24/04/2026
جنگیں بچوں کی عمر اور مجموعی نشوونما پر گہرے منفی اثرات ڈالتی ہیں۔
غذائی قلت، صاف پانی کی کمی اور طبی سہولیات تک محدود رسائی کے باعث جسمانی نشوونما متاثر ہوتی ہے،
جس سے قد اور وزن کم رہ سکتے ہیں۔
ویکسینیشن اور بنیادی علاج میں رکاوٹ بیماریوں اور شرحِ اموات میں اضافہ کرتی ہے۔
مسلسل خوف، نقل مکانی اور تشدد کے مناظر ذہنی دباؤ، بے چینی اور نیند کی خرابیوں کا سبب بنتے ہیں، جو دماغی نشوونما کو سست کر دیتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں سیکھنے کی صلاحیت، سماجی رویے اور مستقبل کی صحت متاثر ہوتی ہے، یوں بچے
اپنی حقیقی عمر کے مطابق ترقی نہیں کر پاتے۔
17/01/2026
ماہرین نفسیات نے صدیوں سے رنگوں کی پسند اور ذہنی صحت کے تعلقات کا مطالعہ کیا ہے۔
1931 کے ابتدائی تحقیقاتی ریکارڈز میں ہسپتال کے مریضوں نے زیادہ تر نیلا رنگ پسند کیا۔
بعد کی تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ڈپریشن اور انزائٹی والے افراد نیلا رنگ ترجیح دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق نیلا رنگ جذباتی دباؤ کے دوران سکون اور استحکام کا احساس دیتا ہے۔
کچھ نظریات میں سائیکوپیتھ میں نیلا رنگ کنٹرول، جذباتی فاصلے یا اتھارٹی ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، لیکن یہ صرف علامتی اور مشاہداتی ہے۔
کلینیکل سائنس میں کسی شخص کی ذہنی حالت جانچنے کے لیے رنگ کی پسند استعمال نہیں ہوتی، بلکہ رویہ اور نفسیاتی تشخیص پر انحصار کیا جاتا ہے۔
30/12/2025
نیبولائزیشن(Nebulization ) کیا ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟
نیبولائزیشن کیا ہے؟
نیبولائزیشن ایک
drug delivery mechanism
ہے جس میں دوا کو مائع حالت سے باریک دھند (aerosol) میں تبدیل کر کے سانس کے راستے سیدھا پھیپھڑوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
یوں دوا معدہ یا خون کے لمبے راستے سے گزرے بغیر براہِ راست اپنے ٹارگٹ آرگن (Target Organ)پر کام کرتی ہے۔
یہ
high precision، low wastage
Approach
ہے۔
اس کی اہمیت کیوں ہے؟
بچوں میں سانس کی نالیاں تنگ اور حساس ہوتی ہیں، اس لیے systemic دوائیں اکثر سست اور سائیڈ ایفیکٹس والی ثابت ہوتی ہیں۔ نیبولائزیشن اس gap کو smartly fill کرتی ہے۔
دوا فوراً اثر کرتی ہے،
خاص طور پر wheezing اور bronchospasm میں
کم مقدار میں دوا دے کر زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے
syrup یا injection کی نسبت سائیڈ ایفیکٹس کم ہوتے ہیں
شیر خوار یا وہ بچے جو inhaler استعمال نہیں کر سکتے،
ان کے لیے practical solution ہے
emergency
(ایمر جنس) میں
یہ time saving intervention بن جاتی ہے
کن بیماریوں میں زیادہ مفید ہے؟
Asthma, bronchiolitis, croup, acute wheeze, اور بعض
cases میں pneumonia کے ساتھ bronchospasm
یعنی جہاں مسئلہ ایئر ویز میں ہو، وہاں نیبولائزیشن value add کرتی ہے۔
ایک اہم clarification
نیبولائزیشن آکسیجن کا نعم البدل نہیں اور نہ ہی ہر کھانسی یا بخار کا حل ہے۔ یہ indication-driven therapy ہے، routine نہیں۔ غیر ضروری استعمال benefit کے بجائے dependency اور غلط reassurance پیدا کرتا ہے۔
Bottom line
نیبولائزیشن بچوں میں سانس کی بیماریوں کے لیے ایک focused، efficient اور clinically powerful tool ہے—بشرطیکہ درست مریض، درست دوا اور درست وقت پر استعمال ہو۔
یہ علاج نہیں، مگر علاج تک پہنچنے کا ایک نہایت مؤثر راستہ ہے۔
بچوں میں نیبولائزیشن اصل میں ایک چھوٹا سا آپریشنل پروسیس(Operational Process) ہے:
دوا کو مائع سے باریک دھند (mist) میں بدل کر سیدھا پھیپھڑوں تک پہنچانا۔
خاص طور پر تیز اثر، کم سسٹیمک سائیڈ ایفیکٹس(Systemic Side infection )، اور بہتر ایئر وