14/06/2025
ہر فن مولا یا فن کا مولا؟
فرق جان لو، ورنہ وقت سکھا دے گا!
✍️ تحریر: ابو حذیفہ احمد رضا مدنی
---
پتر: بابا جی! آج کل تو ہر طرف شور ہے:
"ہر فن مولا بنو، ہر چیز آنی چاہیے!"
بابا حکمت علی :
او پتر! یہ "ہر فن مولا" اکثر کسی ایک فن میں بھی مولا نہیں ہوتا!
سو جگہ چھوٹے چھوٹے گڑھے کھودنے سے پانی نہیں نکلتا… ایک جگہ گہری کھدائی کرو، تب جا کے پانی نکلے گا!
🎯 فن میں مہارت = کامیابی کی چابی
بابا: دیکھ پتر! جن لوگوں کو دنیا یاد رکھتی ہے، وہ "ہر فن مولا" نہیں بلکہ اپنے فن کے مولا تھے:
🔹 ڈاکٹر عبد القدیر خان
ایٹمی سائنس کے ماہر، محسنِ پاکستان بنے۔
🔹 قاری عبدالباسط
تلاوتِ قرآن میں مہارت، دلوں کو روشن کر گئے۔
🔹 قائداعظم محمد علی جناح
قانون، قیادت اور تدبر کے ماہر، قوم کو آزادی دلائی۔
🔹 امام اعظم ابو حنیفہ
فقہ، اجتہاد اور اصولوں میں مہارت، فقہی نظام کے بانی۔
🔹 امام بخاری و امام مسلم
فنِ حدیث میں مہارت کے عالم، صحاحِ ستہ کا تاج بنے۔
🔹 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
شاعری، تفسیر، حدیث، فقہ، منطق، ریاضی، سائنس، نحو، صرف…
پچاس سے زائد علوم میں مہارت، ہزار سے کتب کے مصنف
ایسا ہر فن مولا — رب کی خاص عطا سے ہوتا ہے۔
(ان بزرگوں کی قبروں پر اللہ پاک کی رحمت ہو)
پتر: تو مطلب، ایک فن پکڑیں اور اس میں استاد بن جائیں؟
بابا: بالکل پتر! جیہڑا فن تجھے پکڑ لے، تُو اُس فن کو مضبوطی سے تھام لے!
دنیا کو "کنفیوژ ہر فن مولا" نہیں، اپنی فیلڈ کے ماہر اور بااثر لوگ چاہییں۔
پھر لوگ ان کے پیچھے پیچھے ہوتے ہیں۔
✅ سبق کی بات
"پتر! ہر فن مولا اکثر ہر فن بھولا ہوتا ہے… لیکن ایک فن کا ماہر تاریخ لکھ دیتا ہے!"
"او پتر! جو ایک جگہ کھدائی کرے گا، وہی پانی نکالے گا!"
💬 کمنٹ کریں:
آپ کس فن میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
کیا کسی ماہر فن نے آپ کی زندگی بدل دی؟
نیچے کمنٹ کریں اور دوسروں کو ترغیب دیں۔
---
12/06/2025
کرامت کیمرے میں کیوں نہیں آتی؟
✍️ تحریر: ابو حذیفہ احمد رضامدنی
---
نوجوان: بابا جی، اب کرامتیں کہاں ہوتی ہیں؟ آج تو ہر جگہ کیمرہ لگا ہے، لیکن نہ کوئی اڑتا نظر آتا ہے، نہ دیواروں سے گزرتا ہے۔ کوئی کرامت کیمرے میں کیوں نہیں آتی؟
بابا جی (مسکرا کر): بیٹا، کرامت کیمرے میں نہیں، دل کے لینز میں آتی ہے… اور وہ بھی تب، جب دل رب کے نور سے روشن ہو۔
نوجوان (ہنستے ہوئے): تو بابا جی، پرانی کرامتیں پھر افسانے ہی ہوئیں؟
بابا جی (آنکھوں میں ایک چمک کے ساتھ): افسانے نہیں، حقیقتیں تھیں…
کبھی حضرت مریم علیہا السلام کے محراب میں بے موسم تازہ پھل آ جاتے تھے — اور دیکھنے والے کوئی عام آدمی نہیں، نبی حضرت زکریا علیہ السلام تھے۔
کبھی حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں ایک وزیر، آصف بن برخیا، پلک جھپکنے سے پہلے ملکہ بلقیس کا تخت لے آیا تھا — اور دیکھنے والے ایمان والے تھے، جنہوں نے سچ کو پہچانا۔
نوجوان (سنجیدہ انداز میں): پھر آج کے دور میں؟ کیا عامر قذافی جیسے لوگ بھی کرامت کا حصہ ہو سکتے ہیں؟
بابا جی (خفیف مسکراہٹ کے ساتھ): ارے بیٹا، عامر قذافی وہ عام انسان تھا جس کے دل میں صرف مدینہ پاک کی تڑپ تھی — نہ کوئی سفارشی، نہ مالدار، نہ کوئی خاص تعلق۔ بس ایک بے تاب دل!
اس کی مدینہ پاک کی نیت ایسی خالص تھی کہ امیگریشن والے، قانون والے، سب اس کے سامنے بے بس ہو گئے۔
جہاز بھی آیا، دروازے بھی کھلے — اور دنیا نے صرف نتیجہ دیکھا، نیت کسی نے نہ دیکھی…
میں نے بات بڑھاتے ہوئے کہا:
بات کیمرے کی نہیں، قبولیت کی ہے۔
ابو جہل نے بھی نبی کریم ﷺ کے ہاتھوں کئی معجزے دیکھے — لیکن بدبخت ہی رہا۔
اور جو سچے دل سے دیکھے، وہ خوش بختی پا لیتے ہیں۔
بابا جی (ہنستے ہوئے):
آج بھی کرامت موجود ہے،
بس آنکھیں دھندلا گئی ہیں…
اور کیمرے کی آنکھ…
وہ صرف جسم کو دیکھتی ہے، روح کو نہیں!
