شعبہٴ اُردو

شعبہٴ اُردو الفاظ میرا ہنر، تعلیم میرا مقصد۔

31/12/2025

""""""""""""""""""انتظار""""""""""""""""""
*خواہش اور حصول کے درمیانی فاصلے کو انتظار کہہ سکتے ہیں ۔ یہ بھی کہنا درست ہے کہ تمنا ہی انتظار پیدا کرتی ہے ۔ جس دل میں تمنا نہ ہو ، اسے انتظار کے کرب سے گزرنے کا تجربہ نہیں ہو سکتا ۔ چونکہ کوئی انسان تمنا سے آزاد نہیں ، اس لیے کوئی انسان انتظار سے نجات نہیں پا سکتا ۔
ہم سب انتظار میں ہیں ۔ ہر انسان کو کسی نہ کسی کا انتظار ہے ۔ کسی نہ کسی شے سے ملنے کا انتظار ہوتا ہے ۔ کسی واقعہ کا انتظار ہوتا ہے ۔ انتظار تاریکی میں روشنی کا سفر طے کرتا رہتا ہے ۔ شبِ فراق صبحِ اُمید کے انتظار میں کٹتی رہتی ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ زندگی کٹ جائے اور شبِ انتظار نہ کٹے ۔
دیکھی ہوئی صُورت کو دوبارہ دیکھنے کی آرزو انتظار کی بیتابیوں سے گزرتی ہے ۔ آرزو ، ممکن ہو یا ناممکن ، انتظار ، آرزو کا مقدر ہے ۔ انتظار ایک اٹل حقیقت ہے ۔ اس سے گریز ممکن نہیں ہے ۔
ہر عمل اپنے نتیجے کے انتظار میں ہوتا ہے ۔ عمل نہ ہو ، تو ارادہ ہی انتظار میں داخل کر دیتا ہے ۔ ہمارے ارادے ، ہماری آرزوئیں ، ہماری تمنائیں ، ہمارے عزائم اپنے نتائج کی خوب صُورت شکل دیکھنے کو ترستے ہیں ۔ اسی کا نام انتظار ہے ۔
نیک انسان اپنے اعمال کا انعام حاصل کرنے کے لیے منتظر رہتے ہیں اور برے آدمی اپنی بُرائی کی عبرت سے بچنے کا انتظار کرتے ہیں ۔ جو انسان کسی عاقبت کا قائل نہیں ، اس کے لیے اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ " تم ایک فیصلے کے دن کا انتظار کرو اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں ۔"
محبت کی تمام عمر انتظار کی حدت اور شِدّت سے گزرتی یے ۔ انتظار ہی قلوب کو گلنار کرتا ہے ۔
ہم اپنے انداز سے ہی اپنے انتظار کی منزل طے کرتے ہیں ۔ کُچھ لوگ انتظار سے بڑے اضطراب میں گزرتے ہیں ۔ وہ روتے ہیں ، بِلکتے ہیں ، کراہتے ہیں ، گنگناتے ہیں ، تارے گنتے ہیں اور یادوں کے چراغ روشن کرتے ہیں ۔ وہ دیارِ جاں میں جشن آرزو منانے کے لیے اشکوں سے چراغاں کرتے ہیں ۔ جانے والوں کو صحرائے طلب میں ڈھونڈتے ہیں ۔ نہ سننے والے کو پکارتے ہیں ۔ نہ نظر آنے والوں کو دیکھنا چاہتے ہیں ، خاموش تصاویر کی آوازیں سنتے ہیں اور اپنی شبِ تنہائی میں اپنے علاوہ وجود کو بھی موجُود پاتے ہیں ۔ ان کا خیال متجسم ہوتا ہے ۔ ان کو ماضی کے ہم سفر ، مستقبل کی مسافرت میں شامل نظر آتے ہیں ۔ یہ واہمہ انہیں حقیقت نظر آتا ہے ۔ اس طرح انتظار کے زمانے طلسمات کے زمانے بن جاتے ہیں ۔
انسان کو اپنا عہدِ انتظار عہدِ جنوں نظر آتا ہے ۔ انتظار کا دَور اذیت کا دَور ہے ، لیکن صاحبِ انتظار کو اس دَور میں عجیب لذت سے آشنائی ہوتی ہے ۔ اس کو اپنے ظاہر سے باطن کا سفر نصیب ہوتا ہے ۔ وہ تن کی دنیا سے نکل کر من کی دنیا میں ڈوبتا ہے اور پھر ڈوبتا ہی چلا جاتا ہے اور جب وہ آشنائے راز ہوتا ہے تو اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہیں ہوتی کہ کس واقعہ نے اسے کیا سے کیا بنا دیا ہے ۔ جانے والا اسے کیا دے گیا ۔ آئینہ ٹوٹا تو کیا طلسمات پیدا ہو گئے ۔ آنسوٶں نے کیا تنویر پیدا کر دی ۔ دل کے داغ ، چراغ بن گئے ۔ حسرت ، سرفراز ہو گئی ۔ محرومی سیراب ہو گئی ۔ ایک کی تمنا اپنی تمنا بن کر سب کی تمنا بن گئی ۔ انسان کی یاد ایک حد سے گزر جائے ، تو یادِ حق بن جاتی ہے اور یہ حد ، بے حد ہے ۔ اس لیے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ انتظار انسان کے ساتھ کیا کرے گا ۔
