04/07/2026
معصوم کلیوں کا تحفظ، اخلاقی زوال اور اسلامی اقدار کی ناگزیر ضرورت
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
آج پاکستان ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں سب سے زیادہ تشویش ناک مسئلہ ہمارے معصوم بچوں اور بچیوں کا تحفظ بنتا جا رہا ہے۔ آئے روز ملک کے مختلف حصوں، کراچی سے لے کر چترال تک، معصوم کلیوں کے ساتھ جنسی استحصال، زیادتی، اغواء اور تشدد جیسے دل دہلا دینے والے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ یہ صرف چند خاندانوں کا نہیں بلکہ پوری قوم کے ضمیر کا امتحان ہے۔ جب ایک معصوم بچہ یا بچی درندگی کا شکار ہوتی ہے تو درحقیقت پوری انسانیت زخمی ہوتی ہے۔
یہ سانحات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ایک گہرے اخلاقی بحران سے گزر رہا ہے۔ بے حیائی، فحاشی، جنسی اشتعال انگیزی اور اخلاقی بے راہ روی کو مختلف ذرائع سے عام کیا جا رہا ہے۔ فلموں، بعض ڈراموں، شوبز کی منفی جہتوں، انٹرنیٹ پر موجود فحش مواد، سوشل میڈیا کے گندے شارٹس اور دیگر غیر اخلاقی ذرائع نے معاشرے کے ایک بڑے حصے کو شہوانی خواہشات کی طرف دھکیل دیا ہے۔ جب معاشرے میں حیا کمزور اور نفس کی پیروی غالب ہو جائے تو جرائم کی شرح میں اضافہ ایک فطری نتیجہ بن جاتا ہے۔
اسلام انسان کو صرف عبادات کا نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی، معاشرتی اور قانونی نظام عطا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ حیا، پاکدامنی، عدل، ذمہ داری اور انسانی عزت و حرمت کے تحفظ کو بنیادی اصول قرار دیتے ہیں۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک پاکیزہ اور محفوظ معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔
آج والدین کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ بچوں کو صرف تعلیم دینا کافی نہیں بلکہ ان کی حفاظت، نگرانی اور اخلاقی تربیت بھی ناگزیر ہے۔ انہیں اچھے اور برے لمس، ذاتی حدود، اور کسی بھی مشکوک صورتحال میں فوری طور پر والدین یا قابلِ اعتماد فرد کو آگاہ کرنے کی تربیت دی جائے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مجرم کسی بھی طبقے، پیشے یا رشتے سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ اس لیے بچوں کے تحفظ کے معاملے میں صرف رشتوں یا ظاہری دینداری پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے احتیاط، نگرانی اور آگاہی کو اختیار کرنا چاہیے۔ احتیاط کا مطلب بدگمانی کو فروغ دینا نہیں بلکہ بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دینا ہے۔
اسلامی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ معاشرے میں جرائم کے خاتمے کے لیے صرف اخلاقی نصیحت کافی نہیں بلکہ انصاف، احتساب، قانون کی مؤثر عملداری، اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا احساس بھی ضروری ہے۔ بہت سے اہلِ علم کی رائے ہے کہ اسلامی قانون میں مذکور سزاؤں کی مکمل اور منصفانہ عملداری، جب اسلامی عدالتی اصولوں، سخت شہادت کے معیار، انصاف اور ریاستی ذمہ داریوں کے ساتھ نافذ کی جائے، تو سنگین جرائم کی روک تھام میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت، تعلیم، خاندانی نظام کی مضبوطی اور معاشرتی اصلاح بھی ناگزیر ہیں۔
لہٰذا تمام مذہبی، سماجی اور سیاسی قیادت سے گزارش ہے کہ بچوں کے تحفظ، اخلاقی تربیت، خاندانی نظام کے استحکام، غیر اخلاقی مواد کی روک تھام اور انصاف پر مبنی مؤثر قانون سازی و قانون کے یکساں نفاذ کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں۔ اس مسئلے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی، انسانی اور دینی ذمہ داری سمجھا جائے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور باوقار معاشرے میں پروان چڑھ سکیں۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی معصوم کلیوں کی حفاظت کو اپنی اولین ذمہ داری بنائیں گے، انہیں دینی و اخلاقی تربیت دیں گے، ان کی عزت و حرمت کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں گے اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں ہر بچہ خوف کے بغیر زندگی گزار سکے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں، بچیوں، خواتین اور تمام انسانوں کی جان، عزت اور آبرو کی حفاظت فرمائے، ہمارے معاشرے کو ہر قسم کے فتنہ و فساد سے محفوظ رکھے اور ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق عدل، انصاف، حیا اور تقویٰ پر مبنی معاشرہ قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین