12/08/2025
Hassan Scholars Public School, Dhabliwala Campus
Hassan Scholars Public school is working from 1996. working to meet requirements of 21st century sk
12/08/2025
15/11/2024
14/11/2024
09/11/2024
03/11/2024
Alhamdulillah
Our study tour to the Army Museum was insightful, highlighting the rich history and sacrifices of our armed forces. It deepened our appreciation for their service and made for a memorable educational experience.
02-11-2024
27/09/2024
*📍زیادتی کیس____احتیاطی تدابیر!؟؟*
1.... اپنے بچے کو ہمیشہ گھر کے ایسے ایک سے دو نمبر یاد کروا کر رکھیں۔۔۔جو زیادہ تر کھلے رہتے ہیں...!
2.... اپنے بچوں کو اتنا بچہ نہ سمجھیں کہ انہیں محرم رشتوں کی پہچان نہ کروا سکیں، انہیں بتائیں کہ آپ نے کن رشتوں کے پاس جانا ہے کن سے دور سے ہی سلام کرنا ہے...!
3.... بچوں کو سکھائیں کہ جسم کے کس حصے پہ ہاتھ لگانا گندی بات ہے... اگر کوئی ایسی جگہ ٹچ کرے تو فوراً ماں یا باپ کو بتائیں...!
4.... اپنے بچے سے اتنی دوستی ضرور رکھیں کہ اگر کوئی اسے زبردستی اپنے پاس بلاتا ہے یا ساتھ دینے پہ مجبور کرتا ہے تو بچہ یا بچی بنا ڈرے اپنے والدین کو بتا سکے...!
5.... اپنے بچوں کو سکھائیں کہ اگر کوئی ایسا انسان جسے آپ نہیں جانتے آپ کو چیز کا یا گھمانے پھرانے کا لالچ دے کر آپ کو ساتھ لے جانا چاہے تو آپ بیچ روڈ پہ زور سے چلائیں اور سب کو بتائیں کہ یہ انکل مجھے اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں...!
6.... اپنے بچوں کو بتائیں کہ اسکول سے یا ٹیوشن، مدرسے کی چھٹی کے وقت آپ کو کوئی اجنبی لینے آئے اور کہے کہ ہمیں آپ کے ابو یا امی نے بھیجا ہے تو اس کے ساتھ بلکل نہ جائیں... بلکہ رک کر اس بندے کا انتظار کریں جو روز آپ کو لینے آتا ہے...!
7.... اپنے بچوں کو بتائیں کہ امتحان میں فیل ہونا زیادہ بہتر ہے اس بات سے کے ٹیچر آپ کے جسم کے غلط حصوں پہ ہاتھ لگائے.. آپ نے بنا ڈرے ماں باپ کو بتانا ہے ٹیچر کی مار سے یا فیل ہونے سے نہیں ڈرنا...!
8.... بچوں کو اور لڑکیوں کو سکھائیں کہ اس روڈ سے بلکل نہیں گزرنا جو سنسان ہو...!
9.... گھر سے باہر کسی سے کوئی چیز لے کر نہیں کھانی... اور بچوں کو جھولے چیز والے اور آئسکریم والوں سے ڈرا کر ہی رکھا جائے تو بہتر ہے...!
10.... کسی دوست یا کزن کے ساتھ اکیلے کمرے میں بلکل بند نہیں ہونا...!
11.... اگر آپ کا بچہ کسی رشتے دار کے پاس جانے سے خوف محسوس کرتا ہے تو اسے بلکل مجبور نہ کریں... بچہ سہی غلط سے نا آشنا ہوتا ہے لیکن اللہ نے بچوں میں ایسی چھٹی حس رکھی ہے جو بچے کو احساس دلاتی ہے کہ جو ہورہا ہے وہ کچھ اچھا نہیں ہے۔
12.... بڑے ہوتے بچے تجسس کے مارے ہر صحیح غلط کو جان لینے کی کوشش میں غلط دوستوں میں پھنس جاتے ہیں.. چنانچہ اپنے بچے کے دوستوں اور کزنز پر نظر رکھیں کہ وہ کیا کھیل رہے ہیں اور کس ٹائپ کے ہیں...!
13.... بہت زیادہ سختی بچے کو ماں باپ سے دور کر دیتی ہے... سمجھاتے وقت آپ کا انداز بہت دوستانہ ہونا چاہیئے... اپنے بیٹوں کو شروع سے عورت کی عزت کی اہمیت سے واقف کرائیں تاکہ وہ کل کو جنسی درندے نہ بنیں...!
