The Leaders School System

The Leaders School System

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Leaders School System, Education, M. A Jinnah Road Near Crystal Palace, Okara.

05/06/2023

Summer vacation notification

08/01/2023
28/12/2022

لیڈر شپ
(قاسم علی شاہ)
قدرت ہر نبی کو قیادت ودیعت کرتی ہے۔ اسے پتا ہوتا ہے کہ ان کے معاشرے پر ان کے اثرات پڑنے ہیں۔ انھوں نے انسانیت کو دینا ہوتا ہے، اور دینے کیلئے قیادت بہت ضروری ہے۔ دنیا میں تین طرح کے قائد ہوتے ہیں۔ پہلی قسم کے قائد پیدائشی قائد ہوتے ہیں۔ اس میں نبی، پیغمبر، اور رسول شامل ہیں۔ دوسرے قائد وہ ہوتے ہیں جو حالات و واقعات سے قائد بنتے ہیں۔ اور تیسرے وہ ہوتے ہیں جو سیکھتے یا کسی سے متاثر ہو کر قائد بنتے ہیں۔
لیڈرشپ میں چار الفاظ ہیں۔ پہلا لفظ لیڈ ہے۔ دوسرا، لیڈر۔ تیسرا، لیڈرشپ۔ اور چوتھا، شپ۔ اگر ہم ان کے معانی دیکھیں تو لیڈ (Lead) کرنے کا مطلب ہے، رہنمائی کرنا۔ دوسرا لیڈر (Leader) جو رہنما ہوتا ہے۔ تیسرا لیڈرشپ (Leadership)، کوئی ایسا آلہ ہے جو سمندر میں تیرتا اور چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتا ہے۔ چوتھا لیڈرشپ (Leadership) کا مطلب ہے کہ وہ طریقہ کار جس میں کوئی لیڈر لوگوں کو کسی مقام تک پہنچا دے۔

لیڈرکون؟
جان میکسوئل نے لیڈرشپ پر دنیا میں سب سے زیادہ تحقیق کی ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’اگر آپ کو ترقی کرنی ہے اور آپ سے کہا جائے کہ صرف اپنے اندر ایک صفت پیدا کر لو تو ترقی ممکن ہوجائے گی تو اس صفت کا نام ہے، لیڈر شپ۔‘‘ دنیا کے تمام بڑے لوگ لیڈر ہوتے ہیں۔ جب لیڈرشپ کی بات کی جائے تو یہ ذہن میں رہے کہ لیڈر وہ فرد ہوتا ہے جو دوسرے لوگوں سے ممتاز ہوتا ہے۔ ہر انسان لیڈ نہیں کرسکتا۔ حضرت پیر مہر علی شاہؒ کے ایک بیٹے کا نام ’’باؤ جی‘‘ تھا۔ ان کی عمر نو یا دس سال تھی۔ انگریز نے گولڑہ شریف سے نئی نئی ٹرین چلائی تو باؤ جی روزانہ ٹرین دیکھنے ریل کی پٹری کے پاس چلے جاتے۔ ان کے مریدوں نے باؤجی سے پوچھا، آپ یہاں کیوں آتے ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا، مجھے ٹرین سے محبت ہو گئی ہے۔ مریدوں نے پوچھا، کیوں محبت ہو گئی ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ اس کی پانچ وجوہ ہیں۔ پہلی وجہ، ٹرین کا انجن ٹرین کو منزل تک لے کر جاتاہے؛ دوسری وجہ، آخری ڈبے کو بھی ساتھ لے کر جاتا ہے؛ تیسری وجہ، آگ خود کھاتا ہے، ڈبوں کونہیں کھانی پڑتی؛ چوتھی وجہ، صراطِ مستقیم پر چلتا ہے؛ اورپانچویں وجہ، یہ ڈبوں کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ ڈبے اس کے محتاج ہوتے ہیں۔ آپ فیصلہ کیجیے کہ زندگی انجن کی طرح گزارنی ہے یاڈبے کی طرح ؟

پاکستان میں سب سے مشکل ٹیسٹ لڑاکا طیارے کے پائلٹ کا ہوتا ہے۔ اس میں پائلٹ کو ایک کیبن میں ڈال کر ہوا کا دباؤ کم کرکے گھمایا جاتا ہے۔ اس میں کئی لوگوں کے کان تک پھٹ جاتے ہیں۔ جو فرد اِس ٹیسٹ میں کامیاب ہوتا ہے، اسے منتخب کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے جس کے ہاتھ میں کروڑوں روپے کا طیار ہ دینا ہے، وہ اتنا قابل ہو کہ وہ اس طیارے کو اڑا سکے۔ پائلٹ کو کہا جاتا ہے کہ اگر کبھی آپشن آئے کہ طیارہ تباہ کرنا ہے یا خود کو بچانا ہے تو تم طیارہ تباہ کر دینا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تم اس سے کئی گنا مہنگے ہو۔۔۔کیونکہ تم لیڈر ہو۔

