Muhammad Javed Iqbal Khara

Muhammad Javed Iqbal Khara میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں بس میرا ماہی صل علٰی

24/08/2026

🌹 سالانہ مرکزی میلادِ مصطفیٰ ﷺ کانفرنس و جلوس

عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کا عظیم اجتماع؛ محبتِ رسول ﷺ، عظمتِ مصطفیٰ ﷺ اور
عقائدِ اہلِ سنت کے تحفظ کا عزم۔

🌹 قافلہ در قافلہ، جوق در جوق — چلو چلو! جامعہ مدینۃ النبی چلو! ﷺ

ٰﷺ ٰﷺ #اہلسنت

`امام محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللّٰہ علیہ` نے `سنن ترمذی` میں تو *پورا باب* ہی باندھ دیا😘 *"بَابُ مَا جَاءَ فِیْ مِیْلَ...
23/08/2026

`امام محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللّٰہ علیہ` نے `سنن ترمذی` میں تو *پورا باب* ہی باندھ دیا😘

*"بَابُ مَا جَاءَ فِیْ مِیْلَادِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلہٖ وَ سَلَّمَ"*💚💕

~`جب تلک یہ چاند تارے جھلملاتے جائیں گے`
`تب تلک جشنِ ولادت ہم مناتے جائیں گے`

23/08/2026

سالانہ مرکزی میلاد مصطفی کانفرنس و جلوس
جامعہ مدینۃ النبی نوشہرہ وادی سون

🌹 میلادِ مصطفیٰ ﷺ کانفرنس و جلوس 🌹📢 توحید و سنت کے متوالوں کا عظیم الشان اجتماععاشقانِ مصطفیٰ ﷺ!آئیے اپنے کریم آقا، رحمت...
23/08/2026

🌹 میلادِ مصطفیٰ ﷺ کانفرنس و جلوس 🌹

📢 توحید و سنت کے متوالوں کا عظیم الشان اجتماع

عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ!
آئیے اپنے کریم آقا، رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی میں منعقد ہونے والی میلادِ مصطفیٰ ﷺ کانفرنس میں عقیدت و محبت کے ساتھ شرکت کریں۔

یہ عظیم الشان اجتماع عظمتِ مصطفیٰ ﷺ کے اظہار، محبتِ رسول ﷺ کے فروغ، عقائدِ اہلِ سنت کے تحفظ اور دینی شعور کی بیداری کا ذریعہ بنے گا۔

✨ ان شاء اللہ!
کانفرنس میں جید علماءِ کرام کے ایمان افروز خطابات ہوں گے، جبکہ مشائخِ عظام اور ساداتِ کرام کی کثیر تعداد بھی شرکت فرمائے گی۔

🕌 کانفرنس کے بعد

📍جامعہ مدینۃ النبی نوشہرہ وادی سون سے تکبیر چوک تک عظیم الشان میلاد جلوس نکالا جائے گا۔

🍛 اختتام پر لنگرِ شریف کا بھی اہتمام ہوگا۔

---

🌹 زیرِ سرپرستی

جانشینِ حضور ضیاءُ الامت، حضور دیوانِ کریم
قبلہ پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب مدظلہ العالی
سجادہ نشین آستانہ عالیہ بھیرہ شریف

🌹 زیرِ صدارت

مبلغِ اسلام حضرت علامہ محمد جاوید اقبال کھارا
پرنسپل جامعہ مدینۃ النبی، نوشہرہ وادیِ سون

---

📞 رابطہ و معلومات:

0301-6773392

🌹 آئیں!
محبتِ رسول ﷺ سے اپنے دلوں کو منور کریں،
عقیدۂ اہلِ سنت کی پاسبانی کا عزم تازہ کریں
اور میلادِ مصطفیٰ ﷺ کانفرنس میں اپنی شرکت کو باعثِ سعادت بنائیں۔

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ﷺ

ٰﷺ ٰﷺ ٰﷺ #اہلسنت

حوالہ: کلیاتِ مکاتیبِ اقبال (جلد دوم)مرتبہ: سید مظفر حسین برنیصفحہ نمبر 156
23/08/2026

حوالہ:
کلیاتِ مکاتیبِ اقبال (جلد دوم)
مرتبہ: سید مظفر حسین برنی
صفحہ نمبر 156

حضرت جابر بن سَمُرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:میں نے ایک ایسی روشن اور چاندنی رات میں رسولِ اکرم ﷺ کو دیکھا جب چاند پ...
23/08/2026