✨ نتیجہ:
کرامت اب بھی ہوتی ہے،
مگر وہ وائرل نہیں ہوتی — قبول ہوتی ہے۔
وہ نہ TikTok پر آتی ہے، نہ Instagram پر،
بس دل کی سکرین پر روشن ہوتی ہے —
اگر وہ دل اللہ کے نور سے جگمگا رہا ہو۔
آپ سے اختتامی سوال !
"کیا آپ نے کبھی ایسی 'قبولیت' دیکھی ہے جو کسی کیمرے میں نہ تھی… لیکن دل نے فوراً پہچان لی؟"
👇
اپنا تجربہ یا احساس کمنٹس میں ضرور لکھیے
---------
#کرامت
#روحانیت
11/06/2025
کیا آپ کا دوسرا دل بھی دھڑک رہا ہے؟
تحریر: ابو حذیفہ احمد رضا مدنی
----------
ڈاکٹر صاحب! دل تو انسان کے سینے میں ایک ہوتا ہے، یہ دوسرا دل کہاں سے آ گیا؟
یہ سوال اکثر حیرت سے پوچھا جاتا ہے، اور جواب سادہ مگر شاندار ہے: انسان کے پنڈلیوں کے عضلات، خاص طور پر کیلف مسلز (Calf Muscles) کو میڈیکل سائنس میں "دوسرا دل" یا "Peripheral Heart" کہا جاتا ہے۔
یہ وہ عضلات ہیں جو جسم میں خون کے بہاؤ کو دل کی طرف دھکیلنے میں مدد دیتے ہیں۔
جب انسان چلتا ہے، سیڑھیاں چڑھتا ہے یا محض کھڑا ہو کر وزن منتقل کرتا ہے تو یہ پٹھے فعال ہو جاتے ہیں۔ ان کا سکڑنا اور پھیلنا رگوں پر ایک قدرتی دباؤ ڈالتا ہے جو venous return کو بہتر بناتا ہے، یعنی خون کو نیچے سے واپس دل تک پہنچانے میں مدد کرتا ہے۔ یہ عمل دل پر بوجھ کم کرتا ہے اور خون کے جمنے سے بچاؤ فراہم کرتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو دیر تک بیٹھے رہتے ہیں یا کم حرکت کرتے ہیں۔
آج کی جدید میڈیکل تحقیق بتاتی ہے کہ جو لوگ دن میں کم از کم 30 منٹ پیدل چلتے ہیں، ان میں ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھتا ہے بلکہ دماغی صحت، نیند، اور جسمانی توانائی میں بھی بہتری لاتا ہے۔
اسلام میں بھی پیدل چلنے کو بڑی فضیلت دی گئی ہے۔
نماز کے لیے مسجد چل کر جانا، حج میں پیدل سفر، صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سادہ زندگی سب میں حکمت ہے۔
نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان کہ "ہر قدم پر نیکی لکھی جاتی ہے"، صرف روحانی نہیں بلکہ جسمانی فائدے کا اشارہ بھی ہے۔
پیدل چلنا ایک سنت ہے، ایک عبادت ہے، ایک شفاء ہے۔
❝تو کیا آپ روزانہ اپنے دوسرے دل کو حرکت دیتے ہیں؟
یا وہ بس خاموش بیٹھا رہتا ہے...؟❞
---
10/06/2025
☀️ "مجھے گرمی کچھ کہتی نہیں!"
تحریر: ابو حذیفہ احمد رضا مدنی
مکالمہ: ڈاکٹر فہد یاسین بھٹی (ماہر موسمیات و ماحولیات)
سلسلہ: آج کی بات
---
میں (پنکھے کے نیچے بیٹھے ہوئے):
بابا حکمت علی آج کل غائب ہیں؟
کوئی نئی مہم پر تو نہیں نکلے؟
ڈاکٹر فہد (مسکرا کر):
بابا حکمت علی آجکل گرمی سے بچاؤ کا کورس کروارہے ہیں۔
کہتے ہیں: "ہمیں نہ گرمی کچھ کہتی ہے، نہ ہم گرمی سے کچھ کہتے ہیں!"
اور میں کہتا ہوں:
"جنابِ والا! گرمی کچھ نہیں کہتی… کر کے دکھاتی ہے!"
اب یہ صرف درجہ حرارت نہیں… پورا "ہیٹ اٹیک" ہے!
اور بدقسمتی یہ کہ اس کا بہت سا قصور خود انسان کا ہے۔
میں (چونک کر):
انسان؟ یعنی ہم خود؟
ہم نے سورج کا کیا بگاڑا ہے؟
ڈاکٹر فہد (سنجیدہ ہوتے ہوئے):
جی! جب ہم درخت کاٹتے ہیں 🌳،
زمین کا سینہ کنکریٹ سے ڈھانپ دیتے ہیں،
گاڑیوں، کارخانوں، اور فضائی آلودگی سے ماحول کا دم گھونٹتے ہیں…
تو وہی ماحول، جو چھاؤں دیتا تھا،
آگ برسانا شروع کر دیتا ہے۔
میں (جوانی دکھاتے ہوئے):
ڈاکٹر صاحب! مجھے تو گرمی کچھ نہیں کہتی!