انتظار پیدا کرنے والی کوئی بھی شے ہو ، جب انتظار پیدا ہو جائے تو صاحبِ انتظار کے ساتھ اس کے ظرف کے مطابق واقعات شروع ہو جاتے ہیں ۔
کچھ لوگ انتظار کی شدت سے تنگ آ کر چراغِ آرزو بجھا دیتے ہیں ۔ وہ امید سے نکل کر مایوسی میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ وہ کسی پر بھروسہ نہیں کرتے ۔ انہیں اپنے نصیب پر بھی بھروسہ نہیں رہتا ۔ وہ گلہ کرتے ہیں ، شکایت کرتے ہیں ، مایوسیاں پھیلاتے ہیں ۔ انہیں شبِ فرقت کی تاریکی تو نظر آتی ہے ، اپنے دل کا نُور نظر نہیں آتا ۔ وہ جس خوبی کا انتظار کرتے ہیں ، اسے ناخوب کہنے لگ جاتے ہیں ۔ وہ اپنے جدا ہونے والے محبوب کو کوسنا شروع کرتے ہیں اور اس طرح اپنی شبِ انتظار کو کم نصیبی سمجھ کر بے حِس اور جامد ہو جاتے ہیں ۔ ظاہر سے محروم ہو کر وہ باطن سے بھی محروم ہو جاتے ہیں اور اسی طرح بربادئ دل بربادئ ہستی بن کر انہیں تباہی کی منزل تک لاتی ہے ۔
جس شخص میں ایثار نہ ہو ، اسے انتظار تباہ کر دیتا ہے ۔ جس انسان میں عفوو درگرز نہ ہو ، اسے انتظار ہلاک کر دیتا ہے ۔ اگر تمنا ہوس پرستی بن جائے ، تو انتظار عذاب ہے ۔
اگر تمنا لطیف رہے تو انتظار کیف کی منازل طے کراتا ہے ۔ انتظار ایک طاقتور ، منہ زور گھوڑے کی طرح ہے ۔ اگر سوار کمزور ہو تو گر کر مر جائے گا اور اگر سوار شہسوار ہو تو آسودۂ منزل ہو گا ۔
انتظار کا دائرہ محبت کی دنیا تک ہی نہیں ، اس کے علاوہ بھی ہے ۔ ہر وجود انتظار کرتا ہے ۔ ہر ذی نفس انتظار میں ہے ۔ ہر موسم آنے والے موسم کے انتظار میں ہے ۔ ہر دور آنے والے دور کا منتظر ہے ۔ ہم سب اپنے جانشیوں کا انتظار کرتے ہیں ۔ حکمران آنے والی حکومتوں کے انتظار میں اپنا وقت پورا کرتے ہیں ۔ محنتی انسان اپنی محنت کے معاوضے کا منتظر ہے ۔ نوکر پیشہ لوگ تنخواہ کے دن کا انتظار کرتے ہیں اور اس انتظار میں مہینہ گزارنے کے عذاب کو انتظار کہتے ہیں ۔
آج کے مہذب انسان کی زندگی صبح سے شام تک انتظار کے مختلف مراحل طے کرتی ہے ۔ اخبار میں اپنی پسند کی خبروں کا انتظار ، دفتروں میں خوشگوار واقعات کا انتظار ، ترقی کا انتظار ، کھانے پینے کا انتظار اور پھر شومئ قسمت نیند کا انتظار ۔
آج کے انسان کو نیند کی دولت بہت کم ملی ہے ۔ بہت انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ سکون دینے والی نیند نہ جانے کہاں چلی گئی ۔ آج کل تو سکون دینے والی گولیاں ملتی ہیں ۔ عذاب ہے ، قیامت ہے ۔ نیند تو محبت کا حق ہے ، لیکن آج یہ حق دوائی کے بغیر نہیں ملتا ۔ یاالہٰی! یہ سب کیوں ہے؟
بہرحال انتظار انسان کو گُھن کی طرح کھا رہا ہے ۔ دل اور غم ایک دوسرے مل جُل کر کھا رہے ہیں اور یُوں انتظار کے زمانے گزرتے جا رہے ہیں ۔
آج کا انسان بُھول گیا ہے کہ ہر انتظار کے بعد ایک نیا انتظار ہے ۔ ہم اپنے حال کو مستقبل کا انتظار کہہ سکتے ہیں ۔ یہ مستقبل ایک حد تک تو ہمیں قبول ہے ، لیکن اس کے بعد کا مستقبل یعنی مابعد کا "مستقبل" ہماری زندگی اور ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔ ہم یہ نہیں سُن سکتے کہ بڑھاپا جوانی کے انتظار میں ہے ۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جوانی بڑھاپے کے انتظار کا نام ہے ۔ ہم یہ سننے کو تیار نہیں کہ موت زندگی کے انتظار میں ہے ۔ ہم یہ ماننے کو تیار نہیں کہ زندگی موت کے انتظار کا دوسرا نام ہے ۔