حضرت جابر بن سَمُرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
میں نے ایک ایسی روشن اور چاندنی رات میں رسولِ اکرم ﷺ کو دیکھا جب چاند پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ کبھی میں رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ انور کی طرف دیکھتا اور کبھی چاند کی طرف۔ اس وقت آپ ﷺ سرخ دھاریوں والی ایک خوبصورت چادر زیبِ تن فرمائے ہوئے تھے۔
پس مجھے رسول اللہ ﷺ کا جمالِ مبارک چاند سے بھی زیادہ حسین و دلکش محسوس ہوا۔
(جامع ترمذی)
✨ مختصر لفظی تشریح
رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ
میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔
فِي لَيْلَةِ إِضْحِيَانٍ
ایک نہایت روشن، صاف اور چاندنی رات میں۔
یعنی ایسی رات جس میں چاند پوری آب و تاب سے روشن ہو۔
فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ وَإِلَى الْقَمَرِ
میں کبھی رسول اللہ ﷺ کو دیکھتا اور کبھی چاند کو دیکھتا تھا۔
وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ
اور آپ ﷺ نے سرخ رنگ کی ایک خوبصورت حُلّہ (لباس/چادر) زیبِ تن فرمائی ہوئی تھی۔
فَإِذَا هُوَ عِنْدِي أَحْسَنُ مِنَ الْقَمَرِ
تو میرے نزدیک رسول اللہ ﷺ چاند سے بھی زیادہ حسین تھے۔
🌺 حدیث کی خوبصورت تشریح
اس حدیث میں حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما نے حُسنِ مصطفیٰ ﷺ کا ایک نہایت حسین منظر بیان فرمایا ہے۔ رات روشن ہے، آسمان پر چودھویں کا چاند اپنی پوری تابانی کے ساتھ موجود ہے، اور سامنے محبوبِ خدا ﷺ جلوہ فرما ہیں۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہما کی نگاہ کبھی چاند کے حسن کو دیکھتی ہے اور کبھی جمالِ مصطفیٰ ﷺ کو۔ مگر جب دونوں کا موازنہ ہوتا ہے تو ان کے دل سے بے اختیار یہ گواہی نکلتی ہے:
رسول اللہ ﷺ چاند سے بھی زیادہ حسین تھے۔
یہاں ایک لطیف نکتہ یہ بھی ہے کہ راوی صرف یہ نہیں کہتا کہ آپ ﷺ خوبصورت تھے، بلکہ فرماتا ہے:
«فَإِذَا هُوَ عِنْدِي أَحْسَنُ مِنَ الْقَمَرِ»
یعنی "وہ میرے نزدیک چاند سے بھی زیادہ حسین تھے۔"
اس میں محبتِ رسول ﷺ کی وہ کیفیت جھلکتی ہے کہ عاشقِ رسول ﷺ کو دنیا کی کوئی خوبصورتی جمالِ مصطفیٰ ﷺ کے برابر محسوس نہیں ہوتی۔

محفل میلاد النبی ﷺ  علامہ اقبال نے ایک موقع پر محفل میلاد النبی ﷺ کے متعلق ایک مختصر سی تقریر میں چند خیالات ظاہر فرمائے...
22/08/2026

