IAS Digital Studio

IAS Digital Studio � Daily Quran Verses | Islamic Reminders | Urdu, Sindhi & English Content

15/08/2026

🌙 روحانی پیغام | روحاني پيغام | Spiritual Message

روحانی خطاب، حضرت سائیں منظور احمد سائیں المعروف مسکین سائیں دامت برکاتہم العالیہ کی پُراثر اور ایمان افروز گفتگو، مقام مہران ٹاؤن، نوشہرو فیروز۔
یہ روحانی پیغام ہمیں محبتِ رسول ﷺ، اللہ تعالیٰ کی یاد، نیک اعمال، عاجزی، صبر اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے۔ دل کو روشن کرنے اور زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزارنے کے لیے اس خوبصورت بیان کو ضرور سنیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں۔

روحاني خطاب، حضرت سائين منظور احمد سائين المعروف مسڪين سائين دامت برڪاتهم العاليه جي اثرائتي ۽ ايمان افروز گفتگو، مهران ٽائون، نوشهرو فيروز ۾۔
هي روحاني پيغام اسان کي محبتِ رسول ﷺ، الله پاڪ جي ياد، نيڪ عملن، عاجزي، صبر ۽ انسانيت جي خدمت جو درس ڏئي ٿو. دل کي روشن ڪرڻ ۽ زندگي الله پاڪ جي رضا مطابق گذارڻ لاءِ هي خوبصورت بيان ضرور ٻڌو ۽ ٻين تائين به پهچايو.

A beautiful and spiritually uplifting speech by Sain Manzoor Ahmed Sain, Al-Maroof Miskeen Sain Damatul Barkatuhumul Aalia, presented at Mehran Town, Naushahro Feroze.
This inspiring message reminds us of the love of the Prophet Muhammad ﷺ, remembrance of Allah, righteous deeds, humility, patience, and serving humanity. Listen with an open heart, reflect upon the message, and share it with others so its beautiful reminder can reach more hearts.
If you find this message beneficial, Like, Follow and Subscribe for more spiritual content.

🤲 دعائے خیر

اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبتِ رسول ﷺ، نیک اعمال، اخلاص اور دین پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
الله پاڪ اسان سڀني کي محبتِ رسول ﷺ، نيڪ عمل ۽ دين تي استقامت عطا فرمائي. آمين۔






❤️ 💐ㅤ 🌺 📤
*_ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵗᵃᵗᵘˢ ˢʰᵃʳᵉ_*

15/08/2026

“Aaj Ka Durood Shareef Parho” ek pyara aur rehmat bhara paighaam hai jo humein rozana Darood o Salam parhne ki taraf tawajjoh dilata hai.
Darood Shareef parhna gunahon ki maafi, dil ka sukoon aur Nabi Kareem ﷺ ki qurbat ka zariya hai.
Is paighaam ko aagey pohanchane ke liye like, share, aur subscribe zaroor karein, aur rozana Darood Shareef parhne ki aadat banayein.
Allah hum sab ko kasrat se Darood Shareef parhne ki taufeeq ata farmaye. Aameen 🤲

صَلُّوۡا عَلَى الۡحَبِيۡب❤️اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِهٖ وَسَلِّمُ📿

پڑھو درود تو ملتا ثواب ہے،
بھیجو سلام تو آتا جواب ہے،
للہ تعالٰی،،،،، درود شریف پڑھنے کے بعد ایک لمحہ کے لئے آنکھیں بند کرکے تصور جماکر آقا کریم ﷺ جان جاناں ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں اتنا تو عرض کردینا کہ آقا کریم ﷺ جان جاناں ﷺ اس محفلِ درود شریف کے مقصد و مقصود کی حفاظت فرمائیں اور مقصود کو شفاء کاملہ عطاء فرمائیں،
آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ 🤲🏻🤲🏻🙏🏻🤲🏻🤲🏻








❤️ 💐ㅤ 🌺 📤
*_ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵗᵃᵗᵘˢ ˢʰᵃʳᵉ_*

14/08/2026

Sura Lail Aayat no 14
فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰى(14)
اب میں نے تمہیں اس آگ سے خبردار کیا ہے جو بھڑک رہی ہے۔
مون هاڻي کان توهان کي باهه کان ڊيڄاريو آهي جيڪا ٻرندڙ آهي.
I henceforth warned you of the Fire that is ablaze.

{فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰى: تو میں تمہیں اس آگ سے ڈرا چکا جو بھڑک رہی ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے اہلِ مکہ ! میں تمہیں اِس قرآن کے ذریعے اُس آگ سے ڈراتا ہوں جو بھڑک رہی ہے، اس میں بڑا بدبخت ہی ہمیشہ کے لئے لازمی طور پر داخل ہوگا اور بڑا بد بخت وہ ہے جس نے میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کوجھٹلایا اور ان پر ایمان لانے سے اس نے منہ پھیرا۔ (روح البیان، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۴-۱۶، ۱۰ / ۴۵۰، مدارک، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۴-۱۶، ص۱۳۵۵، جلالین، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۴-۱۶، ص۵۰۱، ملتقطاً)

{تنهنڪري مون توهان کي ٻرندڙ باهه کان ڊيڄاريو آهي.} هن آيت ۽ ان کان پوءِ ايندڙ ٻن آيتن جو خلاصو هي آهي ته اي مڪي جا ماڻهو! مان توهان کي هن قرآن جي ذريعي ٻرندڙ باهه کان ڊيڄاريان ٿو، جنهن ۾ صرف سڀ کان وڌيڪ بدبخت ماڻهو داخل ٿيندو. ۽ سڀ کان وڌيڪ بدبخت اهو آهي جنهن منهنجي پياري نبي صلي الله عليه وسلم جو انڪار ڪيو ۽ ان تي ايمان آڻڻ کان منهن موڙيو. (روح البيان، الليل، آيت: 14-16، 10/450، مڪارد، الليل، آيت: 14-16، ص 1355، جلالين، الليل، آيت: 14-16، ص 501، حوالو ڏنو ويو)

{So I have warned you of a blazing Fire.} The summary of this verse and the two verses that follow it is that O people of Mecca! I warn you through this Quran of a blazing Fire, into which only the most unfortunate will enter forever. And the most unfortunate is he who denied my beloved Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and turned away from believing in him. (Ruh al-Bayan, Al-Layl, under the verse: 14-16, 10/450, Ma’karid, Al-Layl, under the verse: 14-16, p. 1355, Jalalayn, Al-Layl, under the verse: 14-16, p. 501, quoted)






❤️ 💐ㅤ 🌺 📤
*_ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵗᵃᵗᵘˢ ˢʰᵃʳᵉ_*

🇵🇰 Happy Independence Day — 14 August! 🇵🇰🇵🇰 اردو14 اگست ہماری آزادی، قربانیوں، اتحاد اور عزم کی یاد کا دن ہے۔آئیے اس یوم...
14/08/2026

🇵🇰 Happy Independence Day — 14 August! 🇵🇰

🇵🇰 اردو

14 اگست ہماری آزادی، قربانیوں، اتحاد اور عزم کی یاد کا دن ہے۔
آئیے اس یومِ آزادی پر اپنے وطن پاکستان سے سچی محبت کا عہد کریں، ملک کی ترقی، امن، خوشحالی اور سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام اور ترقی عطا فرمائے، اسے ہر آفت اور ہر دشمن کے شر سے محفوظ رکھے، اور ہمارے دلوں میں وطن سے محبت، اتحاد اور بھائی چارہ قائم رکھے۔

پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے۔ 🇵🇰
دل بھی پاکستان کے لیے، روح بھی پاکستان کے لیے۔ ❤️💚
Happy Independence Day! Stay Blessed. 🤲

🇵🇰 سنڌي

14 آگسٽ اسان جي آزادي، قربانين، اتحاد ۽ عزم کي ياد ڪرڻ جو ڏينهن آهي.
اچو ته هن آزاديءَ جي ڏينهن تي پنهنجي پياري وطن پاڪستان سان سچي محبت جو عهد ڪريون ۽ ملڪ جي ترقي، امن، خوشحالي ۽ سلامتي لاءِ پنهنجو ڪردار ادا ڪريون.

