Payam-e-Chitral

Payam-e-Chitral

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Payam-e-Chitral, Abbottabad.

"چترال کی پہچان، عوام کی آواز — پیامِ چترال | یہ پلیٹ فارم چترال کے حقیقی مسائل، مقامی خبریں، سماجی صورتحال اور عوامی احساسات کو اجاگر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، تاکہ ہر آواز بااثر انداز میں سامنے آ سکے اور حقائق تک رسائی آسان ہو سکے۔"

15/06/2026
10/06/2026

شندور پولو فیسٹیول 2026
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
کبھی آپ نے بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر
بادلوں کو زمین کے قریب اترتے دیکھا ہے؟
کبھی آپ نے ایسی ہوا محسوس کی ہے
جو صرف سرد نہ ہو بلکہ رگوں میں اتر کر
خون کو گرم کر دے؟
اگر نہیں—
تو پھر آپ نے شندور نہیں دیکھا۔
شندور صرف ایک میدان نہیں،
یہ پہاڑوں کے سینے پر دھڑکتا ہوا دل ہے۔
یہ وہ جگہ ہے
جہاں فطرت، غیرت، روایت اور جنون
ایک ہی منظر میں جمع ہو جاتے ہیں۔
دنیا اسے “دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ” کہتی ہے،
مگر اہلِ چترال اور گلگت کیلئے
یہ صرف کھیل کا میدان نہیں—
یہ شناخت ہے۔
یہ وقار ہے۔
یہ صدیوں پرانی روایت کا جیتا جاگتا استعارہ ہے۔
جون کی صبح جب شندور کے سبز میدان پر
سورج کی پہلی کرن پڑتی ہے،
تو یوں لگتا ہے
جیسے قدرت نے خود اس وادی پر
سنہری چادر بچھا دی ہو۔
چاروں طرف برف پوش پہاڑ،
ہوا میں گھاس کی خوشبو،
دور بہتے چشموں کی آواز،
اور پھر اچانک—
گھوڑوں کے سموں کی گونج۔
یہ وہ آواز ہے
جو شندور کی خاموشی کو توڑتی نہیں،
بلکہ اسے معنی دیتی ہے۔
پولو یہاں صرف کھیلا نہیں جاتا،
یہ جیا جاتا ہے۔
جب چترال اور گلگت بلتستان کی ٹیمیں
اپنے اپنے رنگوں میں میدان میں اترتی ہیں،
تو صرف کھلاڑی نہیں آتے،
اپنی اپنی دھرتی کی عزت ساتھ لاتے ہیں۔
گھوڑے بے قرار ہوتے ہیں۔
سواروں کی آنکھوں میں چمک ہوتی ہے۔
تماشائیوں کے نعروں میں
پہاڑوں جیسی گونج ہوتی ہے۔
اور پھر
ایک لمحے میں کھیل شروع ہو جاتا ہے۔
گھوڑے ہوا کو چیرتے ہوئے دوڑتے ہیں۔
لکڑیوں کی ٹکر سنائی دیتی ہے۔
گرد کا بادل اٹھتا ہے۔
اور میدانِ شندور
ایک جنگی منظر اختیار کر لیتا ہے۔
یہاں رفتار صرف رفتار نہیں،
یہ اعلان ہوتی ہے۔
ہر سوار جانتا ہے
کہ اس کے پیچھے صرف ایک ٹیم نہیں،
پورا علاقہ کھڑا ہے۔
شندور کا پولو
دنیا کے مہذب اور قانونوں میں جکڑے ہوئے کھیلوں جیسا نہیں۔
یہ “فری اسٹائل پولو” ہے۔
یہاں جذبہ قانون سے بڑا نظر آتا ہے۔
یہاں طاقت، مہارت اور حوصلہ
ایک ساتھ امتحان دیتے ہیں۔
گھوڑے تھکتے ہیں،
مگر رکتے نہیں۔
سوار زخمی ہوتے ہیں،
مگر میدان نہیں چھوڑتے۔
کیونکہ شندور میں
جیت صرف اسکور بورڈ پر نہیں لکھی جاتی،
دلوں میں لکھی جاتی ہے۔
شندور کا اصل حسن
صرف دن کے میچوں میں نہیں،
اس کی راتوں میں بھی چھپا ہے۔
جب شام ڈھلتی ہے،
سرد ہوا خیموں کے درمیان چلتی ہے،
اور دور کہیں رباب بجتا ہے،
تو یوں محسوس ہوتا ہے
جیسے پہاڑ خود کوئی قدیم داستان سنا رہے ہوں۔
سیاح آگ کے گرد بیٹھے ہوتے ہیں۔
کوئی چترالی ٹوپی پہنے مسکرا رہا ہوتا ہے۔
کوئی قہوہ ہاتھ میں لیے
ستاروں بھرے آسمان کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
اور پھر اچانک
کوئی بزرگ شندور کی پرانی کہانیاں چھیڑ دیتا ہے—
وہ قصے
جب پولو صرف کھیل نہیں
جنگی تربیت ہوا کرتا تھا۔
یہی وجہ ہے
کہ شندور کا ہر میچ
صرف تفریح نہیں،
تاریخ کی بازگشت محسوس ہوتا ہے۔
یہ فیسٹیول ہمیں یاد دلاتا ہے
کہ پہاڑوں کے لوگ آج بھی
اپنی روایت سے جڑے ہوئے ہیں۔
آج جب دنیا مصنوعی روشنیوں،
مصنوعی مسکراہٹوں
اور مصنوعی تعلقات میں کھو رہی ہے،
شندور اب بھی خالص ہے۔
یہاں جذبات اصلی ہیں۔
نعروں میں سچائی ہے۔
مہمان نوازی میں محبت ہے۔
یہاں آنے والا ہر شخص
صرف ایک میلہ نہیں دیکھتا،
بلکہ ایک تہذیب کو محسوس کرتا ہے۔
شندور ہمیں سکھاتا ہے
کہ زندگی صرف آرام طلبی کا نام نہیں۔
اصل زندگی وہ ہے
جہاں انسان اپنے مقصد کیلئے
ہانپتا بھی ہے،
گرتا بھی ہے،
مگر دوبارہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔
اور جب فیسٹیول کا آخری دن آتا ہے،
تو میدان آہستہ آہستہ خالی ہونے لگتا ہے۔
خیمے اکھڑتے ہیں۔
گھوڑے واپس لوٹتے ہیں۔
نعروں کی گونج مدھم پڑ جاتی ہے۔
مگر شندور ختم نہیں ہوتا۔
وہ ہر آنے والے کے دل میں
ایک زندہ یاد بن کر رہ جاتا ہے۔
کیونکہ شندور صرف ایک پولو فیسٹیول نہیں—
یہ پہاڑوں کی روح ہے۔
یہ غیرت کی آواز ہے۔
یہ وفاداری کی دوڑ ہے۔
اور جب تک
شندور کے میدان میں گھوڑوں کی ٹاپ گونجتی رہے گی،
تب تک چترال اور گلگت کی روایت بھی زندہ رہے گی۔
تب تک پہاڑوں کا وقار بھی زندہ رہے گا۔
اور تب تک
شندور دنیا کو یہ پیغام دیتا رہے گا
کہ جن قوموں کے پاس اپنی ثقافت،
اپنی غیرت
اور اپنی روایت زندہ ہو—
وہ کبھی نہیں مرتیں۔

09/06/2026

سورہ العادیات
کیا آپ نے کبھی کسی گھوڑے کو پوری رفتار سے دوڑتے دیکھا ہے؟
سانس پھولا ہوا، نتھنے پھیلے ہوئے، سینہ اوپر نیچے ہوتا ہوا—
لیکن قدم رک نہیں رہے۔

یہ محض ایک جانور کی دوڑ نہیں،
یہ وفاداری کی فزکس ہے۔

قرآن کی مختصر مگر دھماکہ خیز سورت، سورۂ العادیات، اسی منظر سے شروع ہوتی ہے۔
یہ کوئی نرم تمہید نہیں، کوئی تدریجی تعارف نہیں—
یہ براہِ راست ایک “ہائی اسپیڈ سین” ہے۔

جنگ کا شور… اور اخلاق کا کورٹ روم

اللہ فرماتا ہے:

وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا
قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں۔

لفظ “ضبحًا” صرف سانس لینے کی آواز نہیں—
یہ سینے کی گہرائی سے نکلنے والی وہ بھاری، دباؤ والی دھمک ہے
جو اس وقت پیدا ہوتی ہے
جب جسم اپنی حد سے آگے جا چکا ہو۔

یہ “Full Capacity Output” ہے۔

گھوڑا جانتا ہے کہ سامنے نیزے ہیں، تلواریں ہیں، موت ہے—
مگر وہ رک نہیں رہا۔

کیوں؟

کیونکہ اس کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا مالک
اسے ایڑ لگا رہا ہے۔

یہ ہے Loyalty Protocol:
حکم ملے تو جان بھی حاضر۔

توانائی کی ٹکر… اور چنگاریوں کا علم

پھر قرآن منظر کو اور تیز کرتا ہے:

فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا
پھر وہ جو (سموں سے) چنگاریاں نکالتے ہیں۔

یہ کوئی شاعرانہ مبالغہ نہیں۔
یہ کائنیٹک انرجی کا تھرمل انرجی میں بدلنا ہے۔
رفتار، رگڑ، ٹکراؤ—
اور زمین سے آگ نکلتی ہے۔

گھوڑا صرف دوڑ نہیں رہا،
وہ اپنی طاقت کو نچوڑ رہا ہے۔

یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ
وفاداری آدھی رفتار سے نہیں ہوتی۔
یا تو پوری شدت سے،
یا پھر نہیں۔

سرپرائز اٹیک… اور اطاعت کی انتہا

فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا

صبح کے دھندلکے میں چھاپہ۔

رات بھر سفر کے بعد،
جب جسم آرام مانگ رہا ہو،
اسی وقت حملہ۔

یہ ہے Obedience Beyond Comfort Zone۔

گھوڑا یہ نہیں کہتا:
“میں تھک گیا ہوں”
“کل کر لیں گے”
“آج موسم ٹھیک نہیں”

وہ بس دوڑتا ہے۔

ل

گرد و غبار… اور نفسیاتی دباؤ

فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا

گرد کا بادل۔
دشمن کے حواس باختہ۔

Modern Warfare میں اسے کہتے ہیں:
Disorientation Strategy

گھوڑے صرف جسمانی طاقت نہیں دکھاتے،
وہ ماحول بدل دیتے ہیں۔

وفاداری جب حرکت میں آتی ہے
تو فضا کا رنگ بدل جاتا ہے۔

اور پھر دل میں گھس جانا…

فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا

لشکر کے بیچ میں داخل ہونا۔

یہ سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔
چاروں طرف دشمن۔
واپسی کا راستہ بند۔

پھر بھی وہ گھوڑا پیچھے نہیں ہٹتا۔

کیوں؟

کیونکہ مالک کا حکم آگے ہے،
اور موت پیچھے رہ گئی۔

اب کیمرہ گھوڑے سے ہٹتا ہے… اور انسان پر آ جاتا ہے

یہ پانچ آیات محض جانوروں کی تعریف نہیں تھیں۔
یہ ایک اخلاقی مقدمہ تھا۔

اب فیصلہ سنایا جاتا ہے:

إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ

بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔

لفظ “کنود”
یہ عربی کا نفسیاتی شاہکار لفظ ہے۔

کنود وہ ہے جو:
• ایک تکلیف کو یاد رکھے
• ہزار نعمتیں بھول جائے

یہ Cognitive Bias ہے—
Negativity Bias۔

انسان کہتا ہے:
“میرے پاس کیا نہیں ہے”
وہ یہ نہیں گنتا:
“میرے پاس کیا کچھ ہے”

گھوڑا تھوڑی سی گھاس کے بدلے جان دے رہا ہے،
اور انسان بے شمار نعمتوں کے بدلے شکایت کر رہا ہے۔

یہ ہے اخلاقی تضاد۔

انسان خود گواہ ہے

وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ

وہ خود جانتا ہے۔

ضمیر ایک خاموش عدالت ہے۔
لاشعور سب کچھ ریکارڈ کرتا ہے۔

Self Awareness موجود ہے—
مگر Self Reform نہیں۔

اصل بیماری: مال کی محبت

وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ

“خیر” یہاں مال ہے۔
انسان نے دولت کو ہی “Ultimate Good” بنا لیا۔

وہ بھی ہانپ رہا ہے—
لیکن اللہ کے لیے نہیں،
مال کے لیے۔

گھوڑا مالک کے لیے دوڑتا ہے،
انسان مارکیٹ کے لیے۔

گھوڑا وفادار ہے،
انسان سرمایہ پرست۔

پھر آتا ہے قیامت کا فرانزک آڈٹ

إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ
وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ

دو مرحلے:
1. جسم باہر نکالے جائیں گے۔
2. دل کے راز بھی نکالے جائیں گے۔

یہ صرف Resurrection نہیں—
یہ Forensic Exposure ہے۔

Hidden Intentions Recovery.

تم نے نماز کیوں پڑھی؟
صدقہ کیوں دیا؟
خاموش کیوں رہے؟
غصہ کیوں کیا؟

فائلیں ڈیلیٹ نہیں ہوں گی—
Recover ہوں گی۔

آخری ضرب

إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ

“خبیر” — اندر کی خبر رکھنے والا۔

وہ صرف عمل نہیں دیکھے گا،
نیت بھی دیکھے گا۔

Surface نہیں،
Core۔

العادیات ہمیں ایک سادہ مگر لرزا دینے والا سوال دیتی ہے:

اگر ایک گھوڑا معمولی مالک کے لیے
اپنی جان خطرے میں ڈال سکتا ہے—

تو کیا انسان اپنے رب کے لیے
اپنا غرور نہیں چھوڑ سکتا؟

کیا ہم اتنی وفاداری بھی نہیں دکھا سکتے
جتنی ایک جانور دکھاتا ہے؟

آخری جھنجھوڑ

ہم سب دوڑ رہے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ ہم ہانپ رہے ہیں یا نہیں۔

سوال یہ ہے:
ہم کس کے لیے ہانپ رہے ہیں؟

اگر ہماری دوڑ مال کے لیے ہے،
تو ہم کنود ہیں۔

اگر ہماری دوڑ مالک کے لیے ہے،
تو ہم وفادار ہیں۔

اور جس دن سینوں کے راز کھل گئے—
وہاں کوئی بہانہ قبول نہیں ہوگا۔

پس گھوڑے سے سبق سیکھو۔
مالک کو پہچانو۔
اور وفاداری کی دوڑ شروع کرو
اس سے پہلے کہ
قبروں کا دروازہ کھل جائے۔

31/05/2026

بجٹ 2026-27 — مہنگائی، امید اور سفید پوش طبقے کی خاموش چیخ
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
پاکستان میں بجٹ صرف حکومتی آمدن و اخراجات کی تفصیل نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسی معاشی دستاویز ہوتی ہے جو قوم کی سمت، حکمرانوں کی ترجیحات اور عام آدمی کے مستقبل کا تعین کرتی ہے۔ ہر سال جب بجٹ پیش ہونے کا وقت قریب آتا ہے تو سرکاری ملازمین، مزدور، کسان، تاجر، صنعتکار اور غریب عوام کی نظریں پارلیمنٹ کی جانب اٹھ جاتی ہیں۔ ہر شخص یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ آنے والا بجٹ اس کے لیے آسانیاں لائے گا یا نئی مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
پاکستان کا بجٹ 2026-27 ایک ایسے نازک وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب ملک شدید معاشی دباؤ، بڑھتے قرضوں، مہنگائی، بے روزگاری، توانائی بحران اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے درمیان کھڑا ہے۔ حکومت ایک طرف معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال کا بجٹ محض مالی منصوبہ بندی نہیں بلکہ حکومتی بصیرت اور عوامی احساس کا امتحان بھی بن چکا ہے۔
بجٹ دراصل ریاست کی سالانہ معاشی حکمت عملی کا نام ہے۔ اس میں حکومت یہ طے کرتی ہے کہ ایک سال کے دوران کتنی آمدنی حاصل کی جائے گی اور وہ رقم کن شعبوں پر خرچ ہوگی۔ لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بجٹ اکثر قرضوں کی ادائیگی، مالی خسارے اور بیرونی دباؤ کے گرد گھومتا ہے۔ نتیجتاً عوامی فلاح، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی شعبے ہمیشہ نظر انداز ہوتے رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال کے لیے بھاری ٹیکس ہدف مقرر کرنے جا رہی ہے جبکہ مالی خسارہ کم رکھنے کے لیے اخراجات محدود کیے جائیں گے۔ دوسری جانب یہ خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ سرکاری ملازمین، خصوصاً گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تنخواہوں میں اضافے اور مختلف الاؤنسز کی تجاویز زیر غور ہیں۔ بظاہر یہ اقدام خوش آئند محسوس ہوتا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اضافہ بڑھتی مہنگائی کے طوفان کے سامنے واقعی کوئی معنی رکھتا ہے؟
آج پاکستان کا نچلا اور متوسط طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ ایک خاکروب، نائب قاصد، کانسٹیبل، کلرک یا کم گریڈ ملازم اپنی محدود تنخواہ میں گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم، بجلی و گیس کے بل، ادویات اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔ مہنگائی نے ان کی قوت خرید کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ تنخواہ ملنے کے چند دن بعد ہی جیب خالی محسوس ہونے لگتی ہے۔
حکومت اگر 5 یا 10 فیصد تنخواہ بڑھا بھی دے تو اس کا فائدہ اسی وقت ممکن ہوگا جب مہنگائی کی رفتار کم ہو۔ کیونکہ معاشی اصول یہی کہتے ہیں کہ اگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی رہیں تو معمولی تنخواہی اضافہ محض کاغذی ریلیف بن کر رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ عوام کو وقتی اعلان نہیں بلکہ مستقل معاشی استحکام درکار ہے۔
پاکستانی بجٹ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ قومی آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں کے سود اور سرکاری اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے وسائل محدود رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال بجٹ میں ترقی کے دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر عام آدمی کی زندگی میں خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔
ایک اور افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا بوجھ زیادہ تر تنخواہ دار طبقے پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ بڑے سرمایہ دار، جاگیردار اور طاقتور طبقات اکثر ٹیکس نیٹ سے باہر رہتے ہیں۔ یہ معاشی ناانصافی ملک میں احساس محرومی کو جنم دیتی ہے۔ اگر حکومت واقعی معیشت کو مضبوط کرنا چاہتی ہے تو اسے ٹیکس نظام کو منصفانہ بنانا ہوگا تاکہ ہر شخص اپنی آمدنی کے مطابق قومی خزانے میں حصہ ڈالے۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی پائیدار ترقی صرف اسی صورت ممکن ہے جب حکومت:
زراعت اور صنعت کو مضبوط کرے
نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے
چھوٹے کاروبار کو سہارا دے
غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کرے
اور کرپشن و اقربا پروری کے خاتمے کو یقینی بنائے۔
بجٹ اگر صرف امیروں کو فائدہ پہنچانے اور غریب پر مزید بوجھ ڈالنے کا ذریعہ بن جائے تو معاشرے میں بے چینی، غربت اور محرومی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ لیکن اگر بجٹ کا محور عام آدمی ہو، اگر مزدور، ملازم، کسان اور نوجوان کو ریلیف دیا جائے، اگر مہنگائی پر قابو پایا جائے اور اگر وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے تو یہی بجٹ پاکستان کی معاشی بحالی کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
پاکستان کا سفید پوش طبقہ آج صرف تنخواہ میں اضافے کا نہیں بلکہ عزت کے ساتھ جینے کے حق کا مطالبہ کر رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے بچوں کو بہتر تعلیم ملے، اس کے گھر میں سکون ہو اور اس کی محنت کا صلہ اسے باوقار زندگی کی صورت میں ملے۔ اگر حکومت اس درد کو سمجھ لے تو بجٹ 2026-27 محض ایک مالی دستاویز نہیں بلکہ قوم کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔
ورنہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں جہاں بجٹ کے اعداد و شمار تو بڑھتے رہیں مگر عوام کی زندگیوں سے سکون، خوشحالی اور اعتماد ختم ہو جائے۔







17/05/2026

“جھوٹ کے سائے میں زخمی ہوتا سچ”
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
اسلام آباد جیسے حساس اور باوقار دارالحکومت میں جب اغواء کی کوئی خبر سامنے آتی ہے تو صرف ایک خاندان ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ خوف، بے یقینی اور اضطراب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لوگ اپنے بچوں، بھائیوں اور عزیزوں کی سلامتی کیلئے پریشان ہو جاتے ہیں، ریاستی ادارے حرکت میں آتے ہیں، پولیس اور تحقیقاتی ٹیمیں دن رات ایک کرکے مغوی کی بازیابی کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرتی ہیں۔
کسی ماں کی آنکھوں سے نیند چھن جاتی ہے، کسی بہن کے لبوں پر دعائیں آ جاتی ہیں، کسی باپ کے چہرے پر فکر کی لکیریں نمایاں ہو جاتی ہیں، جبکہ پورا معاشرہ ایک انجانے خوف کے سائے میں داخل ہو جاتا ہے۔ ایسے واقعات صرف ایک فرد یا خاندان کا مسئلہ نہیں ہوتے بلکہ پورے ملک کی فضا کو متاثر کرتے ہیں۔
مگر افسوس اُس وقت کئی گنا بڑھ جاتا ہے جب بعد میں یہ حقیقت سامنے آئے کہ یہ سب ایک ڈرامہ تھا…
ایک جھوٹ…
ایک سازش…
اور ذاتی مفادات کیلئے رچایا گیا ایسا کھیل جس میں ریاستی اداروں، عوامی جذبات، سوشل میڈیا اور پورے معاشرے کو استعمال کیا گیا۔
اسلام آباد کے مبینہ اغواء کیس میں سامنے آنے والی تفصیلات نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نورالدین زنگی نامی شخص نے مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جعلی اغواء کا ڈرامہ رچایا، سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل کیں، مخالفین کو پھنسانے کی کوشش کی اور خود پر واجب الادا رقوم سے بچنے کیلئے ایک ایسا جھوٹا بیانیہ تخلیق کیا جس نے پورے ملک میں بے چینی پیدا کر دی۔
یہ محض ایک شخص کا فراڈ نہیں…
یہ ریاست کے اعتماد پر حملہ ہے۔
یہ عوامی جذبات کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔
یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محنت، وقت اور وسائل کا بے رحمانہ ضیاع ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس فراڈی ڈرامے کے دوران چترال جیسے پُرامن، باوقار اور مہذب معاشرے کا نام بھی ایسے انداز میں استعمال کیا گیا گویا ایک پُرامن خطے کی عزت اور ساکھ کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانا کوئی معمولی بات ہو۔
چترال ہمیشہ امن، اخوت، شرافت، تعلیم، رواداری اور حب الوطنی کی علامت رہا ہے۔ یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ پاکستان کی عزت، قانون کی پاسداری اور قومی وحدت کو ترجیح دی۔ ایسے میں اگر کوئی شخص اپنے ذاتی مفاد کیلئے چترال جیسے پُرامن معاشرے کو بدنام کرنے کی کوشش کرے تو یہ صرف ایک علاقے نہیں بلکہ پوری قوم کی توہین ہے۔
یہ سوال آج ہر باشعور پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ:
کیا نورالدین زنگی اکیلا تھا؟
یا اس کے پیچھے سوشل میڈیا پر سرگرم وہ تمام کردار بھی موجود تھے جنہوں نے اس جھوٹ کو پھیلایا، لوگوں کے جذبات سے کھیلا اور ایک منظم بیانیہ بنانے کی کوشش کی؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کیس کے تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جائے۔ صرف مرکزی ملزم کی گرفتاری کافی نہیں بلکہ ان تمام سہولت کاروں، سوشل میڈیا کے نام نہاد حمایتیوں اور خاموش کرداروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے اس جھوٹے ڈرامے کو پروان چڑھانے میں کسی بھی شکل میں کردار ادا کیا۔
کیونکہ ایسے جھوٹے ڈرامے صرف وقتی سنسنی پیدا نہیں کرتے بلکہ ان کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔
یہ حقیقی اغواء کے واقعات پر عوامی اعتماد ختم کرتے ہیں۔
یہ اصل مظلوموں کی آواز کو کمزور کرتے ہیں۔
یہ معاشرے میں سچ اور جھوٹ کے درمیان حدیں دھندلا دیتے ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر، یہ نوجوان نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ شہرت، ہمدردی اور ذاتی فائدے کیلئے جھوٹ بھی ایک ہتھیار بن سکتا ہے۔
آج اگر ایسے عناصر کو سخت انجام تک نہ پہنچایا گیا تو کل ہر دوسرا فراڈی شخص سوشل میڈیا کا سہارا لے کر ریاست، عوام اور پُرامن معاشروں کی عزت کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کرے گا۔
لہٰذا حکومتِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تحقیقاتی ایجنسیوں اور سائبر کرائم ونگ سے پُرزور مطالبہ ہے کہ اس کیس کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، تمام خفیہ کرداروں کو سامنے لایا جائے اور اس ڈرامے میں شریک ہر فرد کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ وہ دوسروں کیلئے نشانِ عبرت بن سکے۔
کیونکہ زندہ قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بلکہ سچ، انصاف، قانون اور اجتماعی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اور جب جھوٹ بولنے والے معاشرے میں ہیرو بننے لگیں تو پھر خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔






















13/05/2026

نورالدین زنگی چترالی, ویڈیو کی حقیقت — ایک مکمل جائزہ
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
چند دنوں سے سوشل میڈیا خصوصاً مختلف چترالی پیجز اور واٹس ایپ گروپس میں ایک نوجوان “نورالدین زنگی چترالی” کے حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔ مختلف دعوے، الزامات، ویڈیوز اور تبصرے منظرِ عام پر آ رہے ہیں جنہوں نے نہ صرف چترالی عوام بلکہ پورے ملک میں تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ مؤقف سامنے آیا کہ مذکورہ شخص نے کاروبار اور سرمایہ کاری کے نام پر کئی چترالی افراد سے کروڑوں بلکہ اربوں روپے حاصل کیے اور بعد ازاں اچانک غائب ہو گیا۔
آج صبح سے ایک نئی ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں نورالدین زنگی مبینہ طور پر کچھ مسلح افراد کے قبضے میں دکھائی دے رہا ہے، جبکہ ویڈیو میں اغواء کار کروڑوں روپے تاوان کا مطالبہ کرتے سنائی دیتے ہیں۔ یہی ویڈیو اس وقت عوامی بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اس معاملے پر عوام کے تاثرات دو حصوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔ ایک طبقہ اس ویڈیو کو حقیقت قرار دے رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر واقعی نورالدین زنگی اغواء ہو چکا ہے تو یہ نہایت سنگین معاملہ ہے، جس میں فوری حکومتی اور ریاستی مداخلت ناگزیر ہے۔ ایسے افراد کا مؤقف ہے کہ انسانی جان ہر چیز سے مقدم ہے اور اگر کوئی شخص ڈاکوؤں یا جرائم پیشہ عناصر کے قبضے میں ہے تو اسے فوری بازیاب کرانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب ایک بڑا طبقہ اس پورے واقعے کو “ٹوپی ڈرامہ” قرار دے رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام منصوبہ بندی پہلے سے تیار کی گئی تاکہ چترالی عوام سے لیے گئے پیسے ہضم کیے جا سکیں اور ہمدردی حاصل کر کے مزید وقت خریدا جا سکے۔ سوشل میڈیا پر کئی افراد یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر واقعی اغواء ہوا ہے تو پھر اس کی مکمل تفصیلات، مقام، شواہد اور قانونی کارروائی کیوں منظرِ عام پر نہیں آ رہی؟ بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جدید دور میں جعلی ویڈیوز، منصوبہ بند ڈرامے اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا عام ہو چکا ہے، اس لیے ہر ویڈیو کو بغیر تحقیق کے سچ مان لینا دانشمندی نہیں۔
چترالی عوام اس وقت شدید کشمکش اور ذہنی اضطراب کا شکار ہیں۔ ایک طرف ہمدردی اور انسانی درد کا جذبہ ہے، تو دوسری طرف مالی نقصان اٹھانے والوں کا غصہ اور بے یقینی بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ معاملہ محض سوشل میڈیا بحث نہیں رہا بلکہ ایک سنجیدہ قومی اور قانونی مسئلہ بن چکا ہے۔
ایسے حساس اور پیچیدہ معاملے میں ضروری ہے کہ ریاستی ادارے فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں تاکہ حقیقت جلد از جلد قوم کے سامنے لائی جا سکے۔ اگر نورالدین زنگی واقعی اغواء ہوا ہے تو حکومتِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور متعلقہ سیکیورٹی ایجنسیاں پوری قوت کے ساتھ اسے بازیاب کرانے کے لیے کارروائی کریں، اور اغواء میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
لیکن اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہو جائے کہ یہ سب ایک منصوبہ بند ڈرامہ تھا، جس کا مقصد عوام کو دھوکہ دینا اور مالی فراڈ کو چھپانا تھا، تو پھر اس کے اصل کرداروں کو بھی نشانِ عبرت بنایا جانا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی شخص عوامی اعتماد اور جذبات سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے۔
یہ معاملہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے چترال کے وقار، اعتماد اور ساکھ کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں افواہیں آگ کی طرح پھیلتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہر شخص جذبات کے بجائے تحقیق اور ثبوت کو ترجیح دے۔ بغیر تصدیق کے کسی کے حق یا مخالفت میں فیصلہ دینا مزید انتشار پیدا کر سکتا ہے۔
اب نظریں ریاستی اداروں پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ کتنی سنجیدگی، دیانتداری اور تیزی کے ساتھ اس معمے کو حل کرتے ہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے؟ آیا واقعی ایک نوجوان ڈاکوؤں کے قبضے میں ہے یا پھر یہ سب ایک سوچا سمجھا کھیل ہے؟
قوم انتظار کر رہی ہے کہ سچ جلد سامنے آئے، مظلوم کو انصاف ملے، اور اگر کسی نے عوام کو دھوکہ دیا ہے تو اسے قانون کے مطابق عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے۔









12/05/2026

ہنگامی اطلاع ..گمشدہ نوجوان کی تلاش

​انسانیت کے ناطے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں!

