انجمن پٹواریان و گرداوران پاکپتن

انجمن پٹواریان و گرداوران پاکپتن

Share

Pakistan Zindabad
Patwar Union Zindabad Revenue Department Pakpattan

08/06/2026
07/06/2026

05/06/2026

پنجاب بھر کی طرح ضلع پاکپتن شریف میں بھی انجمن پٹواریان نے اپنے حقوق اور جائز مطالبات کیلئے قلم چھوڑ ہڑتال جاری ہڑتال کرنے والے انجمن پٹواریان کے ضلعی اور تحصیل صدور نے مطالبات کی منظوری تک قلم چھوڑ ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان

03/06/2026

اکثر سوالات کیے جاتے ہیں کہ پٹواری ہڑتال پر کیوں ہیں ؟
اور اکثر زمیداران اس بات پر برہم ہیں کہ پٹواری شاید اپنے کسی ذاتی مسائل کی وجہ سے ہڑتال پر ہیں پٹواری کی ہڑتال میں زمیداران کے تحفظات بھی ہیں پوری پوسٹ پڑھیں پھر جو بھی آپ کی رائے ہے دیں
پٹواری برادری کے جائز مطالبات اور قانونی حقائق

حکومتِ پنجاب کی جانب سے 2015ء میں پٹواریوں کے سروس اسٹرکچر اور مراعات سے متعلق ایک اہم سمری منظور کی گئی تھی، جس کے تحت سکیل اپ گریڈیشن اور مختلف الاؤنسز میں اضافہ کیا گیا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج تک اس سمری پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے پٹواری برادری اپنے جائز حقوق سے محروم ہے۔

دوسری جانب تقسیمِ اراضی کے انتقالات کے حوالے سے بھی کئی قانونی نکات نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ کے مطابق:

دفعہ 147 کے تحت انتقالِ تقسیم صرف اس صورت میں ممکن ہے جب تمام مالکان تقسیم پر رضامند ہوں۔

جبکہ دفعہ 135 کے تحت ایک فریق بھی تقسیم کی کارروائی شروع کر سکتا ہے، لیکن اس کے لیے دیگر فریقین کو بذریعہ نوٹس طلب کرنا لازمی ہوتا ہے۔ حاضر ہونے کی صورت میں ان سے قبضہ اور حقائق کی تصدیق کی جاتی ہے، جبکہ عدم حاضری کی صورت میں قانون کے مطابق مزید نوٹسز اور کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ اگر تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود فریق حاضر نہ ہوں تو فیصلہ یکطرفہ کیا جا سکتا ہے، تاہم اس پر بھی فوری عمل درآمد نہیں ہوتا بلکہ متاثرہ فریق کو نظرثانی یا اپیل کے لیے قانونی مدت فراہم کی جاتی ہے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ اگر تقسیم کے معاملات قانونی تقاضے پورے کیے بغیر یا جلد بازی میں نمٹائے جائیں تو اس کے نتائج نہ صرف زمینداروں بلکہ محکمہ ریونیو کے فیلڈ عملے کے لیے بھی مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔ غلط یا متنازع تقسیم کی صورت میں مستقبل میں مقدمات، اعتراضات، اپیلیں اور ریکارڈ کی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جس سے تمام متعلقہ فریقین کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر تقسیم قانون، قواعد اور مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی عمل میں لائی جائے تاکہ زمینداروں کے حقوق بھی محفوظ رہیں اور فیلڈ عملہ بھی غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ریونیو معاملات قانون اور ضابطے کے مطابق نمٹائے جائیں اور پٹواری برادری کے جائز مطالبات کو بھی فوری طور پر تسلیم کرتے ہوئے 2015ء کی منظور شدہ سمری پر عمل درآمد کیا جائے۔

