میری فرینڈ لسٹ میں ایک بندہ/ بندی ایسا بھی ہے جو ہفتہ میں ایک آدھ بار ایسی پوسٹ لازمی کرتا ہے جس میں وہ اپنی زیر مطالعہ یا مشاہدہ کتاب کی فوٹو شئیر کرتے ہیں جس کے ساتھ گھر میں پکی لوبیا بھنڈی اور عمومی کھانوں کی فوٹو اٹیچ ہوتی ہے بارہا نظر کے سامنے سے گزرتی ہے تو سوچتا ہوں موصوف کس کو موٹیویٹ کر رہے ہیں کتب بینوں کو یا " طعام شوقینوں " کو یا پھر اسکے پیچھے کوئی اور لاجک ہے
کسی کا تو علم نہیں البتہ انکی پوسٹ دیکھ کر کبھی کتاب پڑھنے کو دل کرتا ہے تو کبھی کتاب پڑھتے ہوئے کھانا کھانے
کو جی کرنے لگتا ہے
خیر جس کو جو بھاتا ہے وہ اسی کی طرف جاتا ہے کیونکہ یہ تو ہماری عمومی فطرت ہے کہ ہم ایک ہی حادثہ میں مرنے والے بندے کو بیک وقت شہید اور " ہلاک" دونوں قرار دے رہے ہوتے ہیں پچھلے دنو کسی اداکارہ کی میت نو ماہ بعد ملی تو ہر ایک نے اپنے ظرف اور نظر سے دیکھا کوئی رب کا عذاب قرار دینے پہ تلا تھا تو کوئی اسے معصوم و مغفور ہونے کا سرٹیفکیٹ دے رہا تھا
یاد رہے میں اس متعلق اپنا نظریہ رکھتا ہوں اور بھی " اپنے تک "
وسیم عباس
20 جولائی 2025
Waseem abbas
اشاعت علم کے لیے یہ گروپ تجویز کیا ھے
پرتگال کا دروازہ جو "موٹے حضرات" کے لیے بند تھا!
کیا کبھی آپ نے کوئی دروازہ دیکھا ہے جو بظاہر ایک تعمیراتی غلطی لگے… لیکن حقیقت میں وہ ایک گہری دانائی کی علامت ہو؟
پرتگال کے شہر الکوباسا میں واقع ایک قدیم خانقاہ میں ایسا ہی ایک دروازہ ہے، جو دیکھنے والوں کو چونکا دیتا ہے۔
یہ دروازہ 1178ء میں تعمیر ہونے والی Monastery of Alcobaça کا حصہ ہے — ایک پُراسرار، چھوٹا سا راستہ جو آج بھی زائرین کی تجسس بھری نظروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
یہ دروازہ دو میٹر اونچا ہے… مگر صرف 32 سینٹی میٹر چوڑا۔
جی ہاں، آپ نے درست پڑھا! یہ وہ دروازہ ہے جسے مقامی زبان میں "Porta Pega-Gordo" کہا جاتا ہے، یعنی "موٹے کو پکڑنے والا دروازہ"۔
لیکن یہ محض طنز یا آرائش نہیں تھا۔
یہ دروازہ خانقاہ کے باورچی خانے کا واحد داخلی راستہ تھا۔
🍞 کھانے کے لیے جسمانی تربیت بھی شرط تھی!
اگر کوئی راہب کھانا چاہتا، تو اسے پہلے اس دروازے سے گزر کر دکھانا ہوتا۔
اور اگر اس کا جسم اتنا بڑا ہو چکا ہوتا کہ وہ اس تنگ دروازے میں نہ سما سکے… تو مطلب بالکل واضح تھا:
"آپ کے لیے آج کھانا نہیں!"
یہ صرف نظم و ضبط کا پیغام نہیں تھا، بلکہ جسمانی خوداحتسابی کی عملی مشق تھی۔
🧘 روحانیت کا پہلا سبق: اعتدال
یہ دروازہ اس بات کی علامت تھا کہ روحانیت میں طمع اور بےقابو خواہشات کی کوئی گنجائش نہیں۔
کھانا صرف عبادت سے نہیں، بلکہ ضبطِ نفس سے بھی حاصل ہوتا ہے۔
یہ قرونِ وسطیٰ کا اپنی طرز کا portion control تھا — اور ایک کامیاب حربہ بھی!
