CSS & PMS Information

CSS & PMS Information

Share

We offers resources for both BS Political Science courses and competitive exam preparation/CSS & PMS.

03/02/2026

ایپسٹن فائلز Epstein Files
کے بارے میں ایک بات یاد رکھیے کہ ایپسٹن فائلز 35 لاکھ سے ذیادہ صفحات 2 لاکھ سے زیاد وڈیوز، آڈیوز اور تصاویر پرمشتمل دستاویز ہیں جو امریکہ کے محکمہ انصاف Department of Justice اور FBIکے پاس موجود تھے شائع ہوئے ہیں اس قدر ضخیم اور پھیلے ہوئے مواد کا مکمل مطالعہ نہ صرف یہ کہ عام قاری کے لئے دشوار ہے بلکہ کسی بھی مشینی معاونت کے بغیر عملاً ناممکن بھی ہے لہٰذا اس معاملے میں جذباتی ہیجان اور ہر چیز جان لینے کی نفسیاتی کیفیت سے خود کو محفوظ رکھیے اور پوری فائل کو از ابتدا تا انتہا پڑھنے کی لاحاصل اور غیر ضروری تگ و دو ترک کر دیجئے اس کے علاوہ دنیا کی تاریخِ پر گہری اور سنجیدہ نظر رکھنے والوں کے لئے ان فائلز میں سامنے آنے والے انکشافات کوئی چونکا دینے والی یا غیر متوقع بات نہیں ہے تاریخ گواہ ہے کہ ہزاروں سال سے جہاں بھی طاقت ہو ایسا ہی ہوتا رہا ہے طاقت تمام تر اخلاقی، قانونی، مذہبی بندھنوں سے آزاد ہوتی ہزاروں سالوں کی تاریخ کا یہ ہی سچ ہے یہودی دنیا کو چلا رہے ہیں وہی میڈیا کو کنٹرول کر رہے ہیں وہی بیانیے پر غالب ہیں یہ سلسلہ ہزاروں سالوں سے جاری ہے اور اسی طرح چلتا رہے گا اس لئے یہ کچھ دن کا شور غوغا ہے اس کے بعد لوگ سب بھول جائیں گے اور پھر کچھ عرصے کے بعد کوئی اور پانامہ لیکس (Panama Papers) آف شور لیکس (Offshore Leaks)، لکس لیکس (LuxLeaks)، سوئس لیکس (Swiss Leaks) اور پیراڈائز پیپرز (Paradise Papers) وکی لیکس (WikiLeaks) یا ایپسٹن فائلز (Epstein Files) آجائے گی یہ تمام دستاویزات دنیا بھر کے طاقتور افراد کو بے نقاب کرتی رہیں گی اس لیے اگر اس موضوع سے متعلق کوئی مضمون، ویڈیو یا تصویر آپ کے سامنے آ جائے تو حتی المقدور بغیر پڑھے اور بغیر دیکھے آگے بڑھ جانے کی کوشش کیجیے کیونکہ اس طرح کے مواد سے نہ علم میں کوئی اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی انسانی شعور کو بالیدگی ملتی ہے، البتہ ایمانی کیفیت اور باطنی سکون کو نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ضرور ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ نقصان فوری محسوس نہیں ہوتا مگر گہرا اور دیرپا ہوتا ہے اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ توجہ طلب پہلو اپنی ذات، اپنے گھروں اور بالخصوص نئی نسل کی فکری و ایمانی حفاظت ہے نوجوان اذہان اور سادہ طبیعتوں کے سامنے ان موضوعات کو بار بار چھیڑنا یا بلا ضرورت زیرِ بحث لانا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے لہٰذا ہمیں ردِعمل کی نفسیات سے نکل کر ردِ فتنہ کی حکمت عملی اپنانی چاہیے اور وہ بھی اس انداز میں کہ جس کی بنیاد علم، بصیرت، صبر، دعوت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پر ہو قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ "اے ایمان والو! تم پر اپنی جان کی فکر لازم ہے، تمہارا کچھ نہیں بگاڑتا جو کوئی گمراہ ہو جب کہ تم ہدایت یافتہ ہو، تم سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تمہیں بتلا دے گا جو کچھ تم کرتے تھے" سورۃ المائدۃ (آیت 105)
اس آیت کے اہم نکات یہ ہیں کہ مسلمان کو سب سے پہلے اپنی اصلاح اور اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے کیونکہ اگر آپ صحیح راستے پر چل رہے ہیں، تو دوسروں کی گمراہی آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتی اور آخری بازگشت یہ ہے کہ تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ہدایت پر قائم رہنے والوں کو دوسروں کی گمراہی یا مخالفت سے ڈرنا نہیں چاہیے، بشرطیکہ وہ خود اللہ کے احکامات پر عمل کر رہے ہوں۔

15/01/2026

امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرنے والا ہے۔ پاکستان میں آج بھی ایسے لبرل موجود ہیں جنہیں لگتا ہے کہ واشنگٹن یہ سب کچھ انسانی حقوق کے لئے کررہا یے۔ ایسے تمام لوگ ذہنی مریض ہیں۔

23/05/2025
23/05/2025

Why and for how much Russia sold Alaska to
US?

23/05/2025

‏سی ایس ایس کی تیاری میں 18 گھنٹے کوئی نہیں پڑھتا۔ اگر آپ مستقل مزاجی کے ساتھ روزآنہ 6/8 یا زیادہ سے زیادہ 10 گھنٹے بھی پڑھتے ہیں تو آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔

مستقل مزاجی ضروری ہے!!