میں تو سیدھا دھوپ میں واک کرنے نکلتا ہوں…
ڈاکٹر فہد (ہنستے ہوئے):
ارے میاں! گرمی سے "لڑنے" نہیں جاتے،
اس سے "بچنے" کی تدبیر کرتے ہیں۔
یاد رکھو!
"ہیرو وہ نہیں جو دوپہر میں سڑک پر پھرتا ہے،
ہیرو وہ ہے جو خود بھی بچے… اور دوسروں کو بھی بچائے!"
🛑 ہیٹ ویو سے بچاؤ کے سنہری اصول
✅ پانی وافر مقدار میں پئیں (چاہے پیاس نہ لگے)
✅ دوپہر 11 سے شام 4 تک دھوپ سے بچیں
✅ ہلکے، ڈھیلے، سوتی کپڑے پہنیں
✅ دھوپ میں ٹوپی، چشمہ، سن گلاسز ضروری
✅ لسی، سَتو، خربوزہ، کھیرا، تربوز… گرمی کے دشمن تمارے دوست!
✅ بچوں، بزرگوں، اور بیماروں کو ٹھنڈی جگہ رکھیں
✅ بند گاڑی میں کسی کو مت چھوڑیں
✅ سر درد، تھکن، چکر یا قے کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں
اختتامی بات:
ڈاکٹر فہد:
"فطرت کو ناراض نہ کرو…
ورنہ وہ گرمی سے سبق نہیں سکھاتی، سزا دے دیتی ہے۔"
میں:
"اور خود کو ٹارزن مت سمجھو کہ ہمیں کچھ نہیں ہوتا…
گرمی کے آگے نہ بہادری کام آتی ہے، نہ ڈرامہ بازی!"
آخر میں ایک سوال... اور آپ سے درخواست!
پیارے قارئین!
کیا آپ کے اردگرد کسی نے گرمی، لو لگنے یا ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے تکلیف یا حادثہ دیکھا ہے؟
اگر ہاں، تو اپنی رائے یا تجربہ کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔
آپ کا ایک جملہ، کسی اور کے لیے "زندگی کی حفاظت" بن سکتا ہے۔
💬 تبصرہ کیجیے، تربیت بانٹیے، اور صدقہ جاریہ بنایئے!
---
09/06/2025
مہمانِ محترم اور میزبان مجبور
✍️ تحریر: ابو حذیفہ احمد رضا مدنی
---
بابا حکمت علی (چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے):
"بیٹا حذیفہ! مبارک ہو… تم اب اس مقام پر آ چکے ہو جہاں مہمان خود سے آنے لگتے ہیں!"
میں (مسکرا کر):
"بابا! لیکن وہ مہمان کم اور رشتہ داروں کی شاخ در شاخ توسیع زیادہ لگتے ہیں… جیسے ہفتہ بھر قیام کا ارادہ ہو!"
بابا (تبسم کے ساتھ):
"بیٹا! اگر مہمان وقت پر رخصت نہ ہو، تو وہ نعمت نہیں رہتا… کبھی کبھار آزمائش بن جاتا ہے۔
اب کل والے مہمان کو ہی دیکھ لو… تمہاری مسکراہٹ تھکی تھکی سی تھی، اور تمہاری بیگم تین بار چائے گرم کر چکی تھیں۔"
میں (گہری سانس لیتے ہوئے):
"بابا! سب برداشت کیا، لیکن جب کھانے پر گوشت رکھا تو فرمایا:
‘بھائی! یہ گوشت کچھ سخت سا ہے… کچھ اور ہوتا تو بہتر تھا!’"
بابا (متانت سے):
"بیٹا! کچھ مہمان کھانے میں ذائقہ نہیں، غلطی تلاش کرتے ہیں۔
جبکہ مہمان بننے کا پہلا اصول ہے:
'جو ملے، اس پر شکر کرو، اور خلوص کو دیکھو ذائقے کو نہیں!'"
> "مہمان بنو… تو بنو نعمت، زحمت نہیں!
گفتگو میں نرمی ہو، قیام میں اعتدال ہو، اور دل میں شکر ہو۔
کھانے پر تنقید نہ کرو، اور میزبان کے وقت کا خیال رکھو۔
وقت پر آنا بھی ادب ہے… وقت پر جانا بھی!"
میزبان کا کردار بھی اہم ہے:
بابا (حکیمانہ لہجے میں):
"بیٹا! اگر کسی کو خود بلاؤ…
تو خلوص سے کھلاؤ، دکھاوے سے نہیں!
اگر مہمان کچھ کہہ دے، تو دل برداشتہ مت ہو۔
اور اگر مہمانداری کا حوصلہ نہ ہو… تو دعوت دینا مؤخر کر دو، بے رخی سے بہتر ہے۔"
💬 آپ سے سوال:
📢 پیارے دوستو!
آپ کی نظر میں ایک باادب مہمان کی کیا خوبیاں ہونی چاہئیں؟
یا کبھی آپ خود میزبان کے طور پر کسی دلچسپ تجربے سے گزرے ہوں؟
👇 نیچے کمنٹ میں اپنا تجربہ ضرور لکھیں —
کیونکہ…
"آج کی بات" — خوش مزاجی میں حکمت، اور حکمت میں مسکراہٹ! 💐
---
08/06/2025
🌟 آج کی بات – آپ کی بات! 🌟
الحمدللہ!
ہمارے آفیشل فیس بک پیج "آج کی بات" پر کچھ خوش نصیب افراد ٹاپ فینز کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں —
ان میں سرفہرست ہیں:
💎 حسن شبیر راجہ صاحب
ہم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
📣 ایک بڑا "شکریہ" ان تمام احباب کا
جو ہمارے کالمز کو باقاعدگی سے پڑھتے ہیں، لائک کرتے ہیں، شیئر کرتے ہیں اور اپنی قیمتی رائے سے نوازتے ہیں۔
آپ کی یہ محبت، ہماری تحریروں میں اخلاص اور بہتری کی روح پھونکتی ہے۔
✨ ہمیں آپ کے تبصروں کا انتظار رہتا ہے!
