Quran And Hadith Knowledge

Quran And Hadith Knowledge

Share

apko hamaray page pa Quran or Ahadith k Mutabiq Mawad milay ga so like our page and share

16/02/2026

*کیا رمضان کریم کہنا جائز ہے*؟

شیخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ رمضان کریم کہنا صحیح نہیں ہے، رمضان مبارک کہا جائے.
اسی طرح جب شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ رمضان کریم کہنے کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ملتی.
جبکہ شیخ صالح العصیمی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ ماہ رمضان کی کچھ صفات شریعت میں وارد ہوئی ہیں، جیسے مبارک اور رحمت والا مہینہ وغیرہ.
اور کچھ صفات ایسی ہیں جن کا شریعت میں ذکر نہیں ملتا، اگر اس کا معنی صحیح ہے تو اس کا استعمال جائز ہے، لوگوں کے درمیان اس ماہ کو کریم کہنا مشہور ہے، جبکہ شریعت میں لفظ کریم رمضان کی صفت کے طور پر استعمال نہیں ہوا ہے، کریم عربی زبان میں فعیل کے وزن پر آتا ہے جو کبھی اسم مفعول کے معنی میں ہوتا اور کبھی اسم فاعل کے معنی میں ہوتا ہے، اگر اسم مفعول کے معنی میں استعمال کرتے ہیں تو جائز ہے، کیوں کہ اس کا معنی ہوگا کہ ایسا مہینہ جس کی تکریم کی گئی ہو، جسے شرف حاصل ہو، اور یقیناً ماہ رمضان شرف وعزت والا مہینہ ہے.
اور اگر اس کا استعمال اسم فاعل کے معنی میں ہوگا تو درست نہیں کیونکہ اس کا مطلب ہوگا کہ رمضان عزت دینے والا، شرف بخشنے والا ہے اور یہ صحیح نہیں ہے.
شیخ صالح العصیمی حفظہ اللہ کا جواب مندرجہ ذیل لنک پر سنا جا سکتا ہے.

شیخ صالح العصیمی حفظہ اللہ کا جواب راجح معلوم ہوتا ہے، اور اس کی تائید بھی کتاب اللہ سے ہوتی ہے.
چنانچہ اللہ رب العالمین نے فرمایا: قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ (النمل:29)
وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ (الشعراء:58)
أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الْأَرْضِ كَمْ أَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ (الشعراء:7)
فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (الحج:50)
إِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ (يّـس:11)
مذکورہ آیات میں کتاب، مقام، رزق اور اجر کی صفت کریم کے طور پر استعمال ہوئی ہے.
کتاب کا مطلب پیغام یا خط وغیرہ ہے.
قارئین کرام: آپ غور فرمائیں کہ اللہ رب العالمين نے خط، مقام، اجر اور رزق کو کریم کی صفت سے متصف کیا ہے، جب کہ یہ چیزیں بذات خود کسی کی تکریم نہیں کرتی اور نہ کسی شرف بخشتی ہیں، کریم تو صرف اللہ ہے، معلوم یہ ہوا کہ یہاں پر کریم اسم مفعول کے معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی یہ ان چیزوں کو عزت وشرف عطا کیا گیا ہے، جیسا کہ شیخ صالح العصیمی نے اس کی تفصیل بیان کی، اس لئے رمضان کیلئے کریم کی صفت استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں.

بلکہ شیخ ابن عثيمين رحمہ اللہ جنہوں نے اس کے استعمال کو غیر صحیح قرار دیا ہے انہوں نے خود اس لفظ کو رمضان کیلئے بطور صفت استعمال کیا ہے، چنانچہ ایک کتاب "الضیاء اللامع من الخطب الجوامع" کے نام سے مشہور ہے، جس میں شیخ ابن عثيمين رحمہ اللہ کے جمعہ کے خطبات جمع کئے گئے ہیں، شیخ نے دوران خطبہ کہا: "عباد الله: لقد أظلكم شهر عظيم، وموسم كريم". (2/ 165).
اللہ کے بندو، تمہارے اوپر ایک مہینہ اور کریم موسم سایہ فگن ہوا ہے.
ایک جگہ فرمایا:" لقد أظلكم شهر مبارك كريم". (٤/ ٤٥٧).
تمہارے اوپر ایک بابرکت اور کریم مہینہ سایہ فگن ہو چکا ہے.
ان کی ایک دوسری کتاب" مجالس شہر رمضان" کے نام سے مشہور ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں کہ: "لقد اظلنا شہر کریم". (صفحہ:٧).
ہمارے اوپر ایک کریم مہینہ سایہ فگن ہو چکا ہے.

معلوم یہ ہوا کہ رمضان کیلئے اس لفظ کا استعمال مفعول کے معنی میں درست اور جائز ہے، یعنی یہ مہینہ شرف وعزت اور والا مہینہ ہے، اور اسی کو شیخ صالح العصیمی حفظہ اللہ نے جائز قرار دیا ہے اور جن علماء نے رمضان کے ساتھ کریم کی صفت کا استعمال کیا ہے اسے بھی اسی معنی پر محمول کیا جائے گا، جیسا کہ خود شیخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے استعمال کیا ہے.

