02/07/2026
حضرت سعد بن معاذؓ جلیل القدر صحابی اور انصار کے ممتاز رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں آپؓ کے فضائل اور مناقب متعدد مقامات پر بیان ہوئے ہیں۔
صحیح مسلم کی روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذؓ کی وفات کے بعد فرمایا کہ ان کی آمد پر عرشِ الٰہی خوشی سے جھوم اٹھا، آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور فرشتوں نے ان کے جنازے میں شرکت کی۔
روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذؓ کے بلند مقام اور جنت میں ان کے اجر و مقام کی خوشخبری عطا فرمائی۔ ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی کو قبر کی تنگی سے مکمل نجات مل سکتی تو حضرت سعد بن معاذؓ اس کے زیادہ مستحق ہوتے۔
حضرت سعد بن معاذؓ جنگِ خندق کے بعد زخموں کی وجہ سے شہ / ید ہوئے۔ ان کی وفات کو مدینہ کی اسلامی ریاست کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جاتا ہے۔ آپؓ اپنی دیانت، اخلاص اور اسلام کے لیے خدمات کے باعث انصار میں نمایاں مقام رکھتے تھے، اسی وجہ سے بعض مؤرخین نے انہیں "صدیقِ انصار" کے لقب سے بھی یاد کیا ہے۔
26/06/2026
حکومتِ پنجاب کے محکمہ آبپاشی نے آبیانہ (نہری پانی کے نرخ) میں نئے ریٹس ک نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
🌾 خریف سیزن: 1,650 روپے فی ایکڑ
🌱 ربیع سیزن: 850 روپے فی ایکڑ
مزید برآں: 🌳 منظور شدہ باغات کے لیے آبیانہ: 2,000 روپے فی ایکڑ سالانہ
💧 سرکاری لفٹ اریگیشن کے لیے آبیانہ: 2,250 روپے فی ایکڑ سالانہ
یہ نئے نرخ فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔
26/06/2026
رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہ وبارک وسلم نے مصیبت کی صورت میں "اگر" کہنے سے منع فرمایا۔ کسی کا یہ کہنا کہ اگر میں ایسے کر لیتا یا یوں ہو جاتا تو میں نقصان سے بچ جاتا۔ یہ کہنا شیطان کے عمل کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
❤️💞❤️
04/12/2024
لے پالک بچوں کے بارے میں قرآن کی روشنی میں اللّٰه تعالٰی کے احکامات ( سورة الأحزاب آیت نمبر 4 تا 5)
مَّا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلۡبَيۡنِ فِىۡ جَوۡفِهٖۚ وَمَا جَعَلَ اَزۡوَاجَكُمُ الّٰٓـئِْ تُظٰهِرُوۡنَ مِنۡهُنَّ اُمَّهٰتِكُمۡۚ وَمَا جَعَلَ اَدۡعِيَآءَكُمۡ اَبۡنَآءَكُمۡؕ ذٰلِكُمۡ قَوۡلُـكُمۡ بِاَفۡوَاهِكُمۡؕ وَاللّٰهُ يَقُوۡلُ الۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِىۡ السَّبِيۡلَ ﴿۴﴾
خدا نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے۔ اور نہ تمہاری عورتوں کو جن کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو تمہاری ماں بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے بنایا۔ یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔ اور خدا تو سچی بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا رستہ دکھاتا ہے ﴿۴﴾
اُدۡعُوۡهُمۡ لِاَبَآٮِٕهِمۡ هُوَ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰهِۚ فَاِنۡ لَّمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ فَاِخۡوَانُكُمۡ فِىۡ الدِّيۡنِ وَمَوَالِيۡكُمۡؕ وَ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ فِيۡمَاۤ اَخۡطَاۡتُمۡ بِهٖۙ وَلٰكِنۡ مَّا تَعَمَّدَتۡ قُلُوۡبُكُمۡؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴿۵﴾
مومنو! لےپالکوں کو اُن کے (اصلی) باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ کہ خدا کے نزدیک یہی بات درست ہے۔ اگر تم کو اُن کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں وہ تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں۔ لیکن جو قصد دلی سے کرو (اس پر مواخذہ ہے) اور خدا بخشنے والا مہربان ہے ﴿۵﴾