سیکھنے کے راستے میں بہت ذیادہ آفات ہوتے ہیں
ماخوذ از ماقولہ
University MODEL Education System Dorbakhel Gandahab District Mohmand
We provide quality education and will try our best to facilitate students in all aspects.
یہ نیل آرمسٹرانگ ہے چاند پر اترنے والا پہلا انسان، نیل آرمسٹرانگ کا انتقال 25 اگست 2012 کو سنسناٹی میں ہوا۔۔ اس وقت ان کی عمر 82 برس تھی۔۔۔۔ نیل آرمسٹرانگ لکھتے ہیں کہ جب ہم خلائی جہاز پر سوار ہونے کے لئے نکلے تھے۔۔۔۔ تو میں نے سب کو دیکھ کر اعتماد سے انگوٹھا دکھایا۔۔۔ ہم خود اتنے پراعتماد نہیں تھے۔ تھوڑا نروس اور تھوڑا جوش، یہ ملی جلی سی کیفیت تھی۔۔ راکٹ میں بلند ہوتے وقت بہت شور ہوتا ہے۔ اور اس قدر جھٹکے جیسے کسی ٹرین میں بیٹھے ہوں جو خراب ٹریک پر چل رہی ہے۔۔ اس مشن کے ساتھ بہت امیدیں وابستہ تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بہت سے لوگوں کی بڑی محنت لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو یہ سب چھوڑ کر صرف ایک چیز پر فوکس کرنا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ کاک پٹ میں آپ خود کوئی غلطی نہ کریں۔ آپ کے ہاتھ میں بس یہی کچھ ہے۔ میری اپنی زندگی نے اور شوق نے مجھے اس مشن کے لئے تیار کیا تھا۔۔ بچپن سے ہی اڑنے کا اور جہازوں کا شوق رہا تھا۔۔۔۔۔ مجھے پائلٹ کا لائسنس سولہ سال کی عمر میں مل گیا تھا۔۔۔۔۔ اس وقت مجھے گاڑی ڈرائیو کرنا نہیں آتی تھی۔۔۔۔ اکیس سال کی عمر میں میں کوریا کی جنگ میں لڑاکا طیارے اڑا کر مشن پر جایا کرتا تھا۔۔۔ جنگ کے بعد ٹیسٹ پائلٹ بن گیا، جس کو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ تجربے کرنے کے لئے دئے جاتے تھے۔۔۔۔۔۔۔ ایکس 15 جہاز کو چار ہزار میل فی گھٹنہ کی رفتار سے انتہائی بلندی پر چلانے کا ریکارڈ قائم کیا۔۔۔۔۔۔ یہ وہ وقت تھا جب 1962 میں مجھے اپنی تین سالہ بیٹی کی موت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔۔ اس کی موت دماغ کے کینسر سے ہوئی تھی۔ آپ بچے کی موت کو نہیں بھلا سکتے۔ اس کا نشان آپ پر زندگی بھر کے لئے رہ جاتا ہے لیکن اسکا مقابلہ کرنے کا طریقہ زندگی کو مصروف طریقے سے گزارنا ہے۔۔ یہی وہ سال تھا جب مجھے خلابازی کے لئے چُن لیا گیا۔
خلابازی کی تربیت کے دوران ایک حادثہ 1966 میں ہوا، جب ہمارا کیپسول کچھ دیر کے لئے بے قابو ہو کر گھــومنا شروع ہو گیا۔ پھر 1968 میں لیــنڈنگ کی ڈیوائس کے تجربے میں یہ ایک خرابی سے کریش ہو گئی۔۔۔۔ اس سے جب میں نے ایجیکٹ کیا تو یہ زمین سے صرف سو فٹ دور تھی۔ میں بمشکل اس کی آگ کی لیپٹ میں آنے سے بچا۔۔ باہر نکل کر میں آفس میں جا کر کام کرنے لگا۔ جب کسی نے کہا کہ "تم مرتے مرتے بچے ہو اور واپــس کام کرنا شروع ہو گئے ہو؟" تو میرا جواب تھا کہ "مرا تو نہیں، زندگی چلتی رہتی ہے بہت کام کرنے کو پڑا ہے”۔
