Govt. High School Sathiala

Govt. High School Sathiala

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Govt. High School Sathiala, Education, New York, New York.

21/04/2025

New admission in GHS SATHIALA Adnan Ali

08/04/2025
19/12/2023

I have reached 1.5K followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉

16/10/2023

یہ سولہویں سکیل کے ماسٹر صاحب یہ نہیں کہہ رہے کہ انہیں بھی عدلیہ میں کام کرنے والے سولہویں سکیل کے اسٹینو گرافر کی طرح 65 ہزار روپے کا اضافی آلاونس دیا جائے نہ ہی 17 سکیل کے لیکچرر یہ ڈیمانڈ کر رہے ہیں کہ انہیں بھی 70لاکھ والا ویگو ڈالا لے کر دیا جائے جو 17 اسکیل کے اسسٹنٹ کمشنر کوملتا ہے 18سکیل کے اسسٹنٹ پروفیسر صاحب بھی یہ مطالبہ نہیں کر رہے کہ انہیں 4 کنال کا سرکاری گھر اور ڈیڑھ کروڑ والی فورچونر گاڑی دی جائے جو کہ 18 سکیل کے ڈپٹی کمشنر کو دی جاتی ہے
20ویں سکیل کے پروفیسر صاحب بھی یہ نہیں کہہ رہے کہ انہیں ریٹائرمنٹ پر 25 ایکڑ زرخیز زرعی زمین اور ڈی ایچ اے میں دو کنال کا پلاٹ دیا جائے جو کہ 20 سکیل کے میجر جنرل صاحب کو ریٹائرمنٹ پر دیا جاتا ہے

یہ تو صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ نوکری شروع کرتے وقت جو جو تنخواہ، الاونس اور پینشن وغیرہ دینے کا تم نے وعدہ کیا تھا وہ تو ختم نہ کرو جن شرائط و ضوابط کو مان کر ہم نے نوکری قبول کی تھی ان کو تو تبدیل نہ کرو نہایت معمولی مراعات کے عوض ساری زندگی اس پیشے کو دینے والے سے آخری عمر میں اس کے بڑھاپے کا سہارا تو نہ چھینو۔

13/10/2023

آجکل ہر جگہ ہر وقت ہر بندہ دو سوال کر رہا ہے
1۔ ماسٹراں دا کی رولا اے
2۔ ماسٹراں دا کی بنیا اے
میں آج ان دو سوالات کے جواب دینے کی کوشش کروں گا
سب سے پہلے تو یہ اساتذہ کا مسئلہ نہیں بلکہ دو طاقتور ادارے چھوڑ کر باقی تمام ملازمین کا مسئلہ ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ملازمین کو نوکری دیتے وقت آئین نے جو حقوق دیے تھے اب وہ تمام حقوق ختم کیے جا رہے ہیں
گریڈ ایک کے سویپر سے لے کر گریڈ بیس کے افسر تک ہر بندہ نوکری کے پہلے دن سے لے کر آخری دن تک اپنی اصل تنخواہ سے کٹوتی کرواتا ہے کہ جب ریٹائر ہوں گا تو ریٹائرمنٹ ملے گی، جس سے اپنی بیٹی کی شادی کر لوں گا یا اپنے بوسیدہ مکان کی مرمت کر لوں گا، اب حکومت یہ حق ختم کر رہی ہے
ایک انسان کوئی بزنس کرتا ہے تو وہ بزنس اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹے اور اس کے بعد نسل در نسل منتقل بھی ہوتا جاتا ہے اور پھیلتا بھی جاتا ہے، ایک سرکاری ملازم اپنی آدھی زندگی تعلیم میں اور پھر ساٹھ سال تک کی عمر اپنے محکمہ کو دیتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جب بوڑھا ہو جاؤں گا تو گورنمنٹ میرا سہارہ بنے گی، اُنکی پینشن اب ختم ہو رہی ہے
جب سب ملازمین کا مسئلہ ہے تو ٹیچر کیوں احتجاج کر رہے ہیں، باقی محکمے کیوں نہیں، اُسکا جواب یہ ہے کہ ساڑھے سات لاکھ فوج کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ تعداد اساتذہ کی ہے، وہ سب متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے احتجاج کر رہے ہیں
اب سوال یہ کے سکولز کی تالہ بندی کر کے بچوں کا تعلیمی حرج کیوں کیا جا رہا ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جب کسی نشئی کو نشہ پورا کرنے کے لیے پیسے نہیں ملتے تو وہ گھر کی چیزیں بیچنا شروع کر دیتا ہے ایسا ہی معاہدہ سیاسی جماعتوں نے آئی ایم ایف سے کیا ہے کہ قومی اثاثہ جات اور ادارے بیچ کر ڈالر اُدھار لیں گے اور پھر لوٹ کر بیرون ملک بھاگ جائیں گے.
سرکاری سکولوں میں صرف سفید پوش لوگوں کے بچے پڑھتے ہیں، جن کے پاس ضرورت سے تھوڑی سی بھی زیادہ آمدن ہوتی ہے وہ اپنے بچے مقامی پرائیویٹ اداروں میں لے جاتے ہیں اور اگر حالات اچھے ہوں تو ضلع کے بہترین پرائیویٹ اداروں میں لے جاتے ہیں جہاں کی داخلہ فیس کم از کم تیس ہزار ہوتی ہے، یہ باتیں میں فرضی کہانیاں نہیں بنا رہا میں نے نوکری کی ابتدا ضلع کے دو بہترین اداروں سے کی اور اب 10 سال ہو گئے ہیں سرکاری ملازمت کو.
کچرا حکومت کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ سرکاری اسکولز کو بیچ دو، اُن کے انکار کے بعد ( کہ ہم عوام میں جانے کے قابل نہیں رہیں گے) جاتے جاتے اُن سے یہ قانون پاس کروایا گیا کہ نگران حکومت اپنے فرض الیکشن کروانے کے علاوہ ہر وہ کام کر سکتی ہے جس کی پہلے آئین میں اجازت نہیں تھی. نگران حکومت اپنے ٹاسک کو پورا کرتے ہوئے سرکاری اسکولز کو غیر ملکی این جی اوز کو بیچ رہی ہے، جو اپنی مرضی کی فیسیں لیں گی اور اپنی مرضی کا سلیبس پڑھائیں گی ، جہاں ایک طرف روح ایمانی کا خاتمہ اور دوسری طرف سفید پوش لوگوں کے لیے تعلیم دلوانا نہ ممکن ہو جائے گا، اس طرح کی بھیڑ بکریوں اور ان پڑھ طبقے کو بیوقوف بنانا آسان ہوگا جیسا کہ پچھلے چھہتر سال سے ہو رہا ہے
تو پھر احتجاج کس کو کرنا چاہیے؟ کیا تعلیم صرف ملازمین نے اپنے بچوں کو دلوانی ہے؟
اگر تو باقی عوام بھیڑ بکریاں ہیں تو پھر واقعی ماسٹراں دا رولا اے

