19/04/2026
Muhammad Qayyum Khan Lodhi
We should keep positive attidue abot life.
19/04/2026
محترم والدین،
حکومتِ پنجاب نے شدید سردی کے پیشِ نظر بچوں کی صحت کو مدِنظر رکھتے ہوئے تعلیمی چھٹیوں میں ایک ہفتے کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس دوران بچوں کی تعلیم کا سلسلہ حسبِ معمول آن لائن کلاسز کی صورت میں جاری رہے گا۔
لہٰذا آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ بچوں کو آن لائن کلاسز میں بھرپور تعاون فراہم کریں اور اپنی نگرانی جاری رکھیں، تاکہ تعلیمی سرگرمیاں مؤثر انداز میں جاری رہ سکیں۔
آئیں، ہم اور آپ مل کر بچوں کے روشن تعلیمی مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
شکریہ
آکسفورڈ گرامر اسکول کنجرووڑ
تعلیمی اداروں کی بندش یا دانشمندانہ منصوبہ بندی؟
محمد قیوم خان لودھی
ہر سال ہمارے ملک میں گرمی کی چھٹیاں گرمی کی اصل شدت شروع ہونے سے پہلے ہی عجلت میں دے دی جاتی ہیں، جبکہ سردی کی چھٹیاں بھی اسی طرح وقت سے پہلے نافذ کر دی جاتی ہیں۔ حالانکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اب موسموں کا نظام یکسر تبدیل ہو چکا ہے، مگر بدقسمتی سے ہماری تعلیمی پالیسیوں میں اس تبدیلی کا کوئی واضح عکس نظر نہیں آتا۔
تعلیمی پالیسی بنانے والے ادارے اکثر جلد بازی، لاپرواہی اور زمینی حقائق سے لاتعلقی کے ساتھ فیصلے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ نتیجتاً ہر مسئلے کا آسان ترین مگر نقصان دہ حل یہ نکالا جاتا ہے کہ تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں۔ اس سوچ کا سب سے زیادہ نقصان طلبہ کو اٹھانا پڑتا ہے، جن کا تعلیمی تسلسل بار بار متاثر ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بار بار تعلیمی ادارے بند کرنے کے بجائے مؤثر منصوبہ بندی کی جائے۔ گرمیوں میں اسکول کے دورانیے کم کیے جا سکتے ہیں اور بچوں کو علی الصبح اس وقت بلایا جائے جب گرمی کی شدت کم ہو۔ اسی طرح سردیوں میں تعلیمی اداروں کے اوقات کار دوپہر کے وقت رکھے جائیں تاکہ دھوپ نکل آئے، دھند کم ہو اور بچوں کی صحت بھی متاثر نہ ہو۔
دنیا کے کئی ممالک میں موسمی حالات کے مطابق اسکول ٹائمنگ میں لچک اختیار کی جاتی ہے، مگر ہمارے ہاں بدقسمتی سے بندش کو ہی واحد حل سمجھ لیا گیا ہے۔ اس طرزِ فکر کے باعث نہ صرف تعلیمی معیار گرتا ہے بلکہ طلبہ میں سیکھنے کا تسلسل اور نظم و ضبط بھی متاثر ہوتا ہے۔
اگر ہم واقعی تعلیمی نقصان کم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں وقتی اور عارضی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی، حقیقت پسندانہ اور موسمی حالات سے ہم آہنگ تعلیمی پالیسیاں ترتیب دینا ہوں گی۔ تعلیم کسی قوم کی بنیاد ہوتی ہے، اور اس بنیاد کو بار بار بندشوں کے ذریعے کمزور کرنا کسی صورت دانشمندی نہیں
سردیوں کی چھٹیوں میں بچے گھر پر بورڈ امتحانات کی تیاری کیسے کریں
از: محمد قیوم خان لودھی