پہلے مشن کے کمانڈر کے طور پر میرا انتخاب ہو گیا۔۔۔۔ چار روز تک سفر کر کے ہم چاند تک جا پہنچے۔ مائیکل کولنز کمانڈ ماڈیول میں رہے۔۔۔۔۔ بز آلڈرن اور میں لونر ماڈیول میں سوار ہو گئے۔ لینڈنگ کے دوران کچھ غیرمتوقع ہو گیا تھا۔۔ گائیڈنگ سسٹم ہمیں ایک گڑھے کی طرف لے کر جا رہا تھا۔۔۔ جہاں بڑے پتھر تھے۔ میرے خیال میں یہ اترنے کی مناسب جگہ نہیں تھی۔۔۔ میں نے خود کنٹرول سنبھال لیا کہ بہتر جگہ پر اتر سکیں۔۔۔۔۔۔۔ اس سے اضافی ایندھن استعمال ہونے لگا۔۔۔۔۔۔۔ ایک ارب لوگ یہ سب دیکھ رہے تھے۔ زمینی عملے کو لینڈنگ کے فلائٹ پلان کا علم تھا اور یہ لینڈر اس کو فالو نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔ اس کو دیکھ کر لوگ کچھ لوگ اب سانس روک کر دیکھ رہے تھے کہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر ہم نے اس کو چاند پر اتار لیا اور یہ الفاظ "عقاب اتر چکا ہے" سن کر بہت سے لوگ جن کے پسینے چھوٹ رہے تھے،،، ان کی جان میں جان آئی۔ پھر میں نے سیڑھی سے اترنا شروع کیا۔ یہ قدم رکھتے ہوئے میرے ذہن میں وہ چار لاکھ افراد تھے۔۔۔۔۔۔ جنہوں نے اس مشن کے لئے کام کیا تھا اور بہت سے دوسرے بھی، جن کا حصہ بالواسطہ تھا۔ میرے الفاظ "یہ انسانیت کے لئے بڑا قدم ہے"،،،،،،، ان سب کے لئے تھے کیونکہ یہ قدم مجھ اکیلے کا نہیں تھا۔
چاند ایک بڑا دلچسپ احساس ہے۔۔۔۔۔ افق بہت پاس لگتا ہے۔ دھوپ اور مٹی مختلف ہیں۔۔ ہمیں کرنے کے لئے کئی تجربات دئے گئے تھے۔ ہم نے وہ سب کئے۔۔۔ بہت زیادہ وقت نہیں گزارا۔ پھر واپسی ہوئی۔ واپس زمین پر انٹری اس سفر کا سب سے مشکل حصہ تھا۔۔۔۔ جب زمین پر پہنچے تو ہم سپرسٹار بن چکے تھے۔۔ نیویارک میں چالیس لاکھ لوگوں نے ہمارا استقبال کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر ہم دنیا کے ٹور پر نکلے۔ چاند پر پہنچ جانے کی کامیابی ہم خلابازوں کی نہیں، انسانوں کی کامیابی تھی۔۔۔۔۔۔ ہم اس میں دنیا بھر کے انسانوں کے نمائندہ تھے۔ کانگو میں لوگوں کے ہجوم سے لے برطانیہ کی ملکہ تک سب ہم کو دیکھنے کے خواہشمند تھے۔۔۔ میں اس سب کے لئے تیار نہیں تھا۔ یہ اچھا تو لگتا تھا لیکن میرے لئے ایک بوجھ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے یہ سب پسند نہیں تھا۔
