31/12/2025
""""""""""""""""""انتظار""""""""""""""""""
*خواہش اور حصول کے درمیانی فاصلے کو انتظار کہہ سکتے ہیں ۔ یہ بھی کہنا درست ہے کہ تمنا ہی انتظار پیدا کرتی ہے ۔ جس دل میں تمنا نہ ہو ، اسے انتظار کے کرب سے گزرنے کا تجربہ نہیں ہو سکتا ۔ چونکہ کوئی انسان تمنا سے آزاد نہیں ، اس لیے کوئی انسان انتظار سے نجات نہیں پا سکتا ۔
ہم سب انتظار میں ہیں ۔ ہر انسان کو کسی نہ کسی کا انتظار ہے ۔ کسی نہ کسی شے سے ملنے کا انتظار ہوتا ہے ۔ کسی واقعہ کا انتظار ہوتا ہے ۔ انتظار تاریکی میں روشنی کا سفر طے کرتا رہتا ہے ۔ شبِ فراق صبحِ اُمید کے انتظار میں کٹتی رہتی ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ زندگی کٹ جائے اور شبِ انتظار نہ کٹے ۔
دیکھی ہوئی صُورت کو دوبارہ دیکھنے کی آرزو انتظار کی بیتابیوں سے گزرتی ہے ۔ آرزو ، ممکن ہو یا ناممکن ، انتظار ، آرزو کا مقدر ہے ۔ انتظار ایک اٹل حقیقت ہے ۔ اس سے گریز ممکن نہیں ہے ۔
ہر عمل اپنے نتیجے کے انتظار میں ہوتا ہے ۔ عمل نہ ہو ، تو ارادہ ہی انتظار میں داخل کر دیتا ہے ۔ ہمارے ارادے ، ہماری آرزوئیں ، ہماری تمنائیں ، ہمارے عزائم اپنے نتائج کی خوب صُورت شکل دیکھنے کو ترستے ہیں ۔ اسی کا نام انتظار ہے ۔
نیک انسان اپنے اعمال کا انعام حاصل کرنے کے لیے منتظر رہتے ہیں اور برے آدمی اپنی بُرائی کی عبرت سے بچنے کا انتظار کرتے ہیں ۔ جو انسان کسی عاقبت کا قائل نہیں ، اس کے لیے اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ " تم ایک فیصلے کے دن کا انتظار کرو اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں ۔"
محبت کی تمام عمر انتظار کی حدت اور شِدّت سے گزرتی یے ۔ انتظار ہی قلوب کو گلنار کرتا ہے ۔
ہم اپنے انداز سے ہی اپنے انتظار کی منزل طے کرتے ہیں ۔ کُچھ لوگ انتظار سے بڑے اضطراب میں گزرتے ہیں ۔ وہ روتے ہیں ، بِلکتے ہیں ، کراہتے ہیں ، گنگناتے ہیں ، تارے گنتے ہیں اور یادوں کے چراغ روشن کرتے ہیں ۔ وہ دیارِ جاں میں جشن آرزو منانے کے لیے اشکوں سے چراغاں کرتے ہیں ۔ جانے والوں کو صحرائے طلب میں ڈھونڈتے ہیں ۔ نہ سننے والے کو پکارتے ہیں ۔ نہ نظر آنے والوں کو دیکھنا چاہتے ہیں ، خاموش تصاویر کی آوازیں سنتے ہیں اور اپنی شبِ تنہائی میں اپنے علاوہ وجود کو بھی موجُود پاتے ہیں ۔ ان کا خیال متجسم ہوتا ہے ۔ ان کو ماضی کے ہم سفر ، مستقبل کی مسافرت میں شامل نظر آتے ہیں ۔ یہ واہمہ انہیں حقیقت نظر آتا ہے ۔ اس طرح انتظار کے زمانے طلسمات کے زمانے بن جاتے ہیں ۔
انسان کو اپنا عہدِ انتظار عہدِ جنوں نظر آتا ہے ۔ انتظار کا دَور اذیت کا دَور ہے ، لیکن صاحبِ انتظار کو اس دَور میں عجیب لذت سے آشنائی ہوتی ہے ۔ اس کو اپنے ظاہر سے باطن کا سفر نصیب ہوتا ہے ۔ وہ تن کی دنیا سے نکل کر من کی دنیا میں ڈوبتا ہے اور پھر ڈوبتا ہی چلا جاتا ہے اور جب وہ آشنائے راز ہوتا ہے تو اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہیں ہوتی کہ کس واقعہ نے اسے کیا سے کیا بنا دیا ہے ۔ جانے والا اسے کیا دے گیا ۔ آئینہ ٹوٹا تو کیا طلسمات پیدا ہو گئے ۔ آنسوٶں نے کیا تنویر پیدا کر دی ۔ دل کے داغ ، چراغ بن گئے ۔ حسرت ، سرفراز ہو گئی ۔ محرومی سیراب ہو گئی ۔ ایک کی تمنا اپنی تمنا بن کر سب کی تمنا بن گئی ۔ انسان کی یاد ایک حد سے گزر جائے ، تو یادِ حق بن جاتی ہے اور یہ حد ، بے حد ہے ۔ اس لیے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ انتظار انسان کے ساتھ کیا کرے گا ۔