واللہ تعالیٰ اعلم، وعلمہ اتم واحکم

ابو احمد کلیم الدین یوسف
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

03/06/2025
13/10/2024

📌 ⭕ تم میں سے بہترین کون؟کون؟

*قال رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ ........*
(رَسُولُ اللّٰهِﷺ نے فرمایا :

1۔ 👈 *خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وعَلَّمَه*
تم میں بہترین وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور اس کو سکھایا۔
📗 |[ صحيح البخاري۔ حدیث: 5027 ]|

2۔ 👈 *خِيَارُكُمْ أُحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا*
تم میں بہترین وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔
📗 |[ صحيح البخاري۔ حدیث: 6035 ]|

3۔ 👈 *خَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً*
تم میں بہترین وہ ہے، جو ادائیگی میں اچھا ہے۔
(أي عند رد القرض . یعنی قرض لوٹانے میں)
📗 |[ صحيح البخاري۔ حدیث: 2305 ]|

4۔ 👈 *خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَىٰ خَيْرُه ويُؤمٓنُ شَرُّه*
تم میں بہترین وہ ہے، جس کی بھلائی کی امید رکھی جائے اور اس سے برائی کا اندیشہ نہ ہو۔
📘 |[ صحيح الترمذي، حدیث : 2263 ]|

5۔ 👈 *خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ ِلأَهْلِهٖ*
تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین ہو۔
📘 |[ صحيح ابن حبان۔ حدیث: 4177 ]|

6۔ 👈 *خَيْرُكُمْ مَنْ أَطْعَمَ الطَعَامَ و رَدَّ السَلَامَ*
تم میں سے بہترین وہ ہے جو کھانا کھلائے اور جو سلام کا جواب دے۔
📚 |[ صحيح الجامع۔ حدیث: 3318 ]|

7۔ 👈 *خِيَارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ فِي الصَلَاةِ*
تمہارے بہترین وہ ہیں، جو دوران نماز نرم کندھوں والے ہوں۔
*(أي: يَفْسَحُ لِمَنْ يَدْخُلُ الصَفَّ فِي الصَلَاةِ۔یعنی:*
کشادگی کرے نماز میں صف میں شامل ہونے والے کیلئے)
📘 |[ الترغيب والترهيب : 234/1 ]|

8۔ 👈 *خَيْرُ الناسِ مَنْ طَالَ عُمْرُه وحَسُنَ عَمَلُه*
لوگوں میں بہترین وہ ہے جس کی عمر لمبی اور اس کا عمل اچھا ہو۔
📚 |[ صحيح الجامع، حدیث: 3297 ]|

9۔ 👈 *خَيْرُ النَاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَاسِ*
بہترین لوگ وہ ہیں، جو لوگوں کو زیادہ فائدہ پہنچائیں۔
📚 |[ صحيح الجامع، حدیث: 3289 ]|

10۔ 👈 *خَيْرُ الأَصْحَابِ عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرُكُمْ لِصَاحِبِهٖ، وخَيْرُ الجِيْرَانِ عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرُكُمْ لِجَارِهٖ*
الله کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے ساتھ بہترین ہو۔ اور الله کے ہاں بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کیلئے بہترین ہو۔
📘 |[ صحيح الأدب المفرد، حدیث: 84 ]|

11۔ 👈 *عن عبدالله بن عمرو : قلنا يا نبيَّ اللهِ مَن خيرُ الناسِ؟*
*قال : خَيْرُ النَّاسِ ذُوْ الْقَلْبِ المَخْمُومِ وَاللِّسَانِ الصَّادِقِ*
*قَالُوْا : صُدُوْقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُه فَمَا مَخْمُوْمُ القَلْبِ؟*
*قال : هو التَّقِيُّ النَّقِيُّ الذي لا إِثْمَ فيه ولا بَغْيَ ولا حَسَدَ.*
*قِيلَ: فَمَنْ على أثَرِهِ؟*
*قال: الَّذي يَشْنَأُ الدُّنيا، ويُحِبُّ الآخِرةَ.*
*قِيلَ: فمَنْ على أثَرِهِ؟*
*قال: مُؤمِنٌ في خُلُقٍ حَسَنٍ.*

عبد اللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! لوگوں میں سے بہترین کون ہے؟
فرمایا : وہ جو مخموم دل والا راست گو ہو۔
صحابہ نے پوچھا "راست گو" تو ہم سمجھتے ہیں، یہ مخموم دل والا" کیا ہے؟
فرمایا: ایسا ڈرنے والا صاف دل جس میں کوئی گناہ، سرکشی، اور حسد نہ ہو۔
عرض کیا گیا کہ اس کے بعد کون؟
فرمایا: جو دنیا سے نفرت وعداوت اور آخرت سے محبت رکھتا ہو۔
پوچھا گیا کہ اس کے بعد کون؟
فرمایا : وہ مؤمن جو اچھے اخلاق والا ہو۔
📚 |[ صحيح الجامع، حديث: 3291 ]|
: *شیخ الإسلام ابنِ تیمیہ رحمه الله فرماتے ہیں:*