23/05/2025



Must watch video

13/05/2025

بنگال کی تحریک آزادی میں "کمیونسٹ" چین کا کردار

سوال: بنگال کی قومی تحریک میں چین کا کیا کردار تھا؟

جواب: چین نے 1971ء میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کی قومی تحریک کے دوران ایک اہم لیکن پیچیدہ کردار ادا کیا۔ یہاں چین کے مؤقف اور عمل دخل کا ایک جامع جائزہ پیش ہے:

پاکستان کو سفارتی حمایت دینا: چین 1971ء کے بحران کے دوران پاکستان کا قریبی اتحادی تھا اور اس نے بنگلہ دیش کی تحریک آزادی کے خلاف متحدہ پاکستان (مغربی و مشرقی) کی حمایت کی۔ چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی آزادی کی قراردادوں کو روکنے کی کوشش کی۔ یہ عمل پاکستان اور امریکہ (نکسن اور کسنجر کی حکومت) کے موقف سے ہم آہنگ تھا۔

بھارتی مداخلت کی مخالفت: چین نے بھارت کی مدد کو مشرقی پاکستان کے معاملات میں دخل اندازی سمجھا اور اسے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔ جب دسمبر 1971ء میں بھارت نے فوجی مداخلت کی (جس کے نتیجے میں پاکستان کی شکست اور بنگلہ دیش کی آزادی ہوئی)، تو چین نے بھارت کی مذمت کی اور پاکستان کی سفارتی حمایت جاری رکھی۔

پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد: چین نے جنگ کے دوران پاکستان کو فوجی سازوسامان فراہم کیا، لیکن براہ راست فوجی مداخلت نہیں کی۔ جنگ کے بعد، چین نے پاکستان کی اقتصادی اور سیاسی امداد جاری رکھی اور 1975ء تک بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کیا (یہ تب تسلیم ہوا جب شیخ مجیب الرحمٰن کی حکومت ختم ہوئی اور بنگلہ دیش کی نئی (فوجی) قیادت پاکستان کے قریب ہو گئی)۔
چین کے جیوپولیٹیکل مقاصد: چین کی پاکستان کو دی جانے والی حمایت کی ایک بڑی وجہ بھارت سے دشمنی تھی۔ چین اور بھارت 1962ء میں جنگ لڑ چکے تھے۔ چین سوویت یونین کے اثر کو کم کرنا چاہتا تھا، کیونکہ سوویت یونین بھارت اور بنگلہ دیش کی حمایت کر رہا تھا۔

بنگلہ دیش کو بعد میں تسلیم کرنا: چین نے بالآخر 1975ء میں بنگلہ دیش کو تسلیم کیا، جب شیخ مجیب کی حکومت ختم ہوئی اور اس کی نئی (فوجی)حکومت نے بھارت سے دوری اختیار کی۔ وقت کے ساتھ، چین اور بنگلہ دیش کے تعلقات بہتر ہوئے، اور آج چین بنگلہ دیش کا ایک اہم اقتصادی اور تعمیراتی شراکت دار ہے۔

سوال: شیخ مجیب الرحمن کے بعد بنگلہ دیش کی جو نئی حکومت بنی اس کے ساتھ چین کے تعلقات کیسے تھے؟ (یاد رہے کہ شیخ مجیب الرحمن کو فوجی بغاوت میں قتل کردیا گیا تھا اور اس کے بعد بنگلہ دیش میں فوجی حکومت قائم ہوئی تھی)۔

جواب: شیخ مجیب الرحمن کے بعد 1975ء میں بنگلہ دیش میں فوجی بغاوت ہوئی، جس کے بعد ایک نئی حکومت قائم ہوئی۔ اس تبدیلی کے بعد چین اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی آئی، کیونکہ نئی قیادت نے پاکستان اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی۔

چین نے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا (1975ء): شیخ مجیب الرحمن کی حکومت کے خاتمے (15 اگست 1975ء) کے بعد، فوجی حکومت (خونداکر مشتاق احمد، اور پھر جنرل ضیاء الرحمن) نے اقتدار سنبھالا۔ چین نے31 اگست 1975ء کو بنگلہ دیش کو تسلیم کیا، کیونکہ نئی حکومت بھارت مخالف اور پاکستان دوست تھی۔

چین-بنگلہ دیش تعلقات میں بہتری: نئی حکومت نے غیر جانبدار (؟) خارجہ پالیسی اپنائی اور چین کے ساتھ تعلقات بہتر کیے۔ جنرل ضیاء الرحمن (1977-1981) نے چین کا دورہ کیا اور دفاعی و اقتصادی تعاون پر بات چیت کی۔ چین نے بنگلہ دیش کو فوجی تربیت، ہتھیاروں کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے منصوبوں میں مدد دینا شروع کی۔

اقتصادی و فوجی تعاون: چین نے بنگلہ دیش کو دفاعی کاروباری معاہدوں کے زریعے ٹینک، بحری جہاز اور ہلکے اسلحہ کی فراہمی شروع کی۔ 1976ء میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے ہوئے۔ چین نے بنگلہ دیش میں پل، سڑکیں اور بجلی گھر بنانے میں مدد کی۔