​انتہائی دردمندی کے ساتھ آپکو اطلاع دے رہے ہیں کہ ہم انتہائی پریشان کن صورتحال سے گزر رہے ہیں اس پریشانی میں ہمیں آپ تمام احباب کے تعاون کی سخت ضرورت ہے.

میرا بھانجا نام احتشام الدین ولد حِسام الدین
ساکنہ شیشی کوہ تار
جو کہ فی الحال چترال خورکشاندہ میں اپنے خالہ کے ہاں رہ کر ڈگری کالج میں تعلیم حاصل کر رہا تھا...
(فرسٹ ائیر کمپیوٹر سائنس )

کل بروز پیر صبح دس بجے سے تا حال لاپتہ ہے... اہل خانہ سخت پریشان ہیں.... اگر کسی کو اس نوجوان کے متعلق معلومات ہوں تو ان نمبروں پر رابطہ کریں...
اور دل ہی دل میں دعا بھی فرمائیں ....

جزاکم اللہ خیرا

نورالاسلام کجو. 03468277137
انوارالحق کجو. 03419252484
حسام الدین شیشی کوہ. 03429111328

Photos from Payam-e-Chitral's post 10/05/2026

غزان احمد افضل — چترال کی وادیوں سے اُبھرتا ہوا انسانیت کا چراغ
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
گزشتہ دنوں معزز اُستاد رحمت عزیز صاحب کی غزان احمد افضل کے حوالے سے ایک پوسٹ نظر سے گزری، جس میں انہوں نے غزان سے ملاقات کرکے اُس کے تاثرات قلمبند کیے تھے۔ یہ بچہ صرف چترال ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک رول ماڈل ہے۔ ایسے حساس دل، فطرت دوست اور رحم دل بچوں کی حوصلہ افزائی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ خصوصاً حکومتِ پاکستان اور محکمہ وائلڈ لائف کو چاہیے کہ غزان احمد افضل کی نہ صرف سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کرے بلکہ اُسے خصوصی ایوارڈ دے کر آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنایا جائے، تاکہ بچوں کے اندر فطرت، جانوروں اور ماحول سے محبت کا جذبہ فروغ پا سکے۔
چترال کی پُرفضا وادیوں میں پیدا ہونے والا یہ ننھا سا بچہ بظاہر ایک عام بچہ دکھائی دیتا ہے، مگر اُس کے اندر دھڑکنے والا دل غیر معمولی احساسات سے لبریز ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وہ ویڈیو شاید بہت سے لوگوں نے دیکھی ہوگی جس میں غزان ایک زخمی مرغابی کو اپنے سینے سے لگائے، آنکھوں میں آنسو اور دل میں امید لیے ویٹرنری ہسپتال کی طرف جا رہا تھا۔ مرغابی کی چونچ سے خون بہہ رہا تھا، مگر غزان اُسے بار بار چوم کر جیسے یہ یقین دلا رہا تھا کہ “میں تمہیں مرنے نہیں دوں گا۔”
لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ وہ معصوم پرندہ راستے ہی میں دم توڑ گیا۔ اُس لمحے ایک بچے کے چہرے پر جو کرب، بے بسی اور صدمہ تھا، وہ شاید ہزار تقریروں سے زیادہ اثر رکھتا تھا۔ غزان بار بار اُس مرغابی کو دیکھتا، اُس کی سانس چیک کرتا، شاید اُسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایک بے زبان پرندہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکا ہے۔ پھر اُس نے اپنے ننھے ہاتھوں سے قبر کھودی، مرغابی کو احترام سے دفن کیا، مٹی ڈالی اور خاموشی سے گھر لوٹ آیا۔ یہ منظر دراصل انسانیت کے زندہ ہونے کا اعلان تھا۔
آج کے دور میں جب انسان انسان کا خون بہا کر بھی بے حس ہو چکا ہے، جب ظلم، جنگ، نفرت اور طاقت کے نشے نے دنیا کو اندھا کر دیا ہے، وہاں چترال کا یہ ننھا بچہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت ابھی مری نہیں۔ ایک طرف دنیا میں ایسے سنگدل لوگ موجود ہیں جو معصوم انسانوں، عورتوں اور بچوں پر بم برسا کر بھی سکون سے سو جاتے ہیں، اور دوسری طرف غزان جیسے بچے ہیں جو ایک زخمی پرندے کی تکلیف برداشت نہیں کر پاتے۔ یہی فرق انسان اور درندے میں حدِ فاصل کھینچتا ہے۔
