25/07/2026
Inshallah
دستہ عزاداران حیدر کرار ع پاراچنار، پاکستان
25/07/2026
Inshallah
25/07/2026
انشاء اللہ آج یعنی 25 جولائی 2026 شام 9 بجے مجلسِ عزا اور سینازانی کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں تمام مومنین اور عزاداران امام حسین علیہ سلام سے شرکت کی استدعا کی جاتی ہے
بمقام : مرکزی امام بارگاہ نستی کوٹ سیدانو کلے
دستہ عزاداران حیدر کرار 🚩
#دستہ #حیدرکرار
انشاء اللّٰہ 9 جولائی بروز جمعرات شام 5بجے سے لیکر 10بجے تک پاراچنار پریس کلب کے سامنے سید رہبر شہید کے جنازہ اور تدفین کے حوالے سے ایک عظیم وشان مجلس اور سنا زانی کا اہتمام کیاگیاہے جس میں عزاداران امام حُسین اور بل حصوص دستہ عزادارانِ حیدر کرار ع بروقت شرکت کی اپیل کی جاتی ہے
04/07/2026
جنازہ سامنے رکھا ہے۔
سفید کفن میں لپٹا ہوا۔ خاموش۔ ساکت۔
مگر یہ خاموشی عام خاموشی نہیں — یہ اس شخص کی خاموشی ہے جس نے پوری زندگی وہ بات کہی جو کہنا سب سے مشکل تھا۔
اور آج جب یہ جسم یہاں پڑا ہے — دنیا کی سب سے بڑی طاقتیں اس ایک جنازے کو دیکھ کر سوچ رہی ہیں کہ اب کیا ہوگا۔
ذرا رکیں — اور سوچیں۔
یہ وہ شخص ہے جسے امریکہ نے توڑنا چاہا — پابندیوں سے، دھمکیوں سے، اقتصادی جنگ سے۔ یہ وہ شخص ہے جس کے سائنسدانوں کو گولیاں ماری گئیں، جس کے جرنیل ڈرون حملوں میں شہید کیے گئے، جس کے ملک کو ہر طرف سے گھیرا گیا۔
مگر یہ جھکا نہیں۔
ایک بار نہیں، بار بار نہیں — کبھی نہیں۔
اور آج جب یہ جسم یہاں لیٹا ہے، تو اس کے ہاتھ خالی ہیں — نہ دولت، نہ محل، نہ اقتدار کا کوئی نشان۔ بس ایک سادہ کفن۔
یہی تھا یہ انسان۔
جوانی میں شاہ کے قید خانے میں گیا — تشدد سہا، مگر زبان نہیں بدلی۔ انقلاب کے بعد جب اقتدار ملا — تو اپنے بیٹے کا تعارف ایک غریب نوجوان کے طور پر کروایا تاکہ رشتہ عہدے پر نہیں، کردار پر ہو۔ جب پوری دنیا نے کہا "جھک جاؤ" — تو اس نے کربلا کا وہ سبق یاد کیا جو چودہ سو سال پہلے ایک اور میدان میں لکھا گیا تھا۔
عزت کی موت، ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔
امام حسینؓ نے یہ الفاظ کربلا کی پیاسی زمین پر کہے تھے۔ اور اس شخص نے یہ الفاظ پوری زندگی جی کر دکھائے۔
آج لاکھوں لوگ اس جنازے کے گرد کھڑے ہیں۔
آنکھیں بھیگی ہیں، سینے بھاری ہیں۔
مگر ایک بات ہے جو رونے نہیں دیتی — یہ احساس کہ یہ شخص ہارا نہیں۔
دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت اس ایک انسان کو نہیں توڑ سکی۔ سب سے بڑی اقتصادی پابندیاں اس کا حوصلہ نہیں توڑ سکیں۔ سب سے جدید خفیہ ایجنسیاں اس کے ایمان کو نہیں پڑھ سکیں۔
کیونکہ جو انسان موت سے نہیں ڈرتا — اسے کوئی نہیں ڈرا سکتا۔
اور یہی وہ راز ہے جو طاقتور کبھی نہیں سمجھ سکے۔
وہ سوچتے ہیں کہ جسم ختم کر دو تو آواز ختم ہو جاتی ہے۔
مگر کربلا نے چودہ سو سال پہلے ثابت کر دیا — جسم مٹتا ہے، آواز نہیں مٹتی۔ خون خشک ہوتا ہے، پیغام نہیں خشک ہوتا۔
آج یہ جنازہ یہاں ہے — کل یہ تاریخ میں ہوگا۔
اور تاریخ ہمیشہ انہی کو یاد رکھتی ہے جو ڈرے نہیں، جھکے نہیں، بکے نہیں۔
جو بنیاد ایمان پر کھڑی ہو — وہ جسم کے جانے کے بعد بھی قائم رہتی ہے۔
کلام : مَیࣿدان کے تالے ماتے نیزے دی
دستہ عزادارانِ حیدر کرارع پاراچنار
یہ ہے میرا عباس ع 🚩🙌🏻
منظم عزاداری ❤️🩹
Nadeem Sarwar
#پاراچنار