Al-Farooqia Online Quran Academy

Al-Farooqia Online Quran Academy

Share

Al-Farooqia Online Quran Academy

13/04/2026

2026 کا نیا اور سوشل میڈیا پر دھوم مچا دینے والا
نیو ترانہ
لبیک قائد ہمارا
آواز بلبل جمعیت سیدنورالامین باچا

29/12/2025

چندمنٹوں کی بحث میں ایک مشہور، بدنام ہو گیا
❤️❤
اور ایک گمنام، مشہور ہو گیا
یہی تو اللہ کے ہونے کا ثبوت ہے👍🏻

وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ

28/12/2025

ہم اپنے محسن و مربی مولانا کریم بخش صاحب کے بیٹے محمد معاویہ بن مولانا کریم بخش صاحب کو حفظ قرآن مجید کی سعادت حاصل کرنے پر دستاربندی کے موقع پر مبارکباد پیش کرتے ہیں 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

27/12/2025

سکھ اپنی پگڑی نہیں اتارتے ہم نے انہیں ہیلمٹ پہننے سے استثناء دیاہے۔(مریم نواز)۔محترمہ سے مطالبہ ہے کہ،مولویوں/علماء کو بھی ہیلمٹ پہننے سے مستثنی کرے۔حافظ حمداللہ۔ویسے ہر طرف استثناء کا رجحان ہے۔ ایک استثناء علماء کےلئے ہو کیونکہ وہ بھی پگڑی نہیں اتار سکتے۔ حافظ حمداللہ صاحب

21/12/2025

👈الحمدللہ! آج کا دن اہلِ ایمان، موحدینِ حق، اور غلامانِ رسول ﷺ کے لیے باعثِ فخر و مسرت ہے۔۔۔۔۔اس دورِ فتن میں جہاں شکوک و شبہات کے بادل نوجوان اذہان کو گھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہاں علم، حلم اور استدلال کے ساتھ حق کی ترجمانی کرنا بلاشبہ ایک عظیم خدمت ہے۔
مولانا مفتی شمائل ندوی صاحب نے جس بصیرت، متانت اور علمی وقار کے ساتھ الحاد کے نمائندہ افکار کا جواب دیا، وہ قابلِ تحسین ہی نہیں بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے۔۔۔۔ دلیل کی مضبوطی۔۔ اسلوب کی شائستگی۔۔۔ اور لہجے کی سنجیدگی نے یہ واضح کر دیا کہ اسلام جذبات نہیں بلکہ عقل و برہان کا دین ہے۔۔۔۔
مشہور شاعر و نغمہ نگار جاوید اختر جیسے فکری قدآور کے اعتراضات کا علمی، مہذب اور مدلل رد دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ حق کو بلند آواز یا تلخی کی حاجت نہیں ہوتی۔۔۔۔سچائی خود اپنے وزن سے باطل کو پاش پاش کر دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوا جیسے ٹھنڈی ہوا کے ایک جھونکے نے باطل کے چراغ کو بجھا دیا ہو۔
یہ مکالمہ بالخصوص ان نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے جو سوالات رکھتے ہیں اور سچ کی تلاش میں ہیں۔ انہیں یہ پیغام ملا کہ اسلام سوال سے نہیں گھبراتا بلکہ دلیل کے ساتھ جواب دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مولانا مفتی شمائل ندوی صاحب کو جزائے خیر عطا فرمائے، ان کے علم میں اضافہ فرمائے اور انہیں دینِ حق کا مضبوط ترجمان بنائے رکھے۔ آمین۔۔۔۔۔۔

