کیا رجب بٹ کو معافی ملنی چاہیے ؟
Rizwan Tahir
I am an Islamic scholar, writer, businessman, digital marketer, and de-motivational
جنت البقیع کی ایک نادر اور قدیم فلم
جب وہاں مزارات مبارکہ ہوا کرتے تھے اور نجدیوں کی نحوست نہیں پڑی تھی۔
موٹروے پر فراڈ کا نیا طریقہ، غور سے دیکھیں، خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔
30/06/2024
کیا رسول اللہ ﷺ کا خطبہ حجۃ الوادع ریکارڈ کر لیا گیا ہے؟ چند اہم سوالات
ابوالابدال محمد رضوان طاہر فریدی
شیخ اکبر شیخ محی الدین ابن عربی پہلے صوفی بزرگ ہیں جنھوں نے اپنی کتاب فتوحات مکیہ اور فصوص الحکم میں اس بات کو بیان کیا کہ انسان جو بھی کلام کرتا ہے وہ فضاء یعنی خلاء میں باقی رہتا ہے۔ گویا یہ کلام بھی ایک مخلوق ہے اور اس کا وجود قیامت تک باقی رہے گا۔
علامہ عبدالوہاب شعرانی نے الیواقیت و الجواہر میں بھی فتوحات مکیہ کے حوالہ سے اسے بیان کیا ہے۔ اور سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان نے بھی اپنے ایک رسالہ میں نقل کیا ہے۔
فرانس جیسی بد بخت زمین جہاں شروع سے ہی سرکاری سطح پر نبی رحمت ﷺ کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی جاتی ہے، وہاں کی کسی بھی کمپنی کا رسول اللہ ﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع کو شیخ ابن عربی کے قول کی بنیاد پر آپ ﷺ کی ہی آواز مبارک میں ریکارڈ کرنے کا دعوی کرنا جہاں بعض افراد کے لیے خوش کن ہے وہیں اہل ایمان کے باعث تشویش بھی ہے۔
اول تو تاریخ انسانی میں آج تک کوئی ایسی مشین نہیں ایجاد کی جا سکی جو ہزاروں سال پہلے کی آوازوں کو ریکارڈ کر سکے۔ موجودہ ریکارڈنگ ڈیواسز میں مائیکروفونز، ٹیپ ریکارڈرز، اور ڈیجیٹل ریکارڈرز صرف وہی آوازیں ریکارڈ کر سکتے ہیں جو ان کی حدود میں بولی جائیں۔ جب کہ ان کے اندر ماضی میں بولے گے الفاظ کو ریکارڈ کرکے دوبارہ سنانے کی صلاحیت نہیں ہے اور یہ اب تک کی جدید ٹیکنالوجی کی حالت ہے۔
سائنسی طور پر بھی آج تک کوئی ایسا نظریہ پیش نہیں کیا گیا جو ماضی کے الفاظ کو ریکارڈ کرنے کا دعوی کرے، بلکہ سائنس کے نزدیک تو ہزاروں سال پہلے بولے گے الفاظ کے باقی رہنے کا نظریہ ہی موجود نہیں ہے۔ سائنسی تھیوری کے مطابق صوتی لہریں مادے میں حرکت کرتیں اور توانائی کی شکل میں پھیلتی ہیں۔ یہ لہریں مخصوص فاصلوں تک پھیل کر ختم ہو جاتی ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی توانائی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ لہذا سالوں بعد اسے ریکارڈ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
پھر سوال یہ ہے کہ کیا صدیوں پہلے بولے گے الفاظ کو ریکارڈ کرکے اس کی اصل آواز میں لوگوں تک پہنچانے کے عمل کو اس سے پہلے کہیں تجربہ کیا گیا اور کیسے؟
کیا کسی بھی کمپنی نے دلائل و شواہد کے ساتھ اس کو ثابت کیا ہے؟
دنیا کے کسی بھی شخص کے صدیوں پہلے بولے گے الفاظ کو آج کا انسان کیسے تصدیق کر سکتا ہے کہ صدیوں پہلے فلاں شخص نے ہی یہ کلام کیا تھا؟