14.... اپنے بچے کو اکیلے بلکل کسی کے گھر رات گزارنے کی اجازت نہ دیں... اب وہ وقت نہیں رہا کہ بچے بچیاں اپنی سہیلیوں یا کزنز کے گھر بنا ماں باپ کے رہ سکیں...!
15.... میں یہ نہیں کہتا کہ آپ کسی پہ بھی اعتبار نہ کریں... مگر شیطان جب وار کرتا ہے تو وہ محرم رشتوں کا بھی لحاظ نہیں کرتا... چاچو ماموں خالو پھوپھا ان سب کے بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز بھی سننے کو ملتے ہی رہتے ہیں.. چنانچہ ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے بچوں کی آبرو کے لئے احتیاط بہت ضروری ہے...!
"پتا نہیں حکومت کچھ کرتی ہے یا نہیں... مگر جب تک خبر منظر عام پہ آتی ہے تب تک ظلم ہوچکا ہوتا ہے...جتنی تیزی سے آج کل جنسی زیادتی کے کیس بڑھ رہے ہیں ان باتوں کو بچوں کی تربیت کا حصہ بنا لیں... اپنے دو سے تین سال کے بچے کو بھی سکھانا شروع کر دیں کہ کون سی جگہ ہے جہاں نہ ہاتھ لگانا ہے نہ لگانے دینا ہے... ہر کسی کے پاس نہیں جانا... آپ دیکھیں گے بچہ تیزی سے سیکھ رہا ہے... یہ تربیت پھپھو خالہ ماں باپ نانی دادی بہن بھائی بھی کرسکتے ہیں... اور یہ ہمارے بچوں کی حفاظت کے لئے بےحد ضروری ہے... اگر آپ یہ سوچیں گے کہ یہ بچہ ہے ابھی نہیں سیکھے گا تو آپ غلط ہیں... جب بڑے ہونے کے بعد وہ خود سیکھتے ہیں تب تک وہ نجانے کس کس کے غلط لمس کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں...!
نیکی سمجھ کر دوسروں تک پہنچائیں شاید کہ کسی کا بچہ محفوظ ہو جائے... اگر حکومت جنسی زیادتی کے خلاف کچھ نہیں کر رہی تو اپنے بچوں کے حفاظتی اقدام ہم خود کریں گے اور ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے...!
شکریہ...!!!
*نوٹ: اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے یا کسی کے بچوں کو بچا لے*“
10 اصول جنہوں نے میری زندگی بدلنے میں اہم کردار ادا کیا
میں نہیں جانتا آپ خود کو کہاں پاتے ہیں، لیکن میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ آپ اگر اس تحفے کو جسے زندگی کہتے ہیں، بھرپور طریقے سے جینا چاہتے ہیں تو یہ 100 فیصد آپ کے ہاتھ میں ہے۔
آپ یہ 10 اصول سمجھ لیں اور ان کو پریکٹس کرنا شروع کردیں، آپ کو شدید قسم کا فائدہ ہونے کا امکان ہے۔
1۔ صبح سویرے فجر سے پہلے اٹھنا، نماز، تلاوت، ذکر کا معمول بنانا۔
2۔ زندگی میں اپنا ایک واضح مقصد لازمی بنائیں۔ غیر واضح لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ یہ سوچیں اور بتائیں کہ آپ 8 ارب لوگوں کی اس دنیا میں کیا ویلیو ایڈ کررہے ہیں؟ آپ خود کو کیسے مفید تر بنا سکتے ہیں؟ آپ لوگوں کے کون سے مسائل کا حل فراہم کرسکتے ہیں؟ آپ مسئلہ نہ بنیں، مسائل کا حل بنیں۔
3۔ آن لائن اور آف لائن اچھے اور ذہین لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔ آپ جس طرح کے لوگوں کے ساتھ رہیں گے، فالو کریں گے، پڑھیں گے، سنیں گے، ویسا ہی مزاج اور انداز اختیار کریں گے۔ سمجھداری کے ساتھ لوگوں کا انتخاب کریں۔
4۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا استعمال ضرورت کے تحت کریں اور مثبت کریں۔ ہر طرح کے غیر کارآمد پروفائل، پیج، گروپ، وغیرہ کو ان فالو کردیں۔ یہ بہت بڑی distraction ہیں۔
5۔ لکھنے کی عادت اپنائیں۔ اپنے خیالات، آئیڈیاز، کرنے کے کام، روزانہ لکھیں اور ایک ہی جگہ لکھیں۔ اپنے ذہن کو ہلکا رکھیں اور کام کی باتوں میں لگائیں۔
6۔ کسی غیرجانبدار لیکن سمجھدار اور امانتدار شخص سے اہم معاملات میں مشورہ کریں۔ یاد رکھیں مشورہ ہمیشہ اہل رائے انسان سے کرنا چاہیے۔ چلتے پھرتے، ادھر ادھر، سوشل میڈیا پر اہم معاملات میں مشورے نہ مانگیں۔ مشورہ دینے والا آپ کو جتنا اچھا جانتا ہوگا، اتنا بہتر مشورہ دے سکے گا۔
7۔ دنیا کا سب سے اہم کام خود کی اصلاح ہے، اس لیے خود میں بہتری لانے کی کوشش جاری رکھیں۔ ہمیشہ سیکھتے رہنے کی کوشش کریں۔ سب سے زیادہ انویسٹمنٹ اپنے ذہن اور سوچ پر کریں۔
8۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ حالات کبھی بھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ حالات جتنے بھی مشکل نظر آرہے ہوں، نا امیدی اور مایوسی ایک مسلمان کے شایان شان نہیں ہے۔ ہر قسم کی منفی سوچ والے لوگوں سے دور رہیں۔
9۔ اپنے حصے کا کام پورا کریں۔ آدھے پونے اور بے دلی سے کام کرنے والوں کے ساتھ اللہ تعالٰی کی مدد بھی نہیں ہوتی اور انہیں دنیا بھی کسی کھاتے میں نہیں رکھتی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم ہر چیز میں بہتری چاہتے ہیں لیکن خود کو بہتر کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ ہمارے ہاں اکثریت بس مارے باندھے کا کام کرنا چاہتی ہے لیکن کامیابی ہمیں بہترین چاہیے ہے۔ سی اور ڈی گریڈ والا کام کرکے، اے گریڈ والا نتیجہ کیسے مل سکتا ہے؟ نہیں آتا تو سیکھیں۔
10- آخری بات یہ کہ اللہ تعالٰی پر کامل بھروسہ رکھیں لیکن اللہ کی مدد صرف ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو پہلے اپنے حصے کا کام پوری دلجمعی، ایمانداری اور اخلاص نیت کے ساتھ کرتے ہیں۔ آپ کا کام آپ ہی کو کرنا ہے، کوئی اور نہیں کرے گا اور دوسروں سے توقعات بھی کم سے کم رکھیں۔ اپنی محنت کرکے اللہ پر بھروسہ رکھیں۔
یاد رکھیے! یہ زندگی ڈریس ریہرسل نہیں ہے، ایک ہی بار ملی ہے اور اس پر اگلی زندگی کا انحصار ہے۔ لہٰذا اسے ضائع نہ کریں۔
یمین الدین احمد
31 اگست 2024ء
کراچی، پاکستان
"اپنے بچوں کو مہمان نوازی کے آداب سکھائیں"
اپنے بیٹے کو سکھائیں کہ اگر اسے کسی کے گھر دعوت پر بلایا جائے:
1. وہ خالی ہاتھ نہ جائے، اور اپنے ساتھ کسی غیر مدعو شخص کو نہ لے جائے۔
2. وقت پر پہنچے، نہ بہت جلدی اور نہ بہت دیر سے۔
3. اچھے کپڑے پہنے اور اس کی خوشبو اچھی ہو تاکہ میزبان کو احساس ہو کہ وہ اس کی عزت اور قدر کرتا ہے۔
4. گھر میں جوتے یا چپل پہن کر داخل نہ ہو، چاہے میزبان نے اجازت دی ہو۔
5. گھر میں داخل ہوتے وقت دروازے کے سامنے نہ کھڑا ہو، بلکہ دائیں یا بائیں جانب ہو جائے تاکہ میزبانوں کو تکلیف نہ ہو۔
6. جو موجود ہو اسے کھائے، اور کوئی خاص ڈش نہ مانگے، چاہے اچار ہی کیوں نہ ہو۔
7. کھانا کھاتے وقت شور نہ مچائے، اور چبانے کے دوران منہ بند رکھے۔
8. جب کوئی کھانا سرو کرتا ہے تو سر جھکائے موبائل میں مصروف رہتے ہیں۔ یا ویسے ہی توجہ نہیں کرتے ۔ کھانا لگانے والے کو یہ اچھا نہیں لگتا اس لیے کوشش کریں کہ اس کی طرف متوجہ ہوں اور کوئی ہلکی پھلکی بات چیت کریں تاکہ اسے ریسپیکٹ محسوس ہو.
