصل پوری انسانیت کے لیے ایک پیغام ہے۔ اُس کے الفاظ میں رحم بھی ہے، حکمت بھی، اور توازن بھی۔ وہ شکار کو کھیل نہیں بلکہ ایک جان لینے کے مترادف سمجھتا ہے۔ یہی سوچ اگر ہماری نئی نسل میں منتقل ہو جائے تو شاید آنے والے وقت میں دنیا زیادہ محفوظ، زیادہ پُرامن اور زیادہ خوبصورت بن جائے۔
افسوس یہ ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو کامیابی کا مطلب صرف دولت، طاقت اور شہرت سمجھایا ہے۔ ہم نے اُنہیں رحم، احساس اور محبت کا سبق کم دیا ہے۔ غزان جیسے بچے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اصل عظمت نرم دل ہونے میں ہے۔ جو دل ایک زخمی پرندے کے لیے تڑپتا ہے، وہ کل انسانیت کے لیے بھی تڑپے گا۔ جو بچہ آج ایک مرغابی کو دفن کرتے ہوئے رو رہا ہے، کل وہی انسانوں کے حقوق، ماحول کے تحفظ اور معاشرے کی بھلائی کے لیے کھڑا ہوگا۔
چترال کی سرزمین ہمیشہ سے فطرت دوست، مہذب اور حساس لوگوں کی سرزمین رہی ہے۔ یہاں کے پہاڑ، دریا، پرندے اور جنگلات انسان کے دل میں نرمی پیدا کرتے ہیں۔ غزان احمد افضل اسی سرزمین کی خوبصورت تربیت کا نتیجہ ہے۔ اُس کے والدین، اساتذہ اور خاندان یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک ایسا بچہ پروان چڑھایا جس کے دل میں اللہ کی مخلوق کے لیے درد موجود ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ غزان احمد افضل جیسے بچوں کو قومی سطح پر متعارف کروایا جائے۔ اسکولوں میں اُن کی مثال دی جائے۔ محکمہ وائلڈ لائف، ضلعی انتظامیہ اور سماجی ادارے ایسے بچوں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ معاشرے میں رحم، شعور اور فطرت دوستی کی روایت مضبوط ہو سکے۔ قومیں صرف ایٹم بم، ہتھیار اور طاقت سے عظیم نہیں بنتیں، بلکہ اُن کے عظیم ہونے کا راز اُن کے دلوں کی نرمی، انصاف اور رحم میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
غزان احمد افضل! تم نے ایک زخمی مرغابی کو دفن نہیں کیا، بلکہ ہمارے مردہ ضمیر کو جگانے کی کوشش کی ہے۔ تم نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ اس زمین پر صرف انسان کا نہیں بلکہ ہر جاندار کا حق ہے۔ تمہاری آنکھوں کے آنسو دراصل پوری انسانیت کے نام ایک خاموش پیغام ہیں کہ اگر دل میں رحم باقی رہے تو دنیا اب بھی بچ سکتی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ غزان احمد افضل کو سلامت رکھے، اُسے علم، شعور اور کامیابی عطا فرمائے، اور چترال کی وادیوں میں اُس جیسے ہزاروں بچے پیدا ہوں جو انسانیت، فطرت اور محبت کے سفیر بن کر اُبھریں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ قومیں نفرت سے نہیں، رحم سے زندہ رہتی ہیں۔



