غزان احمد افضل کی سب سے بڑی خوبی صرف اُس کی رحم دلی نہیں بلکہ اُس کا شعور بھی ہے۔ جب اُس نے یہ کہا کہ “اگر ہم پرندوں کو ختم کر دیں گے تو زمین کیڑے مکوڑوں سے بھر جائے گی، فصلیں تباہ ہوں گی اور آخرکار انسان بھوکا مرے گا”، تو یہ محض ایک بچے کی بات نہیں تھی بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی فلسفہ تھا۔ یہ وہی فوڈ چین اور ماحولیاتی توازن کا تصور ہے جسے بڑے بڑے سائنسدان کتابوں میں بیان کرتے ہیں، مگر غزان اُسے اپنے دل سے محسوس کرتا ہے۔
یہ بات حیران کن بھی ہے اور خوش آئند بھی کہ ایک بچہ فطرت کے اس راز کو سمجھ چکا ہے کہ دنیا میں ہر مخلوق کی اپنی اہمیت ہے۔ اگر ایک نوع ختم ہو جائے تو پوری کائناتی زنجیر متاثر ہوتی ہے۔ یہی وہ شعور ہے جس کی آج انسانیت کو شدید ضرورت ہے۔ ہم نے جنگلات کاٹے، دریاؤں کو آلودہ کیا، چرند پرند کو تفریح اور شوق کے نام پر قتل کیا، اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ سیلاب، بیماریاں، ماحولیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات کیوں بڑھ رہی ہیں۔
غزان کا یہ کہنا کہ “شکار صرف اُس انسان کو کرنا چاہیے جس کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہو”، دراصل پوری انسانیت کے لیے ایک پیغام ہے۔ اُس کے الفاظ میں رحم بھی ہے، حکمت بھی، اور توازن بھی۔ وہ شکار کو کھیل نہیں بلکہ ایک جان لینے کے مترادف سمجھتا ہے۔ یہی سوچ اگر ہماری نئی نسل میں منتقل ہو جائے تو شاید آنے والے وقت میں دنیا زیادہ محفوظ، زیادہ پُرامن اور زیادہ خوبصورت بن جائے۔
افسوس یہ ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو کامیابی کا مطلب صرف دولت، طاقت اور شہرت سمجھایا ہے۔ ہم نے اُنہیں رحم، احساس اور محبت کا سبق کم دیا ہے۔ غزان جیسے بچے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اصل عظمت نرم دل ہونے میں ہے۔ جو دل ایک زخمی پرندے کے لیے تڑپتا ہے، وہ کل انسانیت کے لیے بھی تڑپے گا۔ جو بچہ آج ایک مرغابی کو دفن کرتے ہوئے رو رہا ہے، کل وہی انسانوں کے حقوق، ماحول کے تحفظ اور معاشرے کی بھلائی کے لیے کھڑا ہوگا۔
چترال کی سرزمین ہمیشہ سے فطرت دوست، مہذب اور حساس لوگوں کی سرزمین رہی ہے۔ یہاں کے پہاڑ، دریا، پرندے اور جنگلات انسان کے دل میں نرمی پیدا کرتے ہیں۔ غزان احمد افضل اسی سرزمین کی خوبصورت تربیت کا نتیجہ ہے۔ اُس کے والدین، اساتذہ اور خاندان یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک ایسا بچہ پروان چڑھایا جس کے دل میں اللہ کی مخلوق کے لیے درد موجود ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ غزان احمد افضل جیسے بچوں کو قومی سطح پر متعارف کروایا جائے۔ اسکولوں میں اُن کی مثال دی جائے۔ محکمہ وائلڈ لائف، ضلعی انتظامیہ اور سماجی ادارے ایسے بچوں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ معاشرے میں رحم، شعور اور فطرت دوستی کی روایت مضبوط ہو سکے۔ قومیں صرف ایٹم بم، ہتھیار اور طاقت سے عظیم نہیں بنتیں، بلکہ اُن کے عظیم ہونے کا راز اُن کے دلوں کی نرمی، انصاف اور رحم میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
غزان احمد افضل! تم نے ایک زخمی مرغابی کو دفن نہیں کیا، بلکہ ہمارے مردہ ضمیر کو جگانے کی کوشش کی ہے۔ تم نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ اس زمین پر صرف انسان کا نہیں بلکہ ہر جاندار کا حق ہے۔ تمہاری آنکھوں کے آنسو دراصل پوری انسانیت کے نام ایک خاموش پیغام ہیں کہ اگر دل میں رحم باقی رہے تو دنیا اب بھی بچ سکتی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ غزان احمد افضل کو سلامت رکھے، اُسے علم، شعور اور کامیابی عطا فرمائے، اور چترال کی وادیوں میں اُس جیسے ہزاروں بچے پیدا ہوں جو انسانیت، فطرت اور محبت کے سفیر بن کر اُبھریں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ قومیں نفرت سے نہیں، رحم سے زندہ رہتی ہیں۔



















