Subhanallah
Islamic dunya Pk
here you learn about islamic information and news
06/02/2023
It's a good currency, it's cheap, but one day it will rise. Don't miss this opportunity
Invitation code =33H2AK
App name catstar
03/01/2023
13/06/2022
Stay strong and calm you will achieve your goals
28/05/2022
ہر میں کامیابی کی دعا
اللہ نشان عبرت بنا دیں ایسے گندے, فضول اور بے ضمیر انسان کے شکل میں خیوان کو
اللہ کے ولی پر شیر کا حملہ
Must share and like
23/05/2022
بہت سے لوگ اسے ایک آرٹیکل سمجھیں گے اور دوبارہ سے حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے عثمانیوں پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے تمام قوانین کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں گے. لیکن اس پوسٹ میں بھائی/بیٹے کے قتل کی تمام وجوہات، حقائق اور دلائل دینے کی کوشش کی جائے گی. مکمل اور سمجھ کر پڑھیئے.
سلطان محمد فاتح کا "بھائی کے قتل کا قانون" کہتا ہے کہ:
"میرے بیٹوں میں سے جو میرے بعد سلطنت سنبھالے، اس کے لیئے قابلِ قبول ہے کہ سلطنت میں انتشار سے بچنے اور لوگوں کی بھلائی اور نظامِ الٰہی کے لیئے اپنے بھائی کو قتل کرنا پڑے تو وہ کرے.میرے فقہ(حنفی) شریعت اور علماء کی اکثریت اس بات کی اجازت دیتی ہے، اب اس کے مطابق عمل کیا جائے".
بے شک، بھائی کا قتل عثمانی تاریخ کا سب سے متنازعہ موضوع ہے. سلطان محمد فاتح کی حکومت اس بات کا حق دیتی ہے کہ متوقع فساد، سلطنت کے خاتمے اور اس میں انتشار سے بچنے کے لیئے خاندان کے مرد افراد کو قتل کیا جا سکتا ہے. یہ قانون کوئی حکم نہیں تھا، صرف اجازت تھی کہ اگر کوئی ایسا موقع آئے کہ جب سلطان کے لیئے شہزادے کا قتل ضروری ہو جائے تو وہ اسے اجازت مل سکتی ہے. تاریخِ سلطنتِ عثمانیہ میں شہزادوں کے قتل کے مختلف واقعات ہیں، جن میں زیادہ تر جائز مانے جاتے ہیں (بغاوت اور غداری کی سزا موت ہی ہے)، لیکن کچھ قتل متوقع بغاوت سے بچنے کے لیئے کیئے گئے جو کہ ناجائز کہہ کر تنقید کا نشانہ بنئے جاتے ہیں.
سلطنت کی روایت "سلطنت ہمارے خاندان کی مشترکہ ملکیت ہے"، قدیم تُرک سیاست کی خصوصیت تھی جو ترکوں کے قبولِ اسلام کے بعد سے چلی آ رہی تھی. کچھ تُرک حکمرانوں نے خانہ جنگی سے بچنے کے لیئے اپنی سلطنت کو تقسیم کیا اور ایک سلطنت میں زیادہ حکمران مقرر کیئے. جن میں سلجوق سر فہرست ہیں جن کو خانہ جنگی (بھائیوں کے آپس میں لڑنے) کی وجہ سے زوال آیا.
شکر ہے کہ عثمانیوں نے ان تجربوں سے سیکھا. انہوں نے اپنی سلطنت اور عوام کے لیئے خود کو قربان کیا اور خود ایک کڑوا زہر پیا. یہ کڑوا زہر عوام کی بہتری اور حفاظت کے لیئے اپنے ہی خاندان کے مرد افراد کے قتل کا تھا، جو بھائی کے قتل کا قانون (Law of Fratricide) کہلاتا ہے.
سلطان محمد اول (محمد چلپی)، سلطنت عثمانیہ کے پانچویں (5th) سلطان نے امیر تیمور کے ایک بیٹے کو خط میں لکھا:
"میرے آباؤاجداد نے اپنے تجربوں میں کچھ تکالیف برداشت کی ہیں. ایک ہی سلطنت میں دو سلطان کبھی کسی صورت نہیں رہ سکتے".
