Aaj Kya huwa tha

Aaj Kya huwa tha وقت کے سفر پر ایک نظر! �

ماضی، سائنس، اور دنیا کی تاریخ سے جڑے واقعات۔

� تاریخ کا سفر، روزانہ آپ

11/09/2026
11 ستمبر 2001 (9/11) کے دہشت گردانہ حملے جدید عالمی تاریخ کا ایک ایسا موڑ ہیں جس نے نہ صرف امریکہ بلکہ پورے عالمی سیاسی،...
11/09/2026

11 ستمبر 2001 (9/11) کے دہشت گردانہ حملے جدید عالمی تاریخ کا ایک ایسا موڑ ہیں جس نے نہ صرف امریکہ بلکہ پورے عالمی سیاسی، دفاعی اور معاشی نظام کو بدل کر رکھ دیا۔​واقعات کی ترتیب اور طنز و طریقہ کار
منگل کی صبح 19 القاعدہ ہائی جیکرز نے امریکہ کے مشرقی ساحل سے پرواز بھرنے والے چار تجارتی مسافر طیاروں کا کنٹرول سنبھال لیا:
​امریکن ایئرلائنز فلائٹ 11: صبح 8:46 بجے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور (North Tower) سے ٹکرا گئی۔
​یونائیٹڈ ایئرلائنز فلائٹ 175: صبح 9:03 بجے جنوبی ٹاور (South Tower) سے ٹکرا گئی۔ 100 منٹ کے اندر دونوں 110 منزلہ ٹاورز زمین بوس ہو گئے۔
​امریکن ایئرلائنز فلائٹ 77: صبح 9:37 بجے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی وزارتِ دفاع کی عمارت "پینٹاگون" سے ٹکرا گئی۔
​یونائیٹڈ ایئرلائنز فلائٹ 93: اس طیارے کا ہدف غالباً امریکی کیپیٹل (پارلیمنٹ) یا وائٹ ہاؤس تھا۔ تاہم، مسافروں نے ہائی جیکرز کا مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں طیارہ صبح 10:03 بجے پنسلوانیا کے ایک کھیت (شنکس ول) میں گر کر تباہ ہو گیا۔
​جانی و مالی نقصان
ان حملوں میں کل 2,977 افراد ہلاک ہوئے (جن میں 19 ہائی جیکرز شامل نہیں ہیں)۔ ان میں 93 ممالک کے شہری، 343 فائر فائٹرز اور 71 پولیس افسران شامل تھے۔ یہ امریکی سرزمیں پر پرل ہاربر (1941) کے بعد سب سے بڑا غیر ملکی حملہ تھا۔
​عواقب اور عالمی اثرات
​وار آن ٹیرر (War on Terror): صدر جارج ڈبلیو بش نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کیا۔ اکتوبر 2001 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کر کے طالبان حکومت کا خاتمہ کیا، کیونکہ انہوں نے اسامہ بن لادن اور القاعدہ کو پناہ دے رکھی تھی۔
​عراق پر حملہ (2003): 9/11 کے بعد امریکہ نے سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر 2003 میں عراق پر حملہ کیا۔
​سیکیورٹی اور ایوی ایشن میں تبدیلیاں: دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی کے سخت ترین قوانین نافذ کیے گئے اور امریکی داخلہ سیکیورٹی کا ادارہ (Department of Homeland Security) اور TSA قائم ہوئے۔
​انسانی اور معاشی قیمت: اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد (خصوصاً افغانستان، عراق اور پاکستان میں) متاثر ہوئے، جبکہ امریکی معیشت کو کھربوں ڈالرز کا نقصان ہوا۔

1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران 9 ستمبر کا دن عسکری تاریخ میں ایک انتہائی اہم موڑ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس دن چند بڑے واقعا...
09/09/2026