محفل میلاد النبی ﷺ

علامہ اقبال نے ایک موقع پر محفل میلاد النبی ﷺ کے متعلق ایک مختصر سی تقریر میں چند خیالات ظاہر فرمائے تھے۔ اس تقریر کی رپورٹ زمیندار لاہور میں شائع ہوئی تھی۔ جناب پروفیسر غلام دست گیر رشید نے یہ تقریر زمیندار کے صفحات سے لے کر اپنے مجموعہ "آثارِاقبال" میں شائع کی تھی اور اب "آثارِ اقبال" سے لے کر ہدیہ ناظرین کی جاتی ہے۔ (بندہ واحد)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمانہ ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ انسانوں کی طبائع، ان کے افکار اور ان کے نقطہ ہائے نگاہ بھی زمانے کے ساتھ ہی بدلتے رہتے ہیں۔ لہٰذا تیوہاروں کے منانے کے طریقے اور مراسم بھی ہمیشہ متغیر ہوتے رہتے ہیں اور ان سے استفادہ کے طریق بھی بدلتے رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے مقدس دنوں کے مراسم پر غور کریں اور جو تبدیلیاں افکار کے تغیرات سے ہونی لازم ہیں اُن کو مدِ نظر رکھیں۔
منجملہ ان مقدس ایّام کے جو مسلمانوں کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں، ایک میلاد النبی ﷺ کا دن بھی ہے۔ میرے نزدیک انسانوں کی دماغی اور قلبی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ ان کے عقیدے کی رو سے زندگی کا جو نمونہ بہترین ہو وہ ہر وقت ان کے سامنے رہے۔ چنانچہ مسلمانوں کے لیے اسی وجہ سے ضروری ہے کہ وہ اسوۂ رسول ﷺ کو مدِ نظر رکھیں تاکہ جذبۂ تقلید اور جذبۂ عمل قائم رہے۔ ان جذبات کو قائم رکھنے کے تین طریقے ہیں۔ پہلا طریق تو درود و صلوٰۃ ہے۔ جو مسلمانوں کی زندگی کا جزو لانیفک ہو چکا ہے۔ وہ ہر وقت درود پڑھنے کے موقعے نکالتے ہیں۔ عرب کے متعلق میں نے یہ سنا کہ اگر بازار میں دو آدمی لڑ پڑتے ہیں اور تیسرا بہ آواز بلند اللّھم صل علیٰ سیّدنا و بارک وسلم پڑھ دیتا ہے تو لڑائی فورًا رک جاتی ہے اور متخاصمین ایک دوسرے پر ہاتھ اٹھانے سے فوراً باز آ جاتے ہیں۔ یہ درود کا اثر ہے اور لازم ہے کہ جس پر درود پڑھا جائے اس کی یاد قلوب کے اندر اپنا اثر پیدا کرے۔
پہلا طریق انفرادی، دوسرا اجتماعی ہے۔ یعنی مسلمان کثیر تعداد میں جمع ہوں اور ایک شخص جو حضور آقائے دو جہاں ﷺ کی سوانح حیات سے پوری طرح با خبر ہو آپ ﷺ کے سوانح زندگی بیان کرے تاکہ ان کی تقلید کا ذوق شوق مسلمانوں کے قلوب میں پیدا ہو۔ اس طریق پر عمل پیرا ہونے کے لیے سب آج یہاں جمع ہیں۔
تیسرا طریق اگرچہ مشکل ہے لیکن بہر حال اس کا بیان کرنا نہایت ضروری ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ یاد رسول ﷺ اس کثرت سے اور ایسے انداز میں کی جائے کہ انسان کا قلب نبوت کے مختلف پہلوؤں کا خود مظہر ہو جائے یعنی آج سے تیرہ سو سال پہلے کی جو کیفیت حضور سرور عالم ﷺ کے وجودِ مقدس سے ہویدا تھی وہ آج تمہارے قلوب کے اندر پیدا ہوجائے۔ حضرت مولانا رومؒ فرماتے ہیں۔