اور پھر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جو کمپنی رسول اللہ ﷺ کی آواز مبارک کو ریکارڈ کرکے نشر کرنے کا دعوی کرے گی اس کے پاس کیا دلائل ہیں کہ وہ آواز رسول اللہ ﷺ کی ہی ہے؟
پھر صدیوں سے ہر سال حج کے موقع پر کبھی مکمل اور کبھی خطبہ حجۃ الوداع کا مخصوص حصہ لاکھوں لوگوں کے سامنے پڑھا جاتا ہے۔ پھر اسی مقام سے ریکارڈ کردہ رسول اللہ ﷺ کی آواز اور عام افراد کی زبانی پڑھے گے خطبہ میں فرق کیسے کیا جائے گا؟
جبکہ روایات میں موجود و محفوظ خطبہ حجۃ الوداع کے الفاظ کو بعینہ ہی A.I کی مدد سے ریکارڈ کرکے لوگوں کو دھوکا دینا دجالی ذریت کے لیے بہت آسان ہے۔ جوبعد میں کئی طرح کے فتنوں کو جنم دے گا۔
فرانس کی جو کمپنی رسول اللہ ﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع نشر کرنا چاہتی ہے اس کے مقاصد کیا ہیں؟
کیا وہ رسول اللہ ﷺ کی عقیدت میں ایسا کر رہے ہیں؟
یا وہ رسول اللہ ﷺ کا پیغام آپ ﷺ کی ہی آواز میں دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچا کر تبلیغ اسلام کے مشن کا حصہ بننا چاہتے ہیں؟
یا اُن کے پیش نظر کچھ اور مقاصد ہیں؟
جبکہ وہ خطبہ حجۃ الوداع تو روایات میں موجود و محفوظ ہے، اور علماء نے ساری دنیا کے لوگوں تک اسے پہنچا دیا ہے۔
جسٹس نذیر احمد غازی نے خطبہ حجۃ الوداع کی ریکارڈنگ کی خبر جب ایک پوڈ کاسٹ میں دی تو بہت سے اہل علم و صاحبان فکر و قلم نے اس بیان پر اپنے اپنے تحفظات کا اظہارکیا ، بعض نے جسٹس صاحب پر نرم و سخت الفاظ میں تنقید بھی کی۔
جسٹس نذیر احمد غازی نے بعد میں 24 نیوز پر کم و بیش 16 منٹ کی گفتگو میں اپنے موقف کو واضح کیا اور اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے جہاں اِن پر تنقید کرنے والے اہل علم و صاحبان فکر پر انتہائی نچلی سطح کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے انھیں بُرا اور غلط کہا ہے وہ ان کے منصب کے خلاف ہے۔
خیر آتے ہیں اصل بات کی طرف، جسٹس نذیر احمد غازی نے اپنی 16 منٹ کی گفتگو میں خود کو سچا ثابت کرنے اورا پنی کہی ہوئی بات کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے جو دلائل دئیے ہیں اُس کی بنیاد انھوں نے اس بات پر رکھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ حیات ہیں اور آپ ﷺ کی آواز مبارک کو بھی فنا نہیں، وہ بھی محفوظ ہے، لہذا اس کو ریکارڈ کرنے کا امکان موجود ہے۔
اسی قضیہ پر انھوں نے وہ تمام واقعات بیان کیے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کی حیات یا بعد از ظاہری وصال بزرگوں کا آپ ﷺ سے ہم کلام ہونے یا آپ ﷺ کی آواز مبارک سننے یا آپ ﷺ کا اپنے غلاموں کی آواز سن کر اُن کی مدد کرنے اور جواب دینے پر مشتمل ہیں۔
جسٹس نذیر احمد غازی نے اپنے وضاحتی بیان میں جو دلائل دئیے ہیں ان کا تعلق اس سوال سے بنتا ہی نہیں ہے کہ کیا صدیوں پہلے بولے گے الفاظ کی آواز کو آج کی کوئی ڈیوائز ریکارڈ کر سکتی ہے؟ جسٹس نذیر احمد غازی نے جتنے بھی دلائل دئیے ہیں وہ بزرگوں کے حال پر مشتمل تھے، جو رسول اللہ ﷺ کے معجزات یا بزرگوں کی کرامات پر مشتمل ہیں۔ جس میں ایک شخصیت کے کیے گے کلام نے دوسری طرف براہ راست ہزاروں میل سے سنا، یا عالم برزخ سے عالم دنیا میں سنا، یا عالم دنیا میں ہونے والے کلام کو عالم ارواح میں سنا گیا۔ اس میں کوئی ایک بھی واقعہ ایسا نہیں ہے جو اس بات کو بیان کرتا ہو کہ صدیوں پہلے کسی نے کلام کیا اور صدیوں بعد کسی دوسرے نے اس کو سن کر جواب دیا۔
جسٹس نذیر احمد غازی نے اپنے بیان کی تائید میں یہ بھی کہا کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ اور حضور غوث پاک سے استغاثہ کرتے ہوئے اشعار پڑھتے ہیں ۔ جس سے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ میں نے جو دعوی کیا وہ بالکل درست ہے۔ جبکہ وہ یہ بھول رہے ہیں کہ آج بھی امتی کا اپنے نبی ﷺ سے یا کسی عقیدت مند کا حضور غوث پاک یا کسی اور ولی اللہ سے استغاثہ حال پر وقوع ہوتا ہے۔ اور ان استغاثوں کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ صدیوں پہلے بولے گے الفاظ کو آج کا انسان ریکارڈ کر سکتا ہے۔ نیز آج کا مسلمان اپنے نبی ﷺ یا اولیاء و صالحین سے استغاثہ اس لیے کرتا ہے کہ اس کی تعلیم قرآن و سنت سے ملتی ہے۔ جبکہ آوازیں ریکارڈ کرنے والا نظریہ نہیں ملتا جس پر یقین کر لیا جائے۔
جسٹس نذیر احمد غازی نے اپنے وضاحتی بیان میں جتنے بھی خوش کن دلائل دئیے ہیں وہ اس لحاظ سے بھی بے محل ہیں کہ شیخ اکبر، علامہ شعرانی اور بالخصوص محدث بریلوی جن کا حوالہ جسٹس صاحب بھی دے رہے تھے ان سب نے ہر انسان کے بولے گے الفاظ کے خلاء میں محفوظ رہنے کا قول کیا ہے ناکہ خاص رسول اللہ ﷺ کے جو غازی صاحب اتنے لال پیلے ہو رہے ہیں۔
بالفرض مستقبل میں کوئی ایسی ٹیکنالوجی آبھی جاتی ہے جو خلاء میں محفوظ آوازوں کو ریکارڈ کرکے نشر کر سکے پھر بھی صدیوں پہلے کسی کے کیے گے کلام کی تصدیق کرنے کا کیا پیمانہ ہوگا؟ جبکہ آج کے انسان نے تو وہ آوازیں سنی ہی نہیں تو اس پر یقین کیونکر کیا جا سکے گا؟
ان سب سوالوں پر غور و فکر اور ان کے جوابات تلاش کیے بغیر جسٹس نذیر احمد غازی جیسی پڑھی لکھی مشہور شخصیت کو زیب نہیں دیتا کہ اتنے حساس موضوع پر وہ غیر مصدقہ سنی سنائی باتوں کو یوں میڈیا و سوشل میڈیا پر بیان کرکے بلاوجہ کڑوڑوں مسلمانوں میں تشویش اور پریشانی کا باعث بنیں۔
اسرائیلی مصنوعات کے ساتھ سیلیبریٹیزکا بائیکاٹ بھی تیز کر دو
ابوالابدال محمد رضوان طاہر فریدی
طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد جب سے اسرائیل اور حماس کے دوران جنگ کا ماحول بنا ہے اور یہودیوں نے حماس کے جنگجو مجاہدین کی آڑ میں غزہ کے بے گناہ شہریوں کا قتل عام شروع کیا ہے۔ تب سے اسرائیلی یہودیوں اور اُن کے حمایتیوں کے خلاف دنیا بھر میں نفرت اور احتجاج کا ماحول بنتا نظر آیا ہے۔