”سب سے جلدی وہ دعا قبول ہوتی ہے جو ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے؛ اس کی عدم موجودگی میں کرتا ہے۔“

*📚 |[مجموع فتاویٰ : 96/27]|*
⭕ - *اخلاص کسے کہتے ہیں؟*

*👈 امام ابن القيم رحمه الله کہتے ہیں:*

"اخلاص یہ ہے کہ تم اپنے عمل پر الله تعالی کے علاوہ کسی اور کو گواہ نہ تلاش کرو اور نہ ہی اس کے علاوہ کسی اور کے لیے عمل کرو۔"

📚 - *|[ مدارج السالڪين : ❪٢٩/٢❫ ]|*

26/08/2024

🍃 *فرشتوں پر ایمان* 🍃
▪️فرشتوں کے وجود پر پختہ ایمان رکھنا
▫️ان کی تخلیق انسان سے پہلے ہوئی۔
▪️یہ انسانی صورت اختیار کرسکتے ہیں۔
▪️فرشتوں کے ناموں، فضائل اور کاموں سمیت ان کو ماننا۔

🍃 *فرشتوں کے کام* 🍃

🍀 *جبرائیل علیہ السلام* 🍀
▫️ روح القدس اور روح الامین بھی کہا جاتا ہے۔
▪️ان کی ذمےداری یہ ہے کہ وہ پیغمبروں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔

🍀 *اسرافیل علیہ السلام* 🍀
▫️ان کی ذمےداری صور پھونکنا ہے۔
▪️انھیں صاحب القرن بھی کہا جاتا ہے۔
▫️اللہ کے حکم سے وہ تین بار صور پھونکیں گے۔

🍀 *ملک الموت* 🍀
موت یعنی روح قبض کرنے کا کام ان کے سپرد ہے۔

🍀 *فرشتہء موت کے معاون فرشتے* 🍀
قرآن مجید میں ان فرشتوں کو وَٱلنَّـٰزِعَـٰتِ اور وَٱلنَّـٰشِطَـٰتِ کہا گیا ہے۔
🔘 *وَٱلنَّـٰزِعَـٰتِ سے مراد:*
وہ فرشتے جو کافروں کی روحوں کو انتہائی سختی، شدت اور عذاب دے کر کھینچتے ہیں۔
🔘 *وَٱلنَّـٰشِطَـٰتِ سے مراد:*
رحمت کے فرشتے جو اہلِ ایمان، متقی لوگوں کی ارواح کو انتہائی نرمی اور محبت سے کھینچتے ہیں۔
(تفسیر ابنِ کثیر)

🍀 *روح لے کر چڑھنے والے فرشتے* 🍀
مومن اور کافر دونوں کی روح کو لے کر اوپر چڑھنے والے فرشتے
مومن کی روح کےلیے خوش آمدید اور اس کےلیے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔
جبکہ کافر کی روح کےلیے دھتکار اور دروازے بند رہتے ہیں۔

🍀 *منکر نکیر* 🍀
وہ فرشتے جو مرنے کے بعد قبر میں آدمی سے سوالات کرتے ہیں۔

🍀 *حاملینِ عرش* 🍀
کچھ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کا عرش اٹھانے کی ذمےداری سونپی گئی ہے۔

🍀 *جنت کے فرشتے* 🍀
یہ جنت کے دربان ہیں۔

🍀 *دوزخ کے فرشتے* 🍀
▪️دوزخ کے انتظام کےلیے جو فرشتے مقرر ہیں، ان پر انیس (19) داروغے ہیں۔
▫️اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ دوزخیوں کو عذاب دینے پر مامور ہیں۔
▪️جہنم کے داروغہ کا نام "مالک" ہے۔

🍀 *کراماً کاتبین* 🍀
انسانوں کے اعمال لکھنے کےلیے مقرر فرشتے، جو دائیں کندھے پر نیکی اور بائیں کندھے پر بدی لکھتے ہیں۔

🍀 *فرشتہء تقدیر* 🍀
رحم مادر پر مقرر فرشتہ جو نطفہ، علقہ( جما ہوا خون) اور مضغہ ( گوشت کا لوتھڑا ) کے بارے میں اللہ رب العزت کو رپورٹ دیتا ہے
پھر اللہ کے حکم سے اس کے لڑکا یا لڑکی، نیک یا برا، اس کی روزی، موت کے بارے میں لکھتا ہے۔

🍀 *محافظ فرشتے* 🍀
▪️انسانوں اور ان کے اعمال کی حفاظت کرنے والے فرشتے
▫️انسانوں کو آفتوں اور بلاؤں سے محفوظ رکھنے والے
(الرعد:11)

🍀 *پہاڑوں کا فرشتہ* 🍀
اس کے ذمے پہاڑوں کی نگرانی ہے۔

🍀 *بادلوں کا فرشتہ* 🍀
رعد، بادلوں کو گردش دینے ( ہانکنے ) پر مقرر فرشتہ
آگ کے کوڑے سے بادلوں کو وہاں ہانک کر لے جاتا ہے، جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے۔