انتظار پیدا کرنے والی کوئی بھی شے ہو ، جب انتظار پیدا ہو جائے تو صاحبِ انتظار کے ساتھ اس کے ظرف کے مطابق واقعات شروع ہو جاتے ہیں ۔
کچھ لوگ انتظار کی شدت سے تنگ آ کر چراغِ آرزو بجھا دیتے ہیں ۔ وہ امید سے نکل کر مایوسی میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ وہ کسی پر بھروسہ نہیں کرتے ۔ انہیں اپنے نصیب پر بھی بھروسہ نہیں رہتا ۔ وہ گلہ کرتے ہیں ، شکایت کرتے ہیں ، مایوسیاں پھیلاتے ہیں ۔ انہیں شبِ فرقت کی تاریکی تو نظر آتی ہے ، اپنے دل کا نُور نظر نہیں آتا ۔ وہ جس خوبی کا انتظار کرتے ہیں ، اسے ناخوب کہنے لگ جاتے ہیں ۔ وہ اپنے جدا ہونے والے محبوب کو کوسنا شروع کرتے ہیں اور اس طرح اپنی شبِ انتظار کو کم نصیبی سمجھ کر بے حِس اور جامد ہو جاتے ہیں ۔ ظاہر سے محروم ہو کر وہ باطن سے بھی محروم ہو جاتے ہیں اور اسی طرح بربادئ دل بربادئ ہستی بن کر انہیں تباہی کی منزل تک لاتی ہے ۔
جس شخص میں ایثار نہ ہو ، اسے انتظار تباہ کر دیتا ہے ۔ جس انسان میں عفوو درگرز نہ ہو ، اسے انتظار ہلاک کر دیتا ہے ۔ اگر تمنا ہوس پرستی بن جائے ، تو انتظار عذاب ہے ۔
اگر تمنا لطیف رہے تو انتظار کیف کی منازل طے کراتا ہے ۔ انتظار ایک طاقتور ، منہ زور گھوڑے کی طرح ہے ۔ اگر سوار کمزور ہو تو گر کر مر جائے گا اور اگر سوار شہسوار ہو تو آسودۂ منزل ہو گا ۔
انتظار کا دائرہ محبت کی دنیا تک ہی نہیں ، اس کے علاوہ بھی ہے ۔ ہر وجود انتظار کرتا ہے ۔ ہر ذی نفس انتظار میں ہے ۔ ہر موسم آنے والے موسم کے انتظار میں ہے ۔ ہر دور آنے والے دور کا منتظر ہے ۔ ہم سب اپنے جانشیوں کا انتظار کرتے ہیں ۔ حکمران آنے والی حکومتوں کے انتظار میں اپنا وقت پورا کرتے ہیں ۔ محنتی انسان اپنی محنت کے معاوضے کا منتظر ہے ۔ نوکر پیشہ لوگ تنخواہ کے دن کا انتظار کرتے ہیں اور اس انتظار میں مہینہ گزارنے کے عذاب کو انتظار کہتے ہیں ۔
آج کے مہذب انسان کی زندگی صبح سے شام تک انتظار کے مختلف مراحل طے کرتی ہے ۔ اخبار میں اپنی پسند کی خبروں کا انتظار ، دفتروں میں خوشگوار واقعات کا انتظار ، ترقی کا انتظار ، کھانے پینے کا انتظار اور پھر شومئ قسمت نیند کا انتظار ۔
آج کے انسان کو نیند کی دولت بہت کم ملی ہے ۔ بہت انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ سکون دینے والی نیند نہ جانے کہاں چلی گئی ۔ آج کل تو سکون دینے والی گولیاں ملتی ہیں ۔ عذاب ہے ، قیامت ہے ۔ نیند تو محبت کا حق ہے ، لیکن آج یہ حق دوائی کے بغیر نہیں ملتا ۔ یاالہٰی! یہ سب کیوں ہے؟
بہرحال انتظار انسان کو گُھن کی طرح کھا رہا ہے ۔ دل اور غم ایک دوسرے مل جُل کر کھا رہے ہیں اور یُوں انتظار کے زمانے گزرتے جا رہے ہیں ۔
آج کا انسان بُھول گیا ہے کہ ہر انتظار کے بعد ایک نیا انتظار ہے ۔ ہم اپنے حال کو مستقبل کا انتظار کہہ سکتے ہیں ۔ یہ مستقبل ایک حد تک تو ہمیں قبول ہے ، لیکن اس کے بعد کا مستقبل یعنی مابعد کا "مستقبل" ہماری زندگی اور ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔ ہم یہ نہیں سُن سکتے کہ بڑھاپا جوانی کے انتظار میں ہے ۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جوانی بڑھاپے کے انتظار کا نام ہے ۔ ہم یہ سننے کو تیار نہیں کہ موت زندگی کے انتظار میں ہے ۔ ہم یہ ماننے کو تیار نہیں کہ زندگی موت کے انتظار کا دوسرا نام ہے ۔
(دل دریا سمندر)
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