رنجیت سنگھ گوجرانوالہ کا کسان تھا، مگر وہ لیڈر تھا۔ اس میں یہ کوالٹی تھی کہ وہ آدمی سے کام لینا جانتا تھا۔ اس نے ایک فرنچ جرنیل ونچورا کو رکھا۔ وہ بہت ذہین تھا۔ جب رنجیت سنگھ مرگیا تو ونچورا حکومت چھوڑکر واپس فرانس چلاگیا۔ وہاں کے لوگوں نے اسے کہا کہ تم کیوں آگئے ہو؟ اس نے جواب دیا، جو لیڈر تھا وہ مرگیا۔ جب لیڈر مر گیا تو پھر میرا کام بھی نہیں رہا۔ کارپوریٹ دنیا میں جتنے سی ای او ہوتے ہیں ان میں 73 فیصد اس لیے سیٹوں سے ہٹائے جاتے ہیں کہ وہ لیڈر نہیں ہوتے یا یوں کہہ لیں کہ دنیا میں نوکریوں سے ان لوگوں کو نکالا جاتا ہے جو ذمے دار نہیں ہوتے۔ اس 73 فیصد کو آپ خاندان،گھر اور ملک پر لاگو کر یں، آپ کو نتیجہ مل جائے گا۔

حضرت قائد اعظمؒ کی گاڑی پھاٹک پر لگی۔ پھاٹک بند تھا۔ پی اے نے اتر کر پھاٹک کھلوایا۔ جب وہ واپس آ کر گاڑی میں بیٹھا تو آپؒ نے اس سے کہا،یہ تم نے کیا کیا؟ اس نے کہا، میں نے آپ کیلئے پھاٹک کھلوایا ہے۔ آپؒ نے کہا، ’’اسے بند کرائو۔آ ج میرے لیے کھلا ہے، صدیوں تک دوسروں کیلئے کھلتا رہے گا۔‘‘
اگر آپ کا عمل دوسرے کوبڑا خواب دیکھنے، سیکھنے اور کچھ کرگزرنے، کچھ بن جانے کیلئے متاثر کرتا ہے تو پھر آپ لیڈر ہیں۔ زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے لوگ بڑے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگ لیڈر ہوتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہی نوازنا ہے تو پھر آپ کیوں چھوٹا سوچتے ہیں۔ وہ ایسا مالک ہے کہ اگر آپ نہیں مانگتے تو وہ ناراض ہوتا ہے۔

لیڈرشپ وقتی نہیں ہوتی کہ آدمی کہے کہ میں دو گھنٹے کیلئے لیڈر ہوں اور بائیس گھنٹے نہیں ہوں۔ یہ چوبیس گھنٹے کا کام ہے۔ یہ فل ٹائم ڈیوٹی ہے۔ لیڈرشپ سوچنے کا ایک انداز ہے، ایک زاویہ نظر ہے۔ اگر آپ کا زاویہ نظر ایسا نہیں تو پھر آپ لیڈر نہیں ہیں۔لیڈرشپ میں منافقت نہیں ہوتی ہے۔ یہ سچا کھرا ہونے کا نام ہے۔ جو اندر ہے، وہی باہر ہے۔ اگر آپ میں کردار نہیں ہے تو آپ لیڈر نہیں ہیں۔ اگر آپ کو زندگی میں ترقی کرنی ہے تو پھر آپ اپنے کردار پر کام کیجیے۔ جتنا بڑا کردار ہوگا، اتنے بڑے آپ لیڈر بنیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے جتنے بڑے لیڈر ہوتے ہیں وہ لالچی نہیں ہوتے۔

لیڈرکا معاوضہ
ستھ گورڈن کہتا ہے، ’’دنیا کے جتنے بھی ذہین لوگ ہیں وہ اپنی بہترین صلاحیت جس ادارے یا جس کمپنی کو دے رہے ہوتے ہیں انھیں پتا ہوتاہے کہ انھیں ادھر سے مکمل معاوضہ نہیں ملنا۔ اس معاوضے کا حصہ قدرت نے ہمیں دینا ہے۔‘‘ جیسے ہی ذہین لوگ اپنی بہترین صلاحیت کا استعمال کر تے ہیں، قدرت انھیں اتنا نوازتی ہے کہ وہ حیران ہوجاتے ہیں۔ آپ جہاں بھی کام کررہے ہیں، وہاں اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کیجیے اور ان صلاحیتوں کے معاوضے کا تقاضا اپنے ادارے سے نہ کریں، اللہ تعالیٰ سے کریں۔