🍀 *نمازِ جمعہ میں شریک لوگوں کا اندراج کرنے والے فرشتے* 🍀
▪️مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر خطبہ سے پہلے پہلے آنے والوں کےلیے ثواب لکھنے والے فرشتے
▫️امام کے آجانے پر اپنے رجسٹر بند کرکے خطبہ سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔

🍀 *نمازی کےلیے دعا کرنے والے فرشتے* 🍀
▪️نماز کے بعد اپنی جائے نماز پر بیٹھے رہنے والے کےلیے اللہ تعالیٰ سے نمازی کےلیے معافی اور رحم کی دعا کرنے والے فرشتے
▫️جائے نماز پر بیٹھ کر اگلی نماز کا انتطار کرنے والے کےلیے بھی ایسی ہی دعا کرتے ہیں۔

🍀 *گشت کرنے والے فرشتے* 🍀
زمین میں گشت کرتے ہوئے اہلِ ذکر کی مجلسیں تلاش کرکے، وہاں بیٹھ کر، انھیں اپنے پروں سے ڈھانپ لینے والے فرشتے

🍀 *دعا اور بددعا کرنے والے فرشتے* 🍀
نیک لوگوں کےلیے دعا اور کفار کےلیے بددعا کرنے والے فرشتے
(المؤمن:7)، (البقرۃ:161)

🍀 *نیک مقصد کےلیے نکلنے والوں کے ساتھ رہنے والے فرشتے* 🍀
اپنے گھر سے نکل کر اللہ کی پسندیدہ جگہ جانے والے کے پیچھے ایک فرشتہ اپنا جھنڈا لے کر روانہ ہوتا ہے اور اپنے گھر لوٹنے تک وہ مسلسل اسی جھنڈے تلے ہوتا ہے۔

🍀 *صبر کرنے والے کا ساتھ دینے والے فرشتے* 🍀
ناحق اذیت ملنے پر صبر کرنے اور جواب نہ دینے والے کی طرف سے جواب دینے والا فرشتہ

🍀 *مدینے کی حفاظت پر مامور فرشتے* 🍀
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینہ کے داخلی راستوں پر فرشتے مقرر ہیں۔ نہ اس میں طاعون داخل ہوسکتا ہے اور نہ ہی دجال۔
(صحیح البخاری:1880)

21/08/2024

⚠️ - |[ نماز کی زبانی نیت ثابت نہیں ]|

📍شيخ الإسلام امام أحمد بن عبد الحليم ابن تيمية الحراني - رحمه الله تعالیٰ - فرماتے ہیں :

👈 اگر کوئی انسان سیدنا نوح علیه السلام کی عمر (950 سال) کے بقدر یہ تلاش کرتا رہے کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم اور آپ کے صحابہ کرام میں سے کسی نے زبان سے نیت کی ہو تو وہ ہرگز کامیاب نہیں ہو سکے گا سوائے سفید جھوٹ کے۔

📗 - |[ إغاثة اللهفان : ١٥٨/١ ]|

📍شيخ الإسلام امام شمس الدین ابن قيّم الجوزية - رحمه الله تعالیٰ - فرماتے ہیں :

👈 نبی کریم صلی الله علیه وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو صرف (الله اکبر) کہتے تھے۔

👈 اس سے پہلے کچھ نہیں کہتے تھے، نہ ہی زبان سے نیت کرتے، نہ یوں کہتے کہ میں الله کیلیے یہ اور یہ نماز پڑھنے لگا ہوں، منہ میرا قبلے کی طرف، چار رکعات، امام بن کر، یا پیچھے اس امام کے۔ نہ یوں کہتے کہ یہ ادا نماز ہے، یا قضاء نماز ہے، یا فرض کا وقت ہے۔ (یعنی تکبیر سے قبل زبان سے نیت کے مروجہ الفاظ نہیں ادا کیا کرتے تھے)۔

👈 تو یہ دس بدعات ہیں جن کے متعلق نبی صلى الله عليه وسلم سے کوئی صحیح، ضعیف، مسند یا مرسل روایت نہیں، ایک لفظ بھی نہیں ملتا۔ نہ ہی آپ کے صحابہ سے کچھ ملتا ہے۔ پھر تابعین اور ائمہ اربعہ میں سے بھی کسی نے اسے اچھا نہیں کہا۔ (یہ بعد کی ایجاد ہے)۔

📗 - |[ زاد المعاد : ١٩٤/١ ]|

03/08/2024

🌱 - [ ﷲ کا ذکر زندگی ہے ... ]

🔸 ‏سيدنا ابو موسیٰ اشعری رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا :

”مثلُ الذي يذْكُر ربه و الذي لا يذكُر ربه، مثلُ الحي و الميّت.“

"اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔"

📚 - [ صحيح البخاري : ٦٤٠٧ ]

🔸 امام ‌‎ابن القيم⁩ رحمه الله فرماتے ہیں :

”الذكر: هو روح الأعمال الصالحة فإذا خلا العمل عن الذكر كان كالجسد الذي لا روح فيه.“

"ذکر نیک اعمال کی روح ہے پس جب کوئی عمل ذکر سے خالی ہو تو اس کی مثال بغیر روح کے جسم کی طرح ہے۔"

📚 - [ مدارج السالكين : ٤٧٦/٢ ]

28/07/2024

قالَ النبی ﷺ:

أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ مَسَاجِدُهَا، وَأَبْغَضُ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ أَسْوَاقُهَا

الله کے نزدیک (انسانی) آبادیوں کا پسندیدہ ترین حصہ ان کی ‌مسجدیں ‌ہیں، ‌اور الله کے ہاں (انسانی) آبادیوں کا سب سے ناپسندیدہ حصہ ان کے بازار ہیں.

