Online Quran Tutor

Online Quran Tutor

Share

Online quran tutor/Academy is an International online educational platform which agenda is to deliver best education of Quran with proper rules of recitation.

Here, students from all over the world can learn Quran with proper pronunciation.

03/01/2026

Online Quran Tutor
Muslim

Photos from Online Quran Tutor's post 04/06/2025

حج 2025 کا خطبة حرم شریف کے سب سے قدیم
امام شیخ صالح عبداللہ حمید دیں گے انشاءاللہ العزیز

09/04/2025


میرے نانا ابو آخری دنوں میں کہتے تھے؛
"اب بیر پک گیا ہے اِس نے گرنا ہی گرنا ہے"
کل وہ بیر گر گیا اور وہ اس دنیا فانی سے 85 سال کی عمر میں رخصت ہو گئے. وہ ہمارے خاندان کے طویل العمر شخص کہلائے.
جب ایک بچہ مرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ابھی تو بچہ تھا. جب ایک جوان انسان رخصت ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ابھی تو اسکی عمر ہی کیا تھی. جب ایک ڈھلتی عمر کا انسان سفرِ آخرت پہ نکلتا ہے تو کہا جاتا ہے ابھی کچھ دیر اور جی لیتا، بچوں کی شادیاں دیکھ لیتا.. لیکن بڑھاپے میں مرنے والے انسان کے لیے یہ سارے اعتراضات ختم چکے ہوتے ہیں وہ یہ ساری منزلیں پار کر چکا ہوتا ہے اور اسکی موت پہ صرف اتنا ہی کہا جاتا ہے "بس عمر کا تقاضا تھا"...
انھوں نے بہت عمدہ صحتمند زندگی گزاری. ایک عام انسان کی نسبت 20،30 سال زیادہ جیے کسی اسکول، کالج سے نہیں پڑھے لیکن اپنے بزرگوں اور معاشرے سے بہت کچھ سیکھا. ان گنت پنجابی شعر، کہاوتیں،قصے، ٹوٹکے زبانی یاد تھے. بلا کے داستان گو تھے. بچپن میں رات کو کھلے آسمان تلے انکے ساتھ چارپائی پہ لیٹ کر "باتیں" سننا پسندیدہ مشغلہ ہوا کرتا تھا جو بعد میں بچپن کی حسین یادوں کا حصہ بن گیا. ان کے بستر پہ لیٹ کر پیار سے کہنا "نانا جی کوئی بات سنا دیں" اور انھوں نے اپنی یادداشت کی پٹاری میں سے کوئی قصہ سنانا شروع کر دینا. ہم نے اسی قصے میں سے معصومانہ سوال اٹھاتے رہنا. یہ "باتیں" عام باتیں نہیں ہوتی تھیں پنجاب کے لوگ جانتے ہیں جب نانا، دادا کو کہا جاتا ہے کہ "کوئی بات سنائیں" تو اسکا کیا مطلب ہوتا ہے بڑے ہو کر پتہ چلا کہ اس کو داستان گوئی کہتے ہیں.
کسان تھے چنانچہ جسمانی مشقت کے عادی تھے. کبھی کسی بڑی بیماری کا شکار نہیں ہوئے انکی عملی زندگی ہمارے سامنے تھی پنکھے کی ہوا کو مصنوعی ہوا کہتے تھے. میں نے چند سال پہلے انکی اچھی صحت کا راز پوچھا تو کہنے لگے؛ "کبھی زیادہ نہیں کھایا جتنی بھوک لگی اتنا کھایا، بھوک نہیں تو نہیں کھایا، فریج کے پانی کی بجائے گھڑے کے پانی کو ترجیح دی" چلتے پھرتے رہنے کے شوقین تھے کچھ سال پہلے تک دن کے وہ اپنے پرانے دوستوں کی طرف نکل پڑتے تھے شام کو گھر کے باہر حقے کی محفل لگتی. چار پانچ چارپائیوں کے درمیان اکلوتا حقہ گھومتا رہتا اور قصے، کہانیاں اور زمینوں کی باتیں زیرِ بحث رہتیں. ایک بزرگ جاتا تو دوسرا آ جاتا نہ تو حقہ ختم ہوتا اور نہ ان سب کی باتیں. ہم بھی کھیل کود سے وقت نکال کر ان بزرگوں کی باتیں چپ چاپ سنتے رہتے اور پھر کھیل کود میں مشغول ہو جاتے. سردیاں آتیں تو یہ محفل بیٹھک میں منتقل ہو جاتی جب ٹی وی آیا تو سیاست بھی زیرِ بحث رہنے لگی...نہ تو کبھی حقہ ختم ہوا اور نہ ہی انکی باتیں لیکن ایک ایک کر کے وہ بزرگ ہمیشہ کے لیے رخصت ہوتے گئے اور انکی جگہ نئی نسل نے لے لی جو اس محفل میں بیٹھتے ضرور تھے لیکن انکے پاس کرنے کو زیادہ باتیں نہیں ہوتی تھیں اور نہ سننے میں زیادہ دلچسپی. اس محفل میں ایک نجی محفل سی لگ جاتی جس میں ان نوجوانوں کی خوش گپیاں ہوتیں اور جب موبائل فونز اور کیبل کا دور آیا تو وہ دو چار نوجوان بھی گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے.