21/12/2025

حـ۔ـق کی فتـ۔ـح پر پوری امتِ مسلمہ کو مبارکباد
​آج ہندوستان میں مسلمان مفتی شمائل اور ملـ۔ـحد جاوید اختر کے درمیان وجودِ باری تعالیٰ (اللہ تعالیٰ کے وجود) پر ایک بڑا مناظرہ تھا۔ یہ مناظرہ انتہائی اچھے انداز میں اور طے شدہ اصول و ضوابط کے تحت منعقد ہوا۔
​پورے مناظرے میں دونوں اطراف نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے، لیکن علمی مناظروں میں کچھ باتیں انسان کو برتری دلاتی ہیں؛ وہ یہ کہ منتخب موضوع پر گفتگو کی جائے اور مخالف کی باتوں کا جواب دیا جائے۔
​یہی وجہ تھی کہ مفتی شمائل پوری بحث میں واضح طور پر غالب نظر آ رہے تھے، جاوید اختر کا ایک نکتہ بھی ایسا باقی نہیں رہا جس کا مفتی شمائل نے جواب نہ دیا ہو۔ دوسری طرف، جاوید اختر موضوع سے ہٹ کر بحث کر رہے تھے اور جذباتی باتوں کے ذریعے اپنا موقف ثابت کر رہے تھے، یہاں تک کہ ایک جگہ ثالث (جج) نے بھی انہیں یاد دلایا کہ مفتی شمائل کی باتوں کا جواب دیں۔
​مفتی شمائل منطق اور استدلال کے مالک ہیں۔
یہ بحث میں ترجمہ کرنے کے قابل ہے
ویڈیو لنک کمنٹ میں موجودہے

14/12/2025

اللہ گواہ ہے کہ میں اس واقعے کا عین شاہد ہوں۔
گزشتہ دنوں اسلام آباد کنونشن سنٹر میں منعقدہ علماء و مشائخ کانفرنس میں میں بنفسِ نفیس شریک تھا۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ ہمیں اس کانفرنس میں شرکت کرنی چاہیے تھی یا نہیں، مگر جو کچھ وہاں دیکھا اور سنا، وہ بیان کرنا دیانت کا تقاضا ہے۔

کافی انتظار کے بعد آرمی چیف صاحب اور وزیرِ اعظم، جو اس پروگرام کے چیف گیسٹ تھے، تشریف لائے۔ اس بحث کو طول دینا مناسب نہیں کہ ان میں آقا کون دکھائی دے رہا تھا اور نوکر کون، اس لیے خوفِ طوالت سے اس پہلو کو ترک کرتا ہوں۔

آرمی چیف صاحب نے اپنی تقریر کا آغاز افواجِ پاکستان کی کارکردگی سے کیا، جس پر پورے ہال میں جوش و خروش پیدا ہوا، نعرے لگے اور ہم سب نے اس کا بھرپور جواب دیا۔ اس کے بعد پاک افغان کشیدگی اور پھر ملکی داخلی امن و امان کی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔
لیکن حیرت اور تکلیف اس وقت ہوئی جب گفتگو کا رخ اچانک مدارسِ دینیہ کی طرف موڑ دیا گیا اور ایک کے بعد ایک حملے شروع کر دیے گئے۔ گروہ واریت، افراتفری اور اندرونی مسائل کی جڑ گویا مدارس کو قرار دے دیا گیا۔

مزید یہ کہ بار بار پائنچے ٹخنوں سے اوپر یا نیچے کرنے کا ذکر دہرایا جاتا رہا۔ بظاہر بات یہ سمجھانے کی تھی کہ دین صرف ان ظاہری امور میں محدود نہیں، جو کہ اپنی جگہ ایک مسلم حقیقت ہے، مگر اندازِ بیان ایسا تھا کہ یوں محسوس ہونے لگا جیسے ان امور کا دین سے کوئی خاص تعلق ہی نہیں، حالانکہ یہ دین کے معروف شعائر میں شامل ہیں۔

اس کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف تشریف لائے اور انہوں نے بھی اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے تقریباً وہی گفتگو دہرائی۔

اس دوران سامنے بیٹھے درباری ملاؤں کی نعرہ بازی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ خود آرمی چیف اور وزیرِ اعظم اس سے بیزار نظر آنے لگے۔ انہوں نے باقاعدہ اظہار کیا کہ ہمیں تقریر مکمل کرنے دی جائے، بعد میں آپ نعرے لگا لیجیے گا۔ مگر خوشامد میں ڈوبے ہوئے حضرات کو کہاں فرصت تھی۔