مسلم 1528
(مشکوٰۃ 696)

10/07/2023

ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سےر وایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ وہ اپنے کارندے کو (جب اس کی وصولی کے لئے بھیجتا تو) تو اس سے کہتا: اگر تم کسی تنگ دست کے پاس آو تو اس سے درگزر کرنا ۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ بھی ہم سے درگزر کرے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ”جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملا تو اللہ نے اسے بخش دیا۔“

*صحیح - متفق علیہ* 📚

*✒️ شرح*
حدیث کا مفہوم: ”كان رجُلٌ يُدَايِنُ النَّاس“ یعنی ایک شخص لوگوں سے قرض کا لین دین کیا کرتا تھا یا پھر انہیں ادھار پر اشیاء فروخت کرتا تھا۔ وہ اپنے پاس موجود لڑکے کو جو لوگوں کے ذمہ واجب الاداء قرض وصول کرتا تھا اسے کہتا: اگر تو کسی قرض دار کے پاس آئے اور اسے کے پاس اپنے ذمہ واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے کچھ نہ ہو اور وہ اس سے قاصر ہو تو اس سے درگزر کرنا، یا تو اسے مزید مہلت دے کر یا مطالبے میں اس سے اصرار نہ کر کے یا پھر جو کچھ اس کے پاس ہے اسے قبول کر کے اگرچہ وہ کچھ کم ہی کیوں نہ ہو۔ ”ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ بھی ہم سے درگزر کرے“ یعنی اس کے بندوں سے درگزر کرنے کی وجہ سے اور ان کے لئے آسانی پیدا کرنے اور ان سے تنگی دور کرنے کی وجہ سے اللہ بھی ہمیں معاف فرما دے۔ وہ شخص ایسا اس لئے کہتا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اللہ بندوں کو اپنے بندوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے پر بدلہ دیتا ہے جو ان کے فعل کے موافق ہوتا ہے اور اسے بخوبی علم تھا کہ جو کوئی نیک عمل کرتا ہے اللہ اس کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ اور واقعتا جب وہ اللہ کے سامنے پیش ہوا تو لوگوں کے ساتھ رحمدلانہ اور نرمی پر مبنی معاملہ کرنےاور ان کے لئے آسانی پیدا کرنے کی بدولت اللہ نے اس سے درگزر فرمادیا باوجود اس کے کہ اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی جیسا کہ سنن نسائی اور صحیح ابن حبان کی روایت میں ہے کہ: ”ایک شخص تھا جس نے کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا تھا، وہ لوگوں کو قرض پر اشیاء دیا کرتا تھا۔ وہ اپنے ہرکارے کو کہتا: جو کشاد ہ دست ہو اس سے لے لینا اور جو تنگ دست ہو اسے چھوڑ دینا اور اس سے درگزر کرنا، ہو سکتا ہے کہ اللہ ہم سے بھی درگزر فرمائے“۔ چونکہ اس شخص نے اللہ سے اچھا گمان رکھا اور اللہ کے بندوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا اس لئے اللہ نے بھی اس کی برائیوں سے درگزر فرمایا اور قاعدہ بھی یہی ہے کہ جزاء عمل کی جنس سے ہوتی ہے..➖➖

*📌 من فوائد الحديث*
کسی کو کسی اچھی بات کا حکم دینے سے اس کا ثواب ملتا ہے، اگرچہ وہ اس بات کو خود اپنے ہاتھوں سے بروئے کار نہ لائے۔
ہم سے پہلی امتوں کی شریعت ہمارے لیے شریعت ہے، جب تک کہ وہ ہماری شریعت کے مخالف نہ ہو۔
تنگ دست کو مہلت دینے اور اس سے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کرنے میں نرمی کی ترغیب..

15/04/2023

سوال_قضائے عمری کی کیا حقیقت ہے؟ جس شخص کی پچھلے کئی سالوں کی نمازیں رہتی ہوں وہ انکی قضا کیسے دے گا؟؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔۔۔!

جواب..!
الحمدللہ..!

*قضائے عمری کی حقیقت*

1_کچھ لوگ جان بوجھ کے چھوڑی نمازوں کے بارے کہتے ہیں جس نے پچھلی عمر میں کئی نمازیں چھوڑی ہوں وہ اب ہر نماز کے ساتھ ایک پچھلی نماز کی قضائی دے،
2_ کچھ لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ اگر کسی شخص کی پچھلی زندگی کی نمازیں قضا ہوں تو وہ رمضان کے آخری جمعہ میں نماز جمعہ کے بعد چار رکعت نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سات بار آئیت الکرسی اور پندرہ بار سورہ کوثر پڑھے تو اسکی سات سو سال کی نمازوں کی قضا بھی ادا ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔
اس طرح کے کچھ اور بھی طریقے لوگوں میں مشہور ہیں …!