🚪 بعض اوقات رکاوٹیں راہ ہوتی ہیں…
سوچیے…
کبھی کبھی وہ دیواریں جو ہمیں روکتی ہیں، دراصل وہ دروازے ہوتے ہیں جو ہمیں آگے بڑھنے کی طرف بلاتے ہیں۔
یہ دروازہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اعتدال، نظم اور روحانی توازن، صرف دل میں نہیں بلکہ جسم میں بھی نظر آنا چاہیے۔
تو اگلی بار جب زندگی آپ کو کسی تنگ دروازے کے سامنے لائے… تو رکئے مت — شاید وہ آپ کو خود پر قابو پانے کا موقع دے رہا ہو۔
کبھی کبھی، بھوک ہمیں صرف روٹی نہیں، خود شناسی بھی سکھائیے
کاپیڈ
جب قدیم چینیوں نے محفوظ زندگی گزارنے کی خواہش کی، تو انہوں نے دیوارِ چین بنائی اور یہ سوچا کہ اس کی بلندی کی وجہ سے کوئی اس پر چڑھ نہیں سکے گا۔
لیکن دیوار کی تعمیر کے پہلے سو سال کے دوران، چین تین بار حملوں کا شکار ہوا!! ہر بار دشمن کے جتھے نہ تو دیوار کو توڑنے کی کوشش کرتے اور نہ ہی اس پر چڑھنے کی!!
بلکہ ہر بار وہ دربان کو رشوت دیتے اور دروازے سے داخل ہو جاتے۔ چینی دیوار بنانے میں مصروف تھے اور دربان کی تربیت کو بھول گئے تھے..!
انسان کی تعمیر، ہر چیز کی تعمیر سے پہلے آتی ہے اور یہی چیز آج ہمارے طلبا کو درکار ہے۔
ایک مستشرق کہتا ہے.. اگر تم کسی قوم کی تہذیب کو تباہ کرنا چاہتے ہو تو تین طریقے ہیں:
1/ خاندان کو تباہ کرو۔
2/ تعلیم کو تباہ کرو۔
3/ رہنماؤں اور ماہرین کو گرا دو۔
*خاندان کو تباہ کرنے کے لیے: (ماں) کے کردار کو ختم کرو، اسے یہ محسوس کرواؤ کہ "گھر کی عورت" کہلانے میں شرم ہے۔
*تعلیم کو تباہ کرنے کے لیے: (استاد) کو بے وقعت کرو، اس کی اہمیت کو کم کرو تاکہ اس کے طلبا اس کی بے عزتی کریں۔
*رہنماؤں کو گرانے کے لیے: (علماء، محققین، اور دانشوروں) کو نشانہ بناو، ان کی قدر و قیمت کو کم کرو، ان پر شک کرو تاکہ کوئی ان کی بات نہ سنے اور ان کی پیروی نہ کرے۔
اگر (باشعور ماں) غائب ہو جائے
اور اگر (مخلص استاد) غائب ہو جائے
اور اگر (رہنما اور ماہرین) گر جائیں
تو پھر نوجوانوں کو اقدار کی تعلیم کون دے گا! 🤔
کتاب "مستقبل کا مطالعہ" از ڈاکٹر مصطفی محمود رحمہ اللہ سے ۔
منقول
" استقامت نہیں ملتی"
جب سے الحمد للّہ مسند تدریس کی نعمت ملی ہے لاشعوری طور
پہ ذہن میں ہمیشہ ایک جذبہ ابھرتا رہتا ہے کہ مجھ سے پڑھنے والا بچہ کبھی نااہل طالب ثابت نہ ہو
میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ طالب علم کو موٹیویٹ کیا جاتا رہے تاکہ لوہا گرم رہے اور آخر میں کندن بن کر جامعہ سے نکلے