تقاریر کے بعد تبصروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہم اس امید میں تھے کہ شاید کوئی صاحبِ علم اور صاحبِ ضمیر اصلاح کی بات کرے گا، مگر افسوس کہ سب نے اسی خوشامدی روش کو آگے بڑھایا۔ کسی نے تنقید کی جرأت نہ کی، بلکہ آرمی چیف کے ہاتھ پر بیعتیں ہوئیں اور اصلاح کے بجائے خوب حوصلہ افزائی کی گئی۔

پھر سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا، مگر سوال بھی وہی، اور سوال کرنے والے بھی وہی منتخب اور منظورِ نظر لوگ۔

اسی دوران کوہستان کا سپوت، علماءِ دیوبند کا فرزند، مولانا ولی اللہ توحیدی کھڑے ہوئے۔ وہ کافی دیر تک مائیک مانگتے رہے، مگر چونکہ مائیک طے شدہ افراد کو ہی دیا جا رہا تھا، اس لیے انہیں نظرانداز کیا جاتا رہا۔
آخرکار انہوں نے پوری قوت سے آواز بلند کی، جس سے آرمی چیف، وزیرِ اعظم اور پورا ہال ان کی طرف متوجہ ہو گیا۔

انہوں نے نہایت جرأت مندانہ انداز میں فیلڈ مارشل کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
“آپ اپنی اصلاح فرمائیں۔ پائنچے ٹخنوں سے اوپر رکھنا رسول ﷺ کی سنت ہے۔ اس کا بار بار تذکرہ اس انداز میں کرنا اور اسے ہلکا سمجھنا کھلی دینی خلاف ورزی ہے۔”

مزید فرمایا:
“آپ نے مدارس کو نشانہ بنایا، حالانکہ پاکستان میں جتنا معاشی قتل اور کرپشن ہوئی ہے، اس میں زیادہ کردار یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل افراد کا ہے۔ اس پر آپ نے کیا اقدامات کیے؟
اور اگر آپ دینی مدارس میں جدید تعلیم کی بات کرتے ہیں، تو یہ بتائیں کہ آپ نے یونیورسٹیوں میں قرآنی تعلیمات کے فروغ کے لیے کیا کردار ادا کیا؟”

یہ سنتے ہی پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ تالیوں کا یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ آرمی چیف صاحب مسلسل استغفار پڑھتے رہے اور وضاحت دیتے رہے کہ “میرا مقصد یہ نہیں تھا، میں نے ایسا نہیں کہا، میں دین پر تنقید نہیں کرتا”، مگر تالیوں اور نعروں میں ان کی آواز دب چکی تھی۔

یہ صورتحال دیکھ کر فیلڈ مارشل اور ان کی سکیورٹی بخوبی سمجھ گئے کہ اب مزید سخت اور براہِ راست سوالات آئیں گے۔ چنانچہ اتنی بڑی علماء و مشائخ کانفرنس کو بغیر دعا کے ہی ختم کرنے میں عافیت جانی گئی۔

ہم باہر نکلے تو ایک عجیب سا اطمینان دل پر طاری تھا کہ ہمارا وہاں جانا نفع سے خالی نہ رہا، اور کم از کم ایک شخص نے حق بات وہیں کہہ دی جہاں کہی جانی چاہیے تھی۔
اور ہاں ، کانفرنس کے اچانک اختتام کے بعد جب ہم ہال سے باہر نکلے تو ایک اور منظر دیکھنے کو ملا جو قابلِ ذکر تھا۔ باہر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء، مشائخ اور شرکاء مولانا ولی اللہ توحیدی کے گرد جمع تھے۔ ہر کوئی ان کی جرأتِ حق گوئی کو سراہ رہا تھا، داد دے رہا تھا اور ان کے ساتھ سیلفیاں بنوانے میں مصروف تھا۔