*یہ سب من گھڑت باتیں ہیں، قضائے عمری نام کی کوئی نماز یا ایسا کوئی طریقہ اسلام میں موجود نہیں*

🌷انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس شخص کی کوئی نماز سونے سے یا بھولنے کی وجہ سے رہ جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے، یہی اس کا کفارہ ہے اس کے علاوہ اس کا کوئی اور کفارہ نہیں،
(صحیح مسلم،حدیث نمبر-684)
( سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-442)

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی بخاری میں باب باندھا ہے کہ ،

*جب کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب یاد آئے وہ نماز پڑھ لے اور فقط وہی نماز پڑھے*
اور نیچے یہ حدیث ذکر کی کہ،

🌷آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آ جائے اس کو پڑھ لے۔ اس قضاء کے سوا اور کوئی کفارہ اس کی وجہ سے نہیں ہوتا،
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-597)

*یعنی جو نماز غلطی سے ،بھول سے یا سونے کی وجہ سے یا کسی مجبوری سے رہ جائے اسکی قضا یہ ہے کہ جب یاد آئے یا وقت ملے فوراً پڑھ لے،اسکے علاوہ اور کوئی کفارہ نہیں*

جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ،

🌷نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ سفر کے دوران ایک جگہ سو گئے، اور بلال رض جنہوں نے جگانا تھا نماز کے لیے وہ بھی سو گئے۔۔۔
اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج کے اوپر کا حصہ نکل چکا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔۔۔۔ اے بلال! اٹھ اور اذان دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جب سورج بلند ہو کر روشن ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی،
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-595)

اسی طرح ایک اور روایت میں آتا ہے،

🌷جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر ( ایک مرتبہ ) سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور وہ کفار قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ اور آپ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! سورج غروب ہو گیا،
اور نماز عصر پڑھنا میرے لیے ممکن نہ ہو سکا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں نے بھی نہیں پڑھی۔ پھر ہم وادی بطحان میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز کے لیے وضو کیا، ہم نے بھی وضو بنایا۔ اس وقت سورج ڈوب چکا تھا۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
(صحیح ںخاری،حدیث نمبر-596)

ان احادیث سے یہ بات سمجھ آئی کہ اگر کسی کی مجبوراً یا سونے سے نماز رہ جائے تو وقت ملنے یا یاد انے پر فوراً پڑھ لے،

*مگر وہ شخص جس نے جان بوجھ کر ایک یا زیادہ نمازیں چھوڑ دیں تو اسکی قضا نہیں بلکہ سچی توبہ ہو گی*

🌷كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
” ہمارے اور ان كے مابين عہد نماز ہے، جس نے بھى نماز ترك كى اس نے كفر كيا،
مسند احمد حديث نمبر ( 22428 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 2621 ) سنن نسائى- 462 )

🌷رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: آدمى اور شرك اور كفر كے مابين نماز كا ترك كرنا ہے ”
(صحيح مسلم حديث نمبر 242 )

*کیونکہ جان بوجھ کے نماز چھوڑنا کفر ہے، اور کفر سے واپسی قضا سے نہیں سچی توبہ سے ہوتی ہے،اور جب سچی توبہ کر لی جائے تو اللہ پاک پچھلے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں*

🌷قرآن میں اللہ پاک فرماتے ہیں،
فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ خَلۡفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَ اتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوۡفَ یَلۡقَوۡنَ غَیًّا ﴿ۙ۵۹﴾ اِلَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ وَ لَا یُظۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا ﴿ۙ۶۰﴾
پھر انکے بعد ایسے جانشین انکی جگہ آئے جنہوں نے نمازیں ضائع کیں اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے تو وہ عنقریب گمراہی کو ملیں گیں مگر (ان میں سے )جن لوگوں نے توبہ کی،ایمان لائے اور نیک اعمال ک بسیئے تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کچھ ظلم نا کیا جائے گا،
(سورہ مریم،آئیت نمبر-59-60)

*اور یہ توبہ صرف گناہوں کو مٹاتی نہیں بلکہ پچھلے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتی ہے*

🌷اللہ پاک فرماتے ہیں قرآن میں..!
مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًاصَالِحًـا فَاُولٰٓٮِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا
جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے تو یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ ہمیشہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
(سورہ الفرقان،آئیت نمبر-70)

اور حدیث میں آتا ہے،

🌷رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ۔
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر-4250)

لہٰذا جب پچھلے گناہ معاف ہو کر نیکیوں میں بدل گئے تو اب قضا کی ضرورت ہی نہیں؟

🌷شریعت نے حیض و نفاس والی خواتین کی نمازیں معاف کی ہیں کہ وہ مخصوص ایام میں چھوڑی ہوئی 30،35 نمازوں کی قضاء نہیں دیں گی، کیونکہ اتنی نمازوں کی قضا دینا مشکل ہے،

