CSS, FPSC, PPSC preparation with Younas Rajpoot

CSS, FPSC, PPSC preparation with Younas Rajpoot

Share

Younas Rajpoot here. i have cleared various paper of FPSC and PPSC. data is shared on this page.

27/07/2025

لکھنے کا مقصد کوئی بھاشن جاڑھنا نہیں۔ نا میں اتنا قابل کے بھاشن جھاڑ سکتا اللّٰہ پاک نے پھر بھی اس نا چیز کو بہت عزت بخشی ہے ابھی کچھ دن ہوئے میں ایف جی ای آئی میں بطور ای ایس ٹی منتخب ہوا اور اللّٰہ پاک نے مجھے اس قابل سمجھا کہ میں یہ کام کروں کیونکہ یہ کام انبیاء کرام کا ہے رہی بات آپ کی اتھارٹی یا حثیت کی تو وہ دراصل آپ کے اخلاق ہی ہوتے نا کہ کوئی عہدہ عزت شہرت ہوتی ہی وہ جو آپ کو لوگ آپ کے اخلاق سے دیں نا کہ عہدہ سے اگر آپ کو اللّٰہ پاک نے کوئی عہدہ دے ہی دیا تو پھر اس کو ایمانداری سے پورا کریں فرعون نا بنیں اور یہ اپنے آپ کو اپنی حثیت سے زیادہ پیش کرنا نسلی لوگوں کا کام نہیں ہوتا نسلی انسان اپنے آپ کو اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ متعارف کرواتا اور نا اپنی اوقات بھولتا کم ظرف لوگوں کو جب اچانک اللّٰہ پاک کسی چیز سے نوازتا تو اپنے آپ کو دنیا کا ایک اعلیٰ انسان سمجھتا باقیوں کو وہ انسان کے زمرے میں لاتا ہی نہیں

الحمد اللہ پاک نے مجھے بہت عزت دی۔اللہ پاک نے مجھے سندھ رینجرز میں سب انسپکٹر منتخب کیا اور جب پورے پنجاب کی صرف چار سیٹیں تھی اللّٰہ پاک نے مجھے پاسپورٹ اور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ میں یو ڈی سی منتخب کیا میرا دل نہیں کیا میں نہیں گیا کچھ لوگوں نے بہت تنقید کی بہت باتیں کیں کہ یہ زیرو ہے تیاری نہیں نہیں کر سکتا میں چپ رہا کیونکہ میری عادت نہیں کسی کو کچھ ظاہر کروانے کی میں سمجھتا کہ یہ کم ظرف لوگ جب کچھ نہیں کر سکتے تو وہ پھر غلط غلط افواہیں پھیلا کر نیچا دکھانے کی کوشش کرتے کچھ ان پڑھ ہی کہوں کیونکہ جن کو پتہ نہیں ہوتا پھر ان کہ پڑھا لکھا کہنا درست نہیں ہوگا آج کل ابھی میں نے ایف جی ای آئی کو جوائن کیا کیونکہ آج کل کے دور میں پرمانینٹ جاب اللہ پاک نے آپ کو دی تو اس کی کرم نوازی ہے اور کچھ بد نسلے لوگ یہ کہتے پھرتے کہ نہیں نہیں یہ کنٹریکٹ ہے وجہ یہ کہ ایسے بد نسلے لوگوں کو آپ کی کامیابی ہضم نہیں ہوتی میں نے یہ چیزیں لکھنی نہیں تھی لیکن کچھ ایسے کم ظرف لوگ تھے جن کے لیے لکھنا ضروری تھا

20/06/2025

مریم نواز، وزیر اعلیٰ پنجاب اپنی حکومت کے منصوبوں کی تشہیر پر خطیر رقم خرچ کر رہی ہیں۔ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی اصل کامیابی ان کے نتائج سے ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ مہنگے اشتہارات سے۔ جب صوبے میں تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، انصاف کی فراہمی، پولیس کے نظام میں بنیادی اصلاحات اور عدالتی نظام کو بہتر بنانے جیسے اہم اور حل طلب مسائل موجود ہوں، وہاں اشتہارات پر کروڑوں خرچ کرنا عوامی وسائل کا ضیاع ہے۔ یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے، جسے حکومت اپنے ذاتی ووٹ بینک کو بڑھانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ایسے اقدامات محض سیاسی مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش لگتے ہیں، نہ کہ عوام کی حقیقی خدمت۔

