21/09/2026
اکثر دوست کرن خان صاحبہ کی پوسٹس شئیر کر رہے ہیں کہ کیسے لڑکیاں ٹک ٹاک کو چھوڑنے کے بجائے گھر توڑنے پر راضی ہیں۔ عرض کیا کہ یہ ایک نشہ ہے اور نشے کو طریقے سے چھڑایا جاتا ہے۔
جب میری شادی ہوئی تو میری اہلیہ کو انسٹا پر اسکرولنگ کا شوق نہیں بلکہ نشہ تھا۔
میری اہلیہ جین زی ہیں جنہیں میں چمپینزی کہتا ہوں، اور میں ملینئیل۔ ہم دونوں کی عمروں میں کچھ سال کا فرق ہے اور اتفاق سے ہے۔ نہ میں عمر کے فرق سے شادی کا قائل تھا اور نہ وہ۔ جوڑا بننا تھا تو نہ شادی سے قبل انہوں نے غور کیا اور نہ میں نے۔
خیر! شادی ہو گئی۔ میرا انسٹا پر اکاؤنٹ تک نہیں تھا اور وہ اس کی عادی تھیں۔ کئی کئی گھنٹے اسکرولنگ کرتی رہتیں۔ کچھ ایسی چیزیں بھی ان کی فیڈ میں آتیں جو مجھے پسند نہیں تھیں۔
میں نے پہلے پہل سمجھایا۔ وہ سمجھتی ضرور تھیں لیکن عمل کرنا اور اسے چھوڑنا یا کم کرنا ان کے بس میں نہیں تھا۔ میں نے سچویشن پر غور کیا۔ دو آپشن تھے: ایک یہ کہ میں لڑنے لگ جاؤں جو بیوقوفی ہوتی۔ نشہ کبھی لڑنے سے نہیں چھوٹتا۔ چنانچہ میں نے دوسرا آپشن استعمال کیا۔
میں نے وائی فائی راؤٹر کا ایڈمن پینل اوپن کیا اور اس میں انسٹا کے تمام ڈومین بلاک کر دیے۔ اب نیٹ چل رہا ہے لیکن انسٹا نہیں چلتا۔ اہلیہ نے کئی مرتبہ کہا کہ پتا نہیں انسٹا کو کیا ہو گیا ہے، یہ چلتا ہی نہیں ہے۔ میں نے بھی افسوس کا اظہار کر دیا۔
کچھ دن بعد وہ اپنی والدہ کے گھر گئیں تو مجھے فون کر کے بتانے لگیں کہ یہاں انسٹا چل رہا ہے۔ میں نے حیرت کا اظہار بھی کر دیا۔
والدہ کے یہاں تو انہوں نے ایک دو دن ہی رہنا ہوتا تھا۔ باقی وقت اپنے گھر ہی رہنا تھا جہاں انسٹا بلاک تھا۔ یوں کوئی چھ ماہ گزر گئے۔ چھ ماہ بعد میں نے ایک دن راؤٹر کی سیٹنگ کرتے ہوئے انسٹا کا بلاک ہٹا دیا۔
ان کے پاس نوٹیفکیشن آیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ انسٹا چل گیا ہے۔ لیکن اب یہ صرف "بتانے" تک ہی منحصر تھا۔ اسکرولنگ کی وہ لت ظاہر ہے کہ اتنے عرصے میں ختم ہو چکی تھی۔ انسٹاگرام فیس بک کی طرح ایک عام ایپ بن چکا تھا جو تھوڑی وقت گزاری کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
آج اس بات کو کئی سال گزر چکے ہیں۔ میں نے انہیں بعد میں یہ بتا دیا تھا کہ میں نے انسٹا کو بلاک کیا تھا۔ ہم دونوں آج بھی اس بات کو یاد کر کے ہنستے ہیں۔ اہلیہ کی اجازت سے ہی یہاں یہ قصہ لکھ رہا ہوں۔
تو میرے بھائیو! ہر چیز کا حل مرغے کی طرح ٹھونگیں مارنے میں نہیں ہوتا۔ آپ میں اور مرغے میں فرق ہے۔ مسئلہ بچوں کا ہو یا کسی کا، بطور انسان آپ نے اپنی صورت حال کا منفرد حل تلاش کرنا ہے ورنہ مسائل جاری رہیں گے۔
اور میرے بچو! ضروری نہیں کہ جو ڈیجیٹل دنیا آپ کو ایک شوق اور وقت گزاری لگ رہی ہے وہ ہمیشہ ایسی ہی رہے۔ وہ ایک ڈیجیٹل نشہ ہے جو کچھ عرصے کے بعد آپ کو اپنا عادی بنا لے گا اور پھر آپ کا گھر، جاب، کاروبار، سکون، اطمینان، صحت، سب کھا جائے گا۔ آپ خود کو جتنا مضبوط سمجھیں گے وہ اتنی ہی آسانی سے یہ کرے گا۔
لہذا دو کام آپ نے کرنے ہیں:
1۔ اپنی لمٹس اور باؤنڈریز مقرر کرنی ہیں۔ خصوصیاً بچیوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگرچہ دین ہر چیز سے مقدم ہونا چاہیے لیکن آپ اسے پھر بھی ایک جانب رکھ دیجیے، کیا یہ کوئی اچھی بات ہے کہ آپ کا جسم اور ادائیں دیکھ کر ہر چرسی، بھنگی اور بھیک منگا رالیں ٹپکائے؟ کیا وہ سامنے بیٹھا یہ کر رہا ہو تو آپ کو اچھا لگتا ہے؟
2۔ ان ایپس کا وقت مقرر کرنا ہے۔ زندگی میں صرف یہ ایپس تو نہیں ہیں۔ یہ آپ کی صحت اور ہر چیز کھا جائیں تو آپ کو کیا ملے گا؟ تصور کیجیے کہ دس سال بعد آپ کہاں ہوں گے؟
اگر آپ سے یہ نہیں ہو پا رہا اور آپ ان کے نشے کے عادی ہو چکے ہیں تو گھر کے کسی اور فرد سے مدد لے لیں جو پاسورڈ تبدیل کر دے اور مقررہ وقت کے بعد آپ کو لاگ آؤٹ کر دیا کرے۔ یہ ایک آسان حل ہے اور چند ماہ میں یہ نشہ خود ہی کم ہو جائے گا۔
مفتی اویس پراچہ