07/07/2025
پرائیویٹ سکولوں اور بورڈ امتحانات میں نمبرات کی دوڑ: ایک خطرناک رجحان
تحریر: نقاب پوش یوسفزئی
پاکستان میں تعلیمی نظام پہلے ہی کئی بحرانوں کا شکار ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ایک نیا اور تشویشناک رجحان ابھر کر سامنے آیا ہے: نمبرات کی دوڑ۔ خاص طور پر خیبرپختونخواہ بورڈ کے تحت دسویں اور گیارہویں جماعت کے نتائج دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح طلبہ بغیر حقیقی قابلیت کے ہزاروں نمبرز حاصل کر رہے ہیں۔ 1051، 1022، یا 1100 میں سے 1100 نمبر لینا حیران کن حد تک عام ہو چکا ہے۔
اصل مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ جب انہی طلبہ کو کسی مقابلے کے امتحان یا انٹری ٹیسٹ کا سامنا ہوتا ہے تو وہ بری طرح ناکام ہوتے ہیں۔ وجہ؟ یہ نمبرات دراصل ان کے تعلیمی معیار کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ ایک منظم دھوکہ دہی اور 'مارکنگ سینٹرز' کی بدعنوانی کا نتیجہ ہیں۔
یہ رجحان زیادہ تر پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پایا جاتا ہے جو طلبہ اور والدین کو سبز باغ دکھاتے ہیں۔ پرائیویٹ بورڈز اور پرائیویٹ سکولز کا گٹھ جوڑ ایک کاروباری ماڈل کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں اصل تعلیم کی بجائے صرف نمبرات کا لین دین کیا جاتا ہے۔ بورڈ میں بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو ان اداروں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔
زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس دھوکہ دہی میں بعض اساتذہ بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ وہ نوجوان جو امتحان سے پہلے رشوت دے کر پرچے خریدتے ہیں، بورڈ کے امتحان میں نقل کرتے ہیں، اور پھر فخر سے 1100 میں سے 1100 نمبر لے کر کامیابی کا جشن مناتے ہیں، حقیقت میں ملک کے نظام تعلیم کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔
مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ نوجوان معاشرتی، اخلاقی اور مذہبی اقدار سے بھی دور ہو چکے ہیں۔ وہ لوگ جو امتحانات میں نقل کرتے ہیں، رشوت دیتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، وہی لوگ نماز پڑھتے ہیں اور حلال و حرام کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار معاشرے میں تباہ کن نتائج پیدا کر رہا ہے۔
میرے کچھ دوستوں نے ایسے "کامیاب طلبہ" کی تحقیق کی ہے جنہوں نے ہزاروں نمبر حاصل کیے لیکن جب ان سے حقیقی علمی سوالات کیے گئے تو وہ جواب نہ دے سکے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارا پورا سسٹم صرف دکھاوے اور نمبروں کی بنیاد پر بنایا جا رہا ہے، جبکہ اصل علم اور قابلیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔
حل کی تجاویز:
1. مارکنگ سسٹم میں شفافیت: مارکنگ کا نظام خودکار اور غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ امتحانی پرچوں کی جانچ پڑتال ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونی چاہیے تاکہ انسانی مداخلت کم ہو۔
2. سخت سزا برائے نقل و دھوکہ دہی: جو ادارے، طلبہ یا اساتذہ نقل میں ملوث ہوں ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
3. انٹری ٹیسٹ کا معیار بلند کیا جائے: نمبرات کی دوڑ کو ختم کرنے کے لیے یونیورسٹی اور دیگر اعلیٰ اداروں میں داخلے صرف انٹری ٹیسٹ اور انٹرویو کی بنیاد پر کیے جائیں۔
4. اخلاقی تعلیم پر زور: تعلیمی اداروں میں صرف نصاب نہیں بلکہ اخلاقیات، دیانتداری اور انسانیت کے اصول بھی پڑھائے جائیں۔
نتیجہ:
اگر ہم نے آج اس نمبرات کی مصنوعی دوڑ کو نہ روکا تو ہمارا تعلیمی نظام محض ایک کاروبار بن کر رہ جائے گا، جہاں اصل تعلیم، قابلیت اور کردار کی کوئی وقعت نہیں ہو گی۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف نمبرات کی بھوک میں نہیں، بلکہ علم، شعور اور اخلاقیات کی روشنی میں پروان چڑھانا ہو گا۔