25/05/2025

پنجابی زبان مکدی جا ری اے
تے اینوں سانبھ تے رکھنا ساڈی زمہ داری اے

دل کیتا میں کجھ لکھاں لکھدیاں ہویاں دکھ وی ہو ریا اے تے خوشی وی ۔خوشی اس گل دی اے کہ میں اجھے وی آودے آپ نوں پنجابی زبان تے پنجاب دی دھرتی دا پتر سمجھدا آں تے مینوں فخر وی اے کہ میں پنجابی آں۔دکھ اس گل دا اے کے جیویں جیویں اسی وڈے ہوندے جاندے آں پنجابی وی مکدی جاندی اے تے اینوں مکان آلے کوئی ہور نئیں اسی آپ ای آں ۔جہڑی پنجابی دو ہزار چویی دے وچ اڑتالی فیصد بولی جاندی سی اج او اٹھتی فیصد رہ گئی اے۔ تے اسی اے بہت ای وڈا نقصان کر دے پئے آں بجائے اسی آودی ماں بولی زبان نوں پرموٹ کریئے اسی آپ بولن تو ڈر دے آں جے میں گل کراں آودے جے لوکاں دی تے اسی پنڈاں آلے طالب علم جدوں شہراں وچ آنے آں تے اسی پنجابی بولن تے شرم محسوس کردے آں کے لوک سانوں پینڈوں آکھدے نیں ۔میرا اے خیال اے کے اسی اجھے وی غلامی وچ رہ رے آں ۔مینوں شہر آلیاں تے دکھ نہیں ہوندا مینوں پینڈا دے وسنیکاں تے دکھ ضرور ہوندا اے کہ اسی آپ ای آودی ماں بولی زبان دا گلہ گھٹ رے آں تے اے گل ٹھیک نہیں ۔مینوں ڈر لگدا اے کہ ساڈی ماں بولی زبان شاید کجھ ورہیاں بعد ختم ہو جاوے گی۔سانوں پڑھیاں لکھیاں لوکاں نوں تے باقی لوکاں نوں وی سوچنا چاہیے دا اے کے اس دھرتی توں پنجابی نوں مکن نا دیئے ۔سانوں چاہیے دا اے کے سانوں آودے گھر وچ روز آودے بچیاں نال پنجابی وچ گل وات کرنی چاہیے دی اے تا کہ ساڈی ماں بولی زبان ہمیشہ ساڈے وچ رہوے ۔ تے ساڈے سکولاں وچ وی پنجابی دا مضمون لازمی قرار دتا جاوے جیویں اک طالب علم پنجابی دے وچ کسے وی سوال نوں سمجھ دا اے او انگریزی وچ نہیں سمجھ دا اللہ اگے دعا اے کے ساڈی ماں بولی زبان ہمیشہ ساڈے وچ رہوے تے سانوں آودے وڈیاں دے رسم و رواج تے اوناں دے اکھاناں اتے عمل کرن دی توفیق دیوے ہسدے رہو تے وسدے رہو تھوڈا آودا بھرا یونس راجپوت ۔
تے میری آودے سجناں تے بیلیاں نوں وی اے گزارش اے کے ساڈے کولوں جتنا ہوے اسی آودی ماں بولی زبان نوں پرموٹ کریئے

18/05/2025

جس معاشرے میں لڑکی کی حیا کو “پرانی سوچ” کہہ کر رد کر دیا جائے، اور بے حیائی کو “اعتماد” سمجھا جائے — وہاں عزت صرف کتابوں میں بچتی ہے، حقیقت میں نہیں۔
ہم نے پردے کو قید سمجھا، اور فحاشی کو آزادی — یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاق دفن ہوتے ہیں، اور کردار بکھر جاتے ہیں۔
جب حیاء ختم ہو جائے، تو زنا صرف عمل نہیں، ماحول بن جاتا ہے۔
حیاء اگر مٹ جائے، تو عزت چیخنے لگتی ہے… مگر کوئی نہیں سنتا۔