07/05/2026

شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت اور علمی وراثت
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
یہ صرف ایک خبر نہ تھی… یہ ایک صدیوں پر محیط روایت کا زخم تھا۔
جب شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت کی خبر آئی تو یوں لگا جیسے کسی نے علم کے آسمان سے ایک روشن ستارہ نوچ کر زمین پر گرا دیا ہو۔ فضا میں ایک بوجھل خاموشی پھیل گئی، اور دلوں میں ایک ایسا درد جاگ اٹھا جسے لفظوں میں قید کرنا ممکن نہیں۔
وہ شخص، جو مسندِ درس پر بیٹھ کر الفاظ نہیں، نور بانٹتا تھا… جو روایت کو صرف بیان نہیں کرتا تھا بلکہ اپنے وجود میں اسے زندہ رکھتا تھا… آج خود ایک خاموش داستان بن گیا۔ شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی زندگی سادگی کا استعارہ، اخلاص کی تصویر اور علم کی خوشبو سے مہکتی ہوئی ایک روشن کتاب تھی۔
شیخُ الحدیث مولانا ادریس کے پاس بیٹھنے والا صرف سبق نہیں لیتا تھا، بلکہ اپنے اندر ایک انقلاب محسوس کرتا تھا—سوچ بدلتی، دل نرم ہوتا، اور نگاہ میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی۔
شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی آواز میں کوئی بناوٹ نہ تھی، مگر تاثیر ایسی کہ دلوں کے بند دروازے کھل جاتے۔ شیخُ الحدیث مولانا ادریس لفظوں کے نہیں، کردار کے عالم تھے۔ شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی محفل میں علم، ادب، خشیت اور محبت ایک ساتھ سانس لیتے تھے۔ یہی وہ اوصاف تھے جو شیخُ الحدیث مولانا ادریس کو محض ایک مدرس نہیں، بلکہ ایک عہد کی پہچان بنا دیتے تھے۔
مگر یہ کیسا زمانہ ہے…؟
جہاں روشنی سے آنکھیں چُرانے والے، چراغوں کو بجھانے پر تُلے ہوئے ہیں۔
جہاں حق بولنے والے ہدف بن جاتے ہیں، اور خاموشی کو سلامتی سمجھ لیا گیا ہے۔
اہلِ علم پر مسلسل حملے اس بات کا اعلان ہیں کہ اس معاشرے میں اندھیروں کو راسخ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یہ جنگ ہتھیاروں کی نہیں، شعور اور جہالت کے درمیان ہے۔
ایسے لمحوں میں قرآن کی یہ صدا دل کے اندر گونجتی ہے:
"وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ"
(نہ کمزور پڑو، نہ غم کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان والے ہو)
شیخُ الحدیث مولانا ادریس کا خون اسی یقین کی مہر ہے۔ شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت شکست نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے—کہ راستہ کٹھن سہی، مگر سچائی کی روشنی بجھائی نہیں جا سکتی۔ یہ قربانی ہمیں جھنجھوڑتی ہے، ہمیں آئینہ دکھاتی ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
آج وطن ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ہر طرف بے یقینی کی دھند ہے، اعتماد کی بنیادیں ہلتی محسوس ہوتی ہیں، اور دلوں میں انجانا خوف بسیرا کیے ہوئے ہے۔ ایسے میں اگر سچ بولنے والی آوازیں خاموش کر دی گئیں تو اندھیرا صرف گہرا نہیں ہوگا، بلکہ مستقل ٹھہر جائے گا۔
یہ وقت صرف افسوس کا نہیں…
یہ وقت عہد کا ہے۔
عہد اس بات کا کہ جو چراغ بجھایا گیا ہے، اس کی لو کو اپنے دلوں میں زندہ رکھا جائے۔
عہد اس بات کا کہ علم کو دیواروں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ کردار میں ڈھالا جائے۔
شیخُ الحدیث مولانا ادریس اب ہمارے درمیان نہیں، مگر شیخُ الحدیث مولانا ادریس کا فیض، شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی محنت، شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی خاموش مسکراہٹ اور شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی سچی باتیں—یہ سب زندہ ہیں۔ اور زندہ رہیں گی… جب تک کوئی ایک دل بھی سچائی کے لیے دھڑکتا رہے گا۔
اللہ تعالیٰ شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی قربانی کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، شیخُ الحدیث مولانا ادریس کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، اور ہمیں وہ بصیرت دے کہ ہم اندھیروں میں بھی روشنی کا راستہ پہچان سکیں۔
آمین…