*تو جو شریعتِ مشقت کی وجہ سے 30،35 نمازوں کی قضائی کا حکم نہیں دیتی وہ شریعت پچھلے تیس چالیس یا اسی سالوں کی لاکھوں نمازوں کی قضا کا کیسے حکم دے سکتی ہے؟*

🌱سعودی فتاویٰ کمیٹی سے جب یہی سوال پوچھا گیا کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کوئی نماز چھوڑ دے تو اسکا کفارہ کیا ہو گا؟

انکا جواب تھا
جس نے ايك يا زيادہ فرضى نمازيں بغير كسى عذر كے ترك كر ديں اسے اللہ تعالى كے ہاں سچى توبہ كرنى چاہيے، اور اس كے ذمہ كوئى قضاء اور كفارہ نہيں، كيونكہ فرضى نماز جان بوجھ كر عمدا ترك كرنا كفر ہے.
اور اس ميں سچى اور پكى توبہ كے علاوہ كوئى كفارہ نہيں.
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 6 / 50 )

🌱مفتی اعظم شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

سوال_ ميں نے چوبيس برس كى عمر ہونے كے بعد نمازيں ادا كرنا شروع كى ہيں اور اب ہر نماز كے ساتھ ايك اور فرضى نماز ادا كر رہا ہوں، كيا ايسا كرنا ميرے ليے جائز ہے ؟
اور كيا ميں يہ عمل كرتا رہوں، يا كہ ميرے ذمہ كچھ دوسرے حقوق واجب ہوتے ہيں ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

” صحيح يہى ہے كہ جان بوجھ كر عمدا نماز ترك كرنے والے كے ذمہ نماز كى كوئى قضاء نہيں، بلكہ اسے اللہ تعالى كے سامنے توبہ كرنا ہو گى؛ كيونكہ نماز دين اسلام كا ايك ركن اور ستون ہے، اور نماز ترك كرنا بہت عظيم اور بڑے جرائم ميں شامل ہوتا ہے.
بلكہ علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق جان بوجھ كر عمدا نماز ترك كرنا كفر ہے؛
اس ليے ميرے بھائى آپ كو چاہيے كہ اپنے رب سے سچى اور پكى توبہ كريں اور يہ اس طرح ہو سكتى ہے كہ آپ اپنے كيے پر نادم ہوں، اور آئندہ نماز ترك نہ كرنے كا پختہ عزم كريں، اور فورى طور پر نماز پنجگانہ ادا كرنا شروع كر ديں، اور آپ كے ذمہ ان نمازوں كى قضاء نہيں، نہ تو ہر نماز كے ساتھ اور نہ ہى كسى اور طرح، بلكہ آپ صرف توبہ كريں۔۔۔انتہی
(مجموع فتاوى الشيخ ابن باز10 / 329 – 330)

🌱ابو محمد بن حزم رحمہ اللہ اپنی شہرہ آفاق کتاب المحلی میں فرماتے ہیں کہ:
جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی حتی کہ وقت نکل گیا تو وہ اس کی قضاء پر کبھی قادر نہ ہو سکے گا، پس اسے چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ نیک کام کرےاور نفل نماز پڑھے تاکہ اسکا میزان بھاری ہو سکے، اور چایئے کہ وہ توبہ کرے اور اللہ عزوجل سے استغفار کرے اور ہمارے قول کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے کہ:
{فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ۔ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ} [الماعون:4،5]
ان نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں۔
اگر جان بوجھ کر چھوڑنے والا وقت نکل جانے کے بعد بھی نماز پا سکتا تو کیوں ہے اس کے لئے ہلاکت؟ اور نہ ہی اسے تباہی سے دوچار کیا جاتا۔ جیسا کہ جو اس(نماز کو) اس کے آخر وقت میں اسے پا لیتا ہے نہ اس کے لئے ہلاکت ہے نہ تباہی،

🌱سیدنا عمر بن الخطاب اور ان کے بیٹے عبداللہ ابن عمر، سعد بن ابی وقاص، سلمان فارسی، ابن مسعود رضی اللہ عنھم، قاسم بن محمد بن ابی بکر، بدیل العقیلی، محمد بن سیرین، مطرف بن عبداللہ ، عمر بن عبد العزیز اور حسن بصری رحمھم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ (کہ تارک نماز توبہ کرے گا، قضاء نہیں دے گا) ، پھر (ابن حزم رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ ہم نے کسی بھی صحابی سے اس کے خلاف کوئی قول نہیں سنا
(المحلی)

🌱 شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اسی مسلک کو اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ سلف سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔
(الاختیارات _صفحہ 19)

🌱سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک صحیح سند سے قول ہے کہ نماز وقت سے پہلے واجب ہے اور نہ ہی وقت نکل جانے کے بعد۔
مطلب کہ بعد میں نماز ادا ہوتی ہی نہیں (المحلی)

🌱داؤد الظاہری، ابن قیم (الصلوۃ لابن قیم) اور علامہ البانی رحمہ اللہ (فی الثمر المستطاب) بھی اسی کی طرف گئے ہیں کہ جان بوجھ کے چھوڑی ہوئی نمازوں کی توبہ ہوگی قضاء نہیں۔