02/06/2026

پٹواری: صرف ایک عہدہ نہیں، پورے زمینی نظام کی مرکزی کڑی

کسی بھی ریاست کا اصل چہرہ اس کے اداروں سے پہچانا جاتا ہے۔ ادارے صرف عمارتوں، دفاتر یا کرسیوں کا نام نہیں ہوتے بلکہ یہ ایک مکمل نظام، ذمہ داری، تجربہ، ریکارڈ، روایت اور عوامی خدمت کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اگر زمین، وراثت، ملکیت، حد بندی، کاشت، قبضہ، انتقال، فرد، خسرہ، کھتونی، جمع بندی اور دیہی ریکارڈ کی بات کی جائے تو ایک کردار ایسا ہے جس کے بغیر یہ پورا نظام ادھورا دکھائی دیتا ہے، اور وہ کردار ہے پٹواری۔

بدقسمتی سے وقت کے ساتھ پٹواری کے کردار کو صرف ایک سرکاری ملازم یا عام اہلکار سمجھ لیا گیا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پٹواری صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ ریونیو سسٹم کی بنیادی اور مرکزی کڑی ہے۔ یہی وہ کڑی ہے جو زمین کے ریکارڈ کو عوام کی عملی زندگی کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہی وہ فرد ہے جو کاغذی ریکارڈ، موقع کی صورتحال، لوگوں کے دعووں، زمین کی حقیقت، وراثتی معاملات اور سرکاری نظم و ضبط کے درمیان رابطہ قائم کرتا ہے۔

آج کل حکومتیں اصلاحات کی بات کرتی ہیں، ڈیجیٹلائزیشن کی بات ہوتی ہے، کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کروایا جاتا ہے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا جاتا ہے، اور یہ سب اقدامات اپنی جگہ قابل تعریف ہیں۔ کوئی بھی باشعور شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ نظام میں بہتری نہیں آنی چاہیے۔ یقیناً بہتری آنی چاہیے، شفافیت آنی چاہیے، عوام کو آسانی ملنی چاہیے، کرپشن کا خاتمہ ہونا چاہیے، ریکارڈ محفوظ ہونا چاہیے، اور ہر شہری کو عزت کے ساتھ اپنا حق ملنا چاہیے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نظام میں اصلاح صرف ایک مضبوط کڑی کو کمزور کرکے یا نکال کر لائی جا سکتی ہے؟ کیا کسی بھی مشین کا وہ پرزہ نکال دینا دانشمندی ہے جو پوری مشین کو چلانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہو؟ کیا ایک تجربہ کار زمینی نظام کو سمجھے بغیر صرف کاغذی منصوبوں سے عوامی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں؟

یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں جذبات سے زیادہ عقل، تنقید سے زیادہ تحقیق، اور مخالفت سے زیادہ حقیقت پسندی کی ضرورت ہے۔

پٹواری کا کام صرف فرد جاری کرنا یا انتقال درج کرنا نہیں ہے۔ پٹواری ایک ایسا زمینی اہلکار ہے جو اپنے حلقہ کے ہر موضع، ہر چک، ہر کھیت، ہر راستے، ہر بند، ہر کھال، ہر شاملات، ہر سرکاری رقبہ، ہر قبضہ، ہر پرانی تقسیم، ہر خاندانی تنازع، ہر وراثتی پس منظر اور ہر مقامی حقیقت سے واقف ہوتا ہے۔ یہ معلومات کسی کمپیوٹر کے ایک بٹن سے پیدا نہیں ہوتیں۔ یہ معلومات سالوں کے تجربے، موقع کے معائنہ، عوامی رابطہ، ریکارڈ کی مسلسل دیکھ بھال اور زمینی حقائق کو سمجھنے سے پیدا ہوتی ہیں۔

حکومت اگر نظام میں اصلاح چاہتی ہے تو یہ ایک قابل تعریف سوچ ہے۔ مگر اصلاح کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک تجربہ کار کڑی کو کمزور کیا جائے اور اس کی جگہ ایسا انتظام لایا جائے جو نہ مکمل طور پر ریکارڈ کو سمجھتا ہو، نہ موقع کی حقیقت کو، نہ عوامی معاملات کی نزاکت کو، اور نہ دیہی معاشرے کے پیچیدہ زمینی رشتوں کو۔

