راز کی بات
اس براعظم میں عالمگیری مسجد کے میناروں کے بعد جو پہلا اہم مینار مکمل ہوا وہ مینارِ پاکستان ہے۔ یوں تو مسجد اور مینار آمنے سامنے ہیں لیکن ان کے درمیان یہ ذرا سی مسافت تین صدیوں پر محیط ہے، جس میں سکھوں کا گردوارہ، ہندوؤں کا مندر اور فرنگیوں کا پڑاؤ شامل ہیں۔
میں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا ان تین گمشدہ صدیوں کا ماتم کر رہا تھا، کہ مسجد کے مینار نے جھک کر میرے کان میں راز کی بات کہدی۔
"جب مسجدیں بے رونق اور مدرسے بے چراغ ہو جائیں، جب حق کی جگہ حکائیت اور جہاد کی جگہ جمود لے لے، جب ملک کی بجائے مفاد اور ملت کی بجائے مصلحت عزیز ہو اور جب مسلمانوں کو موت سے خوف ائے اور زندگی سے محبت ہو جائے تو۔۔
صدیاں یونہی گُم ہو جایا کرتی ہیں”
(آوازِ دوست)
Zindagi
Hamara Pasrur
Hamara Pasrur
تعلقات اکثر قصور سے نہیں
ذہن کے فتور سے خراب ہوتے ہیں!
Please Follow Hamara Rahim Yar Khan
غریب کی دشمنی صرف پیٹ سے ہوتی ہے اور پیٹ سے لڑتے لڑتے مر جاتا ہے
04/08/2023
اللہ کریم کے خصوصی فضل سے اپنی نوعیت کی منفرد کتاب"غیر معمولی تعلیمی قیادت" پرنٹ ہوگئی ہے۔ایڈوانس پے منٹ کرنے والے احباب کو روانہ کر دی گئی ہے۔ آپ بھی اس کتاب کا مطالعہ کر کے سیکڑوں سکولوں کے تجربات میں شریک ہو سکتے ہیں۔
کتاب حاصل کرنے کے لیے 03008122697 اس نمبر پر / رابطہ واٹس ایپ کر دیجیے۔
آپ کتاب کو بک لائین 38 ۔اردو بازار سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
آپ سے دعاوں کی خصوصی درخواست۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ملک کی بہتری کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)
ناموررائیڑ،ایجوکیشنسٹ، پیرنٹنگ کوچ محترم مسعود مجاہد
*محکمہ تعلیم کے 2017 میں بھرتی ہونے والے تمام معزز اساتذہ کرام کو سروس کے 6 سال مکمل ہونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد*
03-08-2017
03-08-2023
.
جس دن
تمہیں پتا چل جائے
کہ
جو کام تمہاری مرضی سے نہیں ہوتے
ان میں تمہارے لئے کتنی بہتری ہوتی ہے
تو تمہاری ساری بے سکونی ختم ہو جائے گی.
*"ایک جملہ"*
محمد بن عروة یمن کا گورنر بن کر شہر میں داخل ہوا لوگ
استقبال کے لئے کھڑے ہوۓ تھے لوگوں کا خیال تھا کہ نیا گورنر لمبی چوڑی تقریر کریں گے ، محمد بن عروہ نے صرف ایک جملہ کہا اور اپنی تقریر ختم کر دی ۔
وہ جملہ :
"لوگو! یہ میری سواری میری ملکیت ہے اس سے زیادہ لیکر میں واپس پلٹا تو مجھے چور سمجھا جائے"
یہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کا سنہرا دور تھا۔ محمد بن عروہ نے یمن کو خوشحالی کا مرکز بنایا۔ جس دن وہ اپنی گورنری کے ماہ و سال پورا کرکے واپس پلٹ رہا تھا لوگ ان کے فراق پر آنسو بہا رہے تھے۔ لوگوں کا جم غفیر موجود تھا۔ امید تھی کہ لمبی تقریر کریں گے۔ محمد بن عروہ نے صرف ایک جملہ کہا اور اپنی تقریر ختم کر دی ۔
وہ جملہ :
"لوگو! یہ میری سواری میری ملکیت تھی۔ میں واپس جا رہا ہوں میرے پاس اس کے سوا کچھ نہیں ہے" ۔
پاکستانیو ! اپنے وزیر اعظموں ، ججوں، سیاستدانوں اور سرکاری افسران کے آنے اور جانے والے دن کا تقابل کیجیئے۔ بس !
✍
ایک لڑکی نے رنگ گورا کرنے والی کریم خریدی ایک ہفتے بعد شادی میں گئی پاس بیٹی عورت نے پوچھ کیا استعمال کرتی ہو جو اتنی خوبصورت ہو؟
لڑکی پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہوں۔
عورت نے کہا بیٹا نفل بھی پڑھا کرو تاکہ گردن بھی سفید ہوجائے۔
23/05/2022
SMART Training and Consultancy Services
Click here to claim your Sponsored Listing.