میں اپنی شـــہرت صرف کسی ایک واقعے کی وجہ سے نہیں چاہتا تھا بلکہ اپنے روز کے کام کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس شہرت کا میں مستحق نہیں تھا۔۔۔۔ اگر میں پہلا شخص تھا جس نے چاند پر قدم رکھا تو اس میں میرا کمال نہیں تھا، حالات کا تھا۔۔۔۔ یہ میرا اکیلے کا کارنامہ تو کبھی نہیں رہا تھا۔۔۔۔ بس شہرت مجھے مل گئی۔ اس کے بعد میں نے اپنا خلابازی کا کیرئیر ختم کر دیا۔۔۔۔۔۔ اور سنسناٹی میں یونیورسٹی میں انجینرنگ میں پڑھانا شروع کر دیا۔۔۔۔ مجھے ایک چیز کا افسوس رہا تھا۔۔۔ اپنے کیرئیر کی وجہ سے اپنی فیملی کو وقت نہیں دے سکا تھا۔۔۔۔۔ اپنے بڑھتے بیٹوں کے ساتھ کم وقت گزار سکا۔۔۔۔۔ مجھے علم تھا کہ اپالو پروگرام کی اپنی زندگی زیادہ لمبی نہیں اور اس کو چند سال کے بعد چھوڑ دینے کا ہی پلان تھا، لیکن خلائی پروگرام سے میری توقعات زیادہ تھیں۔۔ میرا خیال تھا کہ ہم اس سے کہیں زیادہ کر پائیں گے جتنا ہم نے کیا۔۔۔۔ میری رائے یہ ہے کہ جب آپ کا مقابلہ ختم ہو جائے۔۔ تو پھر آپ زیادہ نہیں کر پاتے۔ وہ جذبہ اور حوصلہ ماند پڑ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
Source
First Man: The Life of Neil A. Armstrong by James R. Hansen
تحریر وہارا امبکر
تعلیم کی طرف رجحان کم سے کم تر کیوں ہوتا جا رہا ہے۔ چند ایک وجوہات کو مد نظر رکھ کر لکھنا ضروری سمجھا۔
والدین کی طرف سے تربیت میں کمزوری ،
معاشرے میں بے انتہا جہالت ،
انفارمیشن ٹیکنالوجی/موبائل/شوشل میڈیا کا غلط استعمال ،
پشتون سوسائٹی میں حجرہ , مہمانوازی اور پشتونولی کا خاتمہ،
اور سب سے بڑی وجہ
" ثقافتی گٹھن"
آخر اس سوسائٹی کے کلاس کے نوجوانوں کے لیے تفریح کے کیا مواقع میسر ہیں ؟؟؟؟
نہ گراؤنڈ،
نہ سپورٹس ،
نہ تھیٹر ،
نہ لائبریری ،
نہ پارک ،
نہ ڈرامہ،
نہ مشاعرہ ،
نہ میلہ ،
نہ کلچرل ،سوشل ،
سقافتی ایکٹیویٹی وغیرہ ،
نہ سوشل گیدرنگ کی کوئی معقول جگہ وغیرہ وغیرہ
ٹولو تہ د زڑہ نہ د اختر مبارکی وایو
تقبل اللہ منا ومنکم صالح الاعمال
دنیا کا پہلا مطبوعہ قرآن 1537ء میں اٹلی کے شہر وینس کے ایک پرنٹنگ پریس میں چھاپا گیا۔ دوسرا قرآن 1694ء ہیمبرگ جرمنی اور تیسرا قرآن روس میں چھاپا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلم دنیا میں کسی قسم کا پرنٹنگ پریس لگانا یا کوئی مطبوعہ کتاب رکھنا حرام اور سخت جرم تھا ۔