*لہٰذا ان تمام دلائل سے یہ بات سمجھ آئی کہ جو شخص جان بوجھ کر نماز چھوڑتا ہے تو اب اسکی قضا یا کفارہ نہیں ہو گا بلکہ صرف سچی توبہ ہو گی اور یہ سچی توبہ اسکے پچھلے گناہوں کو مٹا دے گی ان شاءاللہ*

(واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب)

31/08/2022

شمائل ترمذی کی کھڑے ہو کر پانی پینے کے بارے میں احادیث

شمائل ترمذی کی حدیث: 205

حدثنا أحمد بن منیع: أنا ھشیم: أنا عاصم الأحول [و مغیرۃ] عن الشعبي عن ابن عباس رضی اللہ عنھما: أن النبي ﷺ شرب من زمزم وھو قائم۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے کھڑے ہو کر زمزم ( کا پانی) پیا۔

تحقیق و تخریج: سندہ صحیح

صحیح بخاری:1637، صحیح مسلم:2027، سنن ترمذی:1882

شرح و فوائد:

1. زمزم کا پانی (زمزم کے کنویں کے پاس) کھڑے ہو کر پینا سنت ہے۔

2. ہمارے ممالک (بلادِ عجم) میں بعض لوگ جب جزیرۃ العرب سے زمزم لاتے ہیں تو کچھ لوگ اسے کھڑے ہو کر اور قبلے کی طرف رخ کر کے پیتے ہیں، لیکن اس کا کوئی ثبوت مجھے معلوم نہیں ہے۔

3. کھڑے ہو کر پینے سے ممانعت والی روایت زمزم اور مخصوص مواقع کے علاوہ اور وعیدپر محمول ہیں۔

4. بعض دوسرے مقامات پر بھی کھڑے ہو کر پینے کا ثبوت ہے، مثلاً وضو کا پانی اور مشک کا پانی وغیرہ۔

شمائل ترمذی کی حدیث: 206

حدثنا قتیبۃ:أنا محمد بن جعفر عن حسین المعلم عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ رضی اللہ عنہ قال: رأیت النبي ﷺ یشرب قائمًا و قاعدًا۔

عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے ہو کر اور بیٹھے ہوئے (دونوں حالتوں میں) پیتے ہوئے دیکھا۔

تحقیق و تخریج: سندہ حسن

سنن ترمذی (1883، وقال:حسن صحیح) مسند احمد (2 / 215)

جزء الالف دینار لاحمد بن جعفر بن حمدان القطیعی (144)

شمائل ترمذی کی حدیث: 207

حدثنا علي بن حجر:أنا ابن المبارک عن عاصم الأحول عن الشعبي عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال:سقیت النبي ﷺ من زمزم فشرب وھو قائم۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو زمزم میں سے پلایا اور آپ نے نوش فرمایا جبکہ آپ کھڑے تھے۔

تحقیق و تخریج: سندہ صحیح

شمائل ترمذی کی حدیث: 208

حدثنا أبو کریب محمد بن العلاء و محمد بن طریف الکوفي قالا: أنا ابن الفضیل عن الأعمش عن عبد الملک بن میسرۃ عن النزال بن سبرۃ قال: أي علي رضی اللہ عنہ بکوز من ماء وھو فی الرحبۃ فأخذ منہ کفًا فغسل یدیہ و مضمض و استنشق و مسح وجھہ و ذراعیہ و رأسہ ثم شرب وھو قائم ثم قال: ھذا وضوء من لم یحدث ھکذا رأیت رسول اللہ ﷺ فعل۔

نَزال بن سبرہ (رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس پانی کا ایک کوزہ لایا گیا اور آپ رحبہ (نامی ایک مقام) میں تھے، پھر آپ نے ایک چلو پانی لیا تو دونوں ہاتھ دھوئے، کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، چہرہ تر کیا اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک ترکئے اور سر کا مسح کیا، پھر اس سے کھڑے ہو کر پانی پیا، پھر فرمایا: یہ اس شخص کا وضو ہے جس کا وضو ٹوٹا نہیں (یعنی جو شخص وضو پر وضو کرنا چاہتا ہے) میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

تحقیق و تخریج: سندہ صحیح

صحیح بخاری (5615 – 5616)

شرح و فوائد:

1. وضو کرنے کے بعد وضو کے برتن میں سے بچا ہوا پانی پینا جائز ہے۔

2. کھڑے ہو کر پانی پینا منسوخ نہیں بلکہ جائز ہے۔ نیز دیکھئے حدیث سابق : 206

3. صحابہ کرام علانیہ سنت یعنی حدیث کی تعلیم دیتے تھے۔

4. وضو پر وضو ہو تو اچھی طرح دھونے کے بجائے اعضائے وضو کو تر کر دینا بھی جائز ہے۔

5. اعضائے وضو ایک ایک دفعہ دھونا بھی جائز ہے، جبکہ تین تین دفعہ دھونا بہتر ہے، جیسا کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 205 سے لے کر 208 تک۔

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

Want your school to be the top-listed School/college in Okara?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Okara
56300