دنیا میں پروفیشن کے لحاظ شخصیت کی 13 قسمیں ہیں اور13 قسم کے ہی لیڈر ہیں۔ لیڈر وہ ہوتا جس میں قائدانہ خصوصیا ت موجود ہوتی ہیں۔ وہ کہیں پر بھی ہو، وہ Lead کرتا ہے۔ آپ کو کبھی خاندان کے فنکشن میں اکٹھا ہونے کا موقع ملے تو آپ اپنے بچوں کو چھوڑ دیں۔ تھو ڑی دیر بعد آپ کو پتا چل جائے گا کہ کو ن لیڈر ہے۔ سارے بچے جس بچے کی بات ماننا شروع کردیتے ہیں، وہ بچہ لیڈر ہوتا ہے۔

لیڈر ہر جگہ لیڈر ہوتا ہے۔ اس کی لیڈر شپ ہر جگہ کچھ نہ کچھ محسوس ہوتی ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ اس میں کچھ ہے۔ لیڈرشپ ایک ایسی چیز ہے جس میں حوصلہ اورظرف چوبیس گھنٹے ہونا چاہیے۔ جس طر ح شرارتی بچے کو چین نہیں آتا، اسی طرح جس میں لیڈر شپ ہوتی ہے اسے بھی چین نہیں آتا۔ اس کے اندر کا لیڈر بار بار کہتا رہتا ہے کہ مجھ سے کا م لو۔آپ قابل بنیں، آپ کو انعام قدرت نے دیناہے۔ کسی کمپنی نے نہیں دینا۔ قدرت تو تیار ہے۔ بس، آپ کی قابلیت اس مقام پر پہنچنی چاہیے جہاں پر انعام ملنا ہے۔ زندگی میں آپ کو ایک موقع ملا ہے۔ اس میں اپنے آپ کو ثابت کرکے جائیں کہ آپ لیڈر ہیں۔