آج اگر کسی شخص کو اپنی زمین کی حد بندی کروانی ہو، کسی کھیت کا رقبہ معلوم کروانا ہو، وراثت کا معاملہ ہو، انتقال کا مسئلہ ہو، راستے کا تنازع ہو، شاملات دیہہ کی نشاندہی ہو، قبضہ کی صورتحال ہو یا سرکاری رقبہ کی حفاظت کا معاملہ ہو، تو آخر کار بات پٹواری، گرداور اور ریونیو فیلڈ اسٹاف تک ہی آتی ہے۔ کمپیوٹر ریکارڈ دکھا سکتا ہے، مگر زمین پر جا کر یہ نہیں بتا سکتا کہ حد کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہے۔ سسٹم فرد نکال سکتا ہے، مگر یہ نہیں جانتا کہ موقع پر راستہ کس نے بند کیا ہوا ہے، پانی کا کھال کہاں سے گزرتا تھا، قدیمی نشان کہاں تھے، اور کس قبضہ کی بنیاد حقیقت پر ہے یا صرف طاقت پر۔

یہاں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی نظام کا نعم البدل نہیں بلکہ معاون ہونی چاہیے۔ کمپیوٹر، GPS، ڈیجیٹل ریکارڈ، آن لائن فرد، اراضی ریکارڈ سنٹرز، یہ سب سہولتیں ہیں اور ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ مگر سہولت کو اصل نظام کا بدل سمجھ لینا بہت بڑی غلطی ہے۔ ٹیکنالوجی کو انسانی تجربے کے ساتھ جوڑا جائے تو اصلاح آتی ہے، لیکن اگر ٹیکنالوجی کو تجربہ کار فیلڈ اسٹاف کے مقابل کھڑا کر دیا جائے تو نظام کمزور ہو جاتا ہے۔

اصل خرابی کسی ایک عہدے کے نام میں نہیں ہوتی، اصل خرابی نظام کے اندر وسائل کی کمی، غیر واضح پالیسی، سیاسی دباؤ، غیر ضروری مداخلت، عملہ کی کمی، تربیت کے فقدان، سہولیات کی عدم دستیابی اور احتساب کے غیر متوازن طریقہ کار میں ہوتی ہے۔ اگر ایک پٹواری کو مناسب دفتر نہ ملے، اسٹیشنری خود خریدنی پڑے، انٹرنیٹ کا خرچ خود برداشت کرنا پڑے، موقع پر جانے کے لیے سرکاری سہولت نہ ہو، کام کا بوجھ حد سے زیادہ ہو، عوامی دباؤ بھی ہو، افسران کا دباؤ بھی ہو، سیاسی سفارشات بھی ہوں، اور پھر ہر خرابی کا ذمہ دار بھی اسی کو ٹھہرا دیا جائے، تو یہ انصاف نہیں بلکہ نظام کی کمزوری ہے۔

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ہر شعبے کی طرح ریونیو سسٹم میں بھی کمزوریاں موجود ہیں۔ کہیں تاخیر ہوتی ہے، کہیں بدانتظامی ہوتی ہے، کہیں عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کہیں شکایات بھی پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن اصلاح کا درست طریقہ یہ نہیں کہ پورے کردار کو مشکوک بنا دیا جائے یا فیلڈ اسٹاف کو عوام کی نظر میں مجرم بنا کر پیش کیا جائے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ نظام کو مضبوط کیا جائے، تربیت دی جائے، وسائل دیے جائیں، نگرانی شفاف کی جائے، ذمہ داری واضح کی جائے، اور جس جگہ غلطی ہو وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

حکومت کا خزانہ بھی اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے جب زمین کا ریکارڈ مضبوط ہو۔ زرعی ٹیکس، سرکاری رقبہ، انتقالات، رجسٹری، فیسیں، سرکاری واجبات، عدالتوں میں زمین سے متعلق مقدمات، ترقیاتی منصوبے، سڑکیں، نہری نظام، سکول، ہسپتال، سرکاری عمارات، یہ سب کسی نہ کسی انداز میں زمین کے درست ریکارڈ سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر فیلڈ ریکارڈ کمزور ہوگا، اگر موقع کی صورتحال اور دفتر کے ریکارڈ میں فرق بڑھتا جائے گا، اگر تجربہ کار کڑی کو نظام سے الگ کر دیا جائے گا، تو نقصان صرف ایک محکمہ کا نہیں ہوگا بلکہ حکومت کے خزانے، عوام کے حقوق اور عدالتی نظام پر بھی بوجھ بڑھے گا۔