سلطان بایزید دوم نامی ایک خلیفہ نے 1485 میں علماء کی مدد سے پرنٹنگ پریس اور اسکی مصنوعات کو حرام قرار دے کر مسلم دنیا میں بین کردیا۔ اسکے بعد 1515ء میں سلطان سلیم نامی ایک بادشاہ نے اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ کے یہ فرمان جاری کیا سلطنت عثمانیہ میں کسی شہری کے پاس کوئی مطبوعہ کتاب پکڑی گئی تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ یہ وہ وقت تھا جب یورپ میں 2 کروڑ سے زائد مطبوعہ کتابیں بیچی جاچکی تھیں۔
اس سے پہلے 1492ء میں سلطنت عثمانیہ کی ہم عصر ریاست اندولوسیہ (اندلس، اسپین) کے چند یہودیوں نے عثمانی سلطان کو ایک عرضی دی کہ ان کے پاس اپنا پرنٹنگ پریس ہے اور وہ انہیں اس سے استفادہ کرنے کی اجازت دیں۔ سلطان نے اس شرط پر اجازت دی کہ تم کسی مسلمان کو کوئی کتاب فروخت نہیں کروگے۔
سواس طرح اسپین کے یہودیوں اور عیسائیوں نے پرائیوٹ پریس سے لاکھوں کتابیں چھاپیں اور اس سے مسلمانوں کے علاوہ تمام قومیں مستفید ہوئیں۔
یہ وہ وقت تھا جب یورپ اور نئے نئے امریکہ میں علوم و فنون انگڑائی لے کر بیدار ہورہے تھے اور مسلم دنیا جمود کا بستر اوڑھ کر سونے کی تیاری کررہی تھی۔ اسی کتابی انقلاب سے ہزاروں عظیم سائنسدان، ڈاکٹر۔ماہر طعبیات، ریاضی دان، ماہر فلکیات پیدا ہوئے۔
حالانکہ ساتویں صدی سے تیریویں صدی تک سارا یورپ جہالت کی نیند سورہا تھا اور علوم و فنون کا خزانہ مسلمانوں کے پاس تھا۔ پہلی صلیبی جنگ جو کہ گیارہویں صدی میں لڑی گئی جس میں عیسائیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا اور بہت سارے مال غنیمت کے ساتھ کاغذ بھی انکے ہاتھ لگا۔ اسی کاغذ سے بعد میں انہوں ایک عظیم انقلاب برپا کیا۔
سترہویں صدی تک مسلمانوں پر یہ جمود پوری طرح برقرار رہا ۔۔ بالآخر 1720 میں ایک نومسلم ابراہیم المقاتر (جوکچھ ماہ قبل ہی عیسائی سے مسلمان ہوا تھا) اس وقت کے مفتی اعظم کے پاس عرضی لے کرگیا کہ 300 سال ہوگئے یورپ میں پرنٹنگ پریس کو خدا کے لیئے اب تو جاگ جاؤ اور مسلم دنیا میں بھی اسکی اجازت دے دو، پھر اس نے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی کئی سو صفحات کی کتاب گرینڈ مفتی کودی جو پرنٹنگ پریس کے بارے میں تھی، کتاب کو پڑھ کے مفتی صاحب قائل ہوگئے لیکن انہوں نے تین کڑی شرائط کے ساتھ اسکی اجازت دی،،،
1۔ کوئی عربی کی کتاب طبع نہیں ہوگی
2۔ کوئی اسلامی کتاب طبع نہیں ہوگی
3۔ ہر چھپنے والی کتاب حکومت سے منظور شدہ ہوگی
اس طرح سلطنت عثمانیہ مین لولا لنگڑا پرنٹنگ پریس آیا۔ لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔
یورپ علوم و فنون میں ہم سے 300 سال آگے نکل چکا تھا اور اب یہ فاصلہ بڑھ کر 500 سال تک پہنچ چکا ہے
: "نالائق" کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے!