لیڈر کی خصوصیات
ماہرین نے لیڈر یا قائد کی درج ذیل خصوصیات بیان کی ہیں:
1۔ویژن
جوفرد آج میں بیٹھ کر آنے والے زمانے کو دیکھ لے، وہ لیڈر ہوتا ہے۔ سیب کو دیکھنا بڑی بات نہیں ہے۔ سیب کے اندر درختوں کو دیکھنا بڑی بات ہوتی ہے، کیونکہ ایک سیب میں کتنے بیج ہیں اور بیجوں میں کتنے درخت ہیں اور ان درختوں میں کتنے سیب ہیں۔۔۔ لامحدود۔ مسلمان مومن کے پاس ویژن ہوتا ہے۔ اس کو اپنی منزل جنت نظر آ رہی ہوتی ہے۔ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو قد م اٹھاتے ہیں، انھیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ اس کا انجام کیا ہے۔ دو چیزوں کے پہرے دار بنیں۔ ایک سوچ اور ایک عمل۔ سوچ پہلے ہے اور عمل بعد میں ہے۔ جو آدمی اپنی سوچ اور عمل کا پہرے دار ہے، وہ ویژن والا انسان ہے۔
ویژن کیلئے تعلیم ضرور ی نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کرم سے ہوتا ہے۔ سوچ اور سنگت سے ہوتا ہے۔ جب آپ کی زندگی میں ویژن ہوتا ہے تو آپ قدم اٹھاتے ہوئے سوچتے ہیں۔ رنجیت سنگھ کی مجلس مشاورت میں جرنیل ونچورا شامل تھا۔ رنجیت سنگھ نے ونچورا سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ سکھ قوم محتاج نہ ہو۔ اس نے جواب دیا، ’’فقط عورت کیلئے تعلیم لازم کر دو اور یہ نانیوں دادیوں سے لے کر چھوٹی بچیوں تک لازم کر دو۔‘‘ رنجیت سنگھ نے پوچھا، ’’اور مرد؟‘‘ ونچور ا نے جواب دیا، ’’ان کی خیر ہے۔ تمہاری نسل میں محتاج پیدا ہونا بند ہوجائیں گے۔‘‘ اس کے بعد رنجیت سنگھ نے تعلیم لازم کر دی اور آج اس قوم میں بھکاری نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر آپ نے اپنی نسل میں خودداری اور علم حاصل کرنے کا شوق پیدا کرد یا تو پھر آپ کی نسل میں بھکاری پیدا نہیں ہوگا۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دور میں مسلمان زکوٰۃ لے کر بازار جاتے تھے، مگر کوئی لینے والا نہ ہوتاتھا۔ اس کی وجہ خوشحالی تھی۔ اس لیے مچھلی پکڑ کے کھلانے سے بہتر ہے، آپ اسے مچھلی پکڑنا سکھائیں تاکہ محتاجی ختم ہو جائے۔ دنیا میں جتنے بھی ویژن والے انسان ہوتے ہیں، ان کا نام زندہ رہتا ہے۔ چیتا 122 کلومیڑ فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتا ہے، مگر وہ صرف تین منٹ بعد ہی تھک جاتا ہے۔ اسی وجہ سے چیتا سکون سے بیٹھ کر اپنے شکار کو دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ میں نے کون سے ہرن کا شکار کرنا ہے۔ پھر وہ پورے ویژن کے ساتھ حملہ کرتا ہے۔ زندگی میں جو کچھ کیجیے، ویژن کے ساتھ کیجیے۔ جب آپ ویژن کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں تو پھر کسی چیز کو چھوڑنا اور پکڑنا آسان ہوتا ہے۔
2۔جوڑنے والا
لوگوں نے حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے ہاتھ میں کبھی قینچی نہیں دیکھی۔ ہمیشہ سوئی دھاگا ہی رہتا تھا۔ کسی نے بابا جی سے پوچھا، آپ کے ہاتھ میں کبھی قینچی نہیں دیکھی۔ آپؒ نے فرمایا، جو کاٹتی ہے، میں اسے نہیں پکڑتا؛ جو جوڑتی ہے، میں وہ پکڑتا ہوں۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو جوڑتا ہے۔ اپنے اندر جوڑنے والی صفت پیدا کیجیے۔ مختار مسعود کہتے ہیں، ’’اگر مُردہ شماری کی جائے تو یہ سولہ کروڑ نکلیں گے اور اگر مردم شناسی کی جائے تو سولہ بھی نہیں نکلیں گے۔‘‘ اگر آپ میں کوئی خوبی ہے تو پھر آپ جوڑیں گے، لوگ خود بدلیں گے۔
3۔رول ماڈل
لیڈر، رول ماڈل ہوتا ہے۔ اسے سچا اور کھرا ہونا چاہیے۔ وہ قابل اعتبار ہو۔ جو لوگ قابل اعتبا ر نہیں ہوتے، وہ لیڈر نہیں ہوتے۔ اگر آپ کی کامیابی اور علم کے شاہد آپ کے اپنے لوگ ہیں تو پھر آپ سچے انسان ہیں، آپ لیڈر ہیں۔
4۔خوداعتمادی
دنیا کے تمام بڑے لوگوں کو اپنے آپ پر اعتماد ہوتا ہے۔ آپ کا خود پر اعتماد آپ کے کام کو آگے لے کر جاتا ہے۔ خود اعتمادی بڑھانے کیلئے سب سے پہلے آپ اپنا علم بڑھائیے۔ خودکو جانئے۔ زمانے کو جانئے۔ علم اس کے پاس ہوتا ہے جو زمانے کے علم کو جانتا ہے۔ جس نے سب چیزوں کو پرکھا ہوا ہوتا ہے۔ ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے زمانے کا علم نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ہم میں گھٹن ہوتی ہے۔ ہم ڈرتے ہیں کہ ہم نے قدم رکھا تو کیا ہوجائے گا، اس لیے اپنے بچوں کو زمانے کا علم ضرور دیجیے۔

جس کے پاس جتنا بہتر کردار ہوگا، اس میں اتنا ہی اعتماد ہو گا۔کنفیوژن سے آزادی آپ میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے۔ اپنے اور اپنے بچوں میں سیدھی اور صاف بات کرنے کی عادت ڈالیے۔ اس سے خوداعتمادی ملے گی۔جو آدمی اپنے مسئلے خود حل کر لیتا ہے، اپنے فیصلے خود کرسکتا ہے، وہ ذہین ہوتا ہے۔ ذہین آدمی میں زیادہ اعتماد ہوتا ہے۔

10/07/2021
Photos from The Leaders School System's post 09/07/2021

students celebration of mango party 🎊 in summer camp.

Photos from The Leaders School System's post 09/09/2020
13/03/2020

Dear Parents
As per Punjab Government’s notification, The leaders school system will be closed starting from March 14th, 2020 to 5th April 2020 due to the pandemic coronavirus.
May Allah protect each and everyone of us and we all come out of this outbreak soon. In sha Allah.
Regards:
Management of The Leaders School System Okara.

12/01/2020

Dear students,we hope you had a wonderful vacation, Now it's time to get back to school .....we are set to welcome you all back to school.

Want your school to be the top-listed School/college in Okara?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

M. A Jinnah Road Near Crystal Palace
Okara

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Friday 08:00 - 15:00
Saturday 08:00 - 16:00