(دل دریا سمندر)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

31/12/2025

ُور_دراز

30/12/2025

‏وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں
بہت مغرور ہوتے جا رہے ہیں

بس اک ترک محبت کے ارادے
ہمیں منظور ہوتے جا رہے ہیں

مناظر تھے جو فردوس تصور
وہ سب مستور ہوتے جا رہے ہیں

بدلتی جا رہی ہے دل کی دنیا
نئے دستور ہوتے جا رہے ہیں

بہت مغموم تھے جو دیدہ و دل
بہت مسرور ہوتے جا رہے ہیں

وفا پر مردنی سی چھا چلی ہے
ستم کا نور ہوتے جا رہے ہیں

کبھی وہ پاس آئے جا رہے تھے
مگر اب دور ہوتے جا رہے ہیں

فراق و ہجر کے تاریک لمحے
سراپا نور ہوتے جا رہے ہیں

شکیلؔ احساس گمنامی سے کہہ دو
کہ ہم مشہور ہوتے جا رہے ہیں

شکیل بدایونی

30/12/2025

پروین شاکر بےحد حساس ذہن کی مالک تھیں ۔ ایک جلا وطن کی طرح اپنے خوابوں کے جزیروں کی تلاش میں بھٹکتی رہی ، دکھوں اور اذیتوں کی طویل مسافتیں طے کیں اور سوچ و خیال کے نئے نئے الف لیلوی جزیرے تخلیق کیے۔

اور انہی جزیروں میں وہ ایک شہزادی کی طرح ماضی کی کتھا سناتی رہیں کیونکہ”جب زندگی کے میلے میں رقص کی گھڑی آئی تو سنڈریلا کی جوتیاں ہی غائب تھیں نہ وہ خواب تھا ، نہ وہ باغ تھا ، نہ وہ شہزادہ“.