یہ محض کسی ایک مکتبِ فکر کی پذیرائی نہ تھی، بلکہ مختلف فکر و مسلک کے لوگوں کی جانب سے اس بات کا عملی اعتراف تھا کہ اس مجلس میں اگر کسی نے حق بات بروقت، بے خوف اور مدلل انداز میں کہی تو وہ مولانا ولی اللہ توحیدی تھے۔

یوں آج کی اس پوری “کھیل” میں، اگر اصطلاحِ عام استعمال کی جائے، تو مین آف دی میچ مولانا ولی اللہ توحیدی ہی تھے۔

10/12/2025

🌿✨ جامعہ قادریہ حنفیہ ملتان کا سالانہ فضلاء کنونشن ✨🌿

الحمدللہ! کل جامعہ کا سالانہ فضلاء کنونشن نہایت آب و تاب، رونق اور روحانی مسرتوں کے ساتھ جامعہ کی مرکزی مسجد میں منعقد ہونے جارہا ہے۔

تمام انتظامات بحمداللہ مکمل ہو چکے ہیں، اور فضلائے جامعہ کی آمد کا سلسلہ محبت و وفا کی روشن دلیل بن کر جاری ہے۔
ہر آنے والا فاضل جامعہ کے ماتھے کا جھومر اور ہمارے ادارے کی شان ہے۔ جامعہ اپنے تمام فضلاء کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہے۔

آج جامعہ کی فضا خوشی، محبت، تعلق اور وفائے عہد کی خوشبو سے مہک رہی ہے۔
جامعہ کے صحن میں قدم رکھتے ہی دل میں ایک عجیب سی مسرت دوڑ جاتی ہے کہ یہ وہی علمی گھر ہے جس نے ہمیں پہچان، فکر، روشنی اور شعور عطا کیا تھا۔

آخر میں انتظامات کی چند جھلکیاں پیشِ خدمت ہیں…
اللہ تعالیٰ اس اجتماعِ خیر کو قبول فرمائے اور اسے مزید اتحاد، محبت، اور علم کے فروغ کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

07/12/2025

وہ دس شخصیات جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں نام لیکر جنتی فرمایا
عشرہ مبشرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین

06/12/2025

حوالات کی سلاخوں کے پیچھے سے میں اسے نماز پڑھتا دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ پچیس چھبیس سال کا خوبصورت نوجوان قتل کے مقدمے میں دو دن پہلے ہی یہاں لایا گیا تھا جہاں سے چند دن بعد عدالتی کاروائی کے بعد اسے جیل منتقل کیا جانا تھا۔۔۔ اس کے خلاف کیس کافی مضبوط تھا اس لیے گمان غالب تھا کہ ایک دو پیشیوں کے بعد ہی اسے سزائے موت سنا دی جائے گی۔۔۔
میں ایک پولیس والا ہوں، اور پہلے دن سے ہی میرا رویہ اور لہجہ اس کے ساتھ کافی سخت رہا تھا۔۔۔لیکن اس کے لبوں پر ہمیشہ ایک دل موہ لینے والی مسکراہٹ ہوتی تھی اور ہمیشہ وہ مجھے بڑا سمجھتے ہوئے ادب سے اور نرم لہجے میں بات کرتا تھا۔۔۔
اور مجھ جیسا سخت انسان بھی دو دن میں ہی اس کے اچھے اخلاق کے سامنے ہار گیا تھا۔۔۔
اب وہ سلام پھیرنے کے بعد دعا مانگ رہا تھا۔۔۔ میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔ وہ اس طرح خشوع و خضوع سے دعا مانگ رہا تھا کہ یوں لگتا تھا جیسے وہ جس سے مانگ رہا ہے وہ اس کے بالکل سامنے بیٹھا ہو۔۔۔
دعا کے بعد اس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس کے لبوں پر پھر وہی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔ وہ اٹھ کر میرے پاس آیا اور ہمیشہ کی طرح میرا حال احوال پوچھا۔۔
آج خلاف معمول میرا لہجہ کافی نرم تھا۔۔
باتوں کے دوران میں نے اس سے پوچھا کہ کیا واقعی اس نے قتل جیسا جرم کیا ہے۔۔ کیونکہ مجھے اس کی معصومیت سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ قتل جیسا جرم کر سکتا ہے۔۔۔
"ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔۔ تو پھر میں ایسا گھناونا جرم کیسے کرسکتا ہوں؟"
اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔
"تو پھر؟"
میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
"جب اللہ اس دنیا میں کسی کو اختیارات دیتا ہے نا تو اکثر لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ اختیارات اللہ کی طرف سے امانت ہیں۔۔۔ وہ ان سب کو اپنا کمال اور حق سمجھ بیٹھتے ہیں۔۔۔
میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔۔۔ ہمارے علاقے کے ایک بااثر انسان نے قتل کردیا اور اتفاق سے میں وہاں سے چند قدم ہی دور تھا۔۔۔ اس نے الزام مجھ پر لگا دیا۔۔ جھوٹے گواہ بھی تیار کرلیے گئے اور میں یہاں آگیا"
مجھے دکھ سا ہوا۔۔۔
"تو تمہارے گھر والون نے کچھ نہیں کیا؟"
"گھر والوں نے اپنی سی کوشش کی لیکن وہی بات اس معاشرے میں لوگ بھی ڈر کے مارے اسی کا ساتھ دیتے ہیں جو طاقتور ہو"
وہ پھر سے مسکرایا تھا ۔۔
مجھے اس کے سکون کو دیکھ کر حیرت ہوئی۔۔
"تمہیں ڈر نہیں لگتا کہ ہو سکتا ہے کچھ دنوں تک تمہیں موت کی سزا سنا دی جائے؟"
"ان شاءاللہ مجھے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ میں نے اس کے آگے اپنی عرضی رکھ دی ہے جس کے سامنے بڑے سے بڑے بادشاہ کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔۔"
اس نے پر یقین لہجے میں جواب دیا۔۔
میں نے پھر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔
"میں اپنے اللہ کی بات کررہا ہوں۔۔۔ اسے میری بے گناہی کا علم ہے اور وہ مجھے کچھ نہیں ہونے دے گا"
اس کے ہر ہر لفظ سے محبت ٹپک رہی تھی۔
"تمہیں یقین ہے کہ دعا سے کام ہوجائے گا۔۔۔؟ اگر نہ ہوا تو۔۔۔؟؟"
میں نے پوچھا۔۔
"جب اس سے مانگا جاتا ہے نا تو پھر شک میں نہیں پڑتے کہ وہ قبول نہیں کرے گا۔۔۔ بس سب کچھ اس پر چھوڑ کر انتظار کرتے ہیں"
اس کے لہجے میں یقین ہی یقین تھا۔۔۔ میں بس اس کے چہرے کو تکتا رہ گیا کہ اس سے پہلے اللہ پر اتنا یقین شاید ہی کسی میں دیکھا ہو۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین دن مزید گزر گئے۔۔ اس دوران اس کے گھر والے بھی اس سے ملنے آئے تھے۔۔۔ وہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔ ماں کا رو رو کر برا حال تھا لیکن اس کے سکون میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔۔ وہ مسلسل سمجھاتا رہا کہ میں نے اللہ کے سامنے عرضی رکھ دی ہے اسے پتا ہے میں بے گناہ ہوں دیکھ لیجئے گا وہ مجھے کچھ نہیں ہونے دے گا۔۔
