*▪️قرآن کریم کے بارے میں عقائد و معلومات*
*قراٰنِ کریم کی تقسیم* 🌟🌟
عہدِ رسالت میں دو طریقے سے ہو ئی تھی:
(1)سورتوں کے اعتبار سے،
(2)منزلوں کے اعتبار سے، یعنی قراٰن کریم کی سات منزلیں کی گئی تھیں تاکہ تلاوت کرنے والا ایک منزل روزانہ کے حساب سے سات دن میں قراٰن ختم کرسکے پھر اس کے بعد قراٰنِ کریم کے تیس(30 )حصّے برابر کئے گئے، جس کا نام تیس پارے رکھا گیا تاکہ تلاوت کرنے والا ایک پارہ روز کے حساب سے ایک ماہ میں قراٰن ختم کرسکے
(ملخص از تفسیر نعیمی، ج1، ص25) 📘🌟🌟
پہلے نقطے نہیں لگائے جاتے تھے: شروع میں جب قراٰنِ کریم کو لکھا جاتا تو اس کے حروف پر نقطے،حَرَکَات وسَکَنات (یعنی زیر،زبر،پیش اور جزم)، اعراب اور رموزِ اوقاف (ط، م، قف، لا، ج وغیرہ) نہ لگائے جاتے تھے کیونکہ اہلِ عرب اپنی زبان اور مُحاوَرَہ کی مدد سے نقطوں اور حرکات وسکنات کے بغیر پڑھ لیتے تھے۔ حضرت سیّدناعثمان غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے جو مُصْحَف تیار کروایا تھا وہ بھی ان تمام چیزوں (یعنی نقطوں اور اعراب وغیرہ) سے خالی تھا۔اس میں زبر ،زیر وغیرہ بعد میں لگائے گئے، مشہور یہ ہے کہ یہ کام حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کےحکم سے کیا اور ایک قول یہ بھی ہےکہ یہ کام ابو الاسود الدؤلی تابعی (متوفّٰی:69 ہجری) نے کیا ۔ مد اور وقف وغیرہ کی علامات خلیل ابن احمد فراعیدی نے لگائیں۔ (ملخص از تفسیر نعیمی، ج1 ص25) 📗🌟✨
مامون عباسی کے دورمیں قراٰن کریم میں رُبْع، نِصْف،ثلٰثہ اور رکوع کے نشانات لگائے گئے، رکوع کے لئے معیار یہ رکھا گیا کہ حضرت سیّدناعثمان غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ تراویح کی نماز میں جس قدر قراٰن پڑھ کر رکوع فرماتے تھے، اتنے حصے کو رکوع قرار دیا گیا اس لئےاس کے نشان پر قراٰنِ کریم کے حاشیہ پر ”ع“ لگا دیتے ہیں، بعض علما فرماتے ہیں کہ یہ عمرو کے نام کا عین ہے، بعض کہتے ہیں عثمان کےنام کا عین ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ لفظِ رکوع کا عین ہے۔
(تفسیر نعیمی،ج 1ص 26 ملخصاً)📚🌟✨
اللہ تعالٰی ہمیں قراٰنِ کریم کی تلاوت کرنے، اسے سمجھنے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم
🌹🤲🏻🌹
Faizan-e-Sadat
Learn Quran Online.