اچھے رنگوں کی سب پریاں اپنے طلسمی دیس کو اڑ چلی تھیں اور اپنی لہولہان ہتھیلیوں سے آنکھوں کو ملتی شہزادی جنگل میں اکیلی رہ گئی۔

ان کی یہ نظم کچھ ایسے ہی خوابوں اور خیالوں سے متعلق ہے ۔
ُور_دراز
اُداس شام دریچوں میں مُسکراتی یے
ہوا بھی ، دھیمے سُروں میں ، کوئی اُداس سا گیت
مِرے قریب سے گُزرے تو گُنگناتی ہے

میری طرح سے شفق بھی کِسی کی سوچ میں ہے
میں اپنے کمرے میں کِھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں
مِری نِگاہ دُھندلکوں میں اُلجھی جاتی ہے

نہ رنگ ہے، نہ کِرن ہے، نہ روشنی، نہ چراغ
نہ تیرا ذِکر ، نہ تیرا پتہ ، نہ تیرا سُراغ
ہوا سے ، خُشک کتابوں کے اُڑ رہے ہیں وَرق
مگر میں بُھول چُکی ہوں تمام اُن کے سبق

اُبھر رہا ہے تخیّل میں بس تیرا چہرہ
میں اپنی پَلکیں جَھپکتی ہوں اُس کو دیکھتی ہوں
میں اُس کو دیکھتی ہوں اور ڈر کے سوچتی ہوں
کہ کل یہ چہرہ کِسی اور ہاتھ میں پہنچے
تو میرے ہاتھوں کی لِکھی ہوئی کوئی تحریر
جو اِن خطوُط میں روشن ہے آگ کی مانند
نہ اُن ذھین نگاہوں کی زد میں آ جائے

”پروین شاکر“
_________________

30/12/2025

انٹرویو میں دماغ چکرانے والا اردو کا سوال تھا!

"کتاب" اسم ہے، "پڑھنا" فعل ہے...
تو بتائیں: لفظ "سیکھنا" کا اسم کیا ہوگا؟
A mind-twisting Urdu question asked in an interview!

📚 "Kitab" (Book) is a noun,
📖 "Parhna" (To read) is a verb...
So tell us: What’s the *noun* form of the word "Seekhna" (To learn)?
🤔 👇 Drop your answers in the comments .
▭▬▭▭▬▭▬▭▬▭▬▭
❤️ ㅤ ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ

30/12/2025

بازار سے ایک عورت گزر رہی تھی اس نے محسوس کیا کہ ایک مرد اس کے پیچھے پیچھے آ رہا ہے اس عورت نے رک کر دریافت کیا کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے.؟ "مرد کہنے لگا" ک آپ اتنی خوبصورت ہیں کہ میں آپ پر فدا ہو گیا ہوں. اس عورت نے کہا کہ میں تو کچھ نہیں میرے پیچھے جو میری بہن آ رہی ہے وہ مجھ سے بھی زیادہ خوبصورت ہے اس مرد نے جونہی دیکھا تو اس عورت نے ایک تھپڑ رسید کیا اور ایک تاریخی جملہ کہا
جو فدا ہوتے ہیں وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے_ _ _!!