دنیا بھر میں اس جنگ کی وجہ سے دو واضح طبقات دیکھنے کو ملے ہیں۔ پہلا مغرب کی تمام بڑی طاقتوں نے کھل کر اسرائیل کا ساتھ دیا ہے اور کچھ ممالک غیر جانبدار رہے ہیں۔ جبکہ مسلم دنیا میں بالخصوص عرب حکمران اسرائیل کی پشت پر کھڑے ہیں اور باقی مسلم حکمران بھی خاموش رہ کر اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں جس میں موجودہ پاکستانی حکومت اور دفاعی اداروں کا طرز عمل بھی انتہائی شرم ناک اور قابل مذمت ہے۔
دوسرا طبقہ عوام کا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں اور انسانیت پسند کفار نے اسرائیل کی جارحیت، ظلم و ستم اور اہل غزہ کے قتل عام پر نا صرف صدائے احتجاج بلند کی بلکہ جس سے جو ہو سکا اس نے وہی کیا۔ امریکہ و اسرائیل کے بڑے برانڈ جو اپنی کمپنیز کے ذریعہ دنیا بھر سے پیسہ اکٹھا کرتے ہیں ان کے اسرائیلی فوج کی واضح حمایت کے خلاف مسلمانوں نے ان کمپنیز کا بائیکاٹ کرکے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔
اس بائیکاٹ مہم میں ان کمپنیز کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور اس بائیکاٹ مہم کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نزدیک عرب خلیجی ممالک بڑی اہمیت کے حامل ہیں، جہاں پر مسلمانوں کے بائیکاٹ سے انھیں اب تک دو بلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے اور میکڈونلڈ نے اسرائیل سے اپنی تمام فرنچائز واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے جس پر عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی عوام بھی اس مہم کو بڑی کامیابی سے لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کمپنیوں کی چیخیں واضح سنائی دے رہی ہیں۔ صیہونیوں کو سپورٹ کرنے والے برانڈز کا ایک مشترکہ وفد وزیر اعظم سے مل چکا ہے کہ وہ کسی طرح بائیکاٹ کی مہم کو ختم کروائیں ، مگر ہم نے اس بائیکاٹ مہم میں مزید تیزی لے کر آنی ہے۔
دوسری طرف پاکستان کے ایک لوکل برانڈ کے سی او نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے نتیجے میں پاکستانی برانڈ کی سیل بہت اچھی ہوئی ہے اور ہم اتنا پیسہ اکٹھا کر چکے ہیں کہ اب اپنی کمپنیز کو دیگر ممالک میں بھی کھول سکتے ہیں۔ یہ پاکستان اور پاکستانی برانڈز کے لیے اچھی خبر ہے۔
یورپ اور امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں اور اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والے کفار کی ایک بڑی تعداد جہاں سڑکوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہی ہے وہیں انھوں نے سیلیبریٹیزکے خلاف بھی زبردست سوشل میڈیا بائیکاٹ مہم جاری کر رکھی ہے۔ غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے قتل عام اور اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف جو سیلیبریٹیز سوشل میڈیا پر خاموش ہیں ان کے خلاف چلنے والی بائیکاٹ مہم اب باقاعدہ ایک آن لائن تحریک بن چکی ہے، جس کا آغاز ٹک ٹاک سے ہوا ہے۔ اس کا مقصد ایسے تمام سیلیبریٹیز کو ٹک ٹاک، انسٹا گرام اور ایکس ٹوئیٹر سے بلاک کرنا ہے جو غزہ میں صیہونی دہشت گردوں کے ہاتھوں جاری انسانی نسل کشی پر خاموش ہیں اور اس پر بات نہیں کرتے۔ اس بائیکاٹ مہم کے نتیجے میں بہت سے سیلیبریٹیز ملینز فالور کھو چکے ہیں۔