10/05/2022
08/05/2022
*▪️دوسروں کو میسج کرنے پرخوشخبری ملنے والے میسجز کرنا*
*سوال* اس طرح کا جو میسج بھیجا جاتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی اور انہوں نے فرمایا کہ نماز اور قرآن پڑھو اور یہ دس لوگوں کو میسج بھیجنے سے خوشخبری ملے گی اگر نہ بھیجیں تو غم ملے گا اور پھر اس کے بعد کلمہ کی قسم دے کر کہا جاتا ہے کہ اس میسج کو دس لوگوں کو سینڈ کرو تو خوشخبری ملے گی، کیا ایسا میسج دس لوگوں کو بھیجنا درست ہے یا غلط❓ وضاحت فرما دیں۔
*بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
✍🏻 عموماً اس طرح کے میسجز جھوٹے اور من گھڑت ہوتے ہیں ،لہذا ان کو شیئرنہیں کر سکتے ، جھوٹ بولنا گناہ ہے اور جھوٹ کو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرنا، اس سے بڑا گناہ ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے (یعنی میری جانب ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی) اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لینا چاہئے۔
*وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم*
08/05/2022
*▪️مردہ پیداہونے والے بچے کی تدفین وغیرہ*🏢🏢
*سوال* اگر بچہ ماں کے پیٹ میں ہی فوت ہوجائے اور پھر اسے نکالا جائے۔تو کیا اس کے جنازے اور تدفین کی کوئی صورت ہوگی ❓
*بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
✍🏻 ماں کے پیٹ سے ہی جو بچہ مردہ پیدا ہوا، اس کے ليے غسل و کفن بطریق مسنون نہیں اور اس پر نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی جائے گی، اُسے ويسے ہی نہلا کر ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیں گے اور اسے قبرستان میں دفن کرنا درست ہے۔لہذا قبرستان میں ہی دفن کیا جائے۔
نیزیہ یاد رہے کہ اس کا نام رکھا جائے گا لہذا کوئی سا بھی اسلامی نام اس کا رکھ لیاجائے ۔
*وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم*
03/05/2022
فیضان سادات قران اکیڈمی کی طرف سے تمام اہل اسلام کو عید مبارک ہو
26/04/2022
*▪️چارزانو سونے سے وضوٹوٹنے کا مسئلہ*
*سوال* اگر کوئی باوضوشخص چار زانو بیٹھا بیٹھا گہری نیند میں سو گیا تو کیا اس کا وضو ٹوٹ جائے گا ❓
*بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
✍🏻 چار زانو بیٹھ کر گہری نیند سونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا کہ اس صورت میں سرین جمے رہتے ہیں اور سرین جمے رہنے کی صورت میں گہری نیند سے وضونہیں ٹوٹتا ہاں اگر چار زانو اس طرح سویا کہ سر رانوں یا پنڈلیوں پر ہے کہ دونوں سرین جمے نہ رہے ہوں تو اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا۔
تفصیل اس میں یہ ہے کہ :
نیندسے وضو ٹوٹنے کے لیے دو شرائط ہیں :
(1)اول یہ کہ دونوں سرین اس وقت خوب جمے نہ ہوں۔
(2) دوسری یہ کہ ایسی ہیئت پر سویا ہو جو غافل ہوکر نیند آنے کو مانع نہ ہو۔ جب یہ دونوں شرطیں جمع ہوں گی تو سونے سے وضو جائےگا اور ایک بھی کم ہے تو نہیں۔