ہم جاننا چاہتے ہیں کہ "آج کی بات" کے کالمز آپ کو کیسے لگتے ہیں؟
👇
کمنٹ باکس میں ضرور بتائیے:
✅ کیا چیز دل کو چھو گئی؟
✅ کس انداز نے متاثر کیا؟
✅ آپ کیا مزید دیکھنا چاہتے ہیں؟
یاد رکھیں!
آپ کا ایک جملہ، ہمیں بہتر لکھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
خیر مقدم کریں، اظہار کریں، شامل رہیں!
"آج کی بات" — دل کی بات، ہر دن آپ کے ساتھ!
✍🏻 : احمد رضا مدنی
08/06/2025
بابا حکمت علی کو سعودیہ سے ایک حاجی کی کال
سیریز: آج کی بات
تحریر: ابو حذیفہ احمد رضا مدنی
-----------------
📞 کال موصول ہوئی
"السلام علیکم بابا جی! میں اس بار حج پر آیا ہوں… مگر بابا جی، یہاں تو بڑی گرمی ہے، کھانا موافق نہیں آ رہا، رش بہت ہے، چلنا بہت پڑتا ہے… کیا کیا بتاؤں!"
📿 بابا حکمت علی نے مسکرا کر جواب دیا:
"بیٹا! کیا تم عمرہ کرنے آئے ہو یا حج ادا کرنے؟"
"بابا جی حج… الحمدللہ!"
بابا جی نے آہستہ کہا:
"تو پھر بیٹا! حج کسی ٹھنڈے کمرے، اے سی، پسندیدہ کھانے، اور آرام دہ بستر کا نام نہیں ہے۔ حج تو ایثار، صبر، اور عاجزی کا مظہر ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جس میں انسان ربّ کی رضا کے لیے اپنی آسانیوں کو قربان کرتا ہے۔"
🤲 حاجی کچھ خاموش ہوا…
"بابا جی بات تو آپ کی درست ہے، لیکن واقعی موسم سخت ہے۔"
👴 بابا حکمت علی بولے:
"ہاں بیٹا، گرمی ہے… لیکن یاد رکھو!
یہ گرمی وقتی ہے،
یہ پیاس عارضی ہے،
یہ دھکے چند دن کے ہیں،
مگر جس ربّ کے مہمان ہو،
اس کا انعام ہمیشہ کے لیے ہے!"
🌟 "بیٹا! جب تم مقامِ عرفات میں سورج کے نیچے کھڑے ہوتے ہو… تو ربّ تم پر اپنی رحمت کی بارش کر رہا ہوتا ہے۔
جب تم مزدلفہ میں سوتے ہو… تمہارے گناہ زمین پر گرے ہوتے ہیں۔
جب تم کنکریاں مارتے ہو… شیطان کی ناک رگڑی جاتی ہے۔
اور جب تم کعبہ کا طواف کرتے ہو… رب تمہیں رحمت کی نگاہ دیکھتا ہے۔"
📱 فون پر خاموشی چھا گئی…
پھر حاجی کی آواز آئی:
"بابا جی! مجھے معاف کریں… میں کمزور پڑ گیا تھا۔ اب ان شاء اللہ صبر، شکر، اور عبادت کے ساتھ ہر لمحہ گزاروں گا۔"
بابا جی نے دعا دی:
"اللہ تمہارا حج قبول فرمائے بیٹا، اور ہمیں بھی وہاں حاضر کرے… آمین!"
---
🟢 اہل خانہ کے لیے پیغام:
اگر آپ کا کوئی عزیز حج پر گیا ہے، تو اسے آرام کی باتیں کم اور دعا کی گزارش زیادہ کریں۔
انہیں حوصلہ دیں، مشکلات پر صبر کی تلقین کریں، اور یاد دلائیں کہ وہ ربّ کا مہمان ہے۔
............
07/06/2025
عید الاضحیٰ: کیا ہم صرف جانور ذبح کریں گے؟
تحریر:ابو حذیفہ احمد رضا مدنی
---------------
عید کی خوشبو چار سُو پھیل چکی ہے…
نئے کپڑے، تصویریں، گوشت کے پیکٹ، فیس بک پوسٹیں، مہنگے جانوروں کی ویڈیوز…
سب کچھ تیار ہے۔
مگر ایک سوال…
کیا عید الاضحیٰ صرف جانور ذبح کرنے کا نام ہے؟
یا…
خود کو، اپنے نفس کو، اپنی انا، اپنی خواہشات کو قربان کرنے کا بھی دن ہے؟
---
آیئے بابا جی سے ملتے ہیں، جن کی آنکھوں میں صبر، چہرے پر نور، اور باتوں میں درد ہوتا ہے۔
"بابا جی، عید مبارک!"
"تجھے بھی پتر! اللہ تیرا دل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح وفادار کرے… اور تیرا عمل حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسا تابعدار!"