میں نے اللہ پر اتنا یقین اس سے پہلے صرف پڑھا ہی تھا لیکن کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔میرے دل میں اب اس کے لیے عقیدت کے جذبات پیدا ہونا شروع ہوگئے تھے۔۔۔ شاید اللہ کی محبت ہوتی ہی ایسی ہے جو پتھر دل کو بھی پگھلا دیتی ہے۔۔۔
اور پھر جب اسے عدالت میں پیش کیا جانا تھا اس سے ایک دن پہلے ہی عجیب واقعہ ہوا۔۔۔
جس شخص نے خود قتل کرکے الزام اس پر لگایا تھا وہ اپنی بیوی اور اکلوتے بچے کے ساتھ گاڑی میں کہیں جارہا تھا کہ اسے ایک خوفناک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں اس کی بیوی اور بچہ تو موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ اسے شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔۔۔ کافی گھنٹوں بعد ہوش میں آنے کے بعد اسے بیوی اور بچے کے مرنے کی خبر ملی تو اس کی حالت اور بگڑ گئی۔۔۔
اسی جان کنی کے عالم میں اسے کچھ یاد آیا۔۔۔ اس نے چیخ کر قریب موجود ڈاکٹر کو اس کی ویڈیو بنانے کا کہا۔۔۔ بار بار اصرار پر ڈاکٹر نے نرس کو ویڈیو بنانے کا اشارہ کیا تو اس نے ویڈیو میں بڑی مشکل سے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور اس نوجوان کو بے گناہ قرار دے کر ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔۔۔
اس نے ڈاکٹر سے وعدہ لیا کہ وہ یہ ویڈیو ضرور پولیس سٹیشن لے کر جائے گا۔۔۔۔۔ شاید بیوی بچے کے مرنے کے بعد اور اپنی حالت کا علم ہوجانے کے بعد وہ اس گناہ کو ساتھ لے کر مرنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
ادھر ویڈیو پولیس سٹیشن پہنچی ادھر وہ آدمی مرگیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج عدالت میں اس کی پیشی تھی۔۔ عدالت کے سامنے اس کی بے گناہی کا ناقابل تردید ثبوت ویڈیو کی شکل میں موجود تھا۔۔ لہذا اسے باعزت بری کر دیا گیا۔۔۔
میں کمرہ عدالت میں کھڑا گم سم سا سوچ رہا تھا کہ اللہ ان بندوں کی جو صحیح معنوں میں اس پر ایمان لاتے ہیں ان کی ایسے بھی مدد کرسکتا ہے۔۔۔
اس کی ہتھکڑیاں کھول دی گئی تھیں ماں روتے ہوئے اس سے لپٹ گئی تھی باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔۔۔
آج اس کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔۔ شاید اس وجہ سے کہ اللہ نے اسے ان حالات میں تنہا نہیں چھوڑا تھا اور اس طرح سے اس کی مدد کی تھی جس کا کسی کو وہم و گمان تک نہ تھا۔۔
اور مجھے یاد ہے مجھ سے ملنے کے بعد جب وہ جانے لگا تھا تو میں نے اسے کہا تھا کہ وہ کوئی ایسی بات بتا کر جائے جسے میں ہمیشہ یاد رکھوں۔۔
تو اس کے الفاظ تھے۔۔
*"اللہ سے بڑھ کر کوئی ہمدرد اور دوست نہیں۔۔۔ جب بھی کوئی مشکل پیش آئے اسی سے مانگیں اور پھر یقین بھی رکھیں کہ وہ قبول کرے گا۔۔۔ وہ محض کسی سوچ یا تصور کا نام تو ہے نہیں۔۔۔ بلکہ وہ تو ایک زندہ حقیقت ہے۔۔۔ وہ اس وقت بھی ہمارے ساتھ ہے۔۔ شہ رگ سے بھی قریب۔۔ وہ ہمیں دیکھتا رہتا ہے کہ مشکل میں ہمارا رد عمل کیا ہوگا۔۔ اور جو اس سے مانگ کر شک میں نہیں پڑتے، اللہ بھی انھیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔۔۔ ایسے طریقوں سے اس کی مدد کرتا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے"*
وہ اب واپس جارہا تھا اور مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں آج ہی مسلمان ہوا ہوں یا جیسے میں نے آج اپنے اللہ کو پالیا ہے۔۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Muzaffargarh?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

وسندیوالی تحصیل و ضلع مظفرگڑھ
Muzaffargarh
393001