سیاسی وجوہات کی بنا پر شاہی خاندان کے افراد کا قتل صرف سلطنتِ عثمانیہ سے ہی منسوب نہیں. ساسانیاں سلطنت، رومی سلطنت، بازنطینی سلطنت اور یہاں تک کہ مسلم اندلسی سلطنت میں بھی اس پر عمل کیا گیا. تاہم، ان سلطنتوں میں سلطنت میں یکجانیت کی وجہ سے نہیں بلکہ اقتدار کو چھیننے کے لیئے خاندان کے افراد کا قتل عمل میں لایا گیا. دوسری طرف، یورپ میں حقیقی وارث چننے کے لیئے سالوں تک چلنے والی خانہ جنگی میں ہزاروں انسانوں کی موت کو بھی یاد رکھا جائے.
کہا جاتا ہے کہ عثمانی خاندان میں پہلی بڑی سزا سلطان عثمان غازی، سلطنت عثمانیہ کے بانی، کی جانب سے اپنے چچا دندار بے (Dündar Bey) کو دی گئی. جو کہ اپنی راہ ہموار کر رہا تھا اور بازنطینی امراء سے گٹھ جوڑ کر رہا تھا.
سلطنت کے قائم ہونے کی ابتدائی صدیوں میں، خاندان کے افراد تقریباً تمام سلاطین کے ادوار میں سلطنت کے لیئے مسئلہ بن گئے. وہ شہزادے جو تخت نشین نہ ہو سکے انہوں نے اناطولیہ اور یہاں تک کہ بازنطینی سلطنت کے تعاون اور پشت پناہی سے بغاوتیں کیں اور خود اپنی موت کا سبب بنے.
جنگِ انقرہ (1402) میں سلطان بایزید اول نے شکست کھائی اور قید ہوئے اور یوں ایک بار سلطنت ختم ہو گئی، سلطنت میں 11 سال کا خلا آ گیا. سلطان بایزید اول کے چار بیٹے، جبکہ ہر ایک کے ہزاروں حامی تھے، تقریبا 11 سال تک آپس میں لڑتے رہے. اس خانہ جنگی کے اختتام پر سلطان محمد اول جو کہ سلطان بایزید اول کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے. انہوں نے اپنے بھائیوں کو ہرایا اور 1413ء میں تختِ عثمانی کے واحد حکمران بنے.
پرانی ترک سیاسی روایات میں عثمانیوں کے لیئے تخت نشینی کا کوئی خاص قانون نہیں تھا. ہر شہزادے کو 12 سال کی عمر میں دارالحکومت سے برابر فاصلے پر کسی خاص ریاست یا صوبے میں گورنر بنا کر بھیجا جاتا. اس ایک صوبے یا علاقے کو " "سنجک" (Sanjak) کہا جاتا. اسی دوران وہ اپنی تمام تربیت مکمل کرتے. جو شہزادہ اپنے والد کی وفات پر دارالحکومت پہلے پہنچ جاتا وہ تخت حاصل کر لیتا. چناچہ سلطان محمد فاتح کے اوپر بیان کردہ قانون نے کوئی تخت نشینی کا کوئی نیا اصول نہیں بتایا، لیکن یہ بتایا کہ شہزادہ جو سلطان بنے گا وہ سب سے خوش نصیب، سب سے طاقتور ہو گا. اور اپنے اُن بھائیوں کو خاتمہ کرے جو حکومت کے لیئے خطرہ بننے کی کوشش کریں.
یوں سلطنت کی غیر تقسیم شدہ خودمختاری کے اسلامی قوانین کو عثمانیوں نے اپنایا، اگرچہ اس کی قیمت اپنے ہی خاندان کے افراد کی جان لینا ہو. شہزادوں کی پھانسی مثبت قانون کے تحت ہوتی تھی، دوسرے الفاظ میں، سلطان محمد دوم کے اصول کے مطابق. تمام دوسری سلطنتوں میں، حکمران اسلامی قانون کے ماتحت عدالتی طاقت رکھتا تھا. عثمانی سلطنت میں شہزادے کے قتل سے پہلے، شیخ الاسلام (عثمانی سلطنت میں سب سے بڑے مفتی اور عالم کا عہدہ ہے) سے قتوہ لینا لازمی تھا. علماء کی قدر کے حوالے سے ویسے بھی عثمانی بے مثال تھے.
عثمانی شاہی خاندان میں شہزادوں کے قتل کی مختلف وجوہات ہیں.
●●》پہلی وجہ، شہزادے اس صورت میں قتل کیئے جاتے کہ اگر وہ تخت چھیننے کے لیئے بغاوت کریں. بغاوت اور غداری کی سزا آج تک تمام دنیا کے لہاظ سے جرم ہے جس کی سزا یقیناً موت ہے. سلطان محمد فاتح کی وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے سلطان بایزید دوم تخت نشین ہوئے. ان کے چھوٹے بھائی جمشید نے انہیں خط لکھا ک سلطنت کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے. بایزید نے انکار کر دیا. سلطان بایزید نے لشکر تیار کیا اور اپنے بھائی کو شکست دی. جمشید یورپ بھاگ گیا اور اپنی باقی زندگی قید کی حالت میں وہیں گزاری. کچھ ماہرین کے مطابق وہ مزید بغاوت کرتا تو اس کی بھی موت کا فرمان جاری ہو جاتا. سلطان سلیمان کے بیٹے بایزید نے بھی بغاوت کی. عثمانیوں کے دشمن کے پاس پناہ لی اور خود اپنی موت کو دعوت دی. اس کے علاوہ بہت سے شہزادے باغی بنے.
●●》دوسری وجہ، ہو سکتا ہے کہ کوئی واضح بغاوت نہ کی جائے لیکن بغاوت کی علامات ظاہر ہو رہی ہوں. سلطان کی لفظی یا عملی طور پر نافرمانی یا لوگوں کو سلطان کے خلاف بھڑکانا بھی جرم تھا. اس کی سزا کے طور پر بھی قتل کیا جا سکتا تھا. جب سلطان سلیم اول، سلطنتِ عثمانیہ کے نویں (9th) سلطان تخت نشین ہوئے تو انہوں نے اپنے بھائی قرظوت کو قتل نہیں کیا بلکہ اسے کسی علاقے کا گورنر بننے کی پیشکش کی. کچھ وزیروں اور سپاہیوں نے قرظوت کو خط لکھا اور کہا کہ ہم آپ کو سلطان دیکھنا چاہتے ہیں اور آپ کی تخت نشینی کی تمام تیاریاں مکمل ہیں. بد قسمتی سے شہزادہ قرغوت نے ان خطوط کے جواب میں انہیں مثبت رد عمل دیا. قرغوت کا خط سلطان سلیم کے ہاتھ لگا اور 1513ء میں مجبوراً انہوں نے اپنے بھائی کی زندگی کا خاتمہ کر دیا.
شہزادے مصطفٰی......! سلطان سلیمان کے بڑے بیٹے، جن کو قتل کروانے پر سلیمانِ اعظم کو آج کل لوگ بہت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں. ان کی موت کے پیچھے بھی یہ ہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنے چاھنے والوں کو مثبت جواب دیا. بے شک وہ سلیمان کی اولاد میں سے ایک بہترین امیر تھے لیکن سلطان کے خلاف کسی باغی گروہ کی حمایت بھی جرم ہے. کوئی کسی ٹی وی سیریز یا کسی نام نہاد مؤرخ کی بات سن کر یہ کہے کہ یہ مصطفی کے خلاف تمام سازش تھی تو یہ بات درست نہیں.
جدید قوانین جرم کے لیئے تب تک سزا مختص نہیں کرتے جب تک تمام تیاریاں عملی انجام نہ پا جائیں. تاہم یہ مبصرین اور مفسرین کی وضاحت پر منحصر ہے کہ وہ بات سے کیا مطلب لیتے ہیں کہ وہ منصوبہ کوئی تیاری تھی یا کوئی عملی کاروائی. اس بات کی وضاحت کہ اگر تین لوگوں نے ایک شخص کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو یہ جرم نہیں (جب تک کہ وہ اسے قتل نہ کر لیں) مگر کسی بغاوت کی منصوبہ بندی کے لیئے ملاقات جرم ہے.
شہزادہ محمود، سلطان محمد سوم کے بیٹا، ذاتی طور پر کسی بغاوت میں شریک نہیں تھا لیکن ممکنہ خطرات سے انجان تھا. اس طرح کے لاپرواہ رویے اس وقت سلاطین کی نظر میں ایک خطرہ سمجھا جاتا تھا اور یہ چیز انہیں پھانسی تک لے جاتی تھی تا کہ مستقبل میں سلطنت میں ہونے والے ممکنہ انتشار سے بچا جا سکے. ہزاروں سپاہیوں کی موت سے بہتر ایک کی جان لینا ہے.