میں مسکرایا، لیکن دل میں سوال ابھرا:
"بابا جی! آپ ہمیشہ دعا میں انبیائے کرام علیہم السلام کی بات کیوں کرتے ہیں؟"
بابا جی نے گہرا سانس لیا:
"پتر، عید الاضحیٰ کوئی عام خوشی نہیں…
یہ جذبۂ تسلیم و رضا کی یاد ہے۔
یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ…
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف بیٹے کو ذبح کرنے کی کوشش نہیں کی،
بلکہ اپنی محبت، اپنی چاہت، اپنی انا کو اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔
اور حضرت اسماعیل علیہ السلام…
وہ صرف بیٹا نہ تھے،
وہ اطاعت، ادب، صبر، اور رضا کی زندہ تصویر تھے۔"
---
"بابا جی! آج ہم تو جانور ذبح کرتے ہیں، کیا یہی کافی ہے؟"
بابا جی کی آنکھوں میں نمی آ گئی:
"پتر… جب تک ہم اپنی نفرت، حسد، غصہ، ضد، فخر، جھوٹ، نفاق اور نفس کو ذبح نہ کریں،
یہ قربانی صرف ایک رسم ہے، عبادت نہیں!"
"اللہ کو نہ گوشت پہنچتا ہے، نہ خون…
اسے تمہارا تقویٰ، تمہارا اخلاص، تمہاری نیت پہنچتی ہے۔"
(سورۃ الحج، آیت 37)
---
"بابا جی، کوئی خاص عمل جو آج کے دن کیا جائے؟"
بابا جی بولے:
"پتر، اپنے مرحومین کو مت بھول…
وہ جو کل ہمارے ساتھ عید کی نماز پڑھتے تھے،
آج قبروں میں ہمارے لیے دعاؤں کے منتظر ہیں۔
ہر عید پر "سبحان اللہ وبحمدہ" 300 بار پڑھ کر سب مرحوم مسلمانوں کو ایصال ثواب کر…
اللہ ہر قبر کو نور سے بھر دیتا ہے…
اور جب تو خود دنیا سے جائے گا، تیری قبر بھی منور ہو گی۔"
---
بابا جی کی آخری بات دل میں اُتر گئی:
"پتر، سچی عید وہ ہے جس میں اللہ کی رضا ہو…
ورنہ ہم صرف گوشت بانٹتے رہیں گے، قربانی کے حق دار نہ بن سکیں گے۔"
------------
📍 عید پر کچھ باتیں یاد رکھیں:
🔹 مہنگے جانور، قیمتی لباس، اور تصاویر دکھانے سے گریز کریں —
کوئی مفلس دیکھ کر تڑپ بھی سکتا ہے۔
🔹 چوروں، لٹیروں کے لیے عید کا دن بھی موقع بن سکتا ہے — احتیاط کریں۔
🔹 حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اطاعت کو اپنا شعار بنائیں۔
🔹 اور سب سے بڑھ کر…
اپنے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عید کے دن خاص طور پر یاد کریں،
جنہوں نے ہم امت کے لیے راتوں کو رو رو کر دعائیں مانگیں،
ہمارے لیے سجدوں میں گڑگڑائے،
ہمارے لیے قربانیاں دیں…
---
تو فیصلہ آج آپ کے ہاتھ میں ہے:
کیا ہم صرف جانور ذبح کریں گے…؟
یا اپنے نفس کو بھی اللہ کی راہ میں قربان کریں گے؟
عید الاضحیٰ مبارک ہو…
مگر ابراہیمی پیغام کے ساتھ!
----------------
📌 ٰ
📌
📌
📌
📌
📌
07/06/2025
عید الاضحیٰ: کیا ہم صرف جانور ذبح کریں گے؟
تحریر:ابو حذیفہ احمد رضا مدنی
---------------
عید کی خوشبو چار سُو پھیل چکی ہے…
نئے کپڑے، تصویریں، گوشت کے پیکٹ، فیس بک پوسٹیں، مہنگے جانوروں کی ویڈیوز…
سب کچھ تیار ہے۔
مگر ایک سوال…
کیا عید الاضحیٰ صرف جانور ذبح کرنے کا نام ہے؟
یا…
خود کو، اپنے نفس کو، اپنی انا، اپنی خواہشات کو قربان کرنے کا بھی دن ہے؟
---
آیئے بابا جی سے ملتے ہیں، جن کی آنکھوں میں صبر، چہرے پر نور، اور باتوں میں درد ہوتا ہے۔
"بابا جی، عید مبارک!"
"تجھے بھی پتر! اللہ تیرا دل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح وفادار کرے… اور تیرا عمل حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسا تابعدار!"
میں مسکرایا، لیکن دل میں سوال ابھرا:
"بابا جی! آپ ہمیشہ دعا میں انبیائے کرام علیہم السلام کی بات کیوں کرتے ہیں؟"
بابا جی نے گہرا سانس لیا:
"پتر، عید الاضحیٰ کوئی عام خوشی نہیں…
یہ جذبۂ تسلیم و رضا کی یاد ہے۔
یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ…
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف بیٹے کو ذبح کرنے کی کوشش نہیں کی،
بلکہ اپنی محبت، اپنی چاہت، اپنی انا کو اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔
اور حضرت اسماعیل علیہ السلام…
وہ صرف بیٹا نہ تھے،
وہ اطاعت، ادب، صبر، اور رضا کی زندہ تصویر تھے۔"
------
"بابا جی! آج ہم تو جانور ذبح کرتے ہیں، کیا یہی کافی ہے؟"
بابا جی کی آنکھوں میں نمی آ گئی:
"پتر… جب تک ہم اپنی نفرت، حسد، غصہ، ضد، فخر، جھوٹ، نفاق اور نفس کو ذبح نہ کریں،
یہ قربانی صرف ایک رسم ہے، عبادت نہیں!"