گاؤں کے کلچر کی طرح کبھی میڈیکل چیک اپ کی روٹین نہیں رہی اور نہ ہی کبھی کسی بڑی بیماری کا شکار ہوئے شاید انکا نظام مدافعت بہت اعلیٰ تھا لیکن موت کے آگے کس کا بس چلتا ہے
چند ماہ سے انہیں سانس کا پرابلم شروع ہو گیا۔ میری ان سے انکی صحت سے متعلق بات چیت ہوی تو وہ کہنے لگے "اب بیر پک گیا ہے اب اس نے گرنا ہی گرنا ہے"

زندگی میں بہت کم، بس گنتی کے ایسے لوگ حصے میں آتے ہیں جو ہمارے ساتھ پوری طرح مخلص ہوتے ہیں وہ بھی انہی میں سے ایک تھے ہمارے لیے گھر کے آنگن میں لگے ایک ایسے عمر رسیدہ پیڑ کی مانند تھے جس کی شاخوں پہ مسکراہٹیں، محبتیں ڈھلک رہی ہوتی تھیں جس کے سائے میں سکون ہی سکون تھا.
دوست احباب تعزیت کرتے ہیں اور کہتے ہیں "بس عمر کا تقاضا تھا" بات تو سچ ہے لیکن آنکھیں پھر بھی نم ہیں، ایک کمی سی ہے جسکا عمر کے تقاضے سے کوئی لینا دینا نہیں۔

پر اب یہ انمول دستِ شفقت اٹھ گیا جسکا نعم البدل کوئی نہیں یہ خلش، یہ کمی مرتے دم تک رہے گی اب اسی کے ساتھ جینا پڑے گا، اسکا عادی ہونا پڑے گا موت کے بارے میں بہت سے سوال اٹھتے ہیں پھر بہت سی بھول بھلیوں سے گزر کر ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب ملتا ہے

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ

15/02/2024

چیزوں کی اہمیت نہیں ہوتی
وہ کھبی نا کھبی مل جاتی ہیں ۔۔۔

صرف انسان ہی ہیں جن کا کوئ نعم البدل نہیں ہوتا
*وہ نہیں ملتے*
🍂

15/02/2024

*_وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّهِ_*
*حقیقت تو یہ ہے اللہ کے سوا*
*ہر سہارا کمزور اور عارضی ہے...*

05/02/2024

اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ❤️

24/01/2024
01/01/2024

Online Quran Tutor

16/11/2023

25/10/2023

07/07/2023

07/07/2023

یومِ شہادت امیرالمؤمنین ذوالنورین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
18 ذو الحجۃ الحرام 35ھ

Want your school to be the top-listed School/college in Okara?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Okara