Nadeem Akhtar

Nadeem Akhtar

Share

Survivers

04/05/2025

مولا علی علیہ السلام

24/02/2025

پوری کائنات میں لکڑی (درخت) ہیرے سے زیادہ نایاب اور قیمتی ہے کیونکہ ہیرے تقریبا ہر دوسرے "سیارے" پر پاٸے جاتے ہیں۔ لیکن درخت زمین کے علاوہ کسی دوسرے "سیارے" پر نہیں پاٸے جاتے۔چونکہ موسم بہار شروع ہو چکا ہے لہذٰا اپنی مدد آپ کے تحت ہر ایک دوست کم از کم ایک "درخت" تو ضرور لگائے اور اسکی نگہداشت کی ذمہ داری لے۔🌳

11/02/2025

جاپان میں صرف ایک طالبہ کی خاطر 3سال ریلوےاسٹیشن برقرار رہا_
لڑکی کی گریجوائشن ہوتے ہی بند کردیا گیا،
اس کو کہتے ہیں تعلیم کی قدر !
یہ جاپان کے شمال میں واقع ایک جزیرہ ہوکائیدو پر قائم کامی شراتاکی نامی ریلوے اسٹیشن ہےگزشتہ تین برس سے اس سٹیشن پر روزانہ صرف ایک مسافر کے لیے دو ٹرینیں رکتی تھی۔جاپان ریلویز نے آج سے تین برس قبل اس اسٹیشن کو دور دراز ہونے اور اس روٹ پر مسافر نہ ہونے کی وجہ سے بند کرنے کا فیصلہ کیا لیکن انتظامیہ نے اپنا فیصلہ اس وقت تبدیل کر دیا جب انہیں معلوم ہوا کہ ایک مسافر ہے جو روزانہ اس ریل گاڑی پر سفر کرتا ہے - اس ویران اسٹیشن پر رکنے والی یہ ریل گاڑی ایک لڑکی کے کالج جانے کا واحد ذریعہ تھی اس وقت جاپان کا یہ ریلوے اسٹیشن صرف ایک مسافر کے لیے پوری طرح سے کام کر رہا تھا اور یہاں روزانہ دو ٹرینیں رکتیں۔ جن کا شیڈول بھی لڑکی کے کالج جانے اور واپس آنے کے وقت کو دیکھ کر مرتب کیا گیا ۔ اگر بعض اوقات اس لڑکی کا سکول دیر سے بند ہوتا تو گاڑی کا شیڈول بھی اس حساب سے چینج کیا جاتا ۔ یہ فیصلہ اگرچہ جاپان ریلویز کے لیے کافی مہنگا ضرور تھا مگر اس سے جاپان نے دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے ایک مثال قائم کی کہ ایک فلاحی حکومت کیسے اپنے شہریوںکی ضروریات کا خیال رکھتی ہے اور ریاست ایک بچے کی تعلیم کے لیے کس حد تک جا سکتی ہےمذکورہ طالبہ نے رواں سال 26 مارچ کو اپنے کالج کی تعلیم مکمل کی، اور جاپان ریلویز کے مطابق یہ اسٹیشن اس وقت تک ایسے ہی کام کرتا رہا ۔جب چین کے ٹی وی چینل سی سی ٹی وی نے یہ واقعہ اپنے فیس بک پیج پر شیئر کیا تو لوگوں کے کمنٹس پڑھنے لائق تھے ایک شخص نے لکھا :" مجھے یقین ہے ہے کہ میں نے اپنی گزری اور آنے والی زندگی میں یہ بہترین چیز ہے جو میں نے سنی ہے''ایک اور شخص نے کہا :" میں ایسی ریاست کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے سے کیوں گریز کرونگا ، جو میری قوم کے بچوں کے مستقبل کے لیے اس حد تک جا سکتی ہے۔

11/02/2025

دنیا کا گندہ ترین دریا ۔ بنارس میں گنگا کنارے مانیکارنیکا شمشان گھاٹ۔
ہر ہندو کی خواہش ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد اس ک لاش کو اس گھاٹ پر چتا دی جائے۔ بہت سے جاں بلب مریض اپنی موت سے پہلے یہاں ڈیرہ ڈال لیتے ہیں تاکہ مرنے کے فورا" بعد ان کی چتا کو اس متبرک مقام پر آگ نصیب ہو سکے۔

اس مقصد کے لئے گھاٹ کنارے باقاعدہ کمرے بھی دستیاب ہیں جہاں مریض اور اس کے ساتھ آئے رشتے دار قیام کرتے ہیں۔ بنارس کے مختلف گھاٹوں پر روزانہ تقریبا" سو چتائوں کو آگ لگائ جاتی ہے جہاں ہر وقت جلے گوشت کی چراند پھیلی رہتی ہے۔ لکڑی مہنگی ہونے کی وجہ سے بعض اوقات چتا کو جلانے والے متوفی کے لواحقین کے جانے کے بعد لکڑی بچانے کے لئے ادھ جلی لاش کو ہی کھینچ تان کر گنگا برد کردیتے ہیں جہاں اکثر ادھ جلی لاشیں پانی میں تیرتی نظر آتی ہیں ۔