پس جس صورت میں سر رانوں یا ساقوں پر نہیں ہے اور چارزانو سویا ہے تو ایسی صورت میں نیند گہری بھی ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا کہ پہلی شرط نہیں پائی جا رہی یعنی سرین اٹھے ہوئے نہیں بلکہ خوب جمے ہوئے ہیں اور اگر سر رانوں یا ساقوں پر ہے تو ایسی صورت میں پہلی شرط پائی جارہی ہے یعنی سرین جمے ہوئے نہیں لہذا وضو ٹوٹ جائے گا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
25/04/2022
نورِ رمضان المبارک
*موضوع = عشرۂ جہنّم سے آزادی*
رمضان المبارک کا آخری عشرہ جہنم کی آگ سے آزادی کا عشرہ ہے ۔یہ با ت یقینی ہے کہ جس فرد کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وافر حصہ مل جا ئے اور وہ اللہ کے حضور توبہ و استغفار کے ذریعے معافی کا طلب گار بن کر اپنے گنا ہوں سے چھٹکارا حاصل کر چکا ہو اس کے لیے کے لیے یہ عشرہ جہنم کی آگ سے آزادی کا عشرہ بن جاتا ہے ۔ قرآن مجید کی زبان میں حقیقی کامیا بی اسی شخص کے لیے ہے جو جہنم سے محفوظ اور جنت کا مستحق قرار پایا ہو ’’ پس جو شخص جہنم کی آگ سے بچا لیا گیا ہو اور جنت میں داخلے کا پروانہ پاچکا ہو وہ یقینی طور پر کامیا ب ہے اور دنیا کی زندگی سوائے دھوکے کے ساز و سامان کے کچھ بھی نہیں ‘‘۔آخری عشرے کی ایک اہم با ت جو اسے پہلے دونوں عشروں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے اندر لیلۃ القدر جیسی عظیم الشان رات ہے جس کی عبادت و ریا ضت ہزار مہینے کی عبادت سے افضل اور عظیم تر ہے ۔ اور دوسری اہم با ت ’’اعتکاف‘‘ جیسی عالیشان نعمت ہے ۔یہ ایک ایسی رہبا نیت ہے جس کے نتیجے میں بندہ اللہ تعالیٰ کا مہما ن بن کر اس کے در کا سوالی بن جاتا ہے جس کے نتیجے میں اس کے اور جہنم کے درمیا ن ایسی دو خندقوں کا فا صلہ کر دیا جاتا ہے جن کا درمیا نی فاصلہ آسما ن اور زمین کے درمیا ن پا ئے جا نے والے فاصلے بھی کہیں زیادہ ہے ۔لہٰذا آ ئیے اپنی عملی جدوجہد سے رحمت اور بخشش کا حصول کرنے کے بعد جہنم سےخلاصی کا اہتما م کریں ۔اللہ تعالیٰ اس کی تو فیق عطا فرمائیں۔
🌹 *آمین*🌹
حضرت سَیِّدُناعبدُ اللہ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ خوش گوار ہے: جس نے مکّۂ مکرمہ میں ماہِ رَمضان پایا اور رَوزہ رکھا اور رات میں جتنا میسر آیا قیام کیا تو اللہ عَزّوَجَلَّ اُس کے لئے اور جگہ کے ایک لاکھ رَمضان کا ثواب لکھے گا اور ہردن ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب اور ہر رات ایک غلام آزادکرنے کا ثواب اور ہر روز جہاد میں گھوڑے پر سوار کردینے کا ثواب اور ہر دن میں نیکی اور ہر رات میں نیکی لکھے گا۔
(📚ابنِ ماجہ، ج۳،ص۵۲۳،حدیث: ۳۱۱۷)
حضرتِ سَیِدُنا عبدُاللّٰہ ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ مَحْبُوبِ ربُّ العٰلمین ، سیِّدُ الْاَنْبِیاءِ وَ الْمُرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ دلنشین ہے: ’’ اللہ عَزّوَجَلَّ ماہِ رَمضان میں روزانہ اِفطار کے وَقت دس لاکھ ایسے گنہگاروں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے جن پر گناہوں کی وجہ سے جہنم واجب ہوچکا تھا، نیز شب جُمُعہ اور روزِ جُمُعہ(یعنی جُمعرات کو غروب آفتاب سے لے کر جُمُعہ کو غروب آفتاب تک )کی ہر ہر گھڑی میں
ایسے دس دس لاکھ گنہگاروں کوجہنم سے آزاد کیا جاتا ہے جو عذاب کے حقدار قرار دئیے جاچکے ہوتے ہیں ۔‘‘