آدمی دید است باقی پوست است
دیدآں باشد کہ دید و دوست است

یہ جوہر انسانی کا انتہائی کمال ہے کہ اسے دوست کے سوا کسی چیز کی دید سے مطلب نہ رہے۔ یہ طریقہ بہت مشکل ہے۔ کتابوں کو پڑھنے یا میری تقریر سننے سے نہیں آئے گا۔ اس کے لیے کچھ مدت نیکوں اور بزرگوں کی صحبت میں بیٹھ کر روحانی انوار حاصل کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ میسر نہ ہو تو پھر ہمارے لیے یہی طریقہ غنیمت ہے جس پر ہم آج عمل پیرا ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس طریق پر عمل کرنے کے لیے کیا کیا جائے؟ پچاس سال سے شور برپا ہے مسلمانوں کو تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔ لیکن جہاں تک میں نے غور کیا تعلیم سے زیادہ اس قوم کی تربیت ضروری ہے اور ملّی اعتبار سے یہ تربیت علماء کے ہاتھ میں ہے۔ اسلام ایک خالص تعلیمی تحریک ہے۔ صدر اسلام میں اسکول نہ تھے، کالج نہ تھے، یونیورسٹیاں نہ تھیں لیکن تعلیم و تربیت اس کی ہر چیز میں ہے۔ خطبہ جمعہ، خطبہ عید، حج، وعظ غرض تعلیم و تربیتِ عوام کے بے شمار مواقع اسلام نے بہم پہنچائے ہیں، لیکن افسوس کہ علماء کی تعلیم کا کوئی صحیح نظام قائم نہیں رہا۔ اور اگر رہا بھی تو اس کا طریق عمل ایسا رہا کہ دین کی حقیقی روح نکل گئی۔ جھگڑے پیدا ہو گئے اور علماء کے درمیان جنہیں پیغمبر علیہ السلام کی جانشینی کا فرض ادا کرنا تھا، سر پھٹول ہونے لگی۔ مصر، عرب، عراق، افغانستان ابھی تہذیب و تمدن میں ہم سے پیچھے ہیں لیکن وہاں علماء ایک دوسرے کا سر نہیں پھوڑتے۔ وجہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک نے اخلاق کے اس معیار اعلیٰ کو پا لیا ہے جس کی تکمیل کے لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے اور ہم ابھی اس معیار سے بہت دور ہیں۔
دنیا میں نبوت کا سب سے بڑا کام تکمیل اخلاق ہے۔ چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا "بُعِثْتُ لاتمم مكارم الاخلاق" یعنی میں نہایت اعلیٰ اخلاق کے اتمام کے لیے بھیجا گیا ہوں، اس لیے علماء کا فرض ہے کہ وہ رسول ﷲ کے اخلاق ہمارے سامنے پیش کیا کریں تاکہ ہماری زندگی حضورﷺ کے اسوۂ حسنہ کی تقلید سے خوشگوار ہو جائے اور اتباعِ سنت زندگی کی چھوٹی چھوٹی چیزوں تک جاری و ساری ہو جائے. حضرت بایزید بسطامی رحمتہ ﷲ علیہ کے سامنے خربوزہ لایا گیا تو آپ نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ مجھے معلوم نہیں رسول ﷲ ﷺ نے اس کو کس طرح کھایا ہے۔ مبادا میں ترک سنت کا مرتکب ہو جاؤں۔ ؎

کاملِ بسطام در تقلید فرد
اجتناب از خوردن خربوزہ کرد

افسوس کہ ہم میں بعض چھوٹی چھوٹی باتیں بھی موجود نہیں ہیں جن سے ہماری زندگی خوشگوار ہو اور ہم اخلاق کی فضا میں زندگی بسر کر کے ایک دوسرے کے لیے باعثِ رحمت ہو جائیں۔ اگلے زمانے کے مسلمانوں میں اتباع سنت سے ایک اخلاقی ذوق اور ملکہ پیدا ہو جاتا تھا اور وہ ہر چیز کے متعلق خود ہی اندازہ کر لیا کرتے تھے کہ رسول ﷲ ﷺ کا رویہ اس چیز کے متعلق کیا ہوگا۔
حضرت مولانا روم بازار میں جا رہے تھے۔ آپ کو بچوں سے بہت محبت تھی۔ کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ ان سب نے مولانا کو سلام کیا اور مولانا ایک ایک کا سلام الگ الگ قبول کرنے کے لیے دیر تک کھڑے رہے۔ ایک بچہ کہیں دور کھیل رہا تھا۔ اس نے وہیں سے پکار کر کہا کہ حضرت ابھی جائیے گا نہیں۔ میرا سلام لیتے جائیے تو مولانا نے بچہ کی خاطر دیر تک توقف فرمایا اور اس کا سلام لے کر گئے۔ کسی نے پوچھا حضور آپ نے بچہ کے لیے اس قدر توقف کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر رسول ﷲ ﷺ کو اس قسم کا واقعہ پیش آتا، تو حضور ﷺ بھی یونہی کرتے۔
گویا ان بزگوں میں تقلیدِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت سے ایک خاص اخلاقی ذوق پیدا ہو گیا تھا۔ اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں۔ علماء کو چاہیے کہ ان کو ہمارے سامنے پیش کریں۔ قرآن و حدیث کے غوامض بتانا بھی ضروری ہے۔ لیکن عوام کے دماغ ابھی ان مطالب عالیہ کے متحمل نہیں۔ انہیں فی الحال صرف اخلاقِ نبوی کی تعلیم دینی چاہیے۔