"اللہ کو نہ گوشت پہنچتا ہے، نہ خون…
اسے تمہارا تقویٰ، تمہارا اخلاص، تمہاری نیت پہنچتی ہے۔"
(سورۃ الحج، آیت 37)
-----
"بابا جی، کوئی خاص عمل جو آج کے دن کیا جائے؟"
بابا جی بولے:
"پتر، اپنے مرحومین کو مت بھول…
وہ جو کل ہمارے ساتھ عید کی نماز پڑھتے تھے،
آج قبروں میں ہمارے لیے دعاؤں کے منتظر ہیں۔
ہر عید پر "سبحان اللہ وبحمدہ" 300 بار پڑھ کر سب مرحوم مسلمانوں کو ایصال ثواب کر…
اللہ ہر قبر کو نور سے بھر دیتا ہے…
اور جب تو خود دنیا سے جائے گا، تیری قبر بھی منور ہو گی۔"
---
بابا جی کی آخری بات دل میں اُتر گئی:
"پتر، سچی عید وہ ہے جس میں اللہ کی رضا ہو…
ورنہ ہم صرف گوشت بانٹتے رہیں گے، قربانی کے حق دار نہ بن سکیں گے۔"
------------
📍 عید پر کچھ باتیں یاد رکھیں:
🔹 مہنگے جانور، قیمتی لباس، اور تصاویر دکھانے سے گریز کریں —
کوئی مفلس دیکھ کر تڑپ بھی سکتا ہے۔
🔹 چوروں، لٹیروں کے لیے عید کا دن بھی موقع بن سکتا ہے — احتیاط کریں۔
🔹 حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اطاعت کو اپنا شعار بنائیں۔
🔹 اور سب سے بڑھ کر…
اپنے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عید کے دن خاص طور پر یاد کریں،
جنہوں نے ہم امت کے لیے راتوں کو رو رو کر دعائیں مانگیں،
ہمارے لیے سجدوں میں گڑگڑائے،
ہمارے لیے قربانیاں دیں…
---
تو فیصلہ آج آپ کے ہاتھ میں ہے:
کیا ہم صرف جانور ذبح کریں گے…؟
یا اپنے نفس کو بھی اللہ کی راہ میں قربان کریں گے؟
عید الاضحیٰ مبارک ہو…
مگر ابراہیمی پیغام کے ساتھ!
----------------
📌 ٰ
📌
📌
📌
📌
📌
06/06/2025
گوشت، عید اور مریض
✍️ تحریر: ابو حذیفہ احمد رضا مدنی
------------
نیو سٹی کلینک پر
عید سے ایک دن پہلے کی چہل پہل میں
مریض مجاہد بٹ، کی
ڈاکٹر فہیم ندیم
ماہر غذائیت و امراض معدہ
اسپیلسٹ، نیو سٹی ہسپتال، لاہور سے ملاقات
---
مریض مجاہد بٹ (چہرے پر پریشانی لیے):
ڈاکٹر صاحب! عید آ گئی ہے، گوشت کا موسم ہے… دل کلیجی، مغز، کباب اور چانپیں مانگ رہا ہے!
مگر شوگر، بی پی، کولیسٹرول اور یورک ایسڈ تو میرے ساتھ بھی روزے رکھ کر عید منا رہے ہیں۔
ڈاکٹر فہیم ندیم (مسکراتے ہوئے):
تو پھر بٹ صاحب، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کا معدہ عید کے فوراً بعد ICU میں داخل ہو جائے!
مریض (ہنستے ہوئے):
تو کیا میری عید پھیکی کھچڑی اور اُبلی سبزیوں پر ختم ہو گی؟
ڈاکٹر:
نہیں نہیں، کلیجی کھائیے… مگر تھال بھر کر نہیں! گوشت کھائیے… مگر احتیاط سے۔
> "تم گوشت کی یادوں میں گم ہو، تو میں تمہیں ہوش کی دوائیں لکھ رہا ہوں!"
1. Esomeprazole 20mg — ناشتہ سے 30 منٹ پہلے
2. Gaviscon Syrup — کھانے کے بعد (دوپہر و رات)
3. Febuxostat 40mg — اگر یورک ایسڈ بڑھا ہو
4. Panadol Extra — جوڑوں کے درد کے لیے
5. Simvastatin 10mg — کولیسٹرول کنٹرول کے لیے
🔔 اتنے میں دروازے پر دستک ہوتی ہے...
مریض:
لگتا ہے کوئی قیمہ بنانے کے مشورے لینے آیا ہے!
ڈاکٹر:
ارے واہ، یہ تو حکیم عمران مدنی صاحب ہیں!
ماہر امراض معدہ و مفاصل
لیکچرار، طبیہ کالج لاہور
سابق مشیر، نیشنل ہیلتھ اینڈ ہربز ریسرچ فورم، پاکستان
حکیم عمران مدنی (مسکراتے ہوئے داخل ہوتے ہیں):
السلام علیکم، مجاہد صاحب!
سوچا قربانی سے پہلے قربانی کے مریض کی عیادت کر لوں۔ ثواب بھی ملے، اور…
(ڈاکٹر سے مخاطب ہو کر)
ڈاکٹر صاحب، صبح ہمارے جانور ذبح کرنے کے لیے قصائی کتنے بجے آئے گا؟
مریض:
حکیم صاحب، کلیجی، مغز اور چانپیں اگر دل کہے تو…؟
حکیم:
دل کی مانیں، مگر پیٹ کی بھی سنیں!
یہ قہوہ بنائیے:
🫖 قہوہ برائے گوشت کے شوقین حضرات کے لئے:
سونف + اجوائن + دارچینی — (1/2 چمچ ہر ایک)
ایک گلاس پانی میں ابالیں
کھانے کے بعد نیم گرم پی لیں
→ معدہ، گیس، یورک ایسڈ، سب سے نجات!