بعض اوقات اصلاح کے نام پر ایسی تبدیلیاں کر دی جاتی ہیں جن کا مقصد تو بہتر ہوتا ہے مگر نتیجہ الٹ نکلتا ہے۔ ایک مضبوط کڑی نکال کر اگر ایسی کڑی ڈال دی جائے جو نہ بوجھ اٹھا سکے، نہ نظام سمجھ سکے، نہ عوامی مسائل حل کر سکے، تو پھر سسٹم چلتا نہیں بلکہ مزید الجھتا ہے۔ عوام ایک دفتر سے دوسرے دفتر، ایک سنٹر سے دوسرے سنٹر، ایک افسر سے دوسرے افسر، اور ایک درخواست سے دوسری درخواست تک گھومتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام بھی پریشان، افسران بھی پریشان، فیلڈ اسٹاف بھی دباؤ میں، اور حکومت بھی نقصان میں۔

اصلاح کا اصل راستہ یہ ہے کہ پٹواری کو ختم یا کمزور کرنے کے بجائے اسے جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط کیا جائے۔ پٹواری کو جدید ٹیکنالوجی دی جائے، GPS اور ڈیجیٹل نقشہ جات کی تربیت دی جائے، کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ تک بہتر رسائی دی جائے، سرکاری سطح پر دفاتر، انٹرنیٹ، اسٹیشنری، ٹرانسپورٹ اور سیکیورٹی فراہم کی جائے، کام کی ذمہ داریاں واضح کی جائیں، غیر ضروری سیاسی و انتظامی دباؤ ختم کیا جائے، اور عوامی خدمت کے لیے ایک شفاف طریقہ کار بنایا جائے۔

جس طرح ایک ڈاکٹر کو جدید مشینیں دینے سے ڈاکٹر کی اہمیت ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے، جس طرح ایک انجینئر کو جدید سافٹ ویئر ملنے سے انجینئر کی ضرورت ختم نہیں ہوتی بلکہ کام زیادہ معیاری ہوتا ہے، اسی طرح پٹواری کو جدید ٹیکنالوجی دینے سے پٹواری کا کردار ختم نہیں ہوتا بلکہ ریونیو سسٹم زیادہ مضبوط اور شفاف ہو سکتا ہے۔

زمین کا معاملہ عام معاملہ نہیں ہوتا۔ زمین انسان کی زندگی، خاندان، وراثت، عزت، روزگار اور مستقبل سے جڑی ہوتی ہے۔ ایک غلط اندراج نسلوں کا تنازع بن سکتا ہے۔ ایک غلط حد بندی خاندانوں کو دشمن بنا سکتی ہے۔ ایک غلط انتقال عدالتوں میں سالوں مقدمات چلا سکتا ہے۔ اس لیے جو شخص اس نظام کی بنیادی سطح پر بیٹھا ہے، اس کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔ اسے صرف تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے اس کے کردار کو بہتر، بااختیار اور جوابدہ بنانا ہوگا۔

ہمارا مقصد کسی فرد یا ادارے کی اندھی حمایت نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد حق، انصاف اور نظام کی بہتری ہونا چاہیے۔ اگر کہیں پٹواری غلط ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن اگر پٹواری کو کام کے لیے بنیادی سہولیات ہی نہیں ملتیں، اگر اس پر بوجھ حد سے زیادہ ہے، اگر اسے ہر وقت شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، اگر اس کے تجربے کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، تو پھر اصلاح نہیں بلکہ انتشار پیدا ہوگا۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ فیلڈ اسٹاف کی حقیقی مشکلات کو سنے۔ پٹواری، گرداور، تحصیلدار اور دیگر ریونیو عملہ زمین کے نظام کی عملی حقیقت کو جانتے ہیں۔ پالیسی بنانے والے اگر فیلڈ کی آواز سنے بغیر فیصلے کریں گے تو پالیسی کاغذ پر تو خوبصورت لگے گی مگر زمین پر ناکام ہو جائے گی۔ کامیاب اصلاح وہی ہوتی ہے جس میں پالیسی بھی ہو، ٹیکنالوجی بھی ہو، تجربہ بھی ہو، وسائل بھی ہوں، اور عملدرآمد کرنے والے لوگوں کی عزت بھی محفوظ رہے۔