13/05/2025

پاکستان میں ڈپریشن کی بڑھتی ہوئی شرح ، وجوہات اور غور طلب پہلو

پاکستان میں ڈپریشن کی بڑھتی ہوئی شرح ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے، جس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو معاشی حالات کا دباؤ ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، اور محدود آمدنی لوگوں کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ جب روزمرہ کی ضروریات پوری نہ ہوں، تو انسان مسلسل پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔
اس کے بعد معاشرتی دباؤ آتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں لوگوں کی توقعات، رشتہ داروں کی باتیں، اور دوسروں سے موازنہ ایک عام روایت بن چکی ہے، جو انسان کی خود اعتمادی کو شدید متاثر کرتی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے، جہاں لوگ دوسروں کی خوشحال زندگی دیکھ کر اپنی زندگی سے ناخوش ہو جاتے ہیں، حالانکہ وہ اصل حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں۔
تعلیم اور روزگار کے مسائل بھی اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ نوجوان نسل ڈگریاں لے کر بھی بے روزگار گھومتی ہے، اور ان کے خواب ٹوٹنے لگتے ہیں۔ یہ ناامیدی آہستہ آہستہ ذہنی بیماری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
خاندانی نظام میں تناؤ، گھریلو جھگڑے، اور جذباتی تعاون کی کمی بھی ڈپریشن کو جنم دیتی ہے۔ بہت سے لوگ اپنے دل کی بات کہنے کے لیے کسی کو نہیں پاتے، اور یوں وہ اندر ہی اندر گھٹتے رہتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو ذہنی صحت کے بارے میں شعور کی کمی ہے۔ اکثر لوگ ڈپریشن کو سنجیدہ بیماری نہیں سمجھتے، اور علاج کرانے کی بجائے یا تو نظر انداز کر دیتے ہیں یا روحانی مسائل سے جوڑ دیتے ہیں۔
یہ سب عوامل مل کر پاکستان میں ڈپریشن کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے معاشی استحکام، سماجی شعور، اور ذہنی صحت کے حوالے سے تعلیم و تربیت کی اشد ضرورت ہے۔

06/05/2025

ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض لوگ دنیا سے اِتنے دکھی ہو کے جاتے ہیں کہ وہ وصیّت میں ایسے الفاظ لکھوا جاتے ہیں جس طرح یہ قبر جس پے لکھا ہے کہ ”دکھ دینے والے حضرات قبر پر تشریف نہ لائیں” اِنسانی دل بہت حساس ہوتا ہے لوگوں کی قدر اُن کی زندگی میں کریں اُنہیں اہمیت دیں اپنی زبان سے عمل سے کبھی کِسی کا دل نہ توڑیں کِسی کو تکلیف نہ دیں دوسروں کے لیے احساس محبّت پیدا کریں مسکرائیں اور نفرت کے اِس جہاں میں محبّتوں کو فروغ دیں...!!!!!

لیکن اَفسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم لوگ مردہ پرست ہیں جیتے جی کِسی کی قدر نہیں کرتے اُس کے آنسوؤں کی پرواہ نہیں کرتے اور مرنے کے بعد اس کے لیے روتے ہیں آنسو بہاتے ہیں اس کے جنازے کو کندھا دینا افضل سمجھتے ہیں...!!!!!

میرے نزدیک سب سے افضل کام کِسی جیتے جاگتے اِنسان کے آنسو پونچھنا ہے اس کی قدر کرنا ہے اس کے ٹوٹے ہوئے وجود کو سہارا دیکر سمیٹنا ہے جب آپ کسی اَدھورے شخص کو سمیٹنے کا کام کرتے ہیں اسے بِکھرنے سے سے بچاتے ہیں اسے اپنے ہی اندر میں مر جانے سے بچاتے ہیں اسے زندگی کی طرف لے کر آتے ہیں تو اِس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی افضل کام نہیں ہو سکتا...!!!!!

سمیٹنا سیکھیں روتی ہوئی آنکھوں کے آنسو پونچھنا سیکھیں کسی کی کھوئی ہوئی مسکراہٹ کو اس کے ہونٹوں تک لوٹانا سیکھیں یقین مانیں یہ ایسے کام ہیں جنہیں کر کے آپ کے دل کو بہت سکون ملے گا...!!!!!

لیکن اگر آپ کسی کو آپ برباد کرتے ہیں اُسے رلاتے ہیں اُسے ذہنی مریض بناتے ہیں اس کی کمزوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں تو پھر اپنی باری آنے کا انتظار ضرور کیجئیے گا کیونکہ مکافاتِ عمل کی چکی جب چلتی ہے تو پھر پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچتا💯

05/05/2025

مشکلات اور اندھیرے زندگی کا حصہ ہیں، لیکن وہی ہمیں نکھارتے ہیں۔ جیسے چاند صرف رات کے اندھیرے میں نظر آتا ہے، ویسے ہی انسان کی خوبیاں اور طاقتیں آزمائشوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔

24/04/2025

ہم انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف بغیر کسی ثبوت کے عسکری اور آبی جارحیت کے الزامات اور اقدامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ رویے نہ صرف خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھا کر دنیا بھر کی سلامتی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
ایسی کسی بھی جارحیت کے نتائج نہایت تباہ کن ہو سکتے ہیں، جن کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
اگر خدانخواستہ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی کوشش کی گئی تو ہم، اس ملک کے نوجوان، طلبہ اور محب وطن شہری، افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے، اور وطن عزیز کے دفاع کے لیے ہر میدان میں کردار ادا کریں گے

24/04/2025

صبر رکھنے والے لوگ سب سے خوبصورت انجام پاتے ہیں۔ زندگی ہمیشہ ویسے نہیں چلتی جیسے ہم چاہتے ہیں، مگر جو لوگ اس عمل پر بھروسا رکھتے ہیں، جو انتظار کی مشقت جھیلتے ہیں، وہ آخرکار وہیں پہنچتے ہیں جہاں اُنہیں ہونا چاہیے۔ صبر صرف انتظار کرنے کا نام نہیں—بلکہ یہ اُس وقت بھی یقین رکھنے کا نام ہے جب کچھ بھی سمجھ نہ آ رہا ہو۔ یہ اس بات پر ایمان رکھنے کا نام ہے کہ جو چیزیں آپ کے لیے بنی ہیں، وہ تب آئیں گی جب آپ واقعی اُنہیں پانے کے قابل ہوں گے، نہ کہ جب آپ اُنہیں زبردستی حاصل کرنا چاہیں۔
سب سے خوبصورت کہانیاں کبھی جلد بازی میں مکمل نہیں ہوتیں؛ وہ وقت لیتی ہیں، سبق دیتی ہیں، راہوں سے ہٹاتی ہیں، اور ان کہی جنگوں سے بھری ہوتی ہیں جنہیں کوئی نہیں دیکھتا۔ لیکن آخر میں، وہ لوگ جو صبر کا دامن تھامے رکھتے ہیں—جو طوفانوں میں بھی اپنے دل کو پر سکون رکھتے ہیں—وہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو دائمی سکون، محبت اور کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ جو چیز آپ کے لیے مقدر ہے، وہ کبھی آپ سے چھن نہیں سکتی؛ وہ بس صحیح وقت کے آنے کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔

22/04/2025

بعض لوگ زندگی میں ایسے آ جاتے ہیں جیسے کسی کھڑکی کے قریب رکھا ہوا سپائڈر پلانٹ۔ خاموش، سادہ، اور بے طلب۔ نہ کسی رنگین گملے میں سجے ہوتے ہیں، نہ ان پر کوئی خوشبو ہوتی ہے جو دور سے کھینچ لائے۔ مگر ان کے ہونے سے ہوا کچھ نرم ہو جاتی ہے، سانسیں کچھ ہموار، اور دل کچھ ہلکا سا لگنے لگتا ہے۔

وہ شور نہیں کرتے، خود کو نمایاں نہیں کرتے، مگر ان کی موجودگی فضا سے زہر چوس لیتی ہے — غصے، دکھ، اور تھکن کے دھویں کو جذب کر لیتی ہے۔ وہ لفظوں کے جھاڑو سے نہیں، خاموشی کے لمس سے صفائی کرتے ہیں۔ انہیں داد کی حاجت نہیں، اور واہ واہ کی تمنا بھی نہیں۔ جیسے سپائڈر پلانٹ چھوٹے ننھے پودے اپنی شاخوں پر خود ہی اگا لیتا ہے، ویسے ہی یہ لوگ دوسروں میں مسکراہٹیں، امیدیں اور ٹھہراؤ پیدا کرتے ہیں۔

یہ لوگ مشکل وقت میں سامنے آتے ہیں — بغیر کسی اعلان کے، بغیر کسی صلے کی چاہ کے۔ ان کے قریب بیٹھ کر ہم بھول جاتے ہیں کہ دنیا کتنی افراتفری میں ہے، کیونکہ وہ خود ہی سکون کی ایک جڑ بن جاتے ہیں۔

کاش ہم پہچان سکیں ایسے لوگوں کو — جو خود کو کبھی نمایاں نہیں کرتے، مگر ہماری سانسوں میں آسانی اور زندگی میں ہریالی گھول دیتے ہیں۔ اپنی اردگرد نظر ڈالیے اور ان قابلِ قدر افراد کی قدر کیجئے اور اگر آپ کی زندگی میں ایسا کوئی نہیں تو خود کسی کے لیے سپائیڈر پلانٹ بننے کا حق تو آپ کے پاس ہے نا... خود کسی کا سپائڈر پلانٹ بن جائیے..
سلامت رہیں

