20/09/2025
جب صبح بچے اسکول آتے ہیں اور ان میں سے تقریباً ستر فیصد ذہنی طور پر سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، تو کلاس انچارج (استاد) کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ ایسے میں استاد کو صرف تعلیمی مواد دینے کے بجائے، بچوں کو ذہنی، جذباتی اور جسمانی طور پر سیکھنے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
کلاس انچارج کی ذمہ داریاں:
کلاس انچارج کو چاہیے کہ وہ درج ذیل چار کام لازمی طور پر کرے:
1. مثبت اور خوشگوار ماحول بنانا
بچے جب سکول آتے ہیں تو وہ گھریلو ماحول، نیند کی کمی، یا دوسرے ذاتی مسائل کی وجہ سے تھکے یا اداس ہو سکتے ہیں۔
استاد کو چاہیے کہ وہ مسکراہٹ کے ساتھ بچوں کو خوش آمدید کہے، ان سے حال احوال پوچھے، اور ایک دوستانہ ماحول فراہم کرے۔
کلاس روم کو ایسا ماحول بنائیں جہاں بچے خود کو محفوظ اور اہم محسوس کریں۔
2. موڈ چینجنگ یا وارم اپ سرگرمیاں کروانا
دن کی ابتدا کسی ہلکی پھلکی، دلچسپ سرگرمی (جیسے نظم، مختصر کھیل، کہانی، یا ذہنی ورزش) سے کریں تاکہ بچے ذہنی طور پر متحرک ہوں۔
ان سرگرمیوں سے بچے نہ صرف تازہ دم ہوتے ہیں بلکہ کلاس پر توجہ دینے کے قابل بھی ہو جاتے ہیں۔
3. بچوں کی جذباتی کیفیت کو سمجھنا
استاد کو بچوں کے چہروں، رویے، اور انداز سے یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ کون سا بچہ اداس، پریشان یا غصے میں ہے۔
ایسے بچوں سے انفرادی طور پر نرمی سے بات کریں، ان کی بات سنیں اور حوصلہ دیں۔
ضرورت پڑنے پر سکول کونسلر یا والدین سے رابطہ کریں۔
4. سبق کا آغاز تدریجی انداز میں کرنا
جیسے ہی بچے کلاس میں آ جائیں، فوراً کتاب کھول کر پڑھانا نہ شروع کریں۔
تدریجی انداز اپنائیں: پہلے ماحول بنائیں، توجہ مرکوز کروائیں، پھر آہستہ آہستہ سبق کی طرف آئیں۔
سبق کو دلچسپ اور آسان طریقے سے پیش کریں تاکہ بچے خود بخود اس میں دلچسپی لینے لگیں۔
کلاس انچارج کا اصل کام صرف پڑھانا نہیں بلکہ بچوں کو سیکھنے کے لیے تیار کرنا بھی ہے۔ استاد اگر صبح کے وقت ان چار نکات پر عمل کرے، تو نہ صرف بچوں کی ذہنی کیفیت بہتر ہو سکتی ہے بلکہ تعلیمی کارکردگی میں بھی نمایاں فرق آ سکتا ہے۔