پٹواری کو نظام کی کمزوری سمجھنا غلط ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس کڑی کو مضبوط کرنے کی کوشش کی؟ کیا ہم نے اسے وہ وسائل دیے جو ایک جدید ریونیو نظام کے لیے ضروری ہیں؟ کیا ہم نے اس کی تربیت کو جدید بنایا؟ کیا ہم نے اس کے کام کو آسان کیا؟ کیا ہم نے عوام کو ایک واضح، تیز اور شفاف طریقہ کار دیا؟ اگر نہیں، تو پھر صرف عہدہ بدلنے یا کڑی نکالنے سے نظام درست نہیں ہو سکتا۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ریونیو سسٹم کو جذباتی نعروں کے بجائے عملی حکمت عملی سے دیکھا جائے۔ زمین کا ریکارڈ ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور پٹواری اس ریکارڈ کا زمینی محافظ ہے۔ اسے کمزور کرنا ریاستی نظام کو کمزور کرنا ہے۔ اسے مضبوط کرنا عوام کے حق، حکومت کے خزانے اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنا ہے۔

اصلاح ضرور ہونی چاہیے، مگر اصلاح کا راستہ یہ نہیں کہ نظام کی مرکزی کڑی کو توڑ دیا جائے۔ اصلاح کا راستہ یہ ہے کہ اس کڑی کو زنگ سے پاک کیا جائے، اسے مضبوط کیا جائے، اسے جدید بنایا جائے، اسے شفاف بنایا جائے، اور اسے عوامی خدمت کے قابل بنایا جائے۔

پٹواری کو ختم کرنے کی سوچ کے بجائے پٹواری کو جدید، باوقار، بااختیار اور جوابدہ بنانے کی سوچ اپنائی جائے۔ یہی اصل اصلاح ہے، یہی عوام کے مفاد میں ہے، یہی حکومت کے خزانے کے لیے فائدہ مند ہے، اور یہی ایک مضبوط ریاستی نظام کی بنیاد ہے۔

کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ پٹواری صرف ایک سسٹم کا حصہ نہیں، بلکہ زمین کے نظام کی وہ مرکزی کڑی ہے جس کے بغیر ریکارڈ، موقع، عوام اور حکومت کے درمیان رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ مضبوط نظام کے لیے مضبوط کڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے، کمزور تجربات کی نہیں۔

اصلاح کا مطلب کردار کو مٹانا نہیں، کردار کو بہتر بنانا ہے۔
نظام بدلنا ہے تو بنیاد مضبوط کریں، بنیاد کو کمزور نہ کریں۔
پٹواری کو کمزور نہیں، جدید اور باوقار بنانا ہی اصل ریونیو اصلاح ہے۔
Hashtags: #پٹواری