تخت تک پہنچنے کے لیئے جلدبازی موت تک پہنچا سکتی تھی. شہزادے سلیم (سلطان سلیمان کے بیٹے)، شہزادے ابراہیم (سلطان احمد اول کے بیٹے) وغیرہ نے صبر اور اپنے محتاط رویے سے تخت حاصل کیا جبکہ ان کے بڑے بھائیوں کی موجودگی میں ان کا تخت نشین ہونا کسی کے خیال میں بھی نہیں تھا. لیکن کوئی شہزادہ بے صبری کا مظاہرہ کرے اور کسی باغی گروہ سے سازباز کرے تو انجام موت ہی ہو سکتا تھا.
●●》تیسری وجہ، اس قتل میں نہ تو کوئی بغاوت ہے اور نہ ہی کسی قسم کی بغاوت کی تیاری. یہاں ناجائز قتل کا مسئلہ کھڑا ہوتا ہے. کچھ قانونی ماہرین کے مطابق یہ قتل جائز ہے کہ ہو سکتا ہے مستقبل میں شہزادے بغاوت کریں. سلطنت عثمانیہ میں عوام اور فوج ہمیشہ یہ چاہتی تھی کہ عثمانی خاندان میں سے وہ شخص ہی تخت نشین ہو جو اس کے لیئے سب سے قابل ہو. خاندانِ آلِ عثمان کے علاوہ کسی دوسرے شخص کا تخت نشین ہونا تو کبھی سوچا بھی نہیں گیا. حکمران تو وہی ہو سکتا تھا جس کا تعلق شاہی عثمانی خاندان سے ہو. تو اس لحاظ سے فوج اکثر سلطنت کو دھمکیاں دیتی کہ اگر ان کے مختلف مطالبات نہ مانے گئے تو سلطان کو تخت سے اتار کر فلاں شہزادے کو بٹھا دیں گے. حالانکہ شہزادے بذاتِ خود اس میں شریک نہ ہوتے لیکن غریب معصوم شہزادے سلطنت کے لیئے خطرہ بن جاتے. مجبوراً سلطان کو کسی بدقسمت شہزادے کو مروانا پڑتا تاکہ سلطنت میں فساد اور دھمکیوں سے بچا جا سکے. سلطان مراد چہارم نے اسی مجبوری کی حالت میں اپنےمعصوم بھائیوں شہزادے بایزید اور قاسم کو قربان کیا کہ فوج ان شہزادوں کو سلطان دیکھنا چاھتی تھی. اپنی بھائی یا بیٹے کو مروانے سے بڑا درد کوئی نہیں لیکن عثمانیوں نے اس عظیم مسلم سلطنت کے لیئے قربانیاں دیں.
آسٹریا کے سفیر "اوگیر گسیلن ڈی بسبک" (Ogier Ghiselin de Bubecq) جو کہ سلطان سلیمان اول کے دور میں سلطنت عثمانیہ میں ٹھہرے، کہتے ہیں:
"یہ ایک بدقسمتی ہے، کسی [عثمانی] حکمران کا بیٹا ہونا. وہ اس لیئے کہ جب ان میں سے ایک تخت نشین ہوتا ہے تو باقی اپنی موت کا انتظار کریں. اگر سلطان کا بھائی زندہ رہے گا تو فوج کی خواہشات کبھی ختم نہیں ہوں گی. جب سلطان فوج کے سب مطالبات ماننے سے انکار کرے گا، تب وہ شور مچائیں گے. خدارا اپنے بھائی کو بچاؤ. جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس کے بھائی کو تخت نشین کروانے کی خواہش رکھتے ہیں".
کچھ جدید عالم سمجھتے ہیں کہ ان شہزادوں کا قتل، جنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا، وہ قانون کا ایک غلط استعمال ہے اور اسلامی شریعت کے قانون کے خلاف ہے. ایک معصوم شخص کی جان اس ڈر سے لینا کہ وہ مستقبل میں کوئی جرم کرے گا, یہ اس اصول کے لحاظ سے قانون کے خلاف ہے کہ، "ایک شخص معصوم ہی سمجھا جائے گا کہ جب تک قانونی طور پر اس کا جرم ثابت نہ ہو جائے".
