09/10/2025
مجھے اس سے زیادہ طاقتور تصویر دکھائیں 👇
یقیناً، اس تصویر کی طاقت لفظوں سے بالاتر ہے۔
*ایک ننھا سا بچہ، جس کے ہاتھ میں فلسطین کا جھنڈا ہے، سینہ تان کر کھڑا ہے۔۔۔ اور سامنے سے اسرائیلی فوج پیچھے ہٹ رہی ہے۔*
یہ منظر کسی بندوق، کسی ٹینک، کسی طاقتور تقریر سے زیادہ زور دار ہے۔
یہ *معصوم ہاتھوں میں پکڑا ہوا جھنڈا* صرف ایک کپڑا نہیں، یہ *حریت کی علامت* ہے۔
یہ بچہ *خاموشی سے پوری دنیا کو بتا رہا ہے* کہ:
> "ظلم کے لشکر کتنے ہی مسلح ہوں،
> جب قوم جاگ جائے، تو بچے بھی سپاہی بن جاتے ہیں۔"
یہ صرف ایک تصویر نہیں،
یہ *غزہ کی جیت، حوصلے کی معراج، اور مظلوم کی فتح* کی جھلک ہے۔
*کیا آپ کو اس سے زیادہ طاقتور کوئی اور تصویر دکھائی دے سکتی ہے؟*
یقیناً نہیں… کیونکہ جب *ایک بچہ دشمن کو جھکنے پر مجبور کر دے،*
تو یہ صرف فتح نہیں، یہ *تاریخ بنتی ہے۔*
17/09/2025
تصویر پر پہلی نظر پڑی تو میں یہی سمجھا کہ والد اور اس کے پہلو میں بیٹا سوئے ہوئے ہیں. لیکن جب تصویر سے منسلک تحریر پڑھی تو دل دَہَل گیا. آپ کو بھی ایسے ہی لگ رہا ہو گا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے. یہ بسو ہری پور سے تعلق رکھنے والے ثاقب شاہ صاحب ہیں جو کہ ریاضی کے نہایت قابل ٹیچر تھے اور ساتھ ساتھ پی ایچ ڈی بھی کر رہے تھے. بڑے ہی نفیس انسان تھے. ان کے چار بچے تھے. یہ بچہ ہر رات والد کی گود میں سویا کرتا تھا. انہیں عشا کی نماز سے واپسی پر سانپ نے ڈس لیا تو یہ ساری رات ہسپتال میں اپنی زندگی کی جنگ لڑتے رہے جبکہ ان کا یہ بیٹا رات بھر ان کا انتظار کرتا رہا. جب صبح کی اذان کے وقت والد کا مردہ جسم گھر آیا تو یہ بچہ حسب معمول اپنے والد کے پاس جا کر بیٹھا اور کندھے پر سر رکھ کر داڑھی کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے پھیرتے سو گیا. یہ اس وقت کی تصویر ہے. یہ تصویر دیکھ کر دل کا جو حال ہے وہ ناقابل بیان ہے. اس بچے کو کیا معلوم کہ آخری بار اپنے والد کے پاس سویا ہے. اس دنیا میں کیسے کیسے امتحان ہیں. سوچ کر بھی کچھ ہوتا ہے. اللہ کریم ثاقب شاہ صاحب مرحوم کی مغفرت فرما کر انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے لواحقین خصوصاً چاروں بچوں اور بیوہ کو صبر جمیل عطا فرمائے.
Adan Media Voice