Photos from ‎انجمن پٹواریان و گرداوران پاکپتن‎'s post 01/06/2026

آج بائیسواں روز تحصیل پاکپتن میں بھی پنجاب بھر کی طرح ہڑتال جاری ہے

Photos from ‎انجمن پٹواریان و گرداوران پاکپتن‎'s post 25/05/2026

پاکپتن میں مطالبات کی منظوری تک قلم چھوڑ ہڑتال تیرویں روز بھی جاری۔

21/05/2026

پٹواری: تاریخ، حقیقت اور اصلاح کی ضرورت

شیر شاہ سوری کے منظم نظام سے آج کے بگڑے ہوئے ڈھانچے تک

برصغیر کی دیہی تاریخ میں “پٹواری” محض ایک سرکاری عہدہ نہیں بلکہ زمین، کسان اور ریاست کے درمیان رابطے کا بنیادی ستون رہا ہے۔ صدیوں تک یہی عہدہ زمینوں کے ریکارڈ، پیمائش، فصلوں کے اندراج، لگان، وراثت اور ملکیت کے معاملات کا محافظ سمجھا جاتا تھا۔ مگر افسوس کہ آج اسی عہدے کا نام سنتے ہی عوام کے ذہن میں رشوت، سفارش، کرپشن، انتقالات، فرد ملکیت اور زمینی تنازعات کا تصور ابھرتا ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس نظام کی بنیاد عوامی خدمت، شفافیت اور انصاف پر رکھی گئی تھی، وقت گزرنے کے ساتھ اس کے ساتھ ایسا خوفناک کھلواڑ کیا گیا کہ عوام کا اعتماد بری طرح مجروح ہوگیا۔ مسئلہ صرف کسی ایک فرد یا چند اہلکاروں کا نہیں، بلکہ پورے انتظامی ڈھانچے کی کمزوری، سیاسی مداخلت، عوامی لاعلمی اور کرپشن کے کلچر کا ہے۔

لفظ “پٹواری” کی اصل حقیقت کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہ لفظ یونانی نہیں بلکہ برصغیر کے قدیم لسانی اور انتظامی پس منظر سے تعلق رکھتا ہے۔ “پٹوار” سے مراد زمین کا حساب، کھاتہ یا رجسٹر ہے، اور پٹواری وہ شخص تھا جو زمین، فصل، ملکیت اور لگان کا باقاعدہ ریکارڈ محفوظ رکھتا تھا۔ قدیم دیہی معاشرے میں زمین معیشت کی بنیاد تھی، اس لیے اس کے ریکارڈ کی حفاظت غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی۔

برصغیر میں زمینی ریکارڈ کے منظم نظام کی بات کی جائے تو شیر شاہ سوری کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ شیر شاہ سوری صرف ایک فاتح نہیں بلکہ ایک عظیم منتظم تھا۔ اس نے زمین کی پیمائش، لگان کی وصولی، کسان کے تحفظ اور سرکاری ریکارڈ کو منظم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ اس دور میں زمینوں کی حد بندی، رقبے کا اندراج اور پیداوار کے مطابق مالی ذمہ داری کا تصور مضبوط ہوا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس نے آگے چل کر پٹواری نظام کو باقاعدہ انتظامی حیثیت دی۔

بعد ازاں مغل دور، خصوصاً اکبر اعظم کے زمانے میں راجہ ٹوڈرمل نے اس نظام کو مزید مضبوط کیا۔ کھسرہ، گرداوری، جمعبندی، فرد ملکیت اور انتقالات جیسے ریکارڈ دیہی انتظامیہ کا اہم حصہ بنے۔ انگریز دور میں اس نظام کو مزید قانونی اور دستاویزی شکل دی گئی۔ ریکارڈ روم قائم ہوئے، نقشے بنے، رجسٹری اور انتقالات کو قانونی تحفظ ملا، اور ریونیو قوانین مرتب ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہمارے زمینی قوانین کی جڑیں اسی تاریخی نظام میں موجود ہیں۔

پرانے وقتوں میں پٹواری کو دیہات میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ لوگ وراثتی معاملات، زمین کے جھگڑوں اور گھریلو فیصلوں میں اس سے مشورہ لیتے تھے۔ وہ صرف سرکاری ملازم نہیں بلکہ دیہی معاشرے کا ایک باخبر اور قابلِ اعتماد فرد سمجھا جاتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ حالات بدلتے گئے۔ آبادی بڑھی، زمین نسل در نسل تقسیم ہوتی گئی، وراثتی جھگڑے بڑھے، سیاست نظام میں داخل ہوئی، سفارش نے میرٹ کو کمزور کیا اور رشوت نے اعتماد کو کھوکھلا کردیا۔