شہرت کے بھوکے سیلیبریٹیزکی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جتنی زیادہ فین فالونگ ہو گی، انھیں اسی حساب سے پیسے کمانے کا موقع ملتا ہے جو انھیں سوشل میڈیا کمپنیز، دیگر برانڈز اور میڈیا میں کام کے عوض ملتے ہیں۔ ان کی فین فالونگ جتنی کم ہوتی جائے گی، شہرت اور پیسے کمانے کے ذرائع بھی اتنے ہی کم ہوتے جائیں گے۔
سیلیبریٹیز کے خلاف چلنے والی اس تحریک کو پاکستان میں بھی چلانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں موجود شہرت کے بھوکے تمام سیلیبریٹیز کو یہ بتانے کا وقت آگیا ہے کہ اصل طاقت ہمارے پاس ہے۔ اگر تم اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف آواز بلند نہیں کرو گے تو سوشل میڈیا پر اپنی شناخت بھی باقی نہیں رکھ پاؤ گے۔
لہذا پاکستان کی تمام سیلیبریٹیز جو ابھی تک خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں ، ان میں سے جس جس کا نام آپ کے ذہن میں آرہا ہے،ٹک ٹاک، انسٹا گرام ، ایکس ٹوئیٹر اور فیس بک پر جائیں اور انھیں فورا بلاک کر دیں۔
یاد رہے ان فالو نہیں بلکہ بلاک کرنا ہے کیونکہ ان مذکورہ بالا کمپنیز کے پاس ہر فرد کا ڈیٹا موجود ہوتا ہے کہ کس کو زیادہ فالو کیا جا رہا ہے یا بلاک، جو سیلیبریٹیز کو لوگ جتنا زیادہ بلاک کریں گے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس کی آئی ڈی کی ریچ ، انھیں ملنے والے پیسے اور شہرت اتنی ہی کم ہوتی جائے گی۔ اس لیے صرف بلاک بلاک اور بلاک کرنا ہے۔
ایکس ٹوئیٹر پر ہم نے سب سے پہلے ایلون مسک کو بلاک کیا، کیونکہ اس نے کہا تھا کہ ٹوئیٹر پر فلسطین کی حمایت کرنے والے کا اکاؤنٹ بند کر دیا جائے گا۔اور اس نے اسرائیل جا کر اسرائیلی فوج کی مالی معاونت بھی کی ہے۔ ایکس ٹوئیٹر پر فلسطین کی حمایت کرنے پر اگر ایلون مسک کے پاس ہمارا اکاؤنٹ بند کرنے کا اختیار ہے تو ایلون مسک کا اسرائیلی حمایت کرنے پر ہمارے پاس بھی اسے بلاک کرنے کا اختیار موجود ہے۔
نوٹ: اس تحریر کو کاپی کریں اور اپنے متعلقہ دیگر گروپ میں شیئر کر دیں۔
23/ 05/ 2024
🔰 لوکل ای کامرس کا کام کسیے کیا جائے۔؟
👈 ایک بار لازمی پڑھیں شائد آپ کا یا آپ کے کسی جاننے والے کا بھلا ہوجائے۔۔۔
کوئی بھی فزیکل پراڈکٹ جو کہ آپ بیچتے ہیں اگر اُسی پراڈکٹ کو آن لائن بیچا جائے تو اِسے ای کامرس کا نام دیا جاتا ہے۔
اب اگر وہ کاروبار آپ صرف پاکستان میں کریں تو اُسے لوکل ای کامرس کہا جاتا ہے۔
لوکل ای کامرس کے کام میں آدمی کے کامیابی کے چانسز بہت زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ بندہ جو چیز بیچتا ہے اس کا تجربہ تو اُسے پہلے بھی ہوتا ہی ہے اپنے اردگرد کی مارکیٹوں میں وہ کام پہلے سے ہی وہ کررہا ہوتا ہے۔
