07/09/2025
SALAM YA RASOOL ALLAH PBUH
Business,Social,jobs Apply, Admission Apply,Exams information Universities,Books Stationary Courier
07/09/2025
SALAM YA RASOOL ALLAH PBUH
07/09/2025
SUBHANALLAH MASHALLAH👍
07/09/2025
MISS YOU KHAN
07/09/2025
KHAN IS GREAT
07/09/2025
07/09/2025
My First V Log At Faiz Ahmad Faiz Park Narowal Beautiful Scene 💕 Must Watch 🤗 Visit Narowal Pakistan 🇵🇰 Natural Beauty 😍
07/09/2025
سٹیچو آف بغیرتی
07/09/2025
Matric Supplementary Exams Re-Schdule Now Start from 29-09-2025
07/09/2025
وما ارسلنٰک الا رحمۃللعٰلمین!
اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجاہے۔!
07/09/2025
نشان حیدرپاکستان
07/09/2025
فرمان امام جعفر صادق علیہ السلام !
07/09/2025
مادر حسینؑ کا روضہ مولا حسینؑ میں زائر کی مدد کرنا (سچا واقعہ)
مرحوم شیخ علی اکبر تبریزیؒ، جو تہران کے معروف خطیبِ مولا حسینؑ تھے اور اپنے تقویٰ و اخلاص و صداقت کے سبب مشہور تھے، فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ میں زیارتِ سیدالشہداء علیہ السلام کے لیے گیا۔ جب حرم شریف میں داخل ہوا تو میں نے اسے خالی پایا۔ میں نے موقع غنیمت سمجھا اور سرِ اقدس کے قریب بیٹھ کر زیارت اور دعا میں مشغول ہوگیا۔ اسی دوران میری نظر ایک ایرانی زائر پر پڑی جو آیا اور ضریح مقدس کے قریب زمین پر بیٹھ گیا اور امام حسینؑ سے باتیں کرنے لگا۔
چونکہ میں اس کی زبان سمجھتا تھا، اس لیے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا:
سیدی ابا عبد اللہ! میں آپ کو بتانے آیا ہوں کہ جو رقم میں اپنے ساتھ لایا تھا وہ ختم ہوگئی ہے اور میرے پاس اب کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ میں اپنے دوستوں سے قرض لے کر ان کی منّت نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے میں آپ کی خدمت میں آیا ہوں کہ آپ مجھے اتنا خرچ عطا فرمائیں کہ میں اپنے وطن لوٹ جاؤں۔ مجھے تین دینار سے زیادہ نہیں چاہیے۔
(ان دنوں تین دینار ایک مناسب رقم سمجھی جاتی تھی)۔
اے میرے آقا! مجھ پر کرم فرمائیں اور مجھے یہ رقم عطا کریں تاکہ میں اپنی حاجت پوری کر کے وطن واپس جا سکوں۔
شیخ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں کہا:
خوش نصیب ہے یہ مخلص زائر! کس قدر اخلاص کے ساتھ امام حسینؑ سے گفتگو کر رہا ہے گویا انہیں سامنے دیکھ رہا ہے۔ یہ یقینا ایک بلند مرتبہ ہے جو اس نے تقویٰ کے ذریعے حاصل کیا ہے۔
اچانک میں نے دیکھا کہ ایک باحجاب خاتون اس کے قریب آئیں اور اس کی زبان میں کچھ کہا، مگر میں نہ سن سکا۔ البتہ اس کا جواب سن پایا کہ وہ کہہ رہا تھا: "میں نہیں چاہتا۔"
پھر میں نے دیکھا کہ وہ زائر بیٹھا رونے لگا اور دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ پیٹنے لگا۔
میں اس کے پاس گیا اور کہا: بھائی! کیا بات ہے؟ وہ روتے ہوئے، آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے ساتھ کہنے لگا:
میں نے امام حسینؑ سے تین دینار مانگے تھے تاکہ وطن لوٹ سکوں۔ ابھی ابھی یہ خاتون میرے پاس آئیں اور کہا: یہ تین دینار لے لو تو میں نے کہا کہ میں صرف امام حسینؑ سے لینا چاہتا ہوں۔ تو اس خاتون نے کہا: یہ دینار مجھ سے لے لو کیونکہ میں حسینؑ کی ماں فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا ہوں۔
وہ زائر کہنے لگا: جب میں نے یہ سنا کہ وہ فرما رہی ہیں کہ میں امّ الحسنین فاطمہ زہرا ہوں، تو میں نے عرض کیا: بی بی! خط