آج ایک پٹواری پر بیک وقت فرد جاری کرنے، انتقال درج کرنے، وراثت لکھنے، فصل گرداوری کرنے، عدالتی رپورٹس دینے، پیمائش کرنے، عوامی شکایات سننے اور افسران کو جواب دینے کا دباؤ ہوتا ہے۔ دوسری طرف کئی دفاتر بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ کہیں کمپیوٹر نہیں، کہیں انٹرنیٹ نہیں، کہیں عملہ کم ہے، کہیں کام کا بوجھ حد سے زیادہ ہے۔ مگر عوام صرف نتیجہ دیکھتے ہیں، پس منظر نہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کرپشن موجود ہے اور اسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جعلی انتقالات، قبضہ مافیا، سیاسی دباؤ، سفارش، جھوٹے بیانات اور مشکوک ریکارڈ نے اس نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن یہ کہنا بھی ناانصافی ہوگی کہ ہر پٹواری کرپٹ ہے۔ بہت سے اہلکار آج بھی ایمانداری سے کام کرتے ہیں، عوامی دباؤ برداشت کرتے ہیں، سیاسی سفارشوں کا سامنا کرتے ہیں اور محدود وسائل میں اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔

دوسری طرف عوام کو بھی اپنی ذمہ داری تسلیم کرنا ہوگی۔ جھوٹے بیان کون دیتا ہے؟ رشوت کی پیشکش کون کرتا ہے؟ انتقال کے بعد مکر کون جاتا ہے؟ خاندانی وراثت کو عدالتوں میں کون گھسیٹتا ہے؟ قبضہ مافیا کو سہارا کون دیتا ہے؟ اگر معاشرہ خود دیانتداری سے محروم ہو تو صرف محکمہ درست نہیں ہوسکتا۔

اصل مسئلہ فرد نہیں، نظام ہے۔ پرانے قوانین، پیچیدہ طریقہ کار، سیاسی مداخلت، کمزور احتساب، سست عدالتی نظام اور عوامی لاعلمی نے مل کر اس نظام کو بیمار کردیا ہے۔ اس کا علاج نفرت، الزام تراشی یا صرف نعروں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلے مکمل ڈیجیٹلائزیشن ناگزیر ہے۔ ہر زمین کا محفوظ آن لائن ریکارڈ ہونا چاہیے۔ GPS اور جدید سروے ٹیکنالوجی کے ذریعے درست حد بندی کی جائے۔ پٹواریوں کو جدید تربیت دی جائے۔ عوام کو قوانین سے آگاہ کیا جائے۔ کرپٹ اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی ہو، مگر ایماندار اہلکاروں کو تحفظ بھی دیا جائے۔ سیاسی مداخلت ختم کی جائے اور زمین کے مقدمات کے لیے تیز رفتار عدالتی نظام بنایا جائے۔

زمین صرف مٹی کا ٹکڑا نہیں ہوتی؛ یہ نسلوں کی امانت، خاندانوں کی شناخت اور کسان کی زندگی کا سرمایہ ہوتی ہے۔ اگر زمین کا ریکارڈ مشکوک ہوجائے تو صرف ایک فرد متاثر نہیں ہوتا، پورا معاشرہ عدم اعتماد کا شکار ہوجاتا ہے۔

شیر شاہ سوری نے جس نظام کی بنیاد رکھی تھی، اس کی روح انصاف، شفافیت اور عوامی سہولت تھی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسی روح کو جدید تقاضوں کے مطابق دوبارہ زندہ کریں۔ پٹواری نظام کو گالی دینے کے بجائے اسے درست کرنا ہوگا، کیونکہ زمین کے ریکارڈ کا مضبوط نظام ہی کسان کے تحفظ، دیہی امن، معاشی ترقی اور ریاستی اعتماد کی ضمانت ہے۔

جب تک دیانتداری، میرٹ، جدید ٹیکنالوجی اور سخت احتساب ایک ساتھ نہیں آئیں گے، تب تک یہ نظام عوام کا اعتماد حاصل نہیں کرسکے گا۔ اصلاح آج کی ضرورت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا حق ہے۔


#پٹواری



#زمین


#اصلاحات
#انصاف
#شفافیت
#ڈیجیٹلائزیشن













Want your school to be the top-listed School/college in Pakpattan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Pakpattan
Pakpattan
57400