29/01/2026
آجکل تو جدید سلسلے چل پڑے ہیں لوگ گاوں میں بھی پیزا کی ہوم ڈیلوری کرا لیتے ہیں
ایک زمانہ تھا جب بادل بھی جم کے برسا کرتے تھے ایک ایک ہفتہ تک جھڑی لگی رہتی تھی
کچے کوٹھے کی شاید ہی کوئی چُنڈ بچتی تھی جہاں سے ٹپ ٹپ کی آواز نہ آتی تھی کانس کے سارے برتن پورے کوٹھے میں نیچے بکھرے ہوتے تھے جو بارش کے پانی کو کچے کوٹھے کے کچے فرش کو گیلا ہونے سے بچاتے تھے اکثر تو ایسا بھی ہوتا سارے برتن ختم ہو جاتے آخر پہ ووضو والا کوزا بھی کسی جگہ پہ رکھنا پڑ جاتا تھا
رات کی خاموشی میں ہلکی بارش کی آواز کسی دل گداز موسیقی سے کم نہی لگتی تھی
اس دور میں نہ پکے رستے تھے اور نہ ہوم ڈیلوری والے پیزے
بچے اماں سے حلوہ بنانے کی فرمائش کرتے
وہ زمانہ ایسا تو تھا نہی کہ مہینے بھر کا راشن گھر میں رکھا ہوتا
اس زمانے میں ککڑی اور حلوہ صرف مہمان کے آنے پہ ہی پکا کرتا تھا
چونکہ سردیوں میں ہلکی جھڑی رکا نہی کرتی تھی تو پھر اسی بارش میں سر پہ پرانے کھاد والے گٹو کی جھگڑی نما چھتری بنا کے سر پہ رکھنا اور پیرو وانڑاں کچے رستوں اور پگڈنڈیوں نالوں کھالوں سے گزرتا ہو چاچے فوجی ارائیں والی ہٹی سے سوجی اور گری میوہ لے کے آنا اور اس آنے جانے میں بھی پھر اک زمانہ لگا کے آنا ،گھر آتے ہی بہن بھائیوں کو ادھم مچا دینا کہ اماں جلدی کر حلوہ پکا
اب نہ وہ مائیں رہیں نہ وہ پیرو ننگے جا کے سوجی لانے والے بچے رہے نہ وہ کچے رستے اور پگڈنڈیاں رہیں اور نہ وہ جھڑیاں رہیں