04/05/2026

پرنس شاہ رحیم آغا خان کی چترال آمد اور ہماری ذمہ داریاں
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
چترال کی پُرفضا وادیوں میں جب بھی کسی معزز شخصیت کی آمد ہوتی ہے تو یہاں کے پہاڑ، دریا اور لوگ سب ایک خاص سرشاری اور مسرت میں ڈوب جاتے ہیں۔ ایسے ہی پُرمسرت لمحات اس وقت جنم لیتے ہیں جب اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا کے خانوادے سے تعلق رکھنے والی عظیم ہستی Prince Shah Rahim Aga Khan کی چترال آمد متوقع ہو۔ یہ محض ایک آمد نہیں بلکہ محبت، رواداری، اخوت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک روشن پیغام ہے جو دلوں کو قریب لاتا ہے اور معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دیتا ہے۔
ہم سب کی جانب سے اسماعیلی کمیونٹی کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے کہ انہیں یہ سعادت نصیب ہو رہی ہے۔ یہ لمحہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے چترال اور گلگت بلتستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ اس موقع پر ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مہمانِ گرامی کو بھرپور محبت، احترام اور خلوص کے ساتھ خوش آمدید کہیں، تاکہ ہماری تہذیب، مہمان نوازی اور اعلیٰ اقدار کا عملی مظاہرہ ہو۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس خطے میں سنی اور اسماعیلی برادری صدیوں سے باہمی احترام، بھائی چارے اور امن کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ یہی وہ خوبصورت روایت ہے جس نے چترال کو امن کا گہوارہ بنایا ہوا ہے۔ مگر افسوس کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے بعض شرپسند عناصر ایسی فضا کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ عناصر متنازعہ مواد پھیلا کر غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ دونوں برادریوں کے درمیان دوریاں بڑھیں اور عدم استحکام پیدا ہو۔
لہٰذا یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم سب، خصوصاً نوجوان نسل، سوشل میڈیا کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتیں۔ کسی بھی خبر، ویڈیو یا تحریر کو شیئر کرنے یا اس پر تبصرہ کرنے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کریں۔ یاد رکھیں، ایک غیر مصدقہ بات نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ نفرت اور انتشار کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
ہمیں بطور ذمہ دار شہری اپنے اردگرد کے ماحول پر گہری نظر رکھنی ہوگی، خاص طور پر ان عناصر پر جو سوشل میڈیا کے ذریعے زہر گھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سنی اور اسماعیلی دونوں برادریوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کریں، افواہوں سے دور رہیں اور ہر اس کوشش کو ناکام بنائیں جو ہمیں تقسیم کرنے کے لیے کی جائے۔
آخر میں، Prince Shah Rahim Aga Khan کی چترال آمد کو ہم ایک نئے عزم، اتحاد اور بھائی چارے کے موقع کے طور پر لیں۔ یہ آمد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم سب ایک ہیں، ہمارا مستقبل ایک ہے، اور ہماری طاقت بھی ہمارے اتحاد میں ہے۔ اگر ہم نے ہوش مندی، صبر اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا تو کوئی بھی قوت ہمیں تقسیم نہیں کر سکتی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں امن، اتحاد اور بھائی چارے کی اس فضا کو ہمیشہ قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔



















۔

01/05/2026

ایران کے 60 فیصد میزائل ابھی ٹچ بھی نہيں کئے گئے۔ وہ پہاڑوں کے نیچے محفوظ مقامات پر نئے نکور پڑے ہیں۔ ان کو استعمال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہيں آئی۔

ایران کی میزائل اور ڈرونز فیکٹریاں بھی پہاڑوں کے نیچے ہیں۔ ان پر امریکی یا اسرائیلی بمباری نہیں ہوسکتی۔ سب محفوظ ہیں۔

جن میزائلوں، ڈرونز اور جہازوں پر امریکی اور اسرائیلی جہاز بمباری کرتے رہے وہ چین سے خریدے گئے بدل decoys تھے۔ فیک تھے۔ امریکی اور اسرائیلی انہيں تباہ کرکے خوش ہیں۔

پروفیسر محمد مرندی کے انکشافات

مجھے اس چیز کا اندازہ تھا لیکن کہنا نہیں چاہتا تھا۔ پروفیسر نے کہہ دیا ہے تو اچھا کیا۔