مریض:
اور جوڑوں کا درد ہو تو؟
حکیم:
تو پھر یہ سفوف تیار رکھیں:
🌿 سفوف برائے جوڑوں کا درد:
سونٹھ(خشک ادرک) + کلونجی + میتھی دانہ — برابر مقدار
پیس کر رکھ لیں، آدھا چمچ صبح و شام
→ گھٹنے ہوں یا کمر، سب سنبھالے گا۔
مریض:
یہ تو صرف مریضوں کے لیے ہے نا؟
حکیم:
نہیں جناب! یہ ہر اُس شخص کے لیے ہے جو "حد سے زیادہ گوشت کھاتا ہے اور حد سے کم چلتا ہے!"
مریض (مسکرا کر):
ڈاکٹر صاحب، لگتا ہے حکیم صاحب نے بازی مار لی!
آپ کے پاس میڈیکل اسٹور کی دوا،
ان کے پاس کچن کی دوا،
اور میرے پاس بس چمچ اور پلیٹ!
ڈاکٹر (ہنستے ہوئے):
بٹ صاحب ہم دشمن نہیں، ہمارا طریقہء علاج مختلف ہے۔
سچ بتاؤں… میری والدہ حکیم صاحب کا قہوہ پیے بغیر دوا نہیں کھاتیں!
مریض:
واہ!
عید گوشت + قہوہ کے ساتھ مناؤں گا،
جوڑوں کے درد + اسپتال کے ساتھ نہیں!
اور
عید پر گوشت کھائیں — مگر اعتدال سے!
قہوہ اور پرہیز — عید کو واقعی عید بنا دیتے ہیں۔
ورنہ خوشی کے دن — تکلیف میں بدل سکتے ہیں۔
📣 آپ سے گزارش ہے...
📞 ناراض رشتے داروں کو صرف میسج نہ کریں… کال کیجیے یا ملنے جائیے۔
ان کے دل کا موسم بدلنے میں دیر نہیں لگتی… بس ایک گرم جوش سلام اور سچے معذرت خواہ الفاظ کافی ہیں۔
قربانی صرف جانور کی نہ ہو… اپنی انا، وقت اور لاپرواہی کی بھی قربانی دیجیے!
اپنے غریب پڑوسی کو گوشت کا حصہ دیجیے… لیکن ایسا کہ اس کا دل بھی خوش ہو، صرف پلیٹ نہیں۔
🕌 محلے کے امام صاحب کو عید پر مصافحہ کے ساتھ "ڈبل عیدی" دیجیے… گوشت کی بھی اور محبت کی بھی — نقدی یا تحفہ کی صورت میں۔
🫖 اور ہاں!
قہوہ اور مزاح، دونوں ساتھ رکھیں… تاکہ عید صحت کے ساتھ، اور دلوں کی راحت کے ساتھ گزرے!
🔁 اس پیغام کو آگے بڑھائیے…
خوشیاں بانٹیے… اور اس بار عید کو صرف تہوار نہیں، تاثر بنائیے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#عید کی عیدی
#گوشت محبت اور قہوہ
#امام کے ساتھ ڈبل عیدی
#ناراض رشتہ داروں سے ملاقات
#غریب ہمسائے کا خیال
#صرف میسج نہیں کال
#عید صحت کے ساتھ
#خلوص کا گوشت
#تہوار نہیں تاثر
#مصافحہ نہیں محبت
#احمد رضا مدنی
05/06/2025
کیا تُو عرفات میں ہے… یا عرفات تیرے دل میں؟
تحریر: ابو حذیفہ احمد رضا مدنی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بابا جی… آج یومِ عرفہ ہے نا؟"
"ہاں پتر… آج وہ دن ہے جب آسمان زمین کے قریب آتا ہے… جب فرشتے حیرت سے جھک کر انسانوں کو دیکھتے ہیں… اور رب کی رحمت آسمانوں سے زمین پر یوں برستی ہے جیسے چھما چھم بارش۔"
"بابا جی، دل بہت بے چین ہے… نہ میں حاجی ہوں، نہ عرفات میں ہوں… لیکن دل ٹوٹا ہوا ہے، گناہوں کا بوجھ ہے، اور آنکھیں بھی نم ہیں… کیا میرے جیسے کو بھی رب معاف کر سکتا ہے؟"
بابا جی کچھ لمحے خاموش رہے… پھر آہستہ بولے:
"پتر، جب 99 بندوں کا قاتل توبہ کرے، تو رب اسے معاف کر دے… جب وہ 100واں بھی مار دے، اور پھر ندامت سے کسی نیک بستی کی طرف نکلے، تو رب اس کے قدموں کو ہی بخشش کی طرف پھیر دے… تُو رب کی رحمت سے کیسے مایوس ہو سکتا ہے؟ آنسو بہا، دل سے توبہ کر… رب کی رحمت تو بہانہ ڈھونڈتی ہے!"
"بابا جی… کیا یہاں بیٹھ کر بھی میں کچھ پا سکتا ہوں؟"
"پتر، عرفات کا مطلب ہی ہے 'پہچان'… آج اگر تُو اپنے گناہوں کو پہچان لے، اگر اپنے رب کی رحمت کو پہچان لے، اگر اپنی اوقات کو پہچان لے، تو تُو بھی عرفات میں ہے… چاہے تُو کہیں بھی ہو!"