بھارت کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش: چونکہ مجیب دور میں بنگلہ دیش بھارت کا قریبی اتحادی تھا، نئی فوجی حکومت نے چین اور امریکہ کے ساتھ تعلقات بڑھا کر بھارت کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کی۔

بعد کے سالوں میں تعلقات: 1980 اور 90 کی دہائیوں میں چین-بنگلہ دیش تعلقات مستحکم رہے۔ آج چین بنگلہ دیش کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر اور انفراسٹرکچر انویسٹر ہے (جیسے پدما برج، پاور پلانٹس)۔

سوال: چین کا بنگال کی ماؤاسٹ تحریک کی جانب کیا رویہ تھا؟

چین کا بنگال (مشرقی پاکستان) کے ماؤاسٹوں کے تئیں رویہ انتہائی متناقض اور سیاسی مصلحتوں پر مبنی تھا، جو چین کے قومی مفادات اور ماؤزے تنگ کے نظریات کے درمیان کشمکش کا عکاس تھا۔ ذیل میں اس کی تفصیل پیش ہے:

نظریاتی حمایت سے عملی مخالفت تک: 1960 کی دہائی تک چین نے دنیا بھر کی ماؤاسٹ تحریکوں (جیسے کہ بھارت کی نکسلی تحریک) کو "عوامی جنگ" کے طور پر سپورٹ کیا، لیکن مشرقی پاکستان کے معاملے میں اس پالیسی کو ترک کر دیا۔ 1971 میں چین نے بنگالی ماؤاسٹوں کے بجائے پاکستان کی مرکزی حکومت کی حمایت کی، حالانکہ بنگالی ماؤاسٹ پاکستانی جبر کے خلاف عوامی جدوجہد کر رہے تھے۔

چین کے پاکستان نواز موقف کی وجوہات: جیوپولیٹیکل مفاد: چین کو پاکستان کی بطور بھارت مخالف اتحادی ضرورت تھی (خاص طور پر 1962 کی چین-بھارت جنگ کے بعد)۔

سرد جنگ کا تناظر: چین نے بنگلہ دیش کی تحریک کو "بھارت-سوویت سازش" قرار دے کر پاکستان کی وحدت کی حمایت کی۔

تائیوان اور کشمیر کا مسئلہ: چین نے پاکستان کی جانب سے تائیوان اور کشمیر پر اپنے موقف کی حمایت کے بدلے مشرقی پاکستان کے معاملے میں خاموشی اختیار کی۔

بنگالی ماؤاسٹوں پر چین کے رویے کے اثرات: ماؤاسٹوں میں تقسیم: چین نواز دھڑے (جیسے سرکار نیل گروپ) نے پاکستان کی وحدت کی حمایت کی۔ مقامی ماؤاسٹوں نے چین کے موقف کو "نظریاتی غداری" قرار دیا اور مکتی باہنی کے ساتھ مل کر لڑے۔ بین الاقوامی ماؤ تحریک کو دھچکا: دنیا بھر کے ماؤاسٹ چین کے "دوہرے معیار" پر تنقید کرنے لگے۔

جنگ کے بعد چین کا رویہ: 1971 سے 1975 کے دوران چین نے بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کیا اور پاکستان کی شکست کو "سامراجی سازش" قرار دیا۔ 1975 کے بعد جب بنگلہ دیش میں مجیب مخالف فوجی حکومت آئی، چین نے تعلقات معمول پر لانے شروع کیے۔ موجودہ دورمیں چین اب بنگلہ دیش کا سب سے بڑا تجارتی اور فوجی شراکت دار ہے، مگر 1971 کے ماؤاسٹوں کے ورثے کو مکمل نظر انداز کرتا ہے۔

تاریخی تناظر میں چین کی پالیسی: نظریہ بمقابلہ عمل: چین نے ماؤ ازم کے عالمی اصولوں (مظلوم عوام کی حمایت) کو قومی مفادات کے آگے قربان کر دیا۔ (یاد رکھیے کہ خود ماؤزے تنگ بھی اس انحراف میں شامل تھے)۔

مشرقی پاکستان کا المیہ: بنگالی ماؤاسٹ نظریاتی طور پر چین کے قریب تھے، مگر چین نے انہیں جیوپولیٹکس کی بھینٹ چڑھا دیا۔ چین کا بنگالی ماؤاسٹوں کے تئیں رویہ مفاد پرستانہ اور منافقانہ تھا۔ نظریاتی طور پر وہ عوامی جنگوں کا حامی تھا، لیکن عملی طور پر اس نے پاکستانی آمریت کی پشت پناہی کی۔ چین نے بین الاقوامی ماؤاسٹ تحریک کو مشرقی پاکستان میں دھوکہ دیا۔ بعد ازاں چین نے بنگلہ دیش کے ساتھ معاشی تعلقات کو نظریاتی تاریخ سے بالاتر رکھا۔

1971 کی جنگ میں چین کا "غیر جانبداری" کا دعویٰ: 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کے دوران چین نے مشرقی پاکستان کے ماؤاسٹ گروہوں کو کوئی حمایت نہیں دی، بلکہ مغربی پاکستان کی فوجی حکومت کا ساتھ دیا۔ بنگلہ دیش کمیونسٹ پارٹی (ماؤسٹ) نے چین سے مدد کی اپیل کی، لیکن چین نے 1975 تک بنگلہ دیش کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ چین نے بھارت میں نکسلائیٹ (ماؤسٹ بغاوت) کی حمایت کی، لیکن بنگلہ دیش میں نہیں، کیونکہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔

جنگ کے بعد ماؤاسٹوں کا زوال: دسمبر 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد، ماؤاسٹ گروہوں کو شیخ مجیب کی حکومت نے دبانا شروع کیا، کیونکہ وہ "انقلابی سوشلزم" کے خطرے کے طور پر دیکھے جاتے تھے۔ 1975 میں مجیب کے قتل کے بعد، فوجی حکومت (جنرل ضیاء الرحمن) نے تمام بائیں بازو کی تحریکوں کو کچل دیا، جس کے بعد ماؤاسٹ تحریک معدوم ہو گئی۔ (یاد رکھیے کہ بائیں بازو اور ماؤاسٹوں کو کچلنے والے اسی جنرل ضیاء الرحمن کی رجعتی فوجی آمریت کو چین نے خوش آمدید کہا، اس کے ساتھ دو طرفہ تعلقات قائم کیے اوراس کے اقتدار پرقبضہ کرنے کے بعد ہی بنگلہ دیش کو تسلیم کیا۔)

سوال: بنگال کی تحریک آزادی کے بارے میں چین کے رویے کو مولانا بھاشانی کس طرح دیکھتے تھے؟

جواب: مولانا بھاشانی اور چین کا ابتدائی تعلق: مولانا بھاشانی ایک سوشلسٹ رہنما تھے جنہوں نے خود کو "مزدور اور کسانوں" کے ترجمان کے طور پر پیش کیا۔ وہ کمیونزم کے حامی ضرور تھے، مگر سوویت یونین کے بجائے چین سے زیادہ متاثر تھے۔ وہ چین کو "سامراج دشمن اور انقلابی قوت" سمجھتے تھے۔ انہوں نے کئی بار چین کا دورہ بھی کیا اور ماؤ زے تنگ سے ملاقات کی۔ ان کے ابتدائی بیانات میں چین کو برصغیر کی مظلوم اقوام کا فطری اتحادی قرار دیا گیا تھا۔

1971ء کی جنگ اور مولانا بھاشانی کا ردعمل: جب مشرقی پاکستان (بنگال) میں سیاسی و فوجی بحران شدت اختیار کر گیا، اور آخرکار 1971 میں خانہ جنگی اور آزادی کی تحریک شروع ہوئی، تو چین نے کھل کر مغربی پاکستان (یعنی فوجی حکومت) کی حمایت کی۔ اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کی مخالفت کی۔ بھارتی مداخلت کے خلاف بیانات دیے، مگر پاکستانی فوج کے مظالم پر خاموش رہا۔

یہ صورتحال مولانا بھاشانی کے لیے نظریاتی تضاد بن گئی۔ انہوں نے ماؤ زے تنگ کو براہ راست ٹیلی گرام بھیجا جس میں احتجاج کرتے ہوئے کہا: "آپ اگر بنگالی عوام کے قتل عام پر خاموش رہیں گے، تو تاریخ آپ کو مظلوموں کا دشمن لکھے گی۔" ان کا موقف تھا کہ انقلابی اصولوں کی بنا پر چین کو فوجی جبر کی حمایت کرنے کے بجائے بنگالی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرنا چاہیے۔ انہوں نے ٹییلیگرام میں ماؤزے تنگ سے کہا: "سوشلزم کا نظریہ ظلم کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔ میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ بنگلہ دیش کے سات کروڑ پچاس لاکھ مظلوم عوام کو جنرل یحییٰ خان کی فوجی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے مظالم سے بچائیں۔ یحییٰ کی فوجی حکومت آپ کی حکومت کے دیئے گئے جدید جنگی ہتھیاروں کی مدد سے، بنگلہ دیش کے بے گناہ، غیر مسلح، بے بس کسانوں، مزدوروں، طلباء، دانشوروں، خواتین اور بچوں کو بے رحمی سے قتل کر رہی ہے۔ اگر آپ کی حکومت ان مظالم پر احتجاج نہیں کرتی تو دنیا یہ سمجھے گی کہ آپ مظلوموں کے دوست نہیں ہیں۔"

مولانا بھاشانی نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں چین کی مغربی پاکستان کی حمایت پر کھل کر تنقید کی تھی، لیکن بدقسمتی سے ان کے بیشتر بیانات اُردو یا بنگالی میں دستیاب ہیں اور انگریزی/بین الاقوامی ذرائع میں کم ہی ترجمہ ہوئے ہیں۔ تاہم، چند اہم حوالے اور واقعات درج ذیل ہیں جن سے ان کے موقف کا پتہ چلتا ہے:

1965 کی پاک-بھارت جنگ کے بعد بھاشانی نے کہا کہ "چین کی حمایت صرف مغربی پاکستان کی فوجی حکومت کو فائدہ پہنچا رہی ہے، مشرقی پاکستان کے عوام کو نہیں۔" انہوں نے الزام لگایا کہ چین "مشرقی پاکستان کے سیاسی اور معاشی استحصال کو نظرانداز کر رہا ہے۔" یہ بیانات ان کی تقریروں میں ملتے ہیں، خاص طور پر کسانوں اور مزدوروں کے اجتماعات میں۔