بعض اوقات کنارے سے لگ جانے والی لاشوں کو کتے بھنبھؤڑتے ہیں۔ ان لاشوں کی راکھ گنگا میں بہا دی جاتی ھے اور اسی پانی میں یاتری خود کو غوطے دے کر اشنان کرتے ہیں اور اپنے پاپ دھوتے ہیں۔ اس مقام پر گنگا دنیا کا غلیظ ترین دریا بن جاتا ھے ۔

بنارس کے یہ چتا گھاٹ زمین پر جہنم کا منظر پیش کرتے ہیں۔ جہاں کہیں ارتھیاں پڑی ہوتی ہیں تو کہیں چتا میں مردے کی لاش آگ سے اکڑ رہی ہوتی ھے ۔
لکڑی اور چتا کو آگ لگانے والوں سے مول تول کرتے لوگ۔ کہیں لاش جل کانے کے بعد بانسوں کی مدد سے کھوپڑی پر ضربیں لگا کر اس کے ٹکڑے کہے جا رہے ہوتے ہیں۔
رات میں یہ منظر مزید بھیانک ہو جاتا ھے جب جگہ جگہ جلتی چتائیں اور دھوتی میں ملبوس آسیب نما افراد چتائوں کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ ہر طرف راکھ کوئلے آگ کیچڑ اور بدبو کا راج ہوتا ھے ۔
الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اور پاکیزگی ہمارا ایمان ہے
اللہ نے انسان کے لئے قبر کا وہ راستہ منتخب کیا ہے جیسے اس کا بھرم بھی رہ جائے اور اس کی پاکیزگی بھی برقرار رہے...🥰

06/02/2025

جو انگریز افسران ہندوستان میں ملازمت کرنے کے بعد واپس انگلینڈ جاتے تو ان کو وہاں پبلک پوسٹ کی ذمہ داری نہ دی جاتی

دلیل یہ تھی کہ

تم ایک غلام قوم پر حکومت کر کے أۓ ہو

جس سے تمہارے اطوار اور رویے میں تبدیلی آ گی ہے

یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں دی جائے گئی

تو تم آزاد انگریز قوم کو بھی اسی طرح ڈیل کرو گے

اس مختصر تعارف کے ساتھ درج ذیل واقعہ پڑھئے

ایک انگریز خاتون جس کا شوہر برطانوی دور میں پاک و ہند میں سول سروس کا آفیسر تھا

خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے

واپسی پر اس نے اپنی یاداشتوں پر مبنی بہت ہی خوبصورت کتاب لکھی

خاتون نے لکھا ہے کہ :

میرا شوہر جب ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا اُس وقت میرا بیٹا تقریبا چار سال کا اور بیٹی ایک سال کی تھی

ڈپٹی کمشنر کو ملنے والی کئی ایکڑ پر محیط رہائش گاہ میں ہم رہتے تھے

ڈی سی صاحب کے گھر اور خاندان کی خدمت گزاری پر کئی سو افراد معمور تھے

روز پارٹیاں ہوتیں، شکار کے پرواگرام بنتے ضلع کے بڑے بڑے زمین دار ہمیں اپنے ہاں مدعو کرنا باعث فخر جانتے

اور جس کے ہاں ہم چلے جاتے وہ اسے اپنی عزت افزائی سمجھتا

ہمارے ٹھاٹھ ایسے تھے کہ

برطانیہ میں ملکہ اور شاہی خاندان کو بھی مشکل سے ہی میسر تھے

ٹرین کے سفر کے دوران نوابی ٹھاٹھ سے آراستہ ایک عالیشان ڈبہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی فیملی کے لیے مخصوص ہوتا تھا

جب ہم ٹرین میں سوار ہوتے تو

سفید لباس میں ملبوس ڈرائیور ہمارے سامنے دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا

اور سفر کے آغاز کی اجازت طلب کرتا

اجازت ملنے پر ہی ٹرین چلنا شروع ہوتی

ایک بار ایسا ہوا کہ

ہم سفر کے لیے ٹرین میں بیٹھے تو روایت کے مطابق ڈرائیور نے حاضر ہو کر اجازت طلب کی

اس سے پہلے کہ میں بولتی میرا بیٹا بول اٹھا جس کا موڈ کسی وجہ سے خراب تھا

اُس نے ڈرائیور سے کہا کہ ;

ٹرین نہیں چلانی

ڈرائیور نے حکم بجا لاتے ہوئے کہا کہ :

جو حکم چھوٹے صاحب

کچھ دیر بعد صورتحال یہ تھی کہ

اسٹیشن ماسٹر سمیت پورا عملہ جمع ہو کر میرے چار سالہ بیٹے سے درخواست کر رہا تھا

لیکن

بیٹا ٹرین چلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوا

بالآخر

بڑی مشکل سے میں نے کئی چاکلیٹس دینے کے وعدے پر بیٹے سے ٹرین چلوانے کی اجازت دلائی تو سفر کا آغاز ہوا