جب بھی کلاس میں بچوں سے معیاری تعلیمی ،علمی سرگرمیوں اور کتب بینی وغیرہ جیسے مفید موضوعات پہ گفتگو کا موقع ملا تو اکثر طلباء کو یہ سوال کرتے پایا کہ " استقامت نہیں ملتی " میں ان سے یہی عرض کرتا رہتا ہوں کہ یہ آپ کا نہیں !پوری دنیا کا مسئلہ ہے اگر استقامت ہر کسی کو مل جائے تو میں اور آپ جو مقاصد مختلف مواقع پہ ہم خود سے طے کرتے ہیں وہ پورے ہوتے نظر آئیں
تو! پھر کیا اس مسئلہ کو " مسئلہ بنا کر" چھوڑ دیا جائے یا اسکا کوئی حل نکالنا چاہیے
اسکا ایک بہترین حل ایسی صحبت ہے جو آپ کو بار بار یاد دلاتی رہے کہ آپ کا مقصد و عزم کیا تھا اور عملی زندگی کیسی گزار رہے ہو
یہ صحبت کوئی ناصح دوست یا اپنا پسندیدہ استاد بھی ہو سکتی ہے اور اس" دواء" کے ساتھ دعا کا بھی لازما اہتمام کرنا چاہیے
17/07/2025
یک چینی کمپنی نے اپنے ملازمین کی صحت بہتر بنانے کے لیے ایک انوکھا اقدام اٹھایا ہے، جس کا مقصد فٹنس کو فروغ دینا اور کام کے ماحول کو مثبت بنانا ہے۔
کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اب سالانہ بونس صرف کارکردگی پر نہیں بلکہ جسمانی سرگرمی، خاص طور پر دوڑنے، پر بھی ملے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ "اگر تنخواہ بڑھانی ہے تو دوڑ لگانی ہوگی"۔ جتنا زیادہ ملازم دوڑے گا، اتنا ہی بڑا بونس حاصل کرے گا۔
کمپنی کے چیئرمین کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ ملازمین جسمانی طور پر تندرست رہیں، اسی لیے نئی اسکیم متعارف کرائی گئی ہے۔ اگر کوئی ملازم ہر مہینے 62 میل (تقریباً 100 کلومیٹر) دوڑنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اسے اس کی تنخواہ کا 130 فیصد بطور بونس دیا جائے گا۔ جبکہ جو ملازمین ہر ماہ 31 میل (تقریباً 50 کلومیٹر) دوڑیں گے، وہ اپنی مکمل ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر بونس کے مستحق ہوں گے۔
یہ منفرد پالیسی نہ صرف ملازمین کو فعال رکھنے میں مدد دے گی بلکہ ان کی مجموعی صحت اور کام کی کارکردگی پر بھی مثبت اثر ڈالے گی۔
13/07/2025
سیرت مصطفی کتاب کے بعد "زنگار نامہ" وہ واحد کتاب ہے جسے میں نے چار پانچ دنوں مکمل پڑھا ہے ویسے تو الحمد للہ کتب بینی کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن چار سو صفحات کی کتاب چند دنوں میں مطالعہ کرنا تقریبا میرے لیے غیر معمولی تھا ۔
کتاب مکمل کرنے کے بعد میں نے جب اس بات پہ کیا کہ کیسے میں نے (اپنے زعم کے مطابق اتنا ) جلدی مطالعہ کرلیا تو ایک دو وجوہات میری موٹی عقل آئیں آپ سے شئیر کرتا ہوں تاکہ شاید آپ کے لئے بھی مفید ہوں