(ایک کمزور طالب علم کو "چمکتا ستارہ" بنانے کا 30 نکاتی عملی روڈ میپ)
ہمارے معاشرے کا ایک تلخ سچ یہ ہے کہ ہم بچے کی صلاحیت کو صرف نمبروں کے ترازو میں تولتے ہیں۔ یاد رکھیں، کوئی بچہ پیدائشی "نالائق" نہیں ہوتا۔
وہ صرف ایک بند کلی کی طرح ہوتا ہے جسے کھلنے کے لیے ڈانٹ کی نہیں، سورج جیسی شفقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ کا بچہ یا شاگرد پڑھائی میں کمزور ہے، تو یہ مایوسی کا نہیں، حکمت عملی بدلنے کا وقت ہے۔
یہاں 30 "پرو ٹپس" (Pro-Tips) ہیں جو پاکستانی ماحول اور نفسیات کے
عین مطابق ترتیب دی گئی ہیں:
حصہ اول: نفسیاتی بحالی (ذہن سازی)
1. "نالائق" کا لیبل ہٹائیں: سب سے پہلے بچے کو "تم کچھ نہیں کر سکتے" یا "تم نکمے ہو" کہنا چھوڑ دیں۔ یہ الفاظ زہر ہیں۔
2. موازنہ (Comparison) بند کریں: "خالہ کے بیٹے کو دیکھو" یا "فلاں کے اتنے نمبر آئے" کا طعنہ بچے کی خود اعتماد ی کا قاتل ہے۔
3. ڈر کا خاتمہ: بچہ اس لیے نہیں پڑھتا کیونکہ وہ فیل ہونے سے ڈرتا ہے۔ اسے یقین دلائیں کہ "کوشش تمہارا کام ہے، نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔"
4. چھوٹی کامیابی کا جشن: اگر وہ 2 نمبر بھی زیادہ لے، تو اسے سراہیں جیسے اس نے ٹاپ کیا ہو۔
5. سننے کی عادت: بچے سے پوچھیں، "تمہیں کیا مشکل لگ رہا ہے؟" بجائے اس کے کہ صرف حکم چلائیں۔
6. دوست بنیں، تھانیدار نہیں: پاکستانی والدین اکثر ٹیچر بن جاتے ہیں، والدین رہنا بھول جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ وقت گزاریں۔
7. عزتِ نفس کا خیال: سب کے سامنے اس کی بے عزتی یا ڈانٹ ڈپٹ ہرگز نہ کریں۔
حصہ دوم: ماحول اور صحت (بنیادی ضروریات)
8. پرسکون گوشہ: گھر میں ایک جگہ مختص کریں جہاں شور نہ ہو، بھلے وہ ایک چھوٹا سا کونہ ہی کیوں نہ ہو۔
9. نیند پوری، دماغ روشن: پاکستانی بچے اکثر رات گئے تک جاگتے ہیں۔ 8 گھنٹے کی نیند لازمی بنائیں۔
10. موبائل کا محدود استعمال: موبائل چھینیں نہیں، بلکہ اس کا ٹائم فکس کریں اور خود بھی اس وقت موبائل استعمال نہ کریں۔
11. متوازن غذا: ناشتہ شہزادہ ہے۔ بغیر ناشتے کے سکول بھیجنا بچے کو خالی پیٹ جنگ پر بھیجنے کے مترادف ہے۔
12. کھیل کود: شام کو ایک گھنٹہ جسمانی کھیل (کرکٹ، فٹ بال) کے لیے دیں، اس سے دماغ کو آکسیجن ملتی ہے۔
13. پانی کا استعمال: بچے اکثر پانی کم پیتے ہیں جس سے سستی طاری رہتی ہے۔ پانی کی بوتل ساتھ رکھیں۔
14. نظر اور سماعت کا ٹیسٹ: کبھی کبھی بچہ نالائق نہیں ہوتا، اسے بورڈ نظر نہیں آ رہا ہوتا۔ یہ چیک اپ لازمی کروائیں۔
حصہ سوم: پڑھائی کا طریقہ (اسمارٹ اسٹڈی)
15. رٹے کی بجائے سمجھ: "یہ یاد کرو" کی بجائے کہیں "مجھے سمجھاؤ اس میں کیا لکھا ہے۔"
