04/09/2024
حضور صلی اللہ کی محبت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب فرمایا کہ حمیرا ا میرے لئے بھی کچھ پانی بچا دینا تو سیدہ عائشہ صدیقہ نے کچھ پانی پیا اور کچھ پانی بچا یا ... نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہوسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور انہوں نے پیالہ حاضر خدمت کر دیا۔ حدیث پاک میں آیا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پیالہ ہاتھ میں لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی پینے لگے تو آپ رک گئے اور سیدہ عائشہ صدیقہ سے پوچھا " حمیرا تو نے کہاں سے لب لگا کر پانی پیا تھا؟ کس جگہ سے منہ لگا کر پانی پیا
تھا ؟" انہوں نے نشاندہی کی کہ میں نے یہاں سے پانی پیا تھا.... حدیث پاک میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالے کے رخ کو پھیرا اور اپنے مبارک لب اسی جگہ پر لگا کر پانی نوش فرمایا .... خاوند اپنی بیوی کو ایسی محبت اپنیدے گا تو وہ کیوں کر گھر آباد نہیں کرے گی .....
اب سوچئے کہ رحمۃ للعالمین تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ ہے .... آپ سید الاولین والآخرین ہیں... اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اہلیہ کا بچا ہوا پانی پیا ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچا ہوا پانی وہپیتیں
مگر یہ سب کچھ محبت کی وجہ سے تھا ..
الله اكبر Allah-o-Akbar
Facebook - log in or sign up Create an account or log into Facebook. Connect with friends, family and other people you know. Share photos and videos, send messages and get updates.
11/04/2024