جو لوگ شہزادوں کے قتل کو مناسب سمجھتے ہیں، اس کی بنیاد "مصلحة" پر ان کا نقطہ نظر ہے. مصلحة کا مطلب کسی مسئلے پر اپنے رائے دینے سے پہلے اپنی لوگوں کی رائے کو مقدم رکھنا ہے. قرآن بھی اس بات کو واضح کرتا ہے کہ فتنہ، کسی ایک شخص کو قتل کرنے سے زیادہ برا ہے. (یعنی فتنہ فساد پھیلنے سے بہتر ہے کہ اس کی جڑ ایک شخص کو ختم کر دیا جائے).
مثال کے طور پر، سلطان عثمان دوم نے پولینڈ کے خلاف جنگ کے لیئے نکلنے پہلے اپنے پیچھے ہونے والے فتنے سے بچنے کے لیئے اپنے بھائی محمد کی جان لینا چاہی. کیونکہ استنبول میں شہزادہ محمد کے حمایتی موجود تھے. تاہم شیخ الاسلام اسد آفندی نے فتوی دینے سے انکار کر دیا تو سلطان عثمان نے قاضی تشکپور زادے سے دوسرا فتوی حاصل کیا. قانونی ذرائع سے بات واضح نہ ہونے کی صورت میں فتوی مختلف ذرائع سے درست ثابت کروانا بھی عام بات تھی.
اس بات کی مضبوط مثالیں موجود ہیں کہ احتیاطیں اسلامی قوانین کے خلاف نہیں ہیں کہ اگر ان سے مستقبل میں ممکنہ خطرات سے بچنا ہو. نبی کریم حضرت محمدﷺ کے دور میں، ایک چوری کے الزام میں قید شخص آزاد ہوا جب وہ الزام سے بری ہو گیا. خلفاء حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نے فیصلہ کیا کہ دستکار مثلاً درزیوں اور دھوبیوں کو عام فائدہ کے لیئے نقصان کی بھرپائی کرنا ہو گی.
جدید قوانین بھی اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ شہری حقوق اور آزادی کو کسی جرم کے شک میں قانونی، سیاسی اور انتظامی افراد معطل کر سکتے ہیں. شدید ذہنی یا دماغی مسائل کا شکار افراد (پاگل) اس لیئے عام لوگوں سے الگ کر کے رکھے جا سکتے ہیں کہ ان سے معاشرے کو کوئی نقصان نہ پہنچے اگرچہ وہ کسی جرم کے ذمےدار نہیں مانے جاتے. دوسری مثالوں میں مشکوک افراد کی حراست، فون ٹیپنگ (phone Tapping)، سڑکیں بند کرنا، ان فٹ بال یا کرکٹ فینز کو میچ سے باہر رکھنا کہ جن کے لیئے شک ہو کہ وہ میچ کے دوران کوئی الٹا کام کریں گے، یہاں تک کہ، شدید رویے والے شائقین کو میچ کے دوران ہی گرفتار کرنا اور دھات (metal) کی تمام اشیاء کو احتیاطاً تمام حساس علاقوں میں نہ لے کر جانے دینا، شامل ہیں. یہ تمام تدابیر، بھائی کی قتل جتنی شدید نہیں ہیں. ایک درست نقطہ نظر کے لحاظ سے، بے شک یہ سب ملتے جلتے افعال ہیں. چناچہ ایک شہزادہ جس نے کوئی بغاوت سلطان کے خلاف نہیں کی، اس کا قتل سزا نہیں بلکہ ایک احتیاطی تدبیر ہے. یہ درست ہے کہ سلاطین یہ سوچتے تھے کہ ان شہزادوں کا قتل ایک قانونا جائز بنیاد رکھتا ہے، بے شک اس کی قیمت میں شریعت کی سیاسی آزادی کی حدود کو زور دے کر استعمال میں لانا پڑے. شام کے ایک مذہبی عالم کرمی (وفات 1625) کا کہنا تھا کہ شہزادوں کا قتل ہی عثمانی خاندان کا جوہر تھا. کرمی نے لوگوں میں بغاوتوں سے بچنے اور ان میں مشکلات سے بچنے کے لیئے شہزادوں کے قتل کی اجازت دی. انہوں نے کہا کہ بے شک ایک اچھی عقل والا شخص اس فیصلے کو جانچتا نہیں، وہ اس میں فائدہ تلاش کرتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ وہ تین لوگوں کے قتل کا فتوی جاری کر سکتا ہے تاکہ اس سے اور تیس لوگ بچ جائیں گے. کرمی کے الفاظ، دو نقصان دینے رستوں میں سے کم نقصان دینے والا رستہ منتخب کرنے کی رہنمائی کرتے ہیں. وہ روایت کرتے ہیں کہ مملوکوں کے زوال کی وجہ سلطنت میں خاندان کا مرد افراد کے قتل نہ ہونا ہے.