سعادت حسن منٹو💛

اقبال کا شاہین صفت مرد مومن یہ احساس  آج بھی ہمارے ذہنوں میں دامن گیر ہے کہ وہ کون سی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے اقبال ہمار...
30/12/2025

اقبال کا شاہین صفت مرد مومن

یہ احساس آج بھی ہمارے ذہنوں میں دامن گیر ہے کہ وہ کون سی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے اقبال ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔
فکرِ اقبال کے عمیق مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ وہ معلمِ انسانیت کا درجہ رکھتے ہیں۔ اُن کا فکرو فلسفہ اور دستورِ العمل قرآن کے گرد گھومتا ہے۔ اُن کا کلام آفاقی ہے۔
اُن کے لفظ طاقتِ پرواز رکھتے ہیں۔ وہ سوچ کے شناور ہیں۔ قرآن و حدیث کے مطالعہ نے اُنھیں کندن بنایا۔
وہ علم و عرفان کے ایسے بحرِ بے کراں ہیں جن میں زندگی متحیر نظر آتی ہے اُن کا طائرِ فکر محوِ پرواز رہتا ہے۔ حکمت و دانائی کی دولت سے مالا اقبال نے لفظوں کو حُسن اور سوچ کو رعنائی عطا کی۔

خودی اور شاہین اقبال کے اہم موضوعات ہیں۔

یہ موضوعات آنے والے کل کو درخشاں راہیں ہموار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے شاہیں پرندے کو کمال کی خوبیوں سے سرفراز کیا۔
شاہین خوددار اور غیرت مند ہے وہ کسی کے ہاتھ کا شکار کردہ کچھ نہیں کھاتا۔ شاہین آشیانہ نہیں بناتا وہ بلند پرواز رہتاہے، اُس کی نگاہ تیز ہے،
فقرو استغنا اُس کا طرۂ امتیاز ہے، شاہین توانائی، جہدِ مسلسل، حریت، تجسس، محنت، پہل کرنے کی خوبی اور خلوت پسندی کی خوبیوں سے مزین ہے۔
اقبال اِسی شاہین کی خوبیاں مسلم نوجوان میں دیکھنے کے متمنی ہیں۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ نے شاہین کو بطور رمز اور کنایہ تصور کرتے ہوئے مردِ کامل، مردحر، مردِ درویش اور فقیر کا درجہ دیا ہے۔

پرندوں کی دنیا کو درویش ہوں مَیں
کہ شاہین بناتا نہیں آشیانہ

علامہ اقبال کو نوجوانوں سے بہت محبت تھی۔ ان کے نزدیک ملت کا یہ جوان شاہین صفت ہے۔
شاہین علامہ موصوف کا محبوب ترین پرندہ ہے جس میں وہ ایک تیز، پھرتیلے اور فضاؤں میں اڑتے نوجوان کی تصویر دیکھتے ہیں۔ شاہین جس کا نشیمن بلندی اور فطرت تجسس ہے۔

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

اقبالؔ کا شاہین محض ایک پرندہ ہی نہیں بلکہ جسد زندگانی میں یہ حرکت و عمل کا ایک پر جوش،مجسم ، روح انقلاب ، آزادی، خود داری کا پیامبر بھی ہے۔ یہ اس قوت و عمل کا ترجمان ہے جس کے سامنے افلاک بھی سر بسجود ہو جاتے ہیں:

میری نظر میں یہی ہے جمال زیبائی
کہ سر بسجود ہیں قوت کے سامنے افلاک

طالب علم کو شاہین کا نام دے کر اقبالؔ جہاں اس میں رفعت خیال، جذبہ ٔ عمل، وسعت نظری اور جرأت رندانہ پیدا کرنا چاہتے ہیں، وہاں اس کے جذبۂ تجسس کی بھرپور تکمیل بھی چاہتے ہیں۔ شاہین پرندوں کی دنیا کا درویش ہے۔ وہ اپنی خودی پہنچانتا ہے، تجسس اس کی فطرت اور جھپٹنا اس کی عادت ہے۔ وہ فضائے بسیط کا واحد حکمران ہے جو فضاؤں اور دوریوں سے محبت کرتا ہے ۔