(📚اَلْفِردَوس بمأثور الْخِطاب، ج ۳ ،ص ۳۲۰ ،حدیث ۴۹۶۰)
20/04/2022
*عورت کا حالت اعتکاف میں گرمی کی وجہ سے غسل کرنا
*سوال ؛* کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسلے کے بارے میں کے کیا عورت اعتکاف کے دوران شدید گرمی کے سبب جائے اعتکاف کے علاوہ باتھ روم میں غسل کرسکتی ہے❓
*بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
✍🏻مرد اصلِ مسجد (یعنی وہ جگہ جو نماز پڑھنے کے لئے خاص کرکے وقف ہوتی ہے) سے متصل وقف جگہ جو ضرویات و مصالحِ مسجد کے لئے وقف ہوتی ہے ، جسے فنائے مسجد کہا جاتا ہے ، اس میں بنے ہوئے غسل خانہ میں دورانِ اعتکاف بغیر ضرورت کے بھی غسل کرسکتا ہے ، فنائے مسجد میں جانے سے اس کا اعتکاف نہیں ٹوٹتا ، جبکہ عورت گھر میں متعیّن کردہ جگہ میں اعتکاف کرتی ہے ، جو” مسجدِ بیت “ کہلاتی ہےاور مسجدِ بیت میں فناکا کوئی تصور نہیں ہوتا اس لئےعورت مسجدِ بیت سے باہر بلا ضرورت نہیں نکل سکتی ، صورتِ مسئولہ میں عورت اگرفرض غسل کے علاوہ کسی غسل مثلاً گرمی کی وجہ سے ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے نکلے گی ، تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ’’فِنائے مسجد جو جگہ مسجدسے باہَر اس سے مُلحَق ضروریاتِ مسجدکیلئے ہے، مَثَلًا جوتا اتارنے کی جگہ اور غُسْل خانہ وغیرہ اِن میں جانے سے اِعتِکاف نہیں ٹوٹے گا۔“مزید آگے فرماتے ہیں : ”فنائے مسجد اس مُعامَلہ میں حکمِ مسجد میں ہے
*📚( فتاویٰ امجدیہ ، کتاب الصوم ، ج 1 ، ص 399 )*
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:”جب وہ مدارس متعلّقِ مسجد، حدودِ مسجد کے اندرہیں اُن میں اور مسجد میں راستہ فاصل نہیں صرف ایک فصیل سے صحنوں کاامتیاز کردیاہے تو ان میں جانا مسجد سے باہر جاناہی نہیں ، یہاں تک کہ ایسی جگہ معتکف کو جانا ، جائز کہ وہ گویا مسجد ہی کا ایک قطعہ ہے۔وھذا ما قال الامام الطحاوی انّ حجرۃ امّ المؤمنین من المسجد، فی ردّ المحتار عن البدائع لو صعد ای: المعتکف المنارۃ لم یفسد بلاخلاف لانّھا منہ لانّہ یمنع فیھا من کلّ مایمنع فیہ من البول ونحوہ فاشبہ زاویۃ من زوایا المسجد۔ یعنی یہی بات امام طحاوی نے فرمائی کہ اُمُّ المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا حجرہ مسجد کاحصہ ہے۔ ردالمحتارمیں بدائع سے ہے کہ اگر معتکف منارہ پرچڑھا توبالاتفاق اس کا اعتکاف فاسد نہ ہوگا کیونکہ منارہ مسجد کاحصہ ہے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس میں ہر وہ عمل مثلاً بول وغیرہ منع ہے ، جومسجد میں منع ہے تویہ مسجد کے دیگر گوشوں کی طرح ایک گوشہ ٹھہرا۔
*📚( فتاویٰ رضویہ ، باب الوتر و النوافل ، ج 7 ، ص 453)*
علامہ علاؤ الدّین حصکفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تحریر فرماتے ہیں
( الخروج الّا لحاجة الانسان ) طبيعيّة كبول وغائط وغسل لو احتلم ولا يمكنه الاغتسال في المسجد كذا في النهر“یعنی معتکف مسجد سے نہ نکلے مگر حاجت ِ طبعیہ کی وجہ سے جیسے پیشاب، پاخانہ اور اح**ام ہوتو غسل کیلئے جبکہ اُسے مسجد میں غسل کرنا ممکن نہ ہو۔جیسا کہ نہر میں ہے.
*📚( در مختار ، کتاب الصوم ، باب الاعتکاف ، ج 3 ، ص 501 )*
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی قُدِّسَ سِرُّہ ٗ تحریر فرماتے ہیں : معتکف کو مسجد سے نکلنے کے دوعذر ہیں:
ایک حاجتِ طبعی کہ مسجد میں پوری نہ ہو سکے جیسے پاخانہ، پیشاب، استنجا، وضو اور غسل کی ضرورت ہو تو غسل، مگر غسل و وضو میں یہ شرط ہے کہ مسجد میں نہ ہوسکیں یعنی کوئی ایسی چیز نہ ہو جس میں وضو و غسل کا پانی لے سکے اس طرح کہ مسجد میں پانی کی کوئی بوند نہ گرے کہ وضو و غسل کا پانی مسجد میں گرانا ، ناجائز ہے اور لگن وغیرہ موجود ہو کہ اس میں وضو اس طرح کر سکتا ہے کہ کوئی چھینٹ مسجدمیں نہ گرے تو وضو کے لیے مسجد سے نکلنا جائز نہیں، نکلے گا تو اعتکاف جاتا رہے گا۔یوہیں اگر مسجد میں وضو و غسل کے لیے جگہ بنی ہو یا حوض ہو تو باہر جانے کی اب اجازت نہیں۔
دوم حاجتِ شرعی مثلاً عید یا جمعہ کے لیے جانا یا اذان کہنے کے لیے منارہ پر جانا، جبکہ منارہ پر جانے کے لیے باہر ہی سے راستہ ہو اور اگر منارہ کا راستہ اندر سے ہو تو غَیرِ مؤذن بھی منارہ پر جا سکتا ہے ، مؤذن کی تخصیص نہیں۔
*📚( بھارِ شریعت ، حصہ 5 ، اعتکاف کا بیان ، ج 1 ، ص 1023 ، 1024 )*
*وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم*
20/04/2022
رمضان المبارک
*موضوع=فیضانِ اعتکاف*
▪️ *اعتکاف کی قسمیں*
اِعتکاف کی تین قسمیں ہیں {۱}اعتکافِ واجِب{۲}اعتکافِ سُنّت {۳} اِعتکافِ نَفْل۔
▪️ *اعتکافِ واجب*
اِعتکاف کی نذر(یعنی منّت)مانی یعنی زَبان سے کہا: ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے میں فلاں دن یا اتنے دن کااِعتکاف کر و ں گا۔‘‘ تواب جتنے دن کا کہا ہے اُتنے دن کا اِعتکاف کرناواجب ہو گیا ۔ منَّت کے اَلفاظ زَبان سے اداکرنا شرط ہے،صرف دل ہی دل میں منَّت کی نیَّت کرلینے سے منَّت صحیح نہیں ہوتی۔ (اور ایسی منَّت کاپوراکرناواجب نہیں ہوتا)
(📚رَدُّالْمُحْتار ج۳ص۴۹۵ مُلَخَّصاً )
▪️ *منَّت کااعتکاف*
مردمسجدمیں کرے اورعورت مسجد بیت میں ، اِس میں روزہ بھی شرط ہے ۔ (عورت گھر میں جو جگہ نمازکیلئے مخصوص کرلے اُسے ’’مسجدِ بیت‘‘کہتے ہیں ) ([1])
▪️ *اعتکافِ سنت*
رَمَضانُ الْمُبارَک کے آخِری عشرے کااعتکاف ’’سنَّتِ مُؤَکَّدَہ عَلَی الْکِفایہ‘‘ ہے۔
(📚دُرِّ مُخْتار ج ۳ ص ۴۹۵)
اگر سب ترک کریں تو سب سے مطالبہ ہوگا اور شہر میں ایک نے کر لیا تو سب بری الذِّمَّہ۔
(📚بہار شریعت ج۱ص۱۰۲۱)
اِس اعتکاف میں یہ ضروری ہے کہ رَمَضانُ الْمُبارَک کی بیسویں تاریخ کوغروبِ آفتاب سے پہلے پہلے مسجِدکے اندر بہ نیّتِ اعتکاف موجود ہو اور اُنتیس (اُن۔تیس)کے چاندکے بعد یاتیس کے غُروبِ آفتاب کے بعدمسجِدسے باہَر نکلے۔ اگر 20 رَمَضانُ المبارک کوغروبِ آفتاب کے بعدمسجدمیں داخل ہوئے تو اِعتکاف کی سنّتِ مُؤَکَّدَہ ادانہ ہوئی۔
▪️ *اعتکافِ نفل*
نذر اور سنّتِ مُؤَکَّدہ کے علاوہ جو اعتکاف کیاجائے وہ مستحب و سنّتِ غیر مُؤَکَّدہ ہے۔
(📚بہار شریعت ج۱ص۱۰۲۱)
اِس کیلئے نہ روزہ شرط ہے نہ کوئی وَقت کی قید، جب بھی مسجِدمیں داخل ہوں اِعتکاف کی نیّت کرلیجئے،جب مسجِد سے باہرنکلیں گے اِعتکاف ختم ہوجائے گا۔ میرے آقا اعلٰی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جب مسجد میں جائے اِعتکاف کی نیَّت کرلے، جب تک مسجد ہی میں رہے گا اِعتکاف کا بھی ثواب پائے گا۔
(📚فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۸ص۹۸)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Pakpattan
57400