الله پاڪ اسان جي پياري وطن پاڪستان کي هميشه امن، استحڪام ۽ ترقي عطا فرمائي، هر آفت ۽ دشمن جي شر کان محفوظ رکي، ۽ اسان جي دلين ۾ وطن سان محبت، اتحاد ۽ ڀائيچارو قائم رکي.

پاڪستان هميشه قائم ۽ دائم رهي. 🇵🇰
دل به پاڪستان لاءِ، روح به پاڪستان لاءِ. ❤️💚
Happy Independence Day! Stay Blessed. 🤲

14 August — Happy Independence Day, Pakistan! 🇵🇰

Today, we celebrate the freedom, sacrifices, courage, and dreams that shaped our beloved homeland. Let us honor Pakistan by becoming responsible citizens, spreading peace, unity, kindness, and hope, and working together for a brighter future.

May Allah bless Pakistan with lasting peace, prosperity, stability, and progress. May He protect our homeland and fill our hearts with love, unity, and brotherhood.

Pakistan Zindabad! 🇵🇰
A country in our hearts, a homeland in our souls. ❤️💚
Stay Blessed. 🤲

🇵🇰






❤️ 💐ㅤ 🌺 📤
*_ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵗᵃᵗᵘˢ ˢʰᵃʳᵉ_*

13/08/2026

Sura Lail Aayat no 13
وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى(13)
اور بے شک ہم ہی آخرت اور دنیا دونوں کے مالک ہیں۔
۽ بيشڪ، اسان ئي آخرت ۽ دنيا ٻنهي جا مالڪ آهيون.
And indeed, only We are the Owner of both the Hereafter and this world.

{وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى: اور بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ بے شک تم یہ بات جانتے ہو کہ آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں اور پتھروں اور دیگر چیزوں سے بنے ہوئے جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو وہ نہ آخرت کے مالک ہیں نہ دنیا کے مالک ہیں تو تم آخرت اور دنیا کے مالک کی عبادت چھوڑ کر اُن بتوں کی عبادت کیسے کرنے لگ گئے جو آخرت اور دنیامیں سے کسی چیز کے مالک نہیں حالانکہ تمہیں یہ بات معلوم بھی ہے۔( تاویلات اہل السنہ، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۳، ۵ / ۴۷۱)

دوسری تفسیر یہ ہے کہ بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں اور ہم ان میں سے جو چیز جسے چاہیں عطا کریں لہٰذا دنیا اور آخرت کی سعادتیں ہم سے ہی طلب کی جائیں ۔ (تفسیرکبیر، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۳، ۱۱ / ۱۸۶)

دنیا اور آخرت دونوں کی بہتری کے لئے دعا مانگنی چاہئے:

یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ سے صرف دنیا کی بہتری کے لئے یا صرف آخرت کی بہتری کے لئے دعا نہیں مانگنی چاہئے بلکہ دنیا اور آخرت دونوں کی بہتری کے لئے دعا مانگنی چاہئے،جیساکہ ایک مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ(۲۰۰) وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ(۲۰۱) اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْاؕ-وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ‘‘(بقرہ:۲۰۰۔۲۰۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دیدے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں ۔اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں (بھی) بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ان لوگوں کے لئے ان کے کمائے ہوئے اعمال سے حصہ ہے اور اللّٰہ جلد حساب کرنے والا ہے۔