جب بھاشانی نے 1969 میں چین کا دورہ کیا، تو وہ چینی قیادت کو مشرقی پاکستان کے مسائل سمجھانے میں ناکام رہے۔ واپسی پر انہوں نے کہا: "چین نے ہماری بات نہیں سُنی۔ وہ صرف مغربی پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترجیح دے رہے ہیں۔"(ماخذ: بنگالی اخبارات، "ڈیلی اتفاق" اور "سنگرام" کے انٹرویوز، 1969-70)

مارچ 1971 میں، جب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع کیا تو بھاشانی نے چین پر کھل کر تنقید کی۔ انہوں نے کہا "چین ہمیشہ دنیا بھر کے مظلوم عوام کی آواز بننے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن آج وہ ڈھاکہ کے شہیدوں کے خون کو نظرانداز کر رہا ہے۔"(ماخذ: "مولانا بھاشانی: زندگی اور جدوجہد"، از عبدالغفار چودھری)۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ "جب چین خود کو انقلابیوں کا رہنما کہتا ہے، تو اسے مشرقی پاکستان کے کسانوں اور مزدوروں کی تحریک کی حمایت کرنی چاہیے تھی۔"

سن 1972 کے بعد جب چین نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے میں تاخیر کی، تو بھاشانی نے کہا کہ "چین کی پالیسی دوغلے پن پر مبنی ہے۔ وہ عوامی جنگوں کی حمایت کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن جب بنگالی عوام نے اپنی آزادی کے لیے لڑائی لڑی، تو چین نے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا۔"

بھاشانی نے بنگالی اخبارات میں "چین کی دوغلی پالیسی" پر کئی مضامین لکھے، جو اب تاریخی دستاویزات کا حصہ ہیں۔ مثال کے طور پر"چین اور مشرقی پاکستان کا المیہ"، 1970، اخبار"نوہیلال" اور "ماؤ ازم اور ہماری تحریک (1971)"، "سنگرام"۔

برسبیل تذکرہ، مولانا بھاشانی نے دنیا کے کئی ملکوں کے سربراہوں اور اقوام متحدہ کو بھی خطوط لکھے تھے اور ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بنگال کی تحریک آزادی کی حمایت کریں، بنگال میں فوج کشی کی مذمت کریں اوراسے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ مولانا بھاشانی نے ایک خط سوویت یونین بھی بھیجا تھا جس میں انہوں نے لکھا: "بنگلہ دیش کے 75 ملین عوام کی جانب سے میں سپریم سوویت کے بیان پر شکریہ ادا کرتا ہوں جو صدر پوڈگورنی نے جاری کیا۔ تاہم، میں توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ بنگلہ دیش کے نہتے اور بےبس عوام کا قتلِ عام روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدام کی ضرورت ہے، جو جنرل یحییٰ خان کی ظالم فوجی آمریت کے ہاتھوں ہو رہا ہے۔ یہ قتلِ عام مغربی پاکستانی فوج امریکی اور چینی اسلحے کی مدد سے کر رہی ہے۔ آپ کی قوم اور قیادت نے ہمیشہ مظلوم اقوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے اور آزادی کی تحاریک کی اخلاقی، سیاسی اور مادی مدد کی ہے۔ میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ یہی کردار بنگلہ دیش کے لیے بھی ادا کریں، اور عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کی حکومت کو فوری تسلیم کر کے اس کی ہر ممکن مدد کریں۔"

حالانکہ وہ امریکی پالیسی کے عمر بھر مخالف رہے، تاہم انہوں نے امریکی صدر نکسن کو مخاطب کرتے ہوئے، اپنے ٹیلیگرام میں لکھا: "جنرل یحییٰ خان کی آمریت کے حکم پر اور آپ اور چین کی حکومت کی طرف سے دیے گئے جدید ہتھیاروں کی مدد سے مغربی پاکستان کے وحشی فوجی، بنگلہ دیش کے لاکھوں معصوم، نہتے اور بےبس لوگوں کو بےدریغ قتل کر رہے ہیں — خواہ وہ کسی مذہب، نسل یا فرقے سے ہوں، یہاں تک کہ خواتین، بچے اور نومولود بھی نہیں بچے۔ میں آپ سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ آپ اسلحے کی نئی کھیپ کی فراہمی بند کریں، اور پہلے سے مہیا کیے گئے ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ یحییٰ خان ان ہتھیاروں سے مزید قتل عام نہ کر سکے۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ بنگلہ دیش کی حکومت کو فوری طور پر تسلیم کریں اور ہر ممکن مدد فراہم کریں۔"

سوال: مولانا بھاشانی کی تنقید پر چین کی حکومت کا ردعمل کیا تھا؟

جواب: مولانا بھاشانی کی تنقید پر چین کی حکومت کا کوئی براہ راست یا سرکاری ردعمل دستاویزی طور پر ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ چین نے اس دور میں بنگالی عوامی تحریک اور بھاشانی کے موقف کو سرے سے نظرانداز کیا۔ تاہم، چین کی پالیسیوں اور اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے بھاشانی کی تنقید کو سنجیدگی سے نہیں لیا، بلکہ اپنے جیواسٹریٹجک مفادات کو ترجیح دی۔ ذیل میں چین کے ردعمل کے چند اہم پہلو پیش ہیں:

بھاشانی کے چینی دورے (1969) کو نظرانداز کرنا: جب بھاشانی نے 1969 میں چین کا دورہ کیا اور مشرقی پاکستان کے مسائل چینی قیادت کے سامنے رکھے، تو چین نے ان کی بات کو دفعۃً مسترد کر دیا۔ چینی رہنماؤں (ماؤ زے تنگ اور چو این لائی) نے بھاشانی کو کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی، بلکہ پاکستان کے ساتھ اتحاد کو ہی اہمیت دی۔ چین کی طرف سے کوئی خاص پریس کانفرنس نہیں کی گئی یا بیان جاری نہیں کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین نے ان کی تنقید کو غیر اہم سمجھا۔

1971 کی جنگ میں چین کا یکطرفہ موقف: 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کے دوران چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی حمایت کی اور بنگلہ دیش کی جدوجہد کو "پاکستان کا اندرونی معاملہ" قرار دیا۔ چین نے بنگالی عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے مشرقی پاکستان میں فوجی مظالم پر خاموشی اختیار کی (حالانکہ چین دوسرے ممالک میں "انسانی حقوق" کا دعویدار تھا)۔ اس سے واضح ہوا کہ چین بھاشانی جیسے رہنماؤں کی آواز کو بالکل اہمیت نہیں دے رہا تھا۔

بنگلہ دیش کے قیام کے بعد چین کی پالیسی: 1972 میں بنگلہ دیش وجود میں آیا، لیکن چین نے 1975 تک (یعنی شیخ مجیب الرحمن کی حکومت کے خاتمے تک) اسے تسلیم نہیں کیا۔ چین نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے میں تاخیر کی، جس سے ظاہر ہوا کہ وہ پاکستان کے دباؤ میں تھا۔ بھاشانی کی تنقید کے باوجود، چین نے کبھی بھی سرکاری طور پر معذرت یا وضاحت پیش نہیں کی۔

تاریخی دستاویزات میں چین کا رویہ: چینی دستاویزات جیسے ماؤزے تنگ کے دور کے آرکائیوزمیں بھاشانی کا کوئی خاص ذکر نہیں ملتا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین نے انہیں غیر اہم سمجھا۔ چین نے اپنی تاریخ میں 1971 کے واقعات کو "پاکستان کے اندرونی مسائل" کے طور پر پیش کیا، نہ کہ "عوامی آزادی کی تحریک" کے طور پر۔

سوال: مشرقی پاکستان کے حوالے سے چو این لائی کا مؤقف کیا تھا؟

جواب: چو این لائی نے 1960 اور 1970 کی دہائی میں پاکستان کے حوالے سے کئی اہم بیانات دیے، لیکن مولانا بھاشانی کی تنقید یا مشرقی پاکستان کے حق خودارادیت کے بارے میں ان کے کوئی مخصوص اقتباسات دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم، چو این لائی کے پاکستان اور بنگلہ دیش کے حوالے سے کلیدی بیانات کا خلاصہ درج ذیل ہے، جو چین کے موقف کو واضح کرتے ہیں:

1965 کی پاک-بھارت جنگ کے دوران چو این لائی کا موقف: چو این لائی نے 4 ستمبر 1965 کو ایک بیان میں کہا: "چین پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں مکمل طور پر اس کے ساتھ کھڑا ہے۔" (ماخذ: پیپلز ڈیلی، بیجنگ، 5 ستمبر 1965)۔ یہ بیان مغربی پاکستان کی فوجی حکومت کی حمایت میں تھا، جبکہ مشرقی پاکستان کے مسائل پر خاموشی اختیار کی گئی۔

1971 کی جنگ اور بنگلہ دیش کے قیام پر چین کا موقف: اپریل 1971 میں چو این لائی نے پاکستانی صدر یحییٰ خان کو ایک خط لکھا، جس میں کہا: "چین پاکستان کی وحدت اور سلامتی کی حمایت کرتا ہے... ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستانی قیادت عوام کی بہتری کے لیے دانشمندانہ اقدامات کرے گی۔" (ماخذ: چین کی سفارتی دستاویزات، 1971)۔ اس خط میں مشرقی پاکستان میں عوامی مظالم یا بھاشانی کی تنقید کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

دسمبر 1971 میں جب بنگلہ دیش وجود میں آیا، تو چو این لائی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا: "پاکستان کے اندرونی معاملات میں غیر ملکی مداخلت نہیں ہونی چاہیے"۔(ماخذ: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ریکارڈ، 1971)۔ یہ بیان چین کی مغربی پاکستان کی حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔

بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے میں تاخیر: چو این لائی نے 1972 سے 1974 تک بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کیا اور کہا: "چین پاکستان کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو ترجیح دیتا ہے۔" (ماخذ: چینی وزارت خارجہ کے آرکائیوز)۔ اس وقت تک بھاشانی کی تنقید کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

چو این لائی کا 1975 میں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنا: 31 اگست 1975 کو چین نے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا، لیکن چو این لائی نے اس موقع پر کوئی عوامی بیان نہیں دیا۔ بعد میں چینی اخبار "پیپلز ڈیلی" نے لکھا: "چین بنگلہ دیش کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے، لیکن پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات سب سے اہم ہیں۔"