16. چھوٹے ٹکڑے (Chunks): پورے چیپٹر کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں۔ "آج صرف 2 لائنیں یاد کرنی ہیں۔"
17. ٹائمر تکنیک (Pomodoro): 25 منٹ پڑھائی، 5 منٹ بریک۔ یہ طریقہ بوریت ختم کرتا ہے۔
18. رنگین نوٹس: اہم نکات کو ہائی لائٹر یا رنگین پینسل سے انڈر لائن کروائیں۔ ہمارا دماغ رنگوں کو جلدی پکڑتا ہے۔
19. لکھ کر یاد کرنا: جو یاد کرے، اسے ایک بار لکھ لے۔ ہاتھ اور دماغ کا کنکشن یادداشت کو پکا کرتا ہے۔
20. کہانی کی صورت میں: مشکل اسباق (جیسے تاریخ یا سائنس) کو کہانی بنا کر سنائیں۔
21. روز کا کام روز: سکول کا کام "کل" پر نہ ٹالیں۔ یہ بوجھ بن جاتا ہے۔
22. پرانے پیپرز کی پریکٹس: امتحان کا خوف ختم کرنے کے لیے پرانے پیپرز حل کروائیں۔
حصہ چہارم: روحانیت اور تربیت (روح کی غذا)
23. دعا کا سہارا: بچے کو اللہ سے مانگنا سکھائیں۔ "ربی زدنی علما" کا ورد کروائیں۔
24. اساتذہ کا ادب: بچے کے دل میں استاد کی محبت ڈالیں۔ باادب بانصیب۔
25. صدقہ: بچے کے ہاتھ سے صدقہ کروائیں، یہ بلاؤں اور ذہنی رکاوٹوں کو ٹالتا ہے۔
26. مقصد کا تعین: اسے بتائیں کہ تعلیم کا مقصد صرف نوکری نہیں، بلکہ ایک اچھا انسان بننا ہے۔
حصہ پنجم: والدین اور اساتذہ کے لیے (آپ کا کردار)
27. صبر، صبر اور صبر: تبدیلی ایک رات میں نہیں آتی۔ یہ ایک عمل ہے، جادو نہیں۔
28. توقعات حقیقت پسندانہ رکھیں: ہر بچہ ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتا۔ اس کی اپنی خداداد صلاحیت کو پہچانیں۔
29. مسلسل رابطہ: والدین اور اساتذہ کا آپس میں رابطہ رہنا ضروری ہے، صرف رزلٹ والے دن نہیں۔
30. اپنی مثال: بچہ وہ نہیں کرتا جو آپ کہتے ہیں، وہ کرتا ہے جو آپ کرتے ہیں۔ آپ خود کتاب پڑھیں گے تو وہ بھی پڑھے گا۔
قابلِ عمل روڈ میپ (Action Plan)
اگر آپ واقعی سنجیدہ ہیں تو یہ 4 ہفتوں کا پلان آزمائیں:
* پہلا ہفتہ (تعلق کی بحالی): پڑھائی کی بات بالکل نہ کریں۔ صرف بچے کے ساتھ کھیلیں، باتیں کریں، اسے اعتماد دیں اور اس کا ڈر ختم کریں۔
* دوسرا ہفتہ (روٹین سیٹنگ): سونے جاگنے کا وقت مقرر کریں اور پڑھائی کے لیے صرف 30 منٹ کا "ہیپی ٹائم" رکھیں۔
* تیسرا ہفتہ (چھوٹے اہداف): آسان مضامین سے شروع کریں۔ جب وہ کچھ یاد کر لے تو انعام دیں۔
* چوتھا ہفتہ (مشکل کی طرف): اب آہستہ آہستہ مشکل مضامین شامل کریں اور ٹائم بڑھائیں۔
اختتامی پیغام (Motivation)
> "ہیرے کو بھی چمکنے کے لیے رگڑ کھانی پڑتی ہے۔ آپ کا بچہ ایک ہیرا ہے، بس اس پر جمی دھول ہٹانی ہے۔ اسے یقین دلائیں کہ وہ کر سکتا ہے، اور پھر دیکھیں کہ وہ کیسے اپنی پرواز سے
آسمان کو چھوتا ہے۔ یہ سفر مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں!"