اور حضرتِ انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے’’رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ‘‘ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں (بھی) بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔( بخاری، کتاب الدّعوات، باب قول النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ربّنا اتنا فی الدّنیاحسنۃ، ۴ / ۲۱۴، الحدیث: ۶۳۸۹)

اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے دین و دنیا کی بھلائیاں طلب کرنا جائز ہے:

نیز یہ بھی یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے دین اور دنیا کی بھلائیاں طلب کرنا بھی جائز ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کے یہ نیک بندے اللّٰہ تعالیٰ کی عطا سے دین اور دنیا کی بھلائیاں دے سکتے ہیں اور یہاں ہم صرف صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی سیرت میں موجود اس کی بے شمار مثالوں میں سے چند مثالیں اِختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور سے دین یا دنیا کی بھلائیاں طلب کرنا شرک ہر گز نہیں بلکہ یہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا طریقہ رہا ہے۔چنانچہ

جب حضرت ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے جنت میں ان کی رفاقت مانگی تو رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے انہیں جنت میں اپنی رفاقت عطا کردی۔( مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل السجود والحثّ علیہ، ص۲۵۲، الحدیث: ۲۲۶(۴۸۹))

حضرت عکاشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللّٰہ! آپ دعا فرما دیں کہ اللّٰہ تعالیٰ مجھے بے حساب جنت میں جانے والوں میں شامل کر دے۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرما دیا کہ اے عکاشہ!تو انہی میں سے ہے۔( مسلم،کتاب الایمان،باب الدلیل علی دخول طوائف من المسلمین الجنۃ...الخ، ص۱۳۷، الحدیث: ۳۷۴(۲۲۰))

اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا آخرت کی بھلائی طلب کرنا تو اپنی جگہ،جب کھجور کے ایک تنے سے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے فرمایا کہ اگر تو چاہے تو میں تجھے اس باغ میں لوٹا دوں جہاں تُو تھا اور اگر تُو چاہے تو میں تجھے جنت میں بو دوں تاکہ جنت میں تیرے پھل اللّٰہ تعالیٰ کے اولیاء کھائیں اور اس نے عرض کی کہ :مجھے جنت میں لگا دیں تو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے فرمایا ’’میں نے ایساکر دیا (یعنی تجھے جنت میں لگا دیا)۔( سنن دارمی، المقدمۃ، باب ما اکرم اللّٰہ النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بحنین المنبر، ۱ / ۲۹، الحدیث: ۳۲)

غزوۂ خیبر کے موقع پر جب حضرت سلمہ بن اکوع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی پنڈلی پر چوٹ لگ گئی اور وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو گئے تو رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ان کی پنڈلی کو درست کر دیا۔( بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر، ۳ / ۸۳، الحدیث: ۴۲۰۶)

اور مدینہ منورہ میں رہنے والوں نے ایک بارحضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے قحط کے بارے میں عرض کی تو انہوں نے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے روضۂ انور کی چھت میں روشَندان بنانے کا حکم دیا اور جب روشندان بنایا گیا تو ا س قدر بارش برسی کہ گھاس اُگ آئی اور اونٹ موٹے تازے ہو گئے۔( سنن دارمی، المقدمۃ، باب ما اکرم اللّٰہ تعالی نبیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعد موتہ، ۱ / ۵۶، الحدیث: ۹۲)

{۽ بيشڪ، اسان لاءِ آخرت ۽ پهرين دنيا آهي:} هن آيت جي هڪ تشريح اها آهي ته توهان ڄاڻو ٿا ته اسين آخرت ۽ پهرين دنيا ٻنهي جا مالڪ آهيون، ۽ توهان پٿر ۽ ٻين شين مان ٺهيل بتن جي پوڄا ڪريو ٿا، اهي نه ته آخرت جا مالڪ آهن ۽ نه ئي پهرين دنيا جا. پوءِ توهان ڪيئن آخرت ۽ پهرين دنيا جي مالڪ جي پوڄا کي ڇڏي ڏنو ۽ انهن بتن جي پوڄا ڪرڻ شروع ڪئي جيڪي آخرت يا پهرين دنيا ۾ ڪجهه به نٿا رکن، جيتوڻيڪ توهان اهو ڄاڻو ٿا. (تَوِيلَةُ أَهْلُ السُنَّة، الليل، تحَتِ الآيَت: 13، 5/471)