محمد فاروق لکھتے ہیں:
جس طرح شیر جانوروں میں اپنی جرأت، قوت اور غیرت، خودداری کی وجہ سے خاص فوقیت رکھتا ہے، اسی طرح شاہین پرندوں میں اپنی دلیری، آزادی خود داری اور بلند پروازی کے لحاظ سے یکتا ہے دنیا کا کوئی پرندہ ان صفات کے حفظ میں شاہین کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس کے نام میں جلال ہے؛ اس کی شکل و ہیئت میں جلال ہے؛ اس کی ہر جھپٹ اور ہر حرکت میں جلال ہے۔‘‘

بچہ شاہین سے کہتا تھا عقاب سالِ خورد
اے ترے شہپر پر آساں رفعت چرخ بریں

ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام
سخت کوشی سے ہے تلخ زندگانی انگبیں

جو کبوتر پر جھپٹنے میں مزا ہے اے پسر!
وہ مزا شاید کبوتر کے لہو میں بھی نہیں

جیسے عقاب سا لِ خورد پرکو سخت کوشی اور جھپٹ کو پلٹنے، پلٹ کر جھپٹنے کا درس دیتا ہے، اس طرح اقبالؔ بھی طالب علم کو جہان فکر وعمل میں اپنی دنیا پیدا کر نے کی تلقین کرتے ہیں ۔

جھپٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے ایک بہانہ

شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پر دم ہے اگر تو، تو نہیں خطرۂ افتاد

اس طرح وہ ایک ایسے جذبہ عمل سے روشناس کراتے ہیں جو اسے یقین کے دوش پر محو پرواز رکھتا ہے۔ اقبالؔ کا تصور شاہین محض ایک شاعرانہ تخیل نہیں بلکہ اس میں اسلامی فقر کی تمام صفات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ شاہین خود دار غیرت مند ہے کہ اوروں کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا۔

نگاہ عشق دل زندہ کی تلاش میں ہے
شکار مردہ سزا وار شہباز نہیں

شاہین بلند پرواز ہے؛ ستاروں پر کمند ڈالتا ہے ؛ وہ تیز نگاہ ہے؛ ہمہ وقت شکار پر نظر رکھتا ہے؛ وہ خلوت پسند ہے؛ گھر نہیں بناتا؛ اپنی دنیا کا درویش ہے۔

گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں
کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کار آشیاں بندی

شاہیں جواں ہمت ہے ؛جرأت تسخیر رکھتا ہے ۔
برہنہ سر ہے تو عزم بلند پیدا کر

یہاں فقط سر شاہین کے واسطے ہے کلاہ
اقبال ؒ کا کلام عصرِ حاضر کے نوجوانوں کو دعوتِ فکر دیتاہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں سے قرونِ اولیٰ کے نوجوانوں کا طرزِ عمل اختیار کریں۔
ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کو نوجوانوں میں جذبۂ استقامت، اُمنگوں، آرزوئوں اور قوتِ تجسس کا ادراک ہے۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان اپنی ان خوبیوں کو تعمیرِ خودی کے لیے وقف کریں۔
مقامِ افسوس ہے کہ ہم تکنیکی تعلیم میں اتنے محو ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنے ادب سے کوئی لگاؤ نہیں رہا۔ عربی فارسی کو نظامِ تعلیم سے دور کر دیا گیا ہے۔
فکرِ اقبال کو نصاب سے خارج کرنے کی سازش بھی جاری ہے۔ اِن حالات میں ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے نصابِ تعلیم کو از سرِ نو تشکیل دیں۔ جو قومیں اپنے مفکرین اور مفسرین سے منہ موڑتی ہیں۔ اُن کا جغرافیہ بھی مخدوش ہو جاتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نسلِ نو کو اقبال کا شاہین بنانے کے لیے فکرِ اقبال کو نصاب کا حصہ بنائیں اور نوجوانوں کو شاہین صفت جذبے عطاء کرنے کی کوشش کریں۔

لفظوں کا صحیح استعمال !
30/12/2025

لفظوں کا صحیح استعمال !

 #نظم
30/12/2025

#نظم

29/12/2025

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when شعبہٴ اُردو posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share