All General Knowledge
This group is designed for all types of general knowledge and where will the journey be taught English easily.
24/05/2025
Parts of Speech details are being narrated to learn English easily.
24/05/2025
24/05/2025
Parts of Speech are being introduced to learn easily English.
25/01/2025
تھانہ خانگڑھ کی حدود چوک مہرپور موضع ملوک چنڑ کے مقام پر گزشتہ رات نامعلوم چور ٹرانسفارمر چوری کرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا،
چور کے ساتھی لاش کو چھوڑ کر کھمبے میں لٹکتی چھوڑ کر فرار ہوگئے
واقع کی اطلاع پر تھانہ خانگڑھ پولیس اور واپڈا نے موقع پر پہنچ لاش کو تحویل میں لے لیا زرائع کے مطابق جاں بحق چور کی جیب سے موبائل فون برآمد
مزید اہم انکشافات
ہمارے نصیرآباد کے ٹرانسفارمر چوروں کے لیے سبق
اللہ کی لاٹھی بے اواز ھے کسی نا کسی کا پٹ ضرور لگے گا
11/12/2024
*ریاض الصالحین*
*سبق-30*
دین اسلام انسان کو دوسرے کے لیے خیر خواہی، ہمدردی، دوسرے کو دشمنی کی حالت میں بھی نقصان نہ پہنچانا، جنگ میں بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا، رات کو حملہ نہ کرنا، کسی بھی انسان کو قتل کر کے اس کا مثلہ نہ کرنا، دین ہمیں ان سب اعمال کی ہدایات دیتا ہے۔
دین اسلام ایک انسان کے اندر دوسرے انسان کے لیے حساسیت کا جذبہ پیدا کرتا ہے کہ جب کوئی فوت ہو جائے تو اس کے عیب نشر نہ کیے جائیں، میت کو نہلانے کے دوران یا اس کے بعد کسی سے بھی اس کا کوئی بھی جسم کے عیب کا ذکر نہ کیا جائے۔
دین پر عمل کرتے ہوئے بعض اوقات انسان کو اپنا نقصان لگ رہا ہوتا ہے، جیسے لوگوں کی مخالفتیں لیکن جس انسان کا اللہ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے اور اس کی نظر اللہ سے ملنے کے اجر پر ہوتی ہے، یہ اجر کی امید اور اللہ کے وعدوں پر یقین جتنا جتنا انسان کا مضبوط ہوتا ہے اتنا اتنا انسان اللہ پر بھروسہ کرتا ہے کیونکہ وہ انسان جان لیتا ہے کہ میرا رب بہت قدردان ہے وہ میری کوششوں کو ضائع نہیں کرے گا۔
جب انسان کا بھروسہ اللہ پر مضبوط ہوتا ہے پھر وہ اللہ سے ہر بات اپنی کرتا ہے اپنے معاملات، مشکلات، ضروریات سب اللہ کے سامنے رکھتا ہے۔ وہ اللہ سے باتیں کرتا ہے کیونکہ وہ علم رکھتا ہے کہ اللہ کی ذات کسی پر ظلم نہیں کرتی، جو کچھ میری زندگی میں ہو رہا ہے وہ میری ہی بہتری کے لیے میرے رب نے میرے حق میں فیصلہ کیا۔
انسان کا اللہ سے تعلق اور اس سے کلام کرنے کا موقع روز انسان نماز میں کرتا ہے۔ اگر انسان کی نماز ہی صحیح نہ ہو، نماز میں خشوع وخضوع ہو نہ ہو تو پھر اس کی زندگی کیسے غموں سے خالی ہو سکتی ہے؟
جب انسان لوگوں کے ساتھ اپنی باتیں شیئر کرتا ہے تو اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے ننگا کر رہا ہوتا ہے جبکہ جب اللہ کے سامنے اپنی باتوں کو رکھتا ہے تو اس کے درجات بلند ہوتے ہیں، اسے اجر ملتا ہے اور اللہ تعالی اس کے معاملات حل بھی کرتے ہیں۔
انسان اگر اپنے رب کے لیے صبر نہیں کر سکتا، اپنے وسائل، توانائی دین کے راستے میں نہیں لگا سکتا تو اللہ کی راہ میں جان کیسے دے سکتا ہے؟ اس لیے سچے دل سے شہادت کی تمنا رکھنی چاہیے اور اس کے لیے زندگی میں دین کے لیے قربانیاں کرنا،سنت کی پیروی کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ جو دین کی خدمت نہیں کرتا وہ دین کے ساتھ مخلص نہیں ۔
انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی نیتوں میں اخلاص پیدا کرے۔ اچھے اچھے کاموں کی نیت کرتا چلا جائے۔ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں سچائی پیدا کرے۔ اپنی سوچوں میں بھی سچائی پیدا کرے۔ اگر کسی کو نیکی کرتا وہ دیکھے تو ان کی غلطیاں تلاش نہ کرے بلکہ اپنی غلطیوں پر نظر رکھے۔
انسان کسی کو بھی کوئی کام کروانے سے پہلے اس کی ذہن سازی کرے، اس کو اس کام کے لیے تیار کرے، ایک دم سے کوئی کام بتا دینا،دوسرے کے لیے اس پر عمل کرنا مشکل ہوتا ہے۔
غرض یہ کہ انسان دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور اپنے لیے بھی ہر معاملے میں عافیت کی دعا کرے کیونکہ عافیت انسان کے دل و دماغ کو سکون دیتی ہے۔ جو عافیت مانگتا ہے وہ ساری بھلائیاں مانگتا ہے اور یہ کہ انسان کو نعمتوں کے ساتھ عافیت مانگنی چاہیے اور انسان اللہ سے حسن خاتمہ کی دعائیں کرنی چاہیے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.