ایران نے جو میزائل بھی استعمال کیے ہیں وہ سب پرانے تھے۔ جو نئے ہتھیار ہیں وہ جنگ کے دوسرے راؤنڈ کے لئے محفوظ ہیں۔ فائنل battle کے لئے۔

لوگ بھول جاتے ہیں کہ ایرانی حضرت سلمان فارسی کی قوم ہے جن سے اللہ کے رسول (ص) نے مشورہ کرکے غزوہ خندق میں دفاعی پالیسی ترتیب دی تھی۔

01/05/2026

یومِ مزدور — پسینہ، صبر اور عزت کی داستان
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
یکم مئی کا سورج جب طلوع ہوتا ہے تو اپنے ساتھ صرف ایک دن کی روشنی نہیں لاتا، بلکہ اُن لاکھوں کروڑوں محنت کشوں کی داستانیں بھی لے کر آتا ہے، جن کے پسینے سے زمینیں سیراب، کارخانے آباد اور شہر روشن ہوتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی کی ہر اینٹ کے پیچھے کسی مزدور کے ہاتھوں کی محنت، کسی ماں کی دعائیں اور کسی بچے کی محرومی چھپی ہوتی ہے۔
پاکستان کی گلیوں، بازاروں اور کھیتوں میں نظر دوڑائیں تو ہر طرف مزدور کی محنت کے رنگ بکھرے دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں تپتی دھوپ میں اینٹیں اٹھاتا مزدور، کہیں سردی کی ٹھٹھرتی راتوں میں رکشہ چلاتا باپ، تو کہیں فیکٹریوں کے شور میں اپنی جوانی کھپاتا نوجوان—یہ سب اس ملک کی اصل طاقت ہیں۔ مگر افسوس کہ اکثر انہی ہاتھوں کو وہ عزت، وہ سہولتیں اور وہ تحفظ نہیں ملتا جس کے وہ حقیقی حقدار ہیں۔
اسلام نے تو محنت اور مزدور کو وہ مقام عطا کیا ہے جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
"مزدور کی اجرت اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔"
یہ صرف ایک حکم نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ انصاف کی بنیاد ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مزدور صرف ایک کارکن نہیں بلکہ عزت و تکریم کا مستحق انسان ہے، جس کے حقوق کی حفاظت معاشرے پر فرض ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم بحیثیت قوم اس تعلیم پر عمل کر رہے ہیں؟
کیا ہم نے کبھی اُس مزدور کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا ہے جو دن بھر کی محنت کے بعد بھی اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے میں ناکام رہتا ہے؟
کیا ہم نے اُس کے دل کی تھکن کو محسوس کیا ہے جو اپنے خوابوں کو قربان کر کے ہمارے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دیتا ہے؟
یومِ مزدور ہمیں صرف تقریبات منانے یا نعرے لگانے کا نہیں، بلکہ خود احتسابی کا پیغام دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم اپنے رویّوں کو بدلیں، اپنے معاشرتی نظام کو بہتر بنائیں اور اُن لوگوں کو وہ مقام دیں جو درحقیقت اس کے مستحق ہیں۔
پاکستان کا مستقبل صرف بڑے منصوبوں، اونچی عمارتوں یا ترقیاتی نعروں سے روشن نہیں ہوگا، بلکہ اُس وقت روشن ہوگا جب ایک مزدور کا بچہ بھی تعلیم، صحت اور عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزار سکے گا۔ جب مزدور کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے گا، جب اس کے ہاتھوں کی محنت کو عبادت سمجھا جائے گا، تب ہی ایک حقیقی اسلامی اور فلاحی معاشرہ وجود میں آئے گا۔
آئیے، اس یومِ مزدور پر ہم صرف الفاظ کی حد تک نہیں بلکہ عمل کے ذریعے یہ عہد کریں کہ ہم ہر مزدور کی عزت کریں گے، اس کے حقوق کا خیال رکھیں گے اور ایک ایسا پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں کوئی بھی محنت کش محرومی کا شکار نہ ہو۔
کیونکہ یاد رکھیں—
قومیں محلات سے نہیں، مزدوروں کے پسینے سے بنتی ہیں۔
#یومِ_مزدور