چند ماہ بعد میں دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے واپس برطانیہ آئی

ہم بذریعہ بحری جہاز لندن پہنچے

ہماری منزل ویلز کی ایک کاونٹی تھی جس کے لیے ہم نے ٹرین کا سفر کرنا تھا

بیٹی اور بیٹے کو اسٹیشن کے ایک بینچ پر بٹھا کر میں ٹکٹ لینے چلی گئی

قطار طویل ہونے کی وجہ سے خاصی دیر ہو گئی

جس پر بیٹے کا موڈ بہت خراب ہو گیا

جب ہم ٹرین میں بیٹھے تو عالیشان کمپاونڈ کے بجائے فرسٹ کلاس کی سیٹیں دیکھ کر بیٹا ایک بار پھر ناراضگی کا اظہار کرنے لگا

وقت پر ٹرین نے وسل دے کر سفر شروع کیا تو بیٹے نے باقاعدہ چیخنا شروع کر دیا

وہ زور زور سے کہہ رہا تھا

یہ کیسا الو کا پٹھہ ڈرائیور ہے

ہم سے اجازت لیے بغیر ہی اس نے ٹرین چلانا شروع کر دی ہے

میں پاپا سے کہہ کر اسے جوتے لگواؤں گا

میرے لیے اُسے سمجھانا مشکل ہو گیا کہ :

یہ اُس کے باپ کا ضلع نہیں ایک آزاد ملک ہے

یہاں ڈپٹی کمشنر جیسے تیسرے درجہ کے سرکاری ملازم تو کیا

وزیر اعظم اور بادشاہ کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ

اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو خوار کر سکے

آج یہ واضع ہے کہ :

ہم نے انگریز کو ضرور نکالا ہے

البتہ غلامی کو دیس سے نہیں نکال سکے

یہاں آج بھی کئی

1- ڈپٹی کمشنرز
2- ایس پیز
3- وزرا مشیران
4- سیاست دان
5- جرنیل

صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو گھنٹوں سٹرکوں پر ذلیل و خوار کرتے ہیں

اس غلامی سے نجات کی واحد صورت یہی ہے کہ

ہر طرح کے تعصبات اور عقیدتوں کو بالا طاق رکھ کر ہر پروٹوکول لینے والے کی مخالفت کرنی چاہئیے

ورنہ صرف 14 اگست کو جھنڈے لگا کر اور موم بتیاں سلگا کر خود کو دھوکہ دے لیا کیجئیے کہ ہم آزاد ہیں

05/01/2025

Ab ik hafta tu es m lag jana h

22/05/2024

🌑🌒🌓🌔🌕🌚

Photos from Nadeem Akhtar's post 20/05/2024

میت کاندھوں پہ بعد میں اٹھتی ہے۔ دیگ میں چمچے پہلے کھڑک جاتے ہیں

لواحقین کی دھاڑیں کم نہیں ہوتیں کہ "مصالحہ پھڑا اوئے" کی صدائیں پہلے بلند ہو جاتی ہیں

قبر پر پھول سجتے نہیں کہ کھانے کے برتن پہلے سج جاتے ہیں

آنکھوں میں آنسو خشک نہیں ہو پاتے کہ عزیز و اقارب کے لہجے پہلے ہی خشک ہو جاتے ہیں:-

"چاولوں میں بوٹیاں بہت کم ہیں۔ فلاں نے روٹی دی تھی تو کیا غریب تھے جو دو کلو گوشت اور ڈال دیتے۔"

مرنے والا تو چلا جاتا ہے۔ لیکن یہ کیسا رواج ہے کہ جنازہ پڑھنے کے لیے آنے والے اس کی یاد میں بوٹیوں کو چَک مارتے دیگی کھانے کی لذت کے منتظر ہوتے ہیں؟

فرسودہ روایات کو بدلو۔ یہ کیا طریقہ ہے کہ جنازے پر بھی جاؤ تو "روٹی کھا کے آنا؟" قرب و جوار کی تو بات ہی نہ کریں

دور سے آئے ہوؤں کو بھی چاہیے کہ زیادہ بھوک لگی ہے تو کسی ہوٹل سے کھا لیا کریں

تہیہ کر لیں کہ آئندہ اگر کبھی کسی جنازے میں شرکت کرنا پڑی تو خواہ ہزار کلومیٹر کر کے کیوں نہ جائیں۔اور عزیز و اقارب ہی کیوں نہ پکائیں۔ میت والے گھر سے کھانا نہیں کھانا۔ خوشی، غمی ہر انسان کے ساتھ ہے۔ لیکن روایات کو بدلیں۔ اس سے پہلے کہ معاشرتی نظام ہی لپیٹ میں آ جائے

17/05/2024

Summer vocation

17/05/2024

School timings 18th May to 31st May 2k24

Want your school to be the top-listed School/college in Okara?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Satghara
Okara
56300