چو این لائی نے 1966 اور 1970 میں پاکستان کا دورہ کیا، لیکن انہوں نے مشرقی پاکستان کے انقلابیوں سے ملاقات نہیں کی۔ ان کے بیانات میں صرف پاکستان کی "علاقائی سالمیت" (یعنی مغربی پاکستان کی حکومت) کی حمایت شامل تھی، نہ کہ کسی انقلابی تحریک کی۔ مثال کے طور پر، 1970 کے دورہ پاکستان میں انہوں نے کہا: "چین پاکستان کی خودمختاری اور عوامی ترقی کی حمایت کرتا ہے۔" (ماخذ: ڈان اخبار، کراچی، 1970)

سوال: یحی خان کے چین کے دورے کے موقع پر چینی حکومت کا رویہ کیسا تھا؟

جواب: یحیٰ خان کے دورے کے موقع پر چینی حکومت کا رویہ انتہائی دوستانہ اور گرمجوشی بھرا تھا۔ یحیٰ خان، جو اس وقت پاکستان کے صدر تھے، انہوں نے نومبر 1970 میں چین کا دورہ کیا، جس کے دوران چینی قیادت نے پاکستان کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی۔

چینی حکومت نے یحیٰ خان کا شاندار استقبال کیا، اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، دفاعی اور سفارتی تعاون پر بات چیت ہوئی۔ چین نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا، خاص طور پر کشمیر کے معاملے پر۔ اس دورے نے دونوں ممالک کے درمیان بھروسے اور تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط بنایا۔

چینی رہنما ماؤ زے تنگ اور چو این لائی نے یحیٰ خان سے ملاقاتیں کیں، اور دونوں طرف سے مشترکہ مفادات پر زور دیا گیا۔ چین نے پاکستان کو اقتصادی اور فنی امداد فراہم کرنے کے علاوہ دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی رضامندی ظاہر کی۔

اس دورے کو چین-پاکستان دوستی کی تاریخ میں ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے، جس نے بعد میں آنے والے تعاون کی بنیاد رکھی، خاص طور پر قراقرم شاہراہ جیسے منصوبوں کی اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی راہ ہموار کی۔

سوال: امریکہ اور چین کے درمیان رابطہ کاری کے لیے یحیی خان نے کیا خدمات انجام دیں؟

جواب: یحییٰ خان نے1970 اور 1971 کے دوران پاکستان کے صدر کی حیثیت سے امریکہ اور چین کے درمیان رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر چین-امریکہ تعلقات کو بحال کرنے میں۔ اس وقت چین اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کی وجہ سے کوئی باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں تھے، اور پاکستان نے ایک ثالث کے طور پر کام کیا۔ 1971 میں، امریکی صدر رچرڈ نکسن اور ان کے قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتے تھے، لیکن براہ راست رابطہ مشکل تھا۔ پاکستان نے چین اور امریکہ کے درمیان خفیہ پیغامات کی ترسیل میں مدد کی۔ جولائی 1971 میں، ہنری کسنجر نے اسلام آباد کا دورہ کیا اور بیماری کا بہانہ کرکے پاکستانی جہاز سے بیجنگ کا خفیہ سفر کیا۔ یحییٰ خان کی حکومت نے اس سفر کو خفیہ رکھنے اور کسنجر کو چین پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کسنجر کی اس خفیہ ملاقات کے بعد، 1972 میں صدر رچرڈ نکسن نے چین کا تاریخی دورہ کیا، جس سے چین-امریکہ تعلقات بحال ہوئے۔ یحییٰ خان اور پاکستان کو امریکہ اور چین دونوں کی طرف سے تعریف ملی۔

خلاصہ: بنگلہ دیش کی تحریک آزادی میں چین کا کردار رجعتی اورسامراجی تھا۔ ماؤزے تنگ اور چو این لائی کی قیادت میں چین نے بنگال کی عوامی تحریک کی حمایت کرنے اوراس کی مدد کرنے کے بجائے امریکی سامراج کے ساتھ مل کر یحیی خان کی فوجی آمریت کی حمایت کی اور اسے عسکری اورسفارتی مدد فراہم کی۔ چین نے بنگال کی عوامی تحریک کو بھارت اورسوویت یونین کی سازش قرار دے کر بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اورپاکستان کی فوجی حکومت اورامریکہ کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ میں اس کی مخالفت کی۔ اس نے بنگلہ دیش کی ماؤاسٹ تحریک کو دھوکہ دیا اور"غیرجانبداری" اور "عدم مداخلت" کے نام پر اسے تنہا چھوڑ دیا لیکن دوسری طرف بھارت میں نکسلائیٹ تحریک کی حمایت جاری رکھی۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد چین نے اسے اس وقت تک تسلیم نہیں کیا جب تک کہ وہاں فوجی آمریت اقتدار پرقابض نہ ہو گئی۔ اس نے بنگلہ دیش کی فوجی حکومت سے تعلقات قائم کیے اور اسے معاشی اورعسکری امداد فراہم کی۔پاکستان میں یحیی خان کی فوجی حکومت اوربنگلہ دیش میں جنرل ضیاء الرحمن کی فوجی حکومت نے بائیں بازو اورماؤاسٹ گروہوں کو کچلا مگر چین نے بائیں بازو اورخاص طور پر ماؤاسٹ قوتوں کی حمایت اور مدد کرنے کے بجائے اپنے جیوپولیٹیکل قومی مفاد کو بالاتررکھتے ہوئے دونوں ملکوں کی فوجی آمریتوں کا ساتھ دیا اورامریکی سامراج کے ساتھ تعلقات مستحکم کیے۔

نوٹ: یہ معلومات ڈیپ سیک، چیٹ جی پی ٹی، دیگر آرٹیفیشل انٹیلجنس زرائع، مختلف اخباری رپورٹوں، مقالوں، مضامین وغیرہ سے جمع کی گئی ہیں اور مختلف ذرائع سے ان کی تصدیق کی گئی ہے۔ جو معلومات شبے کے دائرے میں آتی تھیں اور جن کی تصدیق دیگر ذرائع سے نہ ہوسکی انہیں اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اگر دیگر ذرائع سے ان کی مثبت تصدیق ہو گئی تو انہیں بعد میں قارئین کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔

Photos from CSS & PMS Information's post 13/05/2025
13/05/2025

A difficult neighbourhood

Arifa Noor
Published May 13, 2025

The writer is a journalist.