اُن لوگوں کو کبھی نہیں بھولنا جنہوں نے مشکل وقت میں آپ کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔
جب سائنس نے مردہ جسم کو زندہ کرنے کی کوشش کی — اینڈریو یور اور گلاسگو کی خوفناک کہانی
1818ء میں اسکاٹ لینڈ کے ماہر طب اینڈریو یور نے طب کی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب رقم کیا جس کا ذکر آج بھی خوف کے ساتھ ہوتا ہے۔ گلاسگو یونیورسٹی کے پروفیسر جیمز جیفری کے ساتھ مل کر انہوں نے مردہ انسان کے جسم کو بجلی کے ذریعے زندہ کرنے کی کوشش کی — یہ وہی زمانہ تھا جب گلوانزم (بجلی کے ذریعے جسم کو حرکت دینا) کا بڑا چرچا تھا اور اسی نظریے نے فرینکنسٹائن جیسی کہانیاں جنم دیں۔
انہوں نے جس لاش پر تجربہ کیا وہ میتھیو کلائیڈزڈیل نامی قاتل کی تھی جسے کچھ دن پہلے پھانسی دی گئی تھی۔ جیسے ہی اس کے مردہ جسم میں بجلی گزاری گئی تو پورا جسم ہچکولے کھانے لگا، اس کی ٹانگ اتنی زور سے ہلی کہ پاس کھڑا معاون زمین پر گرنے سے بال بال بچا، اور چہرے کے عضلات اس انداز میں بگڑنے لگے جیسے کبھی غصہ، کبھی خوف، کبھی ہولناک مسکراہٹ دکھا رہا ہو۔
اینڈریو یور نے اپنی رپورٹ میں لکھا:
> "ہر پٹھا جھٹکوں سے حرکت میں آ گیا، چہرے نے ایک ساتھ غصہ، خوف، مایوسی، اذیت اور ڈراؤنی مسکراہٹ کی ملی جلی حالت ظاہر کی۔"
یہ تجربہ ناکام تو رہا، لیکن انسانی جسم کو زندہ کرنے کے اس سیاہ خواب کی بنیاد بن گیا جس نے آنے والے وقتوں میں بھی کئی سائنسدانوں کو خوفناک تجربات پر اکسایا۔
سائنس اور موت کے بیچ فاصلہ ہمیشہ دھندلا رہا ہے۔انسانی تجسس اور بجلی کا امتزاج ہمیشہ خطرناک رہا ہے۔
اللّه ہمارا خاتمہ بالایمان فرمائے اور ہمیں جنّت الفردوس عطاء فرمائے۔ آمین
حجاج بن یوسف جب خانہ کعبہ پر آگ کے گولے برسا رہا تھا تو اُس وقت حضرت عبداللّٰه ابن زبیرؓ نے جوانمردی کی تاریخ رقم کی، انہیں مسلسل ہتھیار پھینکنے کے پیغامات موصول ہوئے مگر آپ ؓ نے اطاعت کرنے سے انکار کر دیا۔
اپنی والدہ حضرت اسماؓ سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اہل حق اس بات کی فکر نہیں کیا کرتے کہ ان کے پاس کتنے مددگار اور ساتھی ہیں، جاؤ تنہا لڑو اور اطاعت کا تصور بھی ذہن میں نہ لانا۔ اگر تم حق پر ہو تو اسی پر قائم رہو، تمہارے ساتھی اسی راہ میں قتل ہوئے ہیں، بنی امیہ کے غلاموں کے سامنے آپنی گردن نہ جھکانا۔
سیدنا عبداللّٰه ابن زبیر ؓ نے سفاک حجاج بن یوسف کا مقابلہ کیا اور جام شہادت نوش فرمایا۔
حجاج نے آپؓ کا سر کاٹ کر خلیفہ عبدالمالک کو بھجوا دیا اور لاش شہر کے چوک میں لٹکا دی، حجاج حضرت اسماؓ کے پاس پہنچا اور کہا تم نے آپنے بیٹے کا انجام دیکھ لیا؟