حوالہ:
کتاب: مقالاتِ اقبال
مرتبہ: سید عبدالواحد معینی، محمد عبدﷲ قریشی
صفحات: ۲۳۶ تا ۲۴۰
(پیشکش: ملک محمد عارف بارا)

شبے  پیشِ  خدا  بگریستم زارمسلماناں  چرا زارند و خوارندندا  آمد،  نمیدانی  کہ ایں قومدلے   دارند   و  محبوبے ندارندترجم...
22/08/2026

شبے پیشِ خدا بگریستم زار
مسلماناں چرا زارند و خوارند
ندا آمد، نمیدانی کہ ایں قوم
دلے دارند و محبوبے ندارند

ترجمہ و تشریح:
میں ایک رات خدا کے سامنے زارو زار رویا۔ مسلمان دکھ اور تکلیف میں کیوں ہیں اور ذلالت اٹھا رہے ہیں۔ آواز آئی، کیا تو نہیں جانتا کہ یہ قوم دل تو رکھتی ہے لیکن محبوب (حضرت محمد ﷺ) نہیں رکھتی۔ ﴿مسلمانوں کی ذلت و خواری کا باعث یہ ہے کہ وہ عشقِ رسول ﷺ کے جذبہ سے بیگانہ ہو گئے ہیں۔ یہ قوم اپنے آقا حضور ﷺ کو بھلا چکی ہے۔ مادہ پرستی کا شکار ہو کر حضور ﷺ کی تعلیمات سے بیگانہ ہو چکی ہے﴾