07/05/2026

شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت اور علمی وراثت
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
یہ صرف ایک خبر نہ تھی… یہ ایک صدیوں پر محیط روایت کا زخم تھا۔
جب شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت کی خبر آئی تو یوں لگا جیسے کسی نے علم کے آسمان سے ایک روشن ستارہ نوچ کر زمین پر گرا دیا ہو۔ فضا میں ایک بوجھل خاموشی پھیل گئی، اور دلوں میں ایک ایسا درد جاگ اٹھا جسے لفظوں میں قید کرنا ممکن نہیں۔
وہ شخص، جو مسندِ درس پر بیٹھ کر الفاظ نہیں، نور بانٹتا تھا… جو روایت کو صرف بیان نہیں کرتا تھا بلکہ اپنے وجود میں اسے زندہ رکھتا تھا… آج خود ایک خاموش داستان بن گیا۔ شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی زندگی سادگی کا استعارہ، اخلاص کی تصویر اور علم کی خوشبو سے مہکتی ہوئی ایک روشن کتاب تھی۔
شیخُ الحدیث مولانا ادریس کے پاس بیٹھنے والا صرف سبق نہیں لیتا تھا، بلکہ اپنے اندر ایک انقلاب محسوس کرتا تھا—سوچ بدلتی، دل نرم ہوتا، اور نگاہ میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی۔
شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی آواز میں کوئی بناوٹ نہ تھی، مگر تاثیر ایسی کہ دلوں کے بند دروازے کھل جاتے۔ شیخُ الحدیث مولانا ادریس لفظوں کے نہیں، کردار کے عالم تھے۔ شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی محفل میں علم، ادب، خشیت اور محبت ایک ساتھ سانس لیتے تھے۔ یہی وہ اوصاف تھے جو شیخُ الحدیث مولانا ادریس کو محض ایک مدرس نہیں، بلکہ ایک عہد کی پہچان بنا دیتے تھے۔
مگر یہ کیسا زمانہ ہے…؟
جہاں روشنی سے آنکھیں چُرانے والے، چراغوں کو بجھانے پر تُلے ہوئے ہیں۔
جہاں حق بولنے والے ہدف بن جاتے ہیں، اور خاموشی کو سلامتی سمجھ لیا گیا ہے۔
اہلِ علم پر مسلسل حملے اس بات کا اعلان ہیں کہ اس معاشرے میں اندھیروں کو راسخ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یہ جنگ ہتھیاروں کی نہیں، شعور اور جہالت کے درمیان ہے۔
ایسے لمحوں میں قرآن کی یہ صدا دل کے اندر گونجتی ہے:
"وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ"
(نہ کمزور پڑو، نہ غم کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان والے ہو)
شیخُ الحدیث مولانا ادریس کا خون اسی یقین کی مہر ہے۔ شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت شکست نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے—کہ راستہ کٹھن سہی، مگر سچائی کی روشنی بجھائی نہیں جا سکتی۔ یہ قربانی ہمیں جھنجھوڑتی ہے، ہمیں آئینہ دکھاتی ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
آج وطن ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ہر طرف بے یقینی کی دھند ہے، اعتماد کی بنیادیں ہلتی محسوس ہوتی ہیں، اور دلوں میں انجانا خوف بسیرا کیے ہوئے ہے۔ ایسے میں اگر سچ بولنے والی آوازیں خاموش کر دی گئیں تو اندھیرا صرف گہرا نہیں ہوگا، بلکہ مستقل ٹھہر جائے گا۔
یہ وقت صرف افسوس کا نہیں…
یہ وقت عہد کا ہے۔
عہد اس بات کا کہ جو چراغ بجھایا گیا ہے، اس کی لو کو اپنے دلوں میں زندہ رکھا جائے۔
عہد اس بات کا کہ علم کو دیواروں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ کردار میں ڈھالا جائے۔
شیخُ الحدیث مولانا ادریس اب ہمارے درمیان نہیں، مگر شیخُ الحدیث مولانا ادریس کا فیض، شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی محنت، شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی خاموش مسکراہٹ اور شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی سچی باتیں—یہ سب زندہ ہیں۔ اور زندہ رہیں گی… جب تک کوئی ایک دل بھی سچائی کے لیے دھڑکتا رہے گا۔
اللہ تعالیٰ شیخُ الحدیث مولانا ادریس کی قربانی کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، شیخُ الحدیث مولانا ادریس کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، اور ہمیں وہ بصیرت دے کہ ہم اندھیروں میں بھی روشنی کا راستہ پہچان سکیں۔
آمین…

04/05/2026

پرنس شاہ رحیم آغا خان کی چترال آمد اور ہماری ذمہ داریاں
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
چترال کی پُرفضا وادیوں میں جب بھی کسی معزز شخصیت کی آمد ہوتی ہے تو یہاں کے پہاڑ، دریا اور لوگ سب ایک خاص سرشاری اور مسرت میں ڈوب جاتے ہیں۔ ایسے ہی پُرمسرت لمحات اس وقت جنم لیتے ہیں جب اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا کے خانوادے سے تعلق رکھنے والی عظیم ہستی Prince Shah Rahim Aga Khan کی چترال آمد متوقع ہو۔ یہ محض ایک آمد نہیں بلکہ محبت، رواداری، اخوت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک روشن پیغام ہے جو دلوں کو قریب لاتا ہے اور معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دیتا ہے۔
ہم سب کی جانب سے اسماعیلی کمیونٹی کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے کہ انہیں یہ سعادت نصیب ہو رہی ہے۔ یہ لمحہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے چترال اور گلگت بلتستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ اس موقع پر ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مہمانِ گرامی کو بھرپور محبت، احترام اور خلوص کے ساتھ خوش آمدید کہیں، تاکہ ہماری تہذیب، مہمان نوازی اور اعلیٰ اقدار کا عملی مظاہرہ ہو۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس خطے میں سنی اور اسماعیلی برادری صدیوں سے باہمی احترام، بھائی چارے اور امن کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ یہی وہ خوبصورت روایت ہے جس نے چترال کو امن کا گہوارہ بنایا ہوا ہے۔ مگر افسوس کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے بعض شرپسند عناصر ایسی فضا کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ عناصر متنازعہ مواد پھیلا کر غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ دونوں برادریوں کے درمیان دوریاں بڑھیں اور عدم استحکام پیدا ہو۔
لہٰذا یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم سب، خصوصاً نوجوان نسل، سوشل میڈیا کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتیں۔ کسی بھی خبر، ویڈیو یا تحریر کو شیئر کرنے یا اس پر تبصرہ کرنے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کریں۔ یاد رکھیں، ایک غیر مصدقہ بات نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ نفرت اور انتشار کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
ہمیں بطور ذمہ دار شہری اپنے اردگرد کے ماحول پر گہری نظر رکھنی ہوگی، خاص طور پر ان عناصر پر جو سوشل میڈیا کے ذریعے زہر گھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سنی اور اسماعیلی دونوں برادریوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کریں، افواہوں سے دور رہیں اور ہر اس کوشش کو ناکام بنائیں جو ہمیں تقسیم کرنے کے لیے کی جائے۔
آخر میں، Prince Shah Rahim Aga Khan کی چترال آمد کو ہم ایک نئے عزم، اتحاد اور بھائی چارے کے موقع کے طور پر لیں۔ یہ آمد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم سب ایک ہیں، ہمارا مستقبل ایک ہے، اور ہماری طاقت بھی ہمارے اتحاد میں ہے۔ اگر ہم نے ہوش مندی، صبر اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا تو کوئی بھی قوت ہمیں تقسیم نہیں کر سکتی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں امن، اتحاد اور بھائی چارے کی اس فضا کو ہمیشہ قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔



















۔

Want your school to be the top-listed School/college in Abbottabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Abbottabad
25000