24/09/2026
دو ایسی چیزیں جنہیں ہمیں کبھی معمول نہیں بنانا چاہیے
بچوں کی تربیت صرف انہیں پڑھانے یا ان کی ضروریات پوری کرنے کا نام نہیں، بلکہ انہیں احترام، حدود اور مناسب رویّے سکھانا بھی والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔
سب سے پہلی چیز ہے بچے کا بدتمیزی یا بے ادبی کرنا۔ کبھی کبھی بچے کی کوئی حرکت ہمیں معصوم یا مزاحیہ لگ سکتی ہے، لیکن اگر وہ کسی کی بے عزتی کرے، بدتمیزی سے بات کرے یا دوسروں کے آرام کا خیال نہ رکھے تو اسے صرف یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ “بچہ ہے، کرنے دو۔” بچے جس رویّے پر بار بار داد یا ہنسی حاصل کرتے ہیں، وہ اسے معمول سمجھنے لگتے ہیں۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ والدین بچے کے نامناسب رویّے کو مزاح سمجھ کر انجوائے کریں۔ والدین کا ردِعمل بچے کے لیے بہت بڑا سبق ہوتا ہے۔ اگر غلط رویّے پر ہنسی ملے گی تو بچہ اسے دوبارہ دہرا سکتا ہے۔
بچے کو ڈانٹنے یا سب کے سامنے شرمندہ کرنے کے بجائے پیار اور مستقل مزاجی سے سمجھائیں کہ مزاح اپنی جگہ، لیکن دوسروں کے احترام اور حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
یاد رکھیں،
ہم بچوں کو صرف یہ نہیں سکھاتے کہ کیا کرنا ہے، بلکہ ہمارا ردِعمل انہیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کیا قابلِ قبول ہے۔