25/09/2026
درسِ اخلاق:
مدرس :جناب آغا ضامن حسین
موضوع: صدقۂ جاریہ — ایک ایسا عمل جس کا ثواب کبھی ختم نہیں ہوتا
اسلام نے انسان کو صرف اپنی ذات تک محدود رہنے کی تعلیم نہیں دی، بلکہ دوسروں کے کام آنے اور معاشرے کے لیے نفع بخش بننے کا درس دیا ہے۔ صدقۂ جاریہ انہی عظیم اعمال میں سے ایک ہے، جس کا اجرو ثواب انسان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی مسلسل اس کے نامۂ اعمال میں درج ہوتا رہتا ہے۔
قرآنی رہنمائی
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(سورۃ المؤمن/غافر، آیت: 8 — پارہ 24)
ترجمہ:
"اے ہمارے پروردگار! اور ان کو سدا رہنے کے ان باغوں میں داخل فرما جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے، اور ان کے باپ دادا، ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو صالح (نیک) ہوں، ان کو بھی (داخل فرما)۔ بے شک تو ہی زبردست اور حکمت والا ہے۔"
تفسیر کے روشنی میں، یہ آیت مبارکہ ظاہر کرتی ہے کہ ایک انسان کے نیک اعمال اور اس کی نیکی کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کی نیک اولاد اور باایمان گھرانے کے افراد کو بھی اس کی برکت سے جنت میں ساتھ نصیب ہوگا۔ نیک اولاد دراصل والدین کے لیے صدقۂ جاریہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
صدقۂ جاریہ کی اہم صورتیں
حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے تمام اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔
ہم اپنی زندگی میں درج ذیل آسان اور مؤثر طریقوں سے صدقۂ جاریہ قائم کر سکتے ہیں:
1. اولادِ صالح کی تربیت
بچوں کو دین داری، اچھے اخلاق، اور انسانیت کی خدمت سکھانا سب سے بڑا صدقۂ جاریہ ہے۔ جب تک اولاد دنیا میں کوئی بھی نیک کام کرے گی یا اپنے والدین کے لیے مغفرت کی دعا کرے گی، اس کا ثواب والدین کی قبر میں پہنچتا رہے گا۔
2. پل، سڑکیں اور عوامی سہولیات بنوانا
لوگوں کے سفر کو آسان بنانے کے لیے پل، سڑکیں، مسافر خانے، یا سائے دار جگہیں بنوانا ایک عظیم نیک عمل ہے۔ جتنے لوگ وہاں سے گزریں گے اور فائدہ اٹھائیں گے، اس کا ثواب بنانے والے کو ملتا رہے گا۔
3. درخت لگانا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو مسلمان کوئی درخت لگائے یا کھیتی کرے، پھر اس میں سے کوئی انسان، پرندہ یا جانور کھائے، تو وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔"
درخت لگانا نہ صرف ماحولیات کی بہتری ہے بلکہ ایک پرندے کا اس کے سائے میں بیٹھنا یا پھل کھانا بھی آپ کے لیے اجر کا باعث بنتا ہے۔
4. پانی کا انتظام (کنواں یا نلکا لگوانا)
پیاسوں کو پانی پلانا بہترین صدقہ ہے۔ کسی ایسی جگہ جہاں پانی کی کمی ہو، نلکا، کنواں یا واٹر کولر لگوا دینا ایسا صدقہ ہے جس کا فائدہ روزانہ سیکڑوں لوگ اٹھاتے ہیں۔
5. علمِ نافع کو عام کرنا
مسجد، مدرسہ، یا اسکول قائم کرنا، غریب بچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھانا، یا دینی و علمی کتابیں عام کرنا بھی صدقۂ جاریہ کا ذریعہ ہے۔
ہمارا عملی قدم
آئیے آج ہی یہ عزم کریں کہ ہم اپنی زندگی میں کم از کم ایک ایسا عمل ضرور قائم کریں گے جو ہمارے بعد بھی ہمارے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کا ذریعہ بنے:
اپنے بچوں کی تربیت اسلام اور اخلاقیات کے مطابق کریں۔
کسی بھی خالی جگہ پر کم از کم ایک درخت ضرور لگائیں۔
کسی پیاسی جگہ پر پانی کا انتظام کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں۔
دعائیہ جملہ:
"یا اللہ! ہمیں نیک اور صالح اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما، اور ہماری اولاد کو ہمارے لیے اور ہمیں اپنے والدین کے لیے صدقۂ جاریہ بنا۔ آمین!"