#پاکستان

30/04/2026

ایک خاموش خدمت گار کا درخشاں باب
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
زندگی کے ہنگاموں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو شور نہیں مچاتے، مگر ان کی خاموش محنت وقت کے سینے پر سنہری نقوش چھوڑ جاتی ہے۔ فضل نعیم لال بھی انہی عظیم انسانوں میں سے ایک تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی خدمت، خلوص اور انسان دوستی کے نام کر دی۔
وہ محض ایک سرکاری افسر نہیں تھے بلکہ ایک جذبہ تھے، ایک سوچ تھے، ایک ایسا سایہ دار درخت تھے جس کے نیچے بے شمار ضرورت مندوں نے سکون پایا۔ بطور سینئر سپرنٹنڈنٹ اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے انہوں نے کبھی اپنے عہدے کو رکاوٹ نہیں بننے دیا، بلکہ اسے ایک وسیلہ بنایا—لوگوں کے دکھ بانٹنے کا، ان کی مشکلات آسان کرنے کا، اور ان کے لیے امید کی کرن بننے کا۔
چترال سے تعلق رکھنے والے مریض جب بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں بے بسی کا شکار ہوتے، تو فضل نعیم لال ان کے لیے ایک سہارا بن کر سامنے آتے۔ وہ نہ صرف ان کی رہنمائی کرتے بلکہ ان کے علاج معالجے کے معاملات میں ذاتی دلچسپی لیتے۔ کئی ایسے گھرانے ہیں جن کے لیے وہ محض ایک مددگار نہیں بلکہ ایک مسیحا کی حیثیت رکھتے ہیں۔
طلبہ کے لیے بھی وہ ایک شفیق راہنما تھے۔ وہ انہیں نہ صرف تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے بلکہ زندگی کے نشیب و فراز میں صحیح راستہ دکھاتے۔ ان کے مشورے، ان کی رہنمائی، اور ان کی حوصلہ افزائی نے کئی نوجوانوں کی تقدیر بدل دی۔
ضرورت مندوں کے لیے وہ واقعی ایک "خاموش ادارہ" تھے۔ نہ کسی شہرت کی خواہش، نہ کسی صلے کی تمنا—بس ایک لگن، ایک عزم، کہ جہاں تک ممکن ہو، انسانیت کی خدمت کی جائے۔ وہ ان گنت کہانیاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں جن میں کسی کی آنکھوں کے آنسو خشک ہوئے، کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی، اور کسی کی زندگی سنور گئی۔
یہ سمجھنا واقعی مشکل ہے کہ ایک انسان اتنا کچھ کیسے کر سکتا ہے، مگر ان کے لیے یہ سب فطری تھا۔ ان کی عاجزی، ان کا خلوص، اور ان کی مسلسل محنت انہیں ایک عام انسان سے کہیں بلند مقام پر لے گئی۔
آج جب وہ اپنی سرکاری خدمات سے ریٹائر ہو چکے ہیں، تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ انہوں نے صرف ایک ملازمت نہیں نبھائی، بلکہ ایک مشن کو جیا ہے۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، اور ان کا نام عزت و احترام سے لیا جائے گا۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، خوشی اور سکون بھری طویل زندگی عطا فرمائے، اور ان کی یہ بے لوث خدمات ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنیں۔