تاریخِ سلطنتِ عثمانیہ میں مجموعی طور پر ساٹھ (60) شہزادوں کو پھانسی دی گئی. ان میں سے 16 ایسے تھے جنہوں نے صیحح معنوں میں سلطان کے خلاف بغاوت کی. ان میں سے سات (7) ایسے تھے جو باغیوں کے ساتھ ملے ہوئے تھے. باقیوں کو عوامی فائدے اور متوقع نقصانات سے بچنے کے لیئے موت کے گھاٹ اتارا گیا.
عثمانی شہزادوں کو کمان کی تاند سے گلا دبا کر مارا جاتا تھا، جیسا کہ ترک اور منگول روایات خاندان کے افراد کا خون بہنے سے منع کرتی ہیں.
سلطان احمد اول، 1603ء میں تخت نشین ہوئے، اپنے بھائی مصطفیٰ کو قتل نہیں کیا جو کہ ان کے رحم دل رویے کی نشانی ہے، مصطفیٰ نے اپنی زندگی درویش کی طرح گزاری. شاید سلطان احمد کا رویہ اس عوامی غصے کی وجہ سے ہو جو ان کے والد سلطان محمد سوم کی وفات کے بعد پیدا ہوا، جنہوں نے اپنے 19 بھائیوں کا قتل کروایا. 1617ء میں جب سلطان احمد اول کی وفات ہوئی، ان کے بھائی مصطفیٰ سلطان بنے جبکہ سلطان احمد کے اپنے بیٹے بھی موجود تھے. یہ عثمانی تاریخ میں پہلی دفعہ تھا کہ سلطان کے مرنے کے بعد اس کا بھائی تخت نشین ہوا. اس کے بعد شہزادے کسی صوبے یا علاقے یعنی سنجک (Sanjak) میں تربیت کے لیئے نہیں بھیجے جاتے تھے، بلکہ وہ پایہ تخت میں رہ کر اپنی باری کا انتظار کرتے. شہزادوں کا قتل بھی تقریباً رک گیا. فرانسیسی مصنف "الفونسے ڈی لامارٹائین" (Alphonse de Lamartime) نے ایک جگہ لکھا:
"سلطان احمد اول کے بعد، بھائی کا تخت نشین ہونا چنگیز خان کے قوانین کو ظاہر کرتا ہے. جن کے مطابق سیاسی خود مختاری مشترکہ طور پر شاہی خاندان کی میراث ہے".
اس مشق نے سلطان احمد اول کی عزت کو بڑھا دیا ورنہ کامیاب سلاطین نے ابھی تک سلطنت کو غم دیئے تھے. اگرچہ خاندان میں سب سے بڑے مرد کا تخت نشین ہونا نے بھائی کے قتل کافی حد تک روکا، مگر اس کے مختلف نقصانات بھی ہوئے:
1-》جیسا کہ ابتدائی دور میں تخت باپ سے بیٹے کو ہی منتقل ہوتا تھا، سلطانوں کا اوسط دور حکومت لمبا ہوتا. ابتدائی 10 سلطین کے دور حکومت بہت لمبے ہیں تو سیاسی پائیداری بہت مضبوط ہوتی. کیونکہ جب زیادہ عمر کا فرد جب سلطان بنے گا تو اس کا دور حکومت بہت چھوٹا ہو گا. اس طرح سلطان اپنی اصلی قبلیت حکمران کے طور پر نہیں دکھا سکتا.
2-》شروع میں، شہزادوں کو سنجک میں تربیت کے لیئے گورنر کے طور پر بھیجا جاتا تھا تاکہ شہزادے سیاسی اور انتظامی مہارت حاصل کر سکیں. جب ان کی یہ تربیت ختم ہو گئی تو ان کے پاس محلِ ہمایوں میں تجربہ کار بننے کے لیئے بہت کم وقت ہوتا.