9. بیٹھنے کی جگہ خود منتخب نہ کرے، بلکہ میزبان جہاں بٹھائے وہیں بیٹھے، کیونکہ ہر کوئی اپنی جگہ کی خصوصی ضروریات جانتا ہے۔
10. بغیر کسی جھجک کے آرام سے کھانا کھائے، اور اگر کسی چیز میں دلچسپی نہ ہو تو خاموشی سے اسے نہ کھائے اور صرف پسندیدہ چیزیں کھائے۔
11. میزبان کا شکریہ ادا کرے اور اس کے لیے مزید نعمتوں کی دعا کرے، اور باورچی (ماں یا بیوی) کو بھی شکریہ کہے اور بتائے کہ کھانا کتنا مزیدار تھا۔
12. بغیر اجازت کے ہاتھ دھونے نہ جائے، اور اگر میزبان اجازت دے تو یقینی بنائے کہ اس نے سنک صاف کر دی ہے اور کوئی کھانے کے باقیات نہ چھوڑے، اور تولیہ استعمال کرنے کے بعد اسے اچھی طرح پھیلائے۔
13. چپکے سے نکلے اور گھر کی تفصیلات پر نظر نہ ڈالے۔
14. اگر کسی اور کے ساتھ گیا ہو اور وہ ہاتھ دھونے اٹھے تو اس کی جگہ نہ بیٹھے کیونکہ یہ کسی اور کا حق ہے۔
15. اگر گھر میں نماز پڑھنی ہو تو امامت نہ کرے جب تک کہ میزبان درخواست نہ کرے۔
16. اگر داخل ہوتے وقت لوگ کسی موضوع پر بات کر رہے ہوں تو ان کی گفتگو کو اچانک نہ بدل دے، اور نہ ہی کسی کی بات کاٹ کر خود بولنا شروع کرے، کیونکہ یہ اس کی عزت کو کم کرتا ہے۔
17. روانگی سے پہلے اجازت لے، اور اگر میزبان اسے رکنے کی تاکید کرے تو کچھ وقت اور رکے اور میزبان کی خواہش کا احترام کرے۔
18. جب باہر نکلے تو بلند آواز میں اعلان کرے تاکہ میزبان روانگی کے لیے تیار ہو سکیں۔
19. گھر سے نکلتے وقت میزبان کے لیے برکت اور کشادگی کی دعا کرے۔
20. اگر ماں یا بیوی سے ملاقات ہو تو ان کا شکریہ ادا کرے اور ان کے کھانے اور مہمان نوازی کی تعریف کرے۔
*✍️بچوں کی تربیت میں اہم ترین بات بچوں اور والدین کا تعلق بہتر ہونا ہے۔*
✍️ بہتر تعلق بنانے میں اہم ترین ، *بچوں کی عزت کرنا اور ان سے محبت کرنا ہے۔*
✍️اور ہمارے ہاں ،والدین *اکثر نہ بچوں سے عزت سے پیشں آتے ہیں*
✍️ *اور نہ ہی ان کو معلوم ہے کہ محبت کیا ہوتی ہے ،اظہار کیسے کرتے ہیں۔*
✍️ *محبت کے نام پر ناجائز لاڈ پیار ہوتا ہے*
✍️یا محبت کے نام پر( یا ان کے بہتر مستقبل کی خاطر) *ناجائز سختی مار پیٹ ، لعن طعن ہوتی ہے*
✍️ *یا پھر اپنا غصہ اتارا جاتا ہے اور فرسٹریشن نکالی جاتی ہے۔*
🎯 *تو* *پھر نتیجہ کیا نکلنا ہے، نالائق، غصہ ور، ناکارہ، بدتمیز ، کاہل، محنت سے بھاگنے والے* *بچے*
➖♻️➖
*اولاد جوان ہو جائے تو اُنکے رشتے طے کرتے وقت اپنے بہن بھائیوں کی محبت ذرا سائیڈ پر رکھ کے پہلے بچوں کے مزاج کا جائزہ لیں*
اُنکی پسند نا پسند پوچھیں
اور اُسکے بعد اُنکی آنے والی زندگی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کریں
صرف یہ سوچ کر دو زندگیوں کو داؤ پر نہ لگائیں کہ آپس میں رشتے کرنے سے بہن بھائی ہمیشہ ایک ساتھ جُڑے رہیں گے
ایسا نہیں ہوتا
*بلکہ بعض اوقات تو اولاد کے ازدواجی معاملات خراب ہونے پر وہی بہن بھائی ساری زندگی* *ایک دوسرے کی شکل دیکھنا تو دور ایک دوسرے کی موجودگی تک برداشت نہیں* *کرتے*
یعنی وہ محبت جسے بڑھانے اور ہمیشہ قائم رکھنے کیلئیے *دونوں اطراف نے اولاد کا استعمال کیا پھر نہ تو وہ محبت رہتی ہے اور نہ اولاد کی زندگی میں سکون*
لہذا آپ اپنے بہن بھائیوں پر جان چھڑکتے ہیں تو ضرور چھِڑکیں ، *لیکن اپنی محبت کے نذرانے کے طور پر اولاد کی جان سولی پر لٹکاتے ہوئے اُنہیں* *جذبات کی بھینٹ نہ چڑھائیں*
رحم کریں !