(تفسير ڪبير، الليل، تحَتِ الآيَت: 13، 11/186)

دنيا ۽ آخرت ٻنهي جي ڀلائي لاءِ دعا ڪرڻ گهرجي:

اهو ياد رکڻ گهرجي ته الله تعاليٰ کان صرف دنيا جي ڀلائي يا صرف آخرت جي ڀلائي لاءِ دعا نه ڪرڻ گهرجي، پر دنيا ۽ آخرت ٻنهي جي ڀلائي لاءِ دعا ڪرڻ گهرجي، جيئن الله تعاليٰ هڪ هنڌ فرمائي ٿو: "۽ ماڻهن مان ڪو اهڙو آهي جيڪو چوي ٿو ته اي اسان جا پالڻهار، اسان توکي هن دنيا ۾ آندو آهي، ۽ ان جو آخرت تي ڪو حق ناهي." (200) ۽ انهن مان ڪو اهڙو آهي جيڪو چوي ٿو ته اي اسان جا پالڻهار، اسان توکي هن دنيا ۾ آندو آهي، ۽ ان جو آخرت تي ڪو حق ناهي." هي دنيا سٺي آهي، ۽ آخرت سٺي آهي، ۽ اسان کي باهه جي عذاب کان بچايو ويو آهي. (201) انهن لاءِ انهن جي ڪمائي مان حصو آهي. ۽ الله حساب ۾ تيز آهي. (البقره: 200-202)

ڪنز العرفان جو ترجمو: ۽ ڪو ماڻهو آهي جيڪو چوي ٿو: اي اسان جا رب! اسان هن کي هن دنيا ۾ ڏٺو آهي، ۽ آخرت ۾ ڪو به حصو ناهي. ۽ ڪو ماڻهو آهي جيڪو چوي ٿو: اي اسان جا رب! اسان کي هن دنيا ۾ نيڪي ۽ آخرت ۾ نيڪي ڏي ۽ اسان کي دوزخ جي عذاب کان بچاءِ. انهن لاءِ انهن جي ڪمائي مان حصو آهي، ۽ الله حساب ۾ تيز آهي.

۽ حضرت انس بن مالڪ رضي الله عنه فرمايو ته رسول الله صلي الله عليه وسلم اڪثر هي دعا گهرندا هئا: "اي اسان جا رب! اسان کي هن دنيا ۾ نيڪي ۽ آخرت ۾ نيڪي ڏي ۽ اسان کي باهه جي عذاب کان بچاءِ." اسان کي دنيا ۾ به ڀلائي عطا ڪر ۽ آخرت ۾ به ڀلائي عطا ڪر ۽ اسان کي دوزخ جي عذاب کان بچاءِ. (بخاري، ڪتاب الدعوات، نبي ڪريم صلي الله عليه وسلم جي قولن تي باب "ربنا انت في الدنيا حسنة"، 4/214، حديث: 6389)

الله جي نيڪ ٻانهن کان دين جي ڀلائي ۽ دنيا جي ڀلائي جي دعا گهرڻ جائز آهي:

اسان سٺيون شيون ڏئي سگهون ٿا ۽ هتي اسان معزز صحابه ڪرام رضي الله عنهم جي سوانح عمري ۾ ان جي بيشمار مثالن مان ڪجهه مثالن جو مختصر ذڪر ڪنداسين ته جيئن اهو واضح ٿئي ته الله کان سواءِ ڪنهن ٻئي کان ديني يا دنياوي ڀلائي جي طلب ڪرڻ بلڪل شرڪ ناهي، بلڪه اهو معزز صحابه ڪرام رضي الله عنهم جو طريقو هو. تنهن ڪري،
جڏهن حضرت ربيعہ نبي ڪريم صلي الله عليه وسلم کان جنت ۾ پنهنجي صحبت جي درخواست ڪئي، تڏهن رسول الله صلي الله عليه وسلم جن کين جنت ۾ پنهنجي صحبت عطا ڪئي.

