10/05/2022
*▪️قرآن کریم کے بارے میں عقائد و معلومات*
*قراٰنِ کریم کی تقسیم* 🌟🌟
عہدِ رسالت میں دو طریقے سے ہو ئی تھی:
(1)سورتوں کے اعتبار سے،
(2)منزلوں کے اعتبار سے، یعنی قراٰن کریم کی سات منزلیں کی گئی تھیں تاکہ تلاوت کرنے والا ایک منزل روزانہ کے حساب سے سات دن میں قراٰن ختم کرسکے پھر اس کے بعد قراٰنِ کریم کے تیس(30 )حصّے برابر کئے گئے، جس کا نام تیس پارے رکھا گیا تاکہ تلاوت کرنے والا ایک پارہ روز کے حساب سے ایک ماہ میں قراٰن ختم کرسکے
(ملخص از تفسیر نعیمی، ج1، ص25) 📘🌟🌟
پہلے نقطے نہیں لگائے جاتے تھے: شروع میں جب قراٰنِ کریم کو لکھا جاتا تو اس کے حروف پر نقطے،حَرَکَات وسَکَنات (یعنی زیر،زبر،پیش اور جزم)، اعراب اور رموزِ اوقاف (ط، م، قف، لا، ج وغیرہ) نہ لگائے جاتے تھے کیونکہ اہلِ عرب اپنی زبان اور مُحاوَرَہ کی مدد سے نقطوں اور حرکات وسکنات کے بغیر پڑھ لیتے تھے۔ حضرت سیّدناعثمان غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے جو مُصْحَف تیار کروایا تھا وہ بھی ان تمام چیزوں (یعنی نقطوں اور اعراب وغیرہ) سے خالی تھا۔اس میں زبر ،زیر وغیرہ بعد میں لگائے گئے، مشہور یہ ہے کہ یہ کام حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کےحکم سے کیا اور ایک قول یہ بھی ہےکہ یہ کام ابو الاسود الدؤلی تابعی (متوفّٰی:69 ہجری) نے کیا ۔ مد اور وقف وغیرہ کی علامات خلیل ابن احمد فراعیدی نے لگائیں۔ (ملخص از تفسیر نعیمی، ج1 ص25) 📗🌟✨
مامون عباسی کے دورمیں قراٰن کریم میں رُبْع، نِصْف،ثلٰثہ اور رکوع کے نشانات لگائے گئے، رکوع کے لئے معیار یہ رکھا گیا کہ حضرت سیّدناعثمان غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ تراویح کی نماز میں جس قدر قراٰن پڑھ کر رکوع فرماتے تھے، اتنے حصے کو رکوع قرار دیا گیا اس لئےاس کے نشان پر قراٰنِ کریم کے حاشیہ پر ”ع“ لگا دیتے ہیں، بعض علما فرماتے ہیں کہ یہ عمرو کے نام کا عین ہے، بعض کہتے ہیں عثمان کےنام کا عین ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ لفظِ رکوع کا عین ہے۔
(تفسیر نعیمی،ج 1ص 26 ملخصاً)📚🌟✨
اللہ تعالٰی ہمیں قراٰنِ کریم کی تلاوت کرنے، اسے سمجھنے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم
🌹🤲🏻🌹