29/04/2026

موضوع: چترال — محرومی سے ترقی تک، ایک ناگزیر قومی تقاضا
چترال وہ حسین مگر نظرانداز خطہ ہے جو قدرتی حسن، ثقافتی تنوع اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ یہ علاقہ Pakistan کے شمال میں واقع ہو کر Central Asia کے ساتھ ایک قدرتی دروازے کی حیثیت رکھتا ہے، مگر افسوس کہ دہائیوں سے سیاسی غفلت اور ناقص منصوبہ بندی نے اسے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رکھا ہوا ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ سڑکوں اور رسائی کا فقدان ہے۔ چترال کو باقی ملک سے ملانے والی سڑکیں اکثر خستہ حال ہیں، جبکہ سردیوں میں برفباری کے باعث راستے بند ہو جاتے ہیں۔ Lowari Tunnel جیسے منصوبے امید کی کرن ضرور ہیں، مگر اُن کی مکمل فعالیت اور دیکھ بھال میں کوتاہی واضح ہے۔
دوسرا بڑا مسئلہ تعلیم اور صحت کی سہولیات کی کمی ہے۔ دور دراز علاقوں میں اسکول تو موجود ہیں مگر اساتذہ نہیں، جبکہ ہسپتالوں میں بنیادی ادویات اور معالجین کی شدید کمی ہے۔ اس کے نتیجے میں عوام کو معمولی علاج کے لیے بھی طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔
بے روزگاری اور معاشی جمود بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ چترال میں سیاحت، معدنیات اور زراعت کے بے شمار مواقع موجود ہیں، مگر حکومتی عدم توجہ کے باعث یہ وسائل بروئے کار نہیں لائے جا رہے۔ نوجوان طبقہ روزگار کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہے۔
چترال کے مسائل کی جڑ میں سب سے بڑا عنصر سیاسی بے حسی ہے۔ انتخابات کے دوران وعدے تو بہت کیے جاتے ہیں، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ترقیاتی فنڈز کا غیر منصفانہ استعمال، مقامی قیادت کی کمزوری، اور پالیسی سازی میں چترال کو نظرانداز کرنا اس خطے کو مسلسل پسماندگی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ چترال جیسے حساس سرحدی علاقے کو نظرانداز کرنا قومی سلامتی کے تناظر میں بھی نقصان دہ ہے۔ ایک مضبوط، خوشحال اور مربوط چترال ہی پاکستان کے شمالی سرحدی استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔
چترال کی اصل طاقت اس کی جغرافیائی پوزیشن میں مضمر ہے۔ یہ علاقہ براہِ راست وسطی ایشیائی ریاستوں کے قریب واقع ہے، جو تجارت، توانائی اور علاقائی روابط کے لیے بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔
اگر چترال کو جدید بنیادی ڈھانچے، سرحدی تجارتی راستوں اور اقتصادی راہداریوں سے جوڑ دیا جائے تو یہ علاقہ پاکستان کے لیے ایک تجارتی دروازہ بن سکتا ہے۔ وسطی ایشیا سے گیس، بجلی اور دیگر وسائل کی ترسیل کے لیے چترال ایک قدرتی راستہ فراہم کرتا ہے، جو ملک کی معیشت کو نئی زندگی دے سکتا ہے۔
چترال کی ترقی کے لیے محض نعروں سے نہیں بلکہ مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے:
سڑکوں اور نقل و حمل کے نظام کو جدید بنایا جائے، خاص طور پر تمام موسموں میں کھلے رہنے والے راستے تعمیر کیے جائیں۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات کی جائیں، مقامی افراد کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار دیا جائے۔
سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کی جائیں، کیونکہ چترال قدرتی حسن کا خزانہ ہے۔
وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی روابط کے لیے سرحدی منڈیاں اور اقتصادی زونز قائم کیے جائیں۔
مقامی قیادت کو مضبوط کیا جائے تاکہ فیصلے زمینی حقائق کے مطابق ہوں۔
اب وقت آ چکا ہے کہ چترال کو نظرانداز کرنے کی روایت ختم کی جائے اور اسے ترقی، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جائے—کیونکہ ایک مضبوط چترال ہی ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے۔








29/04/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Yxz Cl, Inayat Ur Rehman, Karim Karimi, Zakir Afkar, Sajid Sajid, Qayum Rahmat, Noor Ul Ameen, Abdul Ghafoor, Ziaul Haq Zia, Malak Utmanzai, Fareed Ahmad Mir, Muhammad Ibrahim, Mohammad Sharif, Sharif Lal

Want your school to be the top-listed School/college in Abbottabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Abbottabad
25000