حضرت عڪاشه رضي الله عنها پيغمبر جي حضور ۾ چيو: اي الله جا رسول! دعا ڪريو ته الله تعاليٰ مون کي انهن ماڻهن ۾ شامل ڪري جيڪي بغير حساب جي جنت ۾ داخل ٿيندا. پيغمبر صلي الله عليه وسلم جي تاج پوشي فرمائي، "اي عڪاشه! تون انهن مان هڪ آهين." (مسلم، ڪتاب الايمان، باب الدليل علي ذوالطائف من المسلمين الجنة...اللخ، ص 137، حديث: 374 (220))

۽ اصحاب سڳورن (رضي الله عنهم) آخرت جي ڀلائي کي پنهنجي مناسب جاءِ تي ڳوليو، جڏهن حضور صلي الله عليه وسلم هڪ کجيءَ جي وڻ کي چيو، "جيڪڏهن تون چاهين ته مان توکي ان باغ ۾ واپس آڻيندس جتي تون هئين، ۽ جيڪڏهن تون چاهين ته مان توکي جنت ۾ پوکيندس ته جيئن الله تعاليٰ جا دوست جنت ۾ تنهنجا ميوا کائي سگهن." پاڻ فرمايائون: مون کي جنت ۾ پوکيو. نبي صلي الله عليه وسلم فرمايو: مون ائين ڪيو آهي (يعني توکي جنت ۾ پوکيو آهي). (سنن دارمي، المکتمه، باب ما اڪرم الله النبي صلي الله عليه وسلم) ۾ بحين المنبر، 1/29، حديث: 32)

۽ جڏهن هو رسول الله ﷺ جي بارگاهه ۾ پهتو، ته رسول الله ﷺ سندس پنڊي درست ڪئي. (بخاري، ڪتاب المغازي، باب غزوه خيبر، 3/83، حديث: 4206)

۽ مديني جي ماڻهن هڪ ڀيرو حضرت عائشه رضي الله عنها کان قحط جي شڪايت ڪئي، تنهن ڪري هن حڪم ڏنو ته حضور ﷺ جي مزار جي ڇت تي روشني لڳائي وڃي. ۽ جڏهن روشني ڪئي وئي ته ايتري مينهن وسيو جو گاهه وڌي ويو ۽ اُٺ ٿلها ۽ تازا ٿي ويا. (سنن الدارمي، المقدمه، باب رسول الله ﷺ جي وفات کان پوءِ، 1/56، حديث: 92)

{And indeed, to Us belongs the Hereafter and the First World:} One interpretation of this verse is that you know that We are the Owner of both the Hereafter and the First World, and the idols you worship made of stones and other things are neither the Owner of the Hereafter nor the First World. So how did you abandon the worship of the Owner of the Hereafter and the First World and start worshipping idols that do not own anything in the Hereafter or the First World, even though you know this. (Tawilat Ahl al-Sunnah, Al-Layl, Tahat al-Ayat: 13, 5/471)

(Tafsir Kabir, Al-Layl, Tahat-e-Ayat: 13, 11/186)

One should pray for the good of both this world and the Hereafter:

It should be remembered that one should not pray to Allah Almighty only for the good of this world or only for the good of the Hereafter, but one should pray for the good of both this world and the Hereafter, as Allah Almighty says at one place: “And of mankind is he who says, ‘Our Lord, we have brought you to this world, and he has no right to the Hereafter.’” (200) And of them is he who says, ‘Our Lord, we have brought you to this world, and he has no right to the Hereafter.’” This world is good, and in the Hereafter is good, and We have been spared the punishment of the Fire. (201) For them is a share of what they have earned. And Allah is swift in reckoning. (Al-Baqarah: 200-202)

Translation of Kanz al-Irfan: And there is a man who says: Our Lord! We have seen him in this world, and there is no share in the Hereafter. And there is a man who says: Our Lord! Give us good in this world and good in the Hereafter and save us from the punishment of Hell. For them is a portion of what they earned, and Allah is swift in reckoning.