1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران 9 ستمبر کا دن عسکری تاریخ میں ایک انتہائی اہم موڑ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس دن چند بڑے واقعات اور فیصلہ کن پیش رفتیں درج ذیل ہیں:​1. سیالکوٹ کے محاذ پر ٹینکوں کا بڑا معرکہ
9 ستمبر کو سیالکوٹ (چونڈہ) کے محاذ پر بھارتی فوج کے 1st Armoured Division نے زبردست حملہ کیا۔ اس کے جواب میں پاک فوج کی 6th Armoured Division اور پیادہ دستوں نے ٹینکوں کی تاریخ کا دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑا معرکہ لڑا۔ پاک فوج نے بھارتی فوج کی پیش قدمی کو مکمل طور پر روک دیا اور ان کی بکتر بند گاڑیوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔
​2. پاکستان کا جوابی حملہ (Khem Karan)
قصور کے محاذ پر پاک فوج نے سرحد پار کر کے بھارت کے قصبے کھیم کرن (Khem Karan) پر قبضہ کر لیا اور بھارتی حدود کے اندر داخل ہو کر دفاعی پوزیشنیں مضبوط بنا لیں۔
​3. کھیم کرن میں بھارتی ٹینکوں کی تباہی (Patton Nagar)
اسی روز کھیم کرن کے قریب بھارتی فوج کا 3rd Cavalry رجمنٹ پاک فوج کی ناکہ بندی اور حملے کی زد میں آ گیا۔ اس لڑائی میں بھارت کے درجنوں سینچورین اور شرمین ٹینک تباہ یا ناکارہ ہوئے، جس کے بعد اس علاقے کو بعد میں "پیٹن نگر" کا نام بھی دیا گیا۔
​4. فضائی اور بحری کارروائیاں
​پاک فضائیہ (PAF): پاک فضائیہ نے ہندوستانی فضائیہ (IAF) کے اگلی صفوں کے ہوائی اڈوں (مثلاً پٹھان کوٹ اور ہلواڑہ) اور پیش قدمی کرتے ہوئے کالموں پر بمباری جاری رکھی تاکہ ان کی زمین پر گرفت کمزور ہو۔
​پاک بحریہ (Dwarka Operation): 8 ستمبر کی رات آپریشن دوارکا کی کامیابی کے بعد 9 ستمبر کو پاک بحریہ نے بحیرہ عرب میں اپنی برتری قائم رکھی اور بھارتی بحریہ کو اپنے ساحلوں تک محدود رکھا۔
​5. اقوامِ متحدہ (UN) کی سفارتی کوششیں
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل اے۔ تھانٹ (U Thant) دونوں ممالک کے درمیان فوری جنگ بندی کروانے کے لیے 9 ستمبر کو راولپنڈی پہنچے اور پاکستان کی قیادت سے اعلیٰ سطح پر مذاکرات کیے۔

اولمپکس کی تاریخ (1972): میونخ اولمپکس کے دوران 'بلیک ستمبر' نامی گروپ نے اسرائیلی کھلاڑیوں کو یرغمال بنایا تھا، جسے "می...
05/09/2026

اولمپکس کی تاریخ (1972): میونخ اولمپکس کے دوران 'بلیک ستمبر' نامی گروپ نے اسرائیلی کھلاڑیوں کو یرغمال بنایا تھا، جسے "میونخ قتل عام" کے نام سے جانا جاتا ہے। 1972 کے میونخ اولمپکس کی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہیں جسے کھیلوں کی دنیا کا سب سے خوفناک واقعہ مانا جاتا ہے۔ "میونخ قتل عام" (Munich Massacre) کے نام سے معروف اس سانحے نے دنیا بھر میں سیکیورٹی اور بین الاقوامی سیاست کے تناظر کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔
​واقعے کا پس منظر
جرمنی (اس وقت کا مغربی جرمنی) اس اولمپکس کے ذریعے 1936 کے برلن اولمپکس کے نازی امیج کو مٹا کر ایک نیا، پرامن اور جمہوری امیج پیش کرنا چاہتا تھا۔ اسی لیے اولمپک ولیج میں سیکیورٹی کو انتہائی نرم اور غیر مسلح رکھا گیا تھا، تاکہ کھلاڑیوں کو ایک آزاد ماحول مل سکے۔
​5 ستمبر 1972: یرغمال بنانے کا واقعہ
​گروپ کا حملہ: 5 ستمبر کی صبح تڑکے، "بلیک ستمبر" (Black September) نامی ایک فلسطینی عسکریت پسند تنظیم کے 8 مسلح ارکان اولمپک ولیج میں اسرائیلی کھلاڑیوں کے رہائشی اپارٹمنٹ میں داخل ہو گئے۔
​ابتدائی جانی نقصان: مزاحمت کے دوران 2 اسرائیلی کھلاڑی (کشتی کے کوچ موشے وائن برگ اور ویٹ لفٹر یوسف رومانو) موقع پر ہی مارے گئے، جبکہ 9 دیگر کو یرغمال بنا لیا گیا۔
​مطالبات: حملہ آوروں نے اسرائیل کی جیلوں میں قید 230 سے زائد فلسطینیوں اور جرمن جیلوں میں قید ریڈ آرمی فریکشن کے رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ اسرائیل کی حکومت نے کسی بھی قسم کے مطالبات تسلیم کرنے اور مذاکرات کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
​فرسٹن فیلڈ برک ایئر بیس کا ناکام آپریشن
جرمن حکام نے بظاہر مذاکرات کا ڈرامہ رچایا اور حملہ آوروں کو قاہرہ جانے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے 'فرسٹن فیلڈ برک' (Fürstenfeldbruck) کے ملٹری ایئر بیس پر لایا گیا۔
​سیکیورٹی کی ناقص منصوبہ بندی: اس وقت جرمنی کے پاس کوئی ماہر انسدادِ دہشت گردی (Anti-Terrorism) فورس موجود نہیں تھی۔ پولیس کے پاس نہ سنائپر کی صحیح تربیت تھی اور نہ ہی مناسب نائٹ ویژن آلات۔
​خونریز جھڑپ: ایئر بیس پر جوں ہی سنائپرز نے فائرنگ کی، شدید گولی باری شروع ہو گئی۔ حملہ آوروں نے یہ دیکھ کر کہ وہ گھیر چکے ہیں، ہیلی کاپٹر کے اندر گرنیڈ پھینک دیا اور باقی یرغمالیوں پر گولیاں چلا دیں۔
​نتائج: اس ناکام آپریشن میں تمام 9 اسرائیلی یرغمالی، 1 جرمن پولیس اہلکار اور 5 فلسطینی حملہ آور مارے گئے۔ باقی 3 حملہ آوروں کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔
​تاریخی اثرات اور نتائج
​کھیلوں پر اثر: اولمپک کھیل 24 گھنٹے کے لیے معطل رہے اور ایک تعزیتی اجلاس کے بعد مقابلے دوبارہ شروع کیے گئے۔
​GSG 9 کا قیام: اس آپریشن کی شدید ناکامی کے بعد مغربی جرمنی نے دنیا کی بہترین انسدادِ دہشت گردی فورسز میں سے ایک GSG 9 تشکیل دی۔
​موساد کا بدلہ (Operation Wrath of God): اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے اس واقعے کے تمام ماسٹر مائنڈز اور منصوبہ سازوں کو دنیا بھر میں تلاش کر کے ختم کرنے کے لیے ایک خفیہ اور طویل المیعاد ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا۔