"بابا جی، پر میرے دل میں تڑپ ہے، میں تو حج پر جانا چاہتا تھا…"
بابا جی کی آنکھوں میں نمی تھی۔ انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور کہا:
"پتر، سن… جو لوگ حج سے رہ گئے، ان کے لیے بھی اللہ نے کئی دروازے کھول رکھے ہیں۔
اسی سال کی نیت کا ثواب،
اس تڑپ و بے قراری پر صبر کا اجر،
اور نہ جا سکنے کی تکلیف پر درجہ بدرجہ بلندی کا وعدہ…
یہ سب تیرے نامۂ اعمال میں لکھا جا رہا ہے۔
یہی رب ہے… جو دل کی کیفیت پر جنت بانٹتا ہے۔"
میں چپ رہا… اور آنکھیں بند کیں۔
میں نے خود کو خانۂ کعبہ کے سامنے پایا…
میں نے اپنے آپ کو حجرِ اسود چومتے ہوئے دیکھا،
زمزم کو لبوں سے لگایا…
میں نے کعبہ کے سامنے ہاتھ اٹھائے…
میں مدینے کی گلیوں سے گزر رہا تھا…
مکینِ گنبدِ خضرا کی بارگاہ میں سلام پیش کر رہا تھا…
اور آیت گونج رہی تھی:
"ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاءوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما"
لیکن…
بابا جی…
پیسے بھی دیے،
پوری حج کی تیاری بھی کی،
لوگوں نے حج کی مبارکبادیں بھی دیں،
ہم نے تربیتی سیشن میں بھی شرکت کی…
دل بڑا خوش تھا کہ ہم بھی اپنی آنکھوں سے رب کے گھر کو دیکھیں گے،
زمزم جی بھر کے پییں گے،
حجرِ اسود کو چومیں گے،
اور پھر کعبہ کے کعبہ، مدینہ کے مکین کی بارگاہ میں حاضر ہو کر ان کے وسیلے سے بخشش مانگیں گے۔
لیکن بخت خفتاں نے راستہ موڑ دیا…
نہ مکہ جا سکا، نہ مدینہ…
بس دل کو لیے بیٹھا ہوں…
بابا جی خاموشی سے سن رہے تھے، پھر کہا:
"پتر، تُو محروم نہیں ہوا… تُو منتخب ہوا ہے!
رب نے تجھے تڑپ دی،
اور تڑپ والوں کے لیے تو رب خود کہتا ہے:
"أنا عند المنكسرة قلوبهم"
یعنی "میں ان کے ساتھ ہوتا ہوں جن کے دل ٹوٹے ہوتے ہیں!"
تو بس دل کو عرفات بنا…
آنسو کو زمزم بنا…
اور لبوں پر استغفار لے آ…
شاید آسمان آج بھی کسی 100 گناہوں والے کی طرف جھک جائے…
تو تیرے آنسووں پر بخشش کی مہر لگ جائے…
سوچ… آج تُو میدان عرفات میں نہیں تھا — لیکن کیا عرفات تیرے دل میں اُترا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
04/06/2025
جانور ذبح کرنا جرم، بیف برگر حلال؟
تحریر: ابو حذیفہ احمد رضا مدنی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"قربانی کے دن آتے نہیں، تمہارے دل کا درد جاگ اٹھتا ہے۔"
بابا حکمت علی نے عینک اتارتے ہوئے کہا،
"پھر وہی ویجیٹیرین جذبات؟"
نوجوان نے ہاتھ اٹھا کر کہا،
"بابا جی! اس بار آپ کو معلوم نہیں، کتنے لوگوں نے پوسٹیں لگائیں، جانوروں کو کیوں مارتے ہو؟ یہ ظلم ہے!"
بابا نے مسکرا کر جواب دیا،
"اور بیف برگر کا آڈر کس نے دیا تھا؟ فوڈ پانڈا سے؟"
"ارے بابا جی وہ تو الگ بات ہے..."
"نہیں بیٹا، وہی بات ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تمہیں عبادت سے چِڑ ہے، گوشت سے نہیں۔"
بابا نے بات آگے بڑھائی،
"قربانی صرف گوشت کھانے کا نام نہیں، یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، جنہوں نے بیٹے کے گلے پر چھری چلا دینے کا عزم کیا، صرف اس لیے کہ اللہ نے حکم دیا تھا۔"
"تو اس میں جانوروں کا کیا قصور؟" نوجوان نے چبھتی آواز میں سوال کیا۔
"جب تم اپنے پیٹ کے لیے جانور کاٹتے ہو، تب جانور کو یاد کیوں نہیں کرتے؟
تمہیں صرف وہ عمل برا لگتا ہے جس میں اللہ کا نام آتا ہے۔
یہ اعتراض دراصل عقیدے پر ہے، جانور پر نہیں۔"
نوجوان نے نظریں جھکا لیں،
"بابا! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو گوشت کھاتے ہیں، لیکن قربانی کرنا فضول خرچی ہے۔"
"بیٹا! سنتِ ابراہیمی کو فضول خرچی کہنا خود کو عقل مند اور رب کو اس کے متضاد سمجھنے جیسا ہے۔
قربانی صرف ایک جانور نہیں، یہ اپنی خواہشات، انا، اور دنیاوی محبتوں کو اللہ کی رضا کے آگے قربان کرنا ہے۔
یہ ایک عبادت ہے، جسے مال، جان اور جذبے سے ادا کیا جاتا ہے۔"
بابا نے آخری بات کہی:
"بیف برگر کھا کر سنتِ ابراہیمی علیہ السلام پر تنقید؟
یہ عقیدے کی بیماری ہے، جانور سے ہمدردی نہیں!
جانور کے حقوق کا شور مچانے والے وہی لوگ ہیں،
جنہوں نے گوشت تو کھایا،
مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو چھوڑ دیا۔
قربانی کا مطلب صرف ذبح نہیں،
بلکہ خود کو اللہ کے حکم کے سامنے جھکا دینا ہے۔
اور جو یہ نہ کر سکا،
اس نے صرف جانور کو نہیں چھوڑا…
اللہ کی رضا کی سب سے بڑی سنت کو گنوا دیا۔"
.................
#قربانی ؟