20/04/2025

تعلیمی مسائل اور ترقی کی راہیں

کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار صرف فوجی طاقت پر نہیں بلکہ عوام کے شعور، تعلیم اور صحت پر ہوتا ہے۔ جاپان اس بات کی روشن مثال ہے کہ تباہی کے باوجود تعلیم اور نظم و ضبط سے ترقی ممکن ہے۔ پاکستان کو اپنی نوجوان نسل پر سرمایہ کاری کرنی ہوگی تاکہ وہ تعلیم یافتہ ہو کر ملک کو آگے لے جائے۔ تعلیم دشمن سازشوں کو ناکام بنانے اور قومی ترقی کے لیے حکومت کو فوری، منظم اور وسیع اقدامات کرنا ہوں گے۔
تعلیم کو صرف ملازمت کا ذریعہ سمجھنا ایک محدود اور خطرناک سوچ ہے۔ ہمارے نوجوان تعلیم یافتہ ہو کر بھی جب روزگار سے محروم رہتے ہیں تو وہ ذہنی و جذباتی طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ یہ مسئلہ معاشرتی تضاد، ریاستی غفلت اور پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہمیں تعلیم کے مقصد کو وسیع تر بنانے، پیشہ ورانہ منصوبہ بندی کو فروغ دینے اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ تعلیم محض ملازمت کے حصول تک محدود نہ رہے بلکہ ایک باوقار اور باشعور معاشرہ تشکیل دے۔
یونس راجپوت

13/04/2025

کسانوں کے گندم کے ساتھ جڑے خواب چکنا چور

مجھے لگ رہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو آئندہ آنے والے پانچ سے دس سالوں میں خدا نخواستہ قحط والی صورتحال ہو گی اور یہ ہمارے ملک کے لیے بہت ہی برا ہوگا کیونکہ ہماری ترقی کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے اگر کسان بیچارے کو اس کی اصل قیمت بھی مارکیٹ میں نہیں ملتی تو پھر اس بیچارے نے مایوس ہو کے کیا کرنا ایک ہی حل کہ وہ آئندہ آنے والے سالوں میں فصل اگائے ہی نا۔ حکومت کو چاہیے کے کسان کو سبسڈی بھی دیا کرے اور اس کو اس کی اصل قیمت بھی دے نا ہی وہ پہلے والی پیداوار رہی ہے کیونکہ جب نا پانی فصل کو اتنا ملنا کیونکہ بجلی وہ مہنگی ہے کھاد سپرے وہ مہنگے داموں مارکیٹ میں مل رہے ہیں جب یہ چیزیں سستی ہوں گی کسان اپنی فصل کو دے گا جس سے پیداوار زیادہ ہوگی ان کسان بھائیوں کے خواب جو ہوتے کے فصل آئے گی تو اپنی بیٹی کا جہیز بناؤں گا وہ خواب بھی چکنا چور ہو گے.
فلور مل گندم سے اُترا چھلکا جسے چوکر کہتے ہیں اور یہ گندم کا کم ترین حصہ ہے 2800 روپے من بیچتی ہے جبکہ سوجی، میدہ، آٹا اور چوکر سمیت تمام تر توانائیوں سے بھرپور کسان کی سونا گندم آڑھتی کی چوکھٹ پر 1800 روپے من بکنے سے عاری ہے۔۔۔۔کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟برائے مہربانی حکومت کو اس مسئلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور کسان بیچاروں کا سرے عام قتل نہیں کرنا چاہیے ورنہ اس کے مستقبل میں اثرات بہت برے ہوں گے.
ہم کسان بھائیوں کو بھی ایک متفق تحریک بنانی چاہیے اور ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے.
اللّٰہ پاک سے دعا بھی یہ ہے کہ ہمارے ملک کو افراتفری والی صورتحال سے بچائے اور امن والی صورتحال قائم رکھے آمین ہم سب لوگوں کو کسان بھائیوں کی آواز بننا چاہیے ہم گاؤں والوں کے پاس اس فصل کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا سارے خواب اسی کے ساتھ جڑے ہوتے اور حکومت کو ان خوابوں کا سرے عام قتل نہیں کرنا چاہیے
دعا گو: یونس راجپوت

Want your school to be the top-listed School/college in Pakpattan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Chak Mahant Darshan Post Office Kalyana City Pakpattan Sharif
Pakpattan
57400