15/06/2023

ملازم بڑا ہی تابعدار تھا۔ مالک نے خوش ہو کے اس کی پانچ ہزار تنخواہ بڑھا دی۔ تابعداری میں فرق نہیں آیا لیکن وہ بہت زیادہ مشکور بھی نہیں ہوا۔
مالک کو بڑا غصہ آیا کہ میں نے اس کی تنخواہ بڑھائی لیکن یہ ہے کہ اچھے سے شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔ اس نے اگلے ماہ تنخواہ پانچ ہزار کم کر دی۔
ملازم کی ‏تابعداری اب بھی وہی رہی کوئی شکایت نہیں کی۔
مالک نے اسے بلوا بھیجا اور کہا، "بڑے عجیب انسان ہو، میں نے تمھاری تنخواہ پانچ ہزار بڑھائی، پھر کم کر دی۔ تم جوں کے توں رہے۔ یہ سب کیا ہے؟"
ملازم بولا، "اوہ! آپ نے خود کو رازق سمجھ لیا تھا؟
میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس سے اگلے دن آپ نے تنخواہ پانچ ‏ہزار بڑھا دی۔ میں سمجھ گیا کہ جس خالق نے بچہ دیا اسی نے رزق کا انتظام بھی ساتھ ہی کر دیا ہے، سو اسی کا شکریہ ادا کیا۔ پھر جس دن آپ نے تنخواہ کم کر دی اسی دن میری والدہ وفات پا گئیں۔ میں نے جان لیا کہ وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لے گئیں۔ سو تب بھی اللہ کا شکر ادا کر کے مطمئن رہا۔"
پھر بولا، "صاحب، ‏یہ روزی روٹی کے فیصلے کہیں اور ہی ہوتے ہیں۔ ہم تو بس مہرے ہیں جنہیں آگے پیچھے کرکے اسباب پیدا کیا جاتے ہیں۔"
سبحان اللہ ، الحمدللہ ، اللہ اکبر☝

02/03/2022

GHS Sathiala Staff..... At wedding ceremony of Mr. Abrar Jamil sb
26-02-2022

17/10/2021

گورنمنٹ ہاٸی سکول سٹھیالہ کا شاندار رزلٹ2021 آنے پر جملہ سٹاف کی طرف سے عدنان صاحب کو بہت بہت مبارک ہو۔
حسن علی: 1059/1100
حسنین رضا: 1035/1100

Want your school to be the top-listed School/college in New York?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

New York
New York