سردیوں کی چھٹیاں طلباء کے لیے نہ صرف آرام اور تفریح کا وقت ہیں بلکہ یہ بورڈ امتحانات میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے کا سنہری موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ اگر یہ دن منصوبہ بندی اور محنت کے ساتھ استعمال کیے جائیں تو بچے اپنے مضامین میں کمزوری دور کر کے بہترین نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ یہاں کچھ مؤثر طریقے بیان کیے جا رہے ہیں جو بچوں کو گھر پر بورڈ امتحانات کی تیاری میں مددگار ثابت ہوں گے:
1. ٹائم ٹیبل بنائیں اور اس پر عمل کریں
سب سے پہلے بچے کو اپنے دن کا ایک منظم ٹائم ٹیبل بنانا چاہیے۔ روزانہ کم از کم 6 سے 8 گھنٹے مطالعہ کے لیے مختص کریں۔ صبح کے اوقات میں وہ مضامین پڑھیں جو یاد کرنے کے لیے زیادہ وقت چاہتے ہیں، جیسے تاریخ، اردو اور سائنس کے نظریاتی حصے۔ شام یا رات کے اوقات میں ریاضی اور دیگر مشق والے مضامین کریں تاکہ دماغ تازہ رہے اور یادداشت بہتر ہو۔
2. کمزور مضامین پر زیادہ توجہ دیں
ہر بچے کی اپنی مضبوط اور کمزور مضامین کی فہرست ہوتی ہے۔ بچے کو چاہئے کہ وہ ان مضامین پر خصوصی توجہ دیں جن میں وہ کمزور ہیں، جیسے فزکس، کیمسٹری یا ریاضی۔ چھٹیوں کے دوران ان پر زیادہ وقت دینا اور مشکل سوالات حل کرنا ان کے لیے مفید ہوگا۔
3. تحریری مشق اور نوٹ بنانا
بورڈ امتحانات میں پریزنٹیشن اور تحریر کی خوبصورتی بہت اہم ہے۔ بچے کو چاہیے کہ وہ اپنے اسباق کو خود لکھیں، نوٹس تیار کریں اور پرانے سوالات کو حل کریں۔ اس سے املاء کی غلطیاں کم ہوں گی، لکھنے کی رفتار بہتر ہوگی اور ذہن میں مواد مضبوطی سے بیٹھے گا۔
4. گزشتہ پرچے حل کریں
گذشتہ پانچ سال کے بورڈ امتحانات کے پرچے حل کرنا ایک اہم طریقہ ہے۔ اس سے بچے کو امتحانی پیٹرن سمجھ آتا ہے اور وہ اہم سوالات کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ وقت کی پابندی کی مشق بھی ہوتی ہے جو امتحان کے دوران کارآمد ثابت ہوتی ہے۔
5. صحت اور نیند کا خیال رکھیں
کسی بھی مطالعے کی کامیابی کے لیے صحت اور نیند بہت ضروری ہیں۔ بچے کو چاہیے کہ وہ متوازن غذا کھائیں، پانی زیادہ پئیں اور ہر رات کم از کم 7–8 گھنٹے کی نیند لیں۔ تازہ دم دماغ زیادہ مؤثر اور فعال مطالعہ کر سکتا ہے۔
6. وقفے اور تفریح
مطالعے کے دوران مختصر وقفے لینا بھی ضروری ہے۔ ہر 50–60 منٹ کی پڑھائی کے بعد 5–10 منٹ کا وقفہ لینے سے بچے کی توانائی برقرار رہتی ہے اور دھیان مرکوز رہتا ہے۔ ساتھ ہی ہلکی پھلکی ورزش یا واک سے ذہنی دباؤ بھی کم ہوتا ہے۔
نتیجہ
سردیوں کی چھٹیاں بورڈ امتحانات کی تیاری کے لیے بہترین موقع ہیں۔ اگر بچے منصوبہ بندی، محنت اور درست حکمت عملی کے ساتھ پڑھائی کریں تو وہ کمزور مضامین پر قابو پائیں گے اور اعلیٰ نمبروں کے ساتھ امتحانات میں کامیاب ہوں گے۔ والدین کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی بھی اس عمل کو مزید مؤثر بناتی ہے۔
آخر میں یاد رکھیں:
“آج کی محنت، کل کی شاندار کامیابی کی ضمانت ہے۔”
منجانب:
محمد قیوم خان لودھی
آکسفورڈ گرامر اسکول کنجرووڑ نارووال
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Narowal