فرھنگ:
۱۔ شبے ۔۔۔۔۔ شب + ے۔۔۔۔۔ایک رات۔
شب ۔۔۔۔۔رات۔ رین۔ سورج کے غروب ھونے سے پھر طلوع ھونےتک کا وقت۔
+ ے۔۔۔۔۔ ایک۔ اک۔
۲۔ پیشِ ۔۔۔۔۔ کے سامنے۔ کے حضور۔ کے روبرو۔ کے آگے۔ کی جناب میں۔
۳۔ خدا ۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰﷻ کی ذات پاک۔
۴۔ بگریستم ۔۔۔۔۔۔ ب+گریست+م۔۔۔۔۔میں رویا۔ روتا رھا۔
ب ۔۔۔۔۔ ب زائدہ ھے
+گریست (ماضی مطلق)۔۔۔۔۔ وہ رویا۔
+م یا ام۔۔۔۔۔ میں۔
گرید (مضارع)۔۔۔۔۔ وہ روتا ھے۔
گریہ (اصل مصدر)۔۔۔۔۔ رونے کی کیفیت۔
گری (فعل امر)۔۔۔۔۔ رو۔
گریاں کناں (فعل حال جاری)۔۔۔۔، روتا ھوا۔
۵۔ زار ۔۔۔۔۔ نالہ و فریاد۔ آہ و فغاں۔ غم۔ دکھ ۔ درد۔
۶۔ مسلماناں ۔۔۔۔۔ مسلمان + اں۔۔۔۔۔زیادہ مسلمان۔
مسلمان۔۔۔۔۔ مسلم۔ تسلیم و رضا والا۔
+ اں ۔۔۔۔۔فارسی میں کسی اسم کو جمع بنانے کے لیے آخر میں اں کا اضافہ۔
۷۔ چِرا ۔۔۔۔۔ چ + را ۔۔۔۔۔کس لیے۔ کیوں
چ + ہ ۔۔ چہ۔۔۔۔۔ کیا۔ کیوں۔
+ را۔۔۔۔۔ کو۔ کی۔ کا۔ کے۔ کےلیے۔
۸۔ زارند ۔۔۔۔۔۔زار + ند ۔۔۔۔۔دکھ، درد اور تکلیفیں اٹھا رھے ھیں۔
زار۔۔۔۔۔ درد تکلیف۔ دکھ۔
+ ند یا اند۔۔۔۔۔ ھیں۔
زارند (فعل حال جاری)۔۔۔۔۔ دکھ، درد اور تکلیفیں اٹھا رھے ھیں۔
زاریدن (مصدر)۔۔۔۔۔ دکھ درد تکلیف اٹھانا۔
زارید (ماضی مطلق)۔۔۔۔۔ دکھ میں مبتلا ھوا۔
زارد (مضارع)۔۔۔۔۔ درد میں مبتلا رھتا ھے۔
زاریدہ (ماضی بعید) ۔۔۔۔۔ درد و تکلیف میں رہ چکا ھوا
زارندہ (فاعل)۔۔۔۔۔ دردوں دکھوں کا مارا۔
۹۔ و ۔۔۔۔۔ اور۔ دوسری بات
۱۰۔ خوارند ۔۔۔۔۔ خوار + ند۔۔۔۔۔وہ سرگرداں و پریشان ھیں۔
خوار۔۔۔۔۔ سرگرداں، پریشان۔
+ ند یا اند۔۔۔۔۔ (فعل حال صیغہ جمع غائب)۔۔۔۔۔ وہ ھیں۔
۱۱۔ ندا ۔۔۔۔۔ آواز۔ صدا۔ پکار۔
۱۲۔ آمد (فعل ماضی مطلق)۔۔۔۔۔ آئی
ندا آمد۔۔۔۔۔ پکار آئی۔ جواب میں آواز سنائی دی۔
۱۳۔ نمی ۔۔۔۔۔نہیں ھے
ن یا نہ۔ ۔۔۔۔نہیں ۔
می۔۔۔۔۔ھے۔
۱۴۔ دانی ۔۔۔۔۔ تو جانتا۔
نمی دانی۔۔۔۔۔ تو نہیں جانتا ھے؟۔
۱۵۔ کہ ۔۔۔۔۔ وہ حرف ھے جو " جو " کی جگہ بیان کے موقع پر بولا جائے۔ یہ کہ۔ جو کہ۔
١٦۔ ایں ۔۔۔۔ یہ۔ اس۔ یہی۔ یہ ھی۔ اسی۔ اس ھی۔
١٧۔ قوم ۔۔۔۔۔ ملت۔ جماعت۔ گروہ۔ امت۔
١٨۔ دلے ۔۔۔۔۔ دل+ے۔۔۔۔۔کوئی دل۔ دل ھونے کی نسبت۔ (دل تو ھے ان کے سینے میں مگر)
دل۔۔۔۔۔ضمیر۔ من۔ جی۔
+ے۔۔۔۔۔ اک۔ ایک۔ لیکن یہاں یہ یائ مجہول نسبتی ھے۔
١٩۔ دارند ۔۔۔۔۔ دار+ ند۔۔۔۔۔وہ رکھتے ھیں۔ (ان کے پاس موجود ھے۔)
دار۔۔۔۔۔رکھتے۔
+ند یا اند۔۔۔۔۔وہ ھیں۔
٢٠۔ و ۔۔۔۔۔ اور. (دوسری بات یہ کہ ان کے پاس)
٢١۔ محبوبِے ۔۔۔۔ محبوب+ے ۔۔۔۔۔کوئی محبوب۔ کوئی حبیب۔ کوئی دوست۔ کوئی پیارا۔
محبوب۔۔۔۔۔دوست۔ پیارا۔ (الله تعالیٰ کے حبیب پاکﷺ)
+ے ۔۔۔۔۔ یائے مجہول نسبتی۔
٢٢۔ ندارند ۔۔۔۔ ن + دار + ند ۔۔
ن + ہ ۔۔۔۔۔ نہ۔ نہیں۔۔
دار + ند کے لیے اوپر دلے دارند کی فرھنگ ملاحظہ کیجیئے۔
(فرھنگ از سلامت علی چشتی صابری)

حوالہ:
کلام: حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ
کتاب: ارمغانِ حجاز (فارسی)
حضورِ رسالت
جز نمبر ۱۰
رباعی نمبر ۲۰
پیشکش: ملک محمد عارف بارا

22/08/2026

سالانہ مرکزی میلاد مصطفی کانفرنس و جلوس جامعہ مدینۃ النبی نوشہرہ وادی سون شیڈول

ان شاءاللہ سالانہ مرکزی میلاد مصطفی کانفرنس وجلوس جامعہ مدینۃ النبی نوشہرہ وادی سون زیر صدارت ۔مبلغ اسلام محمد جاوید اقب...
22/08/2026

ان شاءاللہ
سالانہ مرکزی میلاد مصطفی کانفرنس وجلوس
جامعہ مدینۃ النبی نوشہرہ وادی سون
زیر صدارت ۔مبلغ اسلام محمد جاوید اقبال کھارا
بارہ ربیع الاول

Address

Jamia Madina Tul Nabi
Naushehra
41100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Javed Iqbal Khara posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share