And Hazrat Anas bin Malik (may Allah be pleased with him) said that the Crowned Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) used to often say this supplication: “Our Lord, give us in this world good and in the Hereafter good and save us from the punishment of the Fire.” Grant us good in this world and grant us good in the Hereafter and save us from the punishment of Hell. (Bukhari, Kitab al-Dawaat, Chapter on the sayings of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) “Rabbana anta fi al-duniya hasanah”, 4/214, Hadeeth: 6389)

It is permissible to ask Allaah’s righteous servants for the good of religion and the good of this world:

We can give good things and here we will briefly mention a few examples from the countless examples of this in the biography of the honorable companions (may Allah be pleased with them) so that it becomes clear that seeking religious or worldly good things from anyone other than Allah is not shirk at all, rather it was the way of the honorable companions (may Allah be pleased with them). Therefore,
When Hazrat Rabi'ah asked the Holy Prophet, may God bless him and grant him peace, for his companionship in Paradise, then the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, Allah and peace be upon him granted them his companionship in Paradise.

Hazrat Akasha, may Allah be pleased with him, said in the Prophet's presence: O Messenger of Allah! Please pray that Allah Almighty will include me among those who will enter Paradise without reckoning. The Crown of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, “O Ukasha! You are one of them.” (Muslim, Kitab al-Iman, Bab al-Dalil ‘Ali Dhu’l-Ta’if min al-Muslimeen al-Jannah…al-Lakh, p. 137, Hadith: 374 (220))

And the noble Companions (may Allah be pleased with them) sought the good of the Hereafter in their proper place, when the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said to a date palm tree, “If you wish, I will return you to the garden where you were, and if you wish, I will plant you in Paradise so that the friends of Allah Almighty may eat your fruits in Paradise. He said: Plant me in Paradise. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: I have done so (i.e. planted you in Paradise). (Sunan Darimi, Al-Muktamah, Chapter Ma Akram Allahu An-Nabi (peace and blessings of Allah be upon him) in Bihain Al-Minbar, 1/29, Hadith: 32)

And when he came to the Prophet's court, the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) fixed his shin. (Bukhari, Kitab al-Maghazi, Chapter Ghazwat Khaybar, 3/83, Hadith: 4206)

And the people of Medina once complained to Hazrat Aisha (may Allah be pleased with her) about the famine, so she ordered that a light be made on the roof of the Holy Prophet's (peace and blessings of Allah be upon him) mausoleum. And when the light was made, it rained so much that The grass grew and the camels became fat and fresh. (Sunan al-Darimi, al-Muqaddama, Chapter on the Noble Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) after his death, 1/56, Hadith: 92)






❤️ 💐ㅤ 🌺 📤
*_ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵗᵃᵗᵘˢ ˢʰᵃʳᵉ_*

12/08/2026

Sura Lail Aayat no 12
اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى(12)
بے شک رہنمائی ہماری ذمہ داری ہے۔
بيشڪ، هدايت اسان جي ذميواري آهي.
Indeed, guiding is Our responsibility.

{اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى: بیشک ہدایت فرمانا ہمارے ہی ذمہ ہے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ حق اور باطل کی راہوں کو واضح کردینا ، حق پر دلائل قائم کرنا اور احکام بیان فرمانا ہمارے ذمۂ کرم پرہے۔( خازن، واللّیل، تحت الآیۃ: ۱۲، ۴ / ۳۸۴، مدارک، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۱۳۵۴، ملتقطاً)

دوسرا معنی یہ ہے کہ جو ہم سے ہدایت طلب کرے اور ہدایت طلب کرنے میں کوشش کرے تو اسے ہدایت دینا ہمارے ذمۂ کرم پر ہے۔جیسا کہ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا

’’وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا‘‘(عنکبوت:۶۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے۔( تاویلات اہل السنہ، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۲، ۵ / ۴۷۱)

{بيشڪ، هدايت اسان تي آهي: بيشڪ، هدايت اسان جي آهي.} هن آيت جو هڪ مطلب اهو آهي ته حق ۽ باطل جي رستن کي واضح ڪرڻ، حق لاءِ دليل قائم ڪرڻ ۽ حڪمن کي بيان ڪرڻ اسان جي ذميواري آهي. (خازن، الليل، تحات آيت: 12، 4/384، مقرد، الليل، تحات آيت: 12، صفحو 1354، گڏ ڪيل)

ٻيو مطلب اهو آهي ته جيڪو به اسان کان هدايت گهري ٿو ۽ هدايت حاصل ڪرڻ جي ڪوشش ڪري ٿو، اهو اسان جي ذميواري آهي ته ان کي هدايت ڏيون. جيئن الله تعاليٰ ٻئي هنڌ فرمايو آهي

"۽ جيڪي اسان لاءِ ڪوشش ڪن ٿا، اسان انهن کي هدايت ڪنداسين." سُبُلنا (عنڪبوت: 69)

ڪنزُالعرفان جو ترجمو: ۽ جيڪي اسان جي رستي ۾ ڪوشش ڪن ٿا، اسان ضرور انهن کي پنهنجي رستي ڏانهن هدايت ڪنداسين. (توضيح اھل السنة، الليل، طهارت آيت: 12، 5/471)

{Indeed, upon Us is the guidance: Indeed, guidance is Ours.} One meaning of this verse is that it is Our responsibility to clarify the paths of truth and falsehood, to establish evidence for the truth, and to explain the rulings. (Khazin, Al-Layl, Tahat-e-Ayat: 12, 4/384, Maqarid, Al-Layl, Tahat-e-Ayat: 12, p. 1354, collected)

The other meaning is that whoever asks Us for guidance and strives to seek guidance, it is Our responsibility to guide him. As Allah the Almighty has said in another place

“And those who strive for Us, We will guide them.” Subulana (Ankabut: 69)

Translation of Kanzu'l-Irfan: And those who strive in Our path, We will surely guide them to Our paths. (Tawilat Ahl al-Sunnah, Al-Layl, Tahat-e-Ayat: 12, 5/471)






❤️ 💐ㅤ 🌺 📤
*_ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵗᵃᵗᵘˢ ˢʰᵃʳᵉ_*

سومر 17 آگسٽ کان ضلعي ڪراچي ايسٽ، حيدرآباد، گھوٽڪي، عمرڪوٽ ، جيڪب آباد ۽ نوشھرو فيروز ۾ تعليم کاتي جي ملازمن لاءِ فيس با...
12/08/2026

سومر 17 آگسٽ کان ضلعي ڪراچي ايسٽ، حيدرآباد، گھوٽڪي، عمرڪوٽ ، جيڪب آباد ۽ نوشھرو فيروز ۾ تعليم کاتي جي ملازمن لاءِ فيس بائيو ميٽرڪ حاضري لازمي ڪئي وئي آهي. 📢
ٽيچنگ، نان ٽيچنگ ۽ چوڪيدارن لاءِ حاضري ۽ ڊيوٽي جا مقرر وقت لاڳو ٿيندا. سڀئي ملازم مقرر وقت تي بائيو ميٽرڪ حاضري ضرور لڳائين. ⏰✅





❤️ 💐ㅤ 🌺 📤
*_ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵗᵃᵗᵘˢ ˢʰᵃʳᵉ_*

Address

Naushahro Feroze
Naushahro Firoz
67370

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when IAS Digital Studio posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category