فاخرہ گل
➖♻️➖
یہ پوسٹ اگرچہ مجھے اپنے ایک دوست کی طرف سے أئی ہے ۔۔ جو کہ پاکستان میں مختلف جگہوں پر ائرپورٹ مینجر رہ چکے ہیں ۔۔۔
مگر چونکہ میں اسکے زیادہ تر نکات سے متفق ہوں ۔۔ اسلئے أگے پوسٹ کر رہا ہوں ۔۔۔ شکریہ
خود کی کرپشن کا امتحان لینے کا طریقہ!!!
1.اگر آپ کسی ہو ٹل میں چائے پیتے ہوئے عام طور پر گھر پر چائے پینے کی نسبت زیادہ چی نی ڈالتے ہیں تو آپ کے بد عنوان ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔
2. اگر آپ پبلک واش روم میں گھر کی نسبت زیادہ ٹشو پیپر استعمال کرتے ہیں تو آپ کے اندر ایک چور چھپا بیٹھا ہے کہ اگر آپ کو کوئی موقع مل گیا تو آپ ضرور چوری کریں گے۔
3.اگر آپ اپنی پلیٹ میں بھوک سے زیادہ کھانا محض اس لیے ڈالتے ہیں کہ اس کا بل کسی دوسرے جیب سے جارہا ہے تو آپ فطرتا" لالچی ہیں۔
4.اگر عام طور پر آپ قطار کو توڑ کر آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں تو اگر آپ کوئی طاقت ور عہدہ دیا جائے تو اس بات کا پورا امکان ہے کہ آپ اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھائیں گے۔
5.اگر عام طور پر ٹریفک جام میں آپ قطار توڑ کر دوسری گاڑیوں کے اندر گھسنے کی کوشش کرتے ہیں تو جب آپ کو کبھی سرکاری پیسے کا رکھوالا بنایا جائے تو اس بات کا پورا امکان ہے کہ آپ اس میں غبن کے مرتکب ہوں گے، کیونکہ آپ کو قوانین و ضوابط پر عمل سے نفرت ہے۔۔
6.اگر آپ اپنے گھر کے گندے پانی کا بہتر انتظام کرنے کی بجائے رخ دوسرے کے گھر کی طرف کر دیتے ہیں تو آپ کو معاشرتی آداب معلوم نہیں۔
7.اگر آپ گھر اور آفس کی فالتو لائٹس بند کرنے کے عادی نہیں ہیں تو موقع ملنے پر آپ ملکی اور قومی وسائل کو ضائع کرنے کا ارتکاب کریں گے۔
8.اگر آپ کمپیوٹر پر اور موبائل پر گیمز کھیلتے ہیں تو آپ کاہل اور سست انسان ہیں اور آپ اپنی زندگی کو فضولیات میں ضائع کر دیں گے۔
9.اگر آپ طالب علم ہیں اور امتحان کی تیاری صرف امتحان سر پر آنے پر کرتے ہیں تو آپ بددیانت، کاہل اور کام چور ہیں اور آپ اپنے ساتھ ساتھ اپنے والدین، معاشرہ اور قوم کے بھی دشمن ہیں۔
10.اگر آپ حیران ہیں کہ اس پوسٹ کو زیر بحث لانے کی کیا ضرورت ہے تو آپ بد دیانت ہیں، آپ اپنے فائدے کی غرض سے بڑی آسانی سے معاشرے میں خرابیاں پیدا کریں گے۔
آئیے جہاں بھی ہمیں موقع ملے ہم ہجوم بننے کی بجائے باکردار انسان بننے کی کوشش کریں۔ یہ زندگی عطیہ ہے اور دنیا مین اڇھے کرم کرنے کے لیئے ہے۔ اس میں خیانت ہرگز نہ کریں۔شکریا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Narowal
Opening Hours
| Monday | 07:00 - 14:00 |
| Tuesday | 07:00 - 14:00 |
| Wednesday | 07:00 - 14:00 |
| Thursday | 07:00 - 14:00 |
| Friday | 07:00 - 12:30 |
| Saturday | 07:00 - 14:00 |