آپؓ نے جواب دیا: "ہاں تو نے اس کی دنیا خراب کر دی اور اُس نے تیری آخرت بگاڑ دی۔"
حجاج جیت گیا، عبداللّٰه ابن زبیر ؓ ہار گئے۔
وقت گزر گیا۔
ابو جعفر منصور نے کئی مرتبہ امام ابو حنیفہ رحمة اللّٰه عليه کو قاضی القضاۃ بننے کی پیشکش کی مگر آپ نے ہر مرتبہ انکار کیا۔ ایک موقع پر دونوں کے درمیان تلخی اور عداوت اس قدر بڑھ گئی کہ منصور کھلم کھلا ظلم و زیادتی پر اتر آیا۔ اُس نے انہیں بغداد میں دیواریں بنانے کے کام کی نگرانی اور اینٹوں کی گنتی کرنے پر مامور کر دیا، مقصد اُن کی ہتک کرنا تھا۔ منصور نے امام ابوحنیفہ کو کوڑے مارنے کا حکم دیا اور اذیت ناک قید میں رکھا، آخرکار قید میں ہی انہیں زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔
سجدے کی حالت میں آپ کا انتقال ہوا۔
نماز جنازہ میں مجمع کا حال یہ تھا کہ ہزاروں لوگ امڈ آئے، چھ مرتبہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔
منصور جیت گیا، امام ابو حنیفہ ہار گئے، وقت گزر گیا۔
مگر تاریخ میں ہار جیت کا فیصلہ طاقت کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ حجاج بن یوسف کو آج ایک ظالم اور جابر حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ھے جس کی گردن پر ہزاروں بیگناہ مسلمانوں کا خون ھے جبکہ حضرت عبداللّٰه ابن زبیرؓ شجاعت اور دلیری کا استعارہ ہیں۔ حجاج کو شکست ہو چکی ھے، عبداللہ ابن زبیرؓ فاتح ہیں۔
ابو جعفر منصور نے امام ابوحنیفہ کو قید میں زہر دے کر قتل کر دیا۔ آج ابو جعفر منصور کے ظلم کا چرچا ھے مگر نام مٹ چکا ھے جبکہ امام ابو حنیفہ رحمة اللّٰه عليه کے کروڑوں پیروکار ہیں۔
آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں کیوں نہ خود کو دیکھ لیں کہ کہیں ہم یونانی اشرافیہ کے ساتھ تو نہیں کھڑے جنہوں نے سقراط کو زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کر دیا تھا؟
کہیں ہم حجاج بن یوسف جیسے ظالموں کے ساتھ تو نہیں کھڑے؟
کہیں ہم امام ابوحنیفہ پر کوڑے برسانے والوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے؟
یقیناً تاریخ بھی آپنا فیصلہ لکھے گی کہ کون ظالم ھے اور کون مظلوم؟ کون سچا ھے اور کون جھوٹا؟
بچے کے سامنے انتہائ عمدہ لہجہ اس کیلئے سب سے بہترین استاد ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Nowshehra
40402
Opening Hours
| Monday | 08:00 - 14:00 |
| Tuesday | 08:00 - 14:00 |
| Wednesday | 08:00 - 14:00 |
| Thursday | 08:00 - 14:00 |
| Friday | 08:00 - 14:00 |
| Saturday | 08:00 - 14:00 |