3-》ابتداء میں، سنجک کا گورنر ایک متبادل با اختیار شخص ہوتا. یعنی سلطان کے بعد دوسرا طاقتور شخص. لیکن جب انہوں نے محل میں ہی رہنا شروع کر دیا تو شاہی خاندان کے باہر کے افراد بشمول وزیر، سپاہی، علماء اور یہاں تک کہ عام امیر لوگ شہزادوں سے زیادہ طاقت حاصل کر گئے. 1634ء سے 1636ء تک سلطنت ِعثمانیہ میں رہنے والے ایک انگریز وکیل اور سیاح سر ہینری بلونٹ (Sir Henry Blount) نے ینی چری janniserries فوج کے مشکلات کھڑی کرنے کے بعد کہا: "اس کی وجہ سلطان احمد اول ہیں، جنہوں نے تخت نشین ہو کر اپنے بھائی مصطفیٰ کی جان بخشی کی. اس تجربے نے باغی ینی چریوں کو یہ موقع دیا کہ وہ خود شاہی خون کو بہا سکیں کہ اب دوبارہ عثمانی وہ مرتبہ حاصل نہیں کر سکتے".
عثمانیوں کے 1876ء کے آئین نے تسلیم کیا کہ خاندان کے سب سے بڑے فرد (عمر کے لحاظ سے) کو سلطان بنایا جائے گا. اگرچہ آخری صدی کے عثمانی سلاطین نے کوشش کی کہ دوبارہ سے پرانا قانون اپنایا جائے اور نوجوان شہزادوں کو سلطنت کا حکمران بنایا جائے جیسا کہ یورپین سلطنتوں میں بھی تھا، مگر وہ ناکام ہوئے.
کسی دور کے واقعات کا جگہ، کردار اور اس دور کی خاص شرائط کو جانے بغیر خود سے اندازے لگانا بہت غلط بات ہے. تو بھائی یا بیٹے کے قتل کو عثمانی نظریات میں ظلم، ناانصافی یا خودغرضی کہہ دینا ہمارے ہاں عام بات ہے. بے شک بھائی یا بیٹے کا قتل ہمارے لیئے جذباتی اور ذہنی لہاظ سے سمجھ سے باہر کام ہے، لیکن اگر آپ غور کریں تو یہ ان خاص عوامل میں سے تھا جس نے سلطنت عثمانیہ کو صدیوں تک (623ء سال) تک قائم رکھا.
دراصل ہمیں ان اقدام سے عثمانیوں کے خلاف نہیں ہو جانا چاہیئے. ہمیں دیکھنا یہ چاہیے کہ عثمانی دور مسلمانوں کا سنہرا دور تھا. مسلمان ہر قسم کی ترقی میں یورپ سے آگے تھے. غیر مسلم دنیا ہمارے آگے لرزہ برندام تھی. عثمانیوں نے جو کیا. اپنی عوام اور اسلام کی سر بلندی کے لیئے کیا. تو ہمیں بھائی بیٹے کے قتل والے معاملے سے نکل کر یہ دیکھنا چاہیے کہ اس وقت عثمانیوں کی جنگی اور سیاسی پالیسی کیا تھی؟ ان کا جذبہ جہاد کیسا تھا؟ نہ کہ ان کے اپنے ہی بھائی کو مارنے پر تنقید پر تنقید کی جائے. ہمارے لیئے تو بھائی یا بیٹے کا قتل ویسے ہی ہولناک کام ہے. نہ ہی ہم اس چیز کا حوصلہ ہے اور نہ ہی ہمارے لیئے ایسا کرنا درست ہے. اگر آپ دیکھیں تو ہم سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ ان کا کیسا حوصلہ مند دل ہو گا کہ اپنی اولاد یا بھائی کی موت کو برداشت کرتے تھے. کہا جاتا ہے کہ سلطان سلیمان
مصطفیٰ کی موت کے بعد گھنٹوں تک اپنے خیمے میں روتے رہے اور ان کا دل کافی عرصہ کسی کام میں نہ لگا. عام عوام اور عداتی لحاظ سے عثمانیوں کا انصاف مشہور ہے. ایک سلطنت میں دو بادشاہ ہوں تو وہ تباہ ہو جاتی ہے. جیسے اگر کائنات میں بھی دو خدا ہوتے تو یہ تحس نحس ہو جاتی.
Author - Dr Ekrem Buğra Ekinci,
Translation and lay out: Page Admin
Click here to claim your Sponsored Listing.