اول : یہ کتاب مختلف موضوعات پہ مشتمل کالموں کا مجموعہ ہے جس میں تربیت ، موٹیویشن ،کتب کا تعارف ، مطالعہ کا ذوق ، تصوف اور کچھ شخصیات کی بائیوگرافی شامل ہے ہر دوسرے صفحہ کے بعد جب آپ کا ذائقہ تبدیل ہوجاتا ہے تو کتاب سے اکتاجانے کے چانس بہت کم ہوجاتے ہیں امام محمد کی سیرت میں یہ بات ملتی ہے کہ وہ دلچسپی برقرار رکھنے کے لئےایک سے زائد فنون کا مطالعہ بیک وقت کرتے تھے
ان مختلف موضوعات میں مجھے مطالعہ کی اہمیت ،مختلف کتب اور مصنفین کا تعارف وغیرہ خاص طور پہ بہت پسند آئے
دوم: مصنف کا انداز تحریر نہایت ہی عمدہ ، سہل اور سلیس اردو میں تھا کتاب میں الفاظ کی سجاوٹ کے بجائے ابلاغ پر خاص توجہ دی گئی مزید اس کتاب کو پڑھنے کے بعد بندے کو مطالعہ کی تحریک ملتی ہے
سوم : یہ کتاب استاذ محترم مولانا نقیب اللہ صاحب کی تجویزہ کردہ تھی جوکہ بذات خود ایک زبردست علمی شخصیت ہیں ( متشکرم عالی جاہ) تو یہ چیز بھی اسکو پڑھنے کا ایک باقاعدہ سبب تھی
کتاب : نگار نامہ مصنف : عامر خاکوانی ( خیر نال زندہ نے)
وسیم عباس
گیٹس نے اعلان کیا کہ وہ مائیکروسافٹ کمپنی کے لیے نیا چیف (رئیس) مقرر کرے گا۔
ہزار لوگ انٹرویو کے لیے پہنچے اور ایک ہال میں بیٹھ گئے۔
بل گیٹس آیا اور اعلان کیا:
> "جو بھی الیکٹرانکس میں پی ایچ ڈی نہیں رکھتا، وہ ہال سے نکل جائے!" 😎
آدھے لوگ فوراً اٹھ کر چلے گئے۔
پھر اس نے کہا:
> "جن کی کام کرنے کی تجربہ 20 سال سے کم ہے، وہ بھی اپنا بستر اٹھا کر نکل جائیں!"
400 مزید لوگ چلے گئے۔
پھر بل گیٹس نے کہا:
"جو لوگ 20 زبانوں کے علاوہ کم زبانیں جانتے ہیں، خاص طور پر لاطینی زبان نہیں آتی، وہ بھی باہر ہو جائیں!"
اب ہال خالی ہو گیا، صرف دو حضرات باقی بچے۔
بل گیٹس نے مسکرا کر اُن سے پوچھا:
> "بہت خوب! آپ دونوں کہاں سے ہیں؟"
ان دونوں نے جواب دیا:
> "ہم پاکستان سے ہیں
۔ صوبہ، ضلع، علاقہ چھوڑو بھائی، ہمیں بس یہ بتاؤ کہ آپ نے کیا کہا تھا جس پر سب لوگ باہر چلے گئے؟" 😃
21/03/2024
امام شافعی علیہ رحمہ کے شاگرد امام مزنی نے اپنے استاذ گرامی کی ایک کتاب کا پچاس بار مطالعہ کیا اور فرماتے ہیں ہر بار مطالعہ میں نیا لطف آیا اور ہر مرتبہ نئے نکات حاصل ہوئے
ماہر القادری نے کہا تھا
حسن والو تمہاری بھی کیا بات ہے
ہر ملاقات پہلی ملاقات ہے
اور ایک مجھ سا نکما ہے ایک کتاب کے چار ورق پڑھ لوں تو میری شیخیاں ہی نہیں ختم ہوتی
18/03/2024
حضور ﷺ نے فرمایا
قیامت کے دن میزان عدل میں حسن اخلاق سے بھاری چیز کوئی نہیں ہوگی ( ابو داؤد )
تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے لئے مسکرانا تھا صدقہ ہے ( حدیث)
مسکراتا چہرا کبھی نہیں بھولا جاتا
ایک چینی کہاوت ہے جسے مسکرانا نہیں آتا وہ اپنی دکان نہ کھولے
وسیم عباس
Click here to claim your Sponsored Listing.