PAKISTAN and India have been talked off the ledge. And while the ending came in a familiar way, with the intervention of the US, the sense in both countries is that the crisis may not necessarily be over. Of course, much depends on the talks of the DGMOs (which had yet to take place as this piece was being written) and the outcome. Indeed, even after the talks and subsequent announcements, this will be what in journalistic lingo is a ‘developing situation’ where facts and analyses remain incomplete. This piece falls in the same category. Still, here is an effort to put some issues in context.

There are signs that the ceasefire, in whatever shape, will not be easy to sustain. The lack of trust between the two sides is a reason, and along with it a sense of grievance.

The mood next door is another factor. The criticism of the Indian government over what is being seen by some as an incomplete mission is also leading to misgivings that there may be more to follow. It appears that New Delhi is finding it harder to sell this ceasefire as a success, compared to, say, Pulwama. The White House, which unlike the past, is claiming and celebrating its own role is adding to the criticism. How the BJP government deals with this will be critical in the days to come.

In Pakistan, however, the mood is celebratory and rightly so. But there is reason to be temperate, in fact many reasons, the most obvious being that a war should never be celebrated, for even victory comes at the cost of lives lost, and families left bereft. There is nothing glorious about wars.

Pakistan should be prepared for regular episodes of aggression and near-war with India.

But temperance should also be in place because of the rickety ceasefire in place. In addition to the mood across the border, the new normal that this conflict has created has led to a sobering realisation: future tensions between India and Pakistan will not simply mean clashes at the LoC but more. Strikes, drones and more are now possible, it seems. As are cyberattacks. All these, along with covert operations will simply lead to multiple challenges in India-Pakistan relations and the main victim will be ordinary people.

Pakistan should now also be prepared for regular episodes of aggression and near-war with India. The latter has followed an escalatory pattern from 2016 to the present — nine years ago, New Delhi carried out a strike against the LoC; in fact, many argued that such strikes were normal though it was unusual of India to claim one publicly rather than deny it.

Three years later, during Pulwama/ Balakot, a strike was carried out inside Pakistan rather than just across the LoC. As a result, Pakistan was compelled to respond with an airstrike. Six years later, Indian strikes have targeted city centres, civilians and military targets. This now appears to be established behaviour by India.

And while it is hard to see if there will be pressure on New Delhi to ‘improve’ upon 2025, strikes across the LoC and the border will be now seen to be kosher as a reaction to any terrorism in Indian-held Kashmir. In other words, there should be no complacency at the Pakistani end that deterrence has been established, as is being assumed. Instead, what the two countries might just have established is that this level of conflict, under the nuclear threshold, can be carried out, despite its risks.

The second factor which needs to be studied and understood, rather than simply celebrated, is Pakistan’s communication internally and internationally during this conflict. Despite some bloopers — guess which ones — Pakistan’s communication in the shape of press conferences, which could have been fewer, and interviews internationally were effective, especially as India stuck to the bare minimum. But the efficacy was directly linked to the facts — which allowed Islamabad to tell its story. India was the aggressor, Pakistan would defend itself and go no further. And then Pakistan’s air force chalked up a spectacular victory by downing Indian aircraft, which New Delhi wouldn’t even confirm; this lent further credence to Islamabad.

At the risk of offending some at home, it would help to remember Kargil; some facts are so indigestible that the best cannot spin them favourably. One can only hope that this success doesn’t encourage our side to think that it can sell everything to the world. It is essential to retain the policy of ‘restraint’, which has now started getting some bad press within.

And ‘restraint’ is also a word one can use to suggest that this ‘success’ should not allow the government to think that it’s time for the ‘hard state’ to turn harder within. After all, it appears our neighbour also acted on the assumption that Pakistan’s internal problems and divisions would prevent it from giving a ‘befitting response’, which proved incorrect. However, it is still necessary to understand that with the possibility of further clashes, it is all the more important to address some of the fault lines within. This is true of the political situation but particularly of Balochistan. It is the weakest fault line that can and is being exploited. If it has to be secured, a political solution has to be found. And along with this comes the economy, which also needs serious work.

For regardless of how 2019 and 2025 ended, the fiscal space that the government next door has will make it trigger-happy with such limited confrontation. And in order to confront this, it would be better if Pakistan also focused on making its economy stronger, more stable and less dependent on lending.

Last but not least, this confrontation has been more about Chinese weaponry versus Western, than about India and Pakistan. While the PAF’s success will strengthen Pakistan-Chinese ties, it will take time to assess what this means internationally and regionally. Only can only hope that it does not lead to the kind of scrutiny of defence cooperation, as there was of CPEC in recent years.

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Peshawer City
Peshawar