1939 - دوسری جنگِ عظیم کا آغاز: 1 ستمبر 1939ء کو ہٹلر کی جرمن فوج نے پولینڈ پر حملہ کیا تھا، جس سے باقاعدہ دوسری جنگِ عظ...
01/09/2026

1939 - دوسری جنگِ عظیم کا آغاز: 1 ستمبر 1939ء کو ہٹلر کی جرمن فوج نے پولینڈ پر حملہ کیا تھا، جس سے باقاعدہ دوسری جنگِ عظیم (World War II) کا آغاز ہوا تھا۔دوسری جنگِ عظیم کا آغاز: 1 ستمبر 1939ء کا واقعہ
​1 ستمبر 1939ء کی صبح، نازی جرمنی کی افواج نے ہٹلر کی قیادت میں پولینڈ پر اچانک حملہ کر دیا۔ اس جارحانہ اقدام کو "بلیٹز کریگ" (Blitzkrieg) یعنی شدید اور تیز ترین جنگی حکمتِ عملی کا نام دیا گیا، جس میں ہوائی جہازوں، ٹینکوں اور پیدل فوج کو ایک ساتھ استعمال کیا گیا۔
​اہم پس منظر اور اسباب
​معاہدہ ورسائی (Treaty of Versailles): پہلی جنگِ عظیم کے بعد جرمنی پر سخت مالی اور عسکری پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جن کا بدلہ لینا ہٹلر کا بنیادی مقصد تھا۔
​ڈنزشگ کا راہداری مسئلہ (Danzig Corridor): جرمنی ڈنزگ شہر اور پولینڈ کے راستے اپنے الگ تھلگ مشرقی حصے (East Prussia) کو واپس ملانا چاہتا تھا۔
​جرمن ناپاک عزم (Lebensraum): نازی نظریے کے تحت جرمن نسل کے پھیلائو کے لیے مشرقی یورپ کی زمین پر قبضہ کرنا ضروری سمجھا گیا۔
​مولوتوف-ربن ٹروپ معاہدہ (Molotov–Ribbentrop Pact): اگست 1939ء میں جرمنی اور سوویت یونین (روس) نے ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے اور پولینڈ کو آپس میں تقسیم کرنے کا خفیہ معاہدہ کیا، جس نے ہٹلر کا راستہ صاف کر دیا۔
​حملہ اور باقاعدہ جنگ کا آغاز
جرمنی نے ڈنزگ کے قریب واقع پولش فوجی اڈے 'ویسٹر پلیٹ' (Westerplatte) پر فائرنگ کر کے جنگ کی بنیاد رکھی۔ جرمن پروپیگنڈے نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ پولینڈ کی طرف سے کی جانے والی اشتعال انگیزی کے جواب میں تھا۔
​پولینڈ کے تحفظ کے لیے برطانیہ اور فرانس نے 3 ستمبر 1939ء کو جرمنی کے خلاف باضابطہ جنگ کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ علاقائی تنازع دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی اور مہلک ترین عالمگیر جنگ (World War II) میں تبدیل ہو گیا۔
​جنگ کے سٹریٹجک اثرات
​پولینڈ کی تقسیم: جرمنی کے حملے کے کچھ ہی دنوں بعد، 17 ستمبر 1939ء کو سوویت یونین نے بھی مشرقی جانب سے پولینڈ پر حملہ کر دیا اور دونوں طاقتوں نے ملک کو آپس میں بانٹ لیا۔
​عالمی تنازع: یہ جنگ 6 سال تک جاری رہی جس میں 30 سے زائد ممالک شامل ہوئے اور 7 کروڑ سے زائد انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

Address

Qazi Ahmed
Nawabshah
67410

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aaj Kya huwa tha posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category