اب اُسے ضرورت ہوتی ہے کہ اُسی کام کو آن لائن شروع کردے۔
مطلب نئے سِرے سے کوئی کام سیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس لئے آدمی کے کامیابی کے چانسز زیادہ ہوجاتے ہیں
خیر اب آجائیں اس بات پہ کہ آن لائن سیل کس طرح سے کریں۔
تو اس بات کو میں دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں تا کہ بات اچھی طرح سے سمجھ آجائے۔
🔰 پہلا حصہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 پہلا حصہ اس بات پہ ہے کہ ہمیں اپنی آن لائن دوکان بنانی ہے۔
◀️ آن لائن دوکان دو طرح سے بنائی جاتی ہے ایک فیسبک کے اوپر اور دوسرا گوگل کے اوپر اس کے اندر آگے بھی بہت ساری تفصیل ہے لیکن میں بالکل ایک سادہ سی ترتیب بتا رہا ہوں۔
◀️ اب فیسبک والی دوکان کو ہم پیج کہتے ہیں جس پیج کے اوپر ہم اپنا کاروبار کرتے ہیں۔۔
اور گوگل والی دوکان کو ہم ویب سائٹ کہتے ہیں۔
👈 فیسبک والی دوکان کو یوں سمجھیں جیسے کوئی پرچون کی دوکان اور ویب سائٹ گویا ہول سیل دوکان۔
نئے شروع کرنے والوں کیلئے سب سے بہترین آپشن ہوتا ہے کہ وہ فیسبک پیج سے شروع کریں۔
ایک تو یہ آسان ہے مطلب اس دوکان کو چلانا بہت ہی آسان ہوتا ہے۔اور دوسرا اس میں انویسٹمنٹ بہت کم ہوتی ہے۔
ویب سائٹ پہ دوکان بنانا قدرے مشکل بھی ہوتا ہے اور انویسٹمنٹ بھی کافی زیادہ درکار ہوتی ہے۔
🔰 دوسرا حصہ۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرا حصہ ای کامرس کے کام کے اندر مارکیٹنگ کا آتا ہے یعنی اب آپ نے دوکان بنالی اب آپ اس دوکان کی مارکیٹنگ کریں گے۔
جیسے ہم اپنے فزیکل کام کے اندر اپنے اردگرد مختلف مارکیٹوں میں جا کہ مارکیٹنگ کر کے اپنے پراڈکٹس کے آڈر لیتے ہیں اسی طرح سے ہمیں آن لائن بھی مارکیٹنگ کرنی ہوتی ہے۔
آن لائن مارکیٹنگ کے ویسے تو بہت سارے طریقے ہوتے ہیں لیکن میں آپ کو یہاں پہ تین بڑے موثر طریقے بتاتا ہوں اگر آپ ان تین طریقوں سے اپنی مارکیٹنگ کرلیں گے تو میرا دعویٰ ہے کہ آپ بہت جلد آن لائن ای کامرس کے اندر نا صِرف کامیاب ہوجائیں گے بلکہ اپنے ترقی کے جھنڈے بھی جلد ہی گاڑ لیں گے۔ اور اپنی چھوٹی سی آن لائن دوکان کو بہت بڑی ایجینسی کے اندر تبدیل کر لیں گے۔
🔰1 پہلا طریقہ آرگینک مارکیٹنگ ہے جس میں آپ کو بہت زیادہ وقت درکار ہوگا۔
آپ اپنے کاروبار کو آرگینکلی گرو کریں گے اپنے پیج کے اوپر اپنے کام کے متعلق پوسٹس کریں گے اور اپنی فیلڈ کے متعلق انفارمیشن بھی اپنے پیج پہ شئیر کرتے رہیں گے اور وقتاً فوقتاً اپنے پراڈکٹس بھی دکھائیں گے اب اس صورت میں جب آپ کے پاس کلائنٹس آجائیں گے تو آپ ان کو چیزیں بیچیں گے اور پھر اُن سے پوزیٹو ریویو لیں گے جو کہ آپ اپنے پیج اور ویب سائٹ کے اوپر شئیر کرتے جائیں گے۔
ان پوزیٹو ریویوز کی کیا طاقت ہے یہ آپ ابھی اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔اس طرح سے ایک سال کے اندر آپ اگر سو پوزیٹو ریویوز لے لیتے ہیں تو آپ کو کامیاب ہونے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔
◀️2 دوسرا طریقہ ایڈ مارکیٹنگ پہ مشتمل ہوتا ہے۔
یہ طریقہ آپ کو ایک دو مہینے میں ہی اچھے رزلٹس لا کہ دے دے گا۔
اس کے اندر آپ گوگل اور فیس بک پہ ایڈز کے ذریعے اپنی مارکیٹنگ کریں گے۔اور ساتھ اس کے انسٹاگرام اور کچھ دوسرے پیلٹ فارم بھی شامل ہیں لیکن بنیادی مارکیٹنگ فیسبک اور گوگل کے اوپر ہی ہو گی۔
اچھا ایڈ مارکیٹنگ میں صرف سیلز کی ایڈز نہیں چلائی جاتی بلکہ مختلف قسم کی کیمپینز بنائی جاتی ہیں پہلے اپنے برانڈ کو متعارف کروانے کیلئے کیمپینز چلائی جاتی ہیں اور پھر لیڈز جنریٹ کی جاتی ہیں اور پھر سیلز فنل کی طرف قدم بڑھایا جاتا ہے۔
خیر قصہ مختصر اس میں آپ اپنے برانڈ (دوکان) کیلئے ایڈز چلاتے ہیں۔ فیسبک، گوگل کو کچھ پیسے دئیے جاتے ہیں اور پھر اس میں فیسبک، گوگل اُن لوگوں تک آپ کی ایڈ کو پہنچاتا ہے جو آپ کی فیلڈ سے ریلیٹڈ لوگ ہوں۔
اس طرح سے آپ ایک ڈیڑھ مہینے کے اندر ہی ایک اچھی خاصی سیلز کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بعض بزنسز تو اس سے بھی پہلے گرو ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔
◀️ 3 تیسرا طریقہ انفلوائنسر مارکیٹنگ کا ہوتا ہے۔ اس میں آپ سوشل میڈیا پہ مشہور لوگوں سے اپنی مارکیٹنگ کرواتے ہیں۔
وہ لوگ جن کے اپنے ہزاروں لاکھوں فالورز ہوں جب وہ آپ کیلئے یہ کہتے ہیں کہ یہ فلاں چیز بہت اچھی ہے آپ ابھی جا کہ اسے استعمال کریں آپ کو بہت فائدہ ہوگا تو لوگ اُس کی بات پہ یقین رکھتے ہوئے اُس چیز کو دھڑا دھڑ خریدنے شروع ہوجاتے ہیں۔
اور یہ ایک ایسی مارکیٹنگ ہے کہ جس کا اثر فوری شروع ہوجاتا ہے۔ مطلب اگر آج مارکیٹنگ کروائی تو آج ہی سے سیل شروع ہوگئی۔
ویسے تو مارکیٹنگ کے اور بھی بہت سارے طریقے ہیں لیکن اگر شروع میں ان تین طریقوں سے ہی کرلیا جائے تو بھی اچھے نتائج آنا شروع ہو جائیں گے۔
اور ہاں اگر آپ اپنے کاروبار میں یہ تینوں طریقے اپلائی کرلیں اور کچھ عرصہ مطلب ایک سال تک اس طرح سے چلتے رہیں تو آپ کو کامیاب ہونے سے اللہ کے فضل سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔
عدنان سندھو
07/05/2024
ایم ایس ورڈ کا مکمل کورس فری حاصل کرنے کے لیے نیچے لنک پر کلک کریں۔
لنک پیش خدمت ہے
Part 1
https://youtu.be/sMh8EDPzqjQ?si=9LCvnJ89zIOXpnsn
Part 2
https://youtu.be/neOz80_Yugg?si=7IwMQszjfqyUSy0N
Part 3
https://youtu.be/dziHOj-HCl0?si=KtGMLI-t3ZED3f9Y
Part 4
https://youtu.be/r3dPzPOpM3s?si=z-3cd_ch0EVHeEd8
اس چینل پر اور بھی کچھ کورس اپلوڈ ہیں۔ اور مزید بھی اپلوڈ کیے جائیں گے۔
چینل پر جائیں، ویڈیو دیکھیں اور فائدہ اٹھائیں۔
07/05/2024
07/05/2024
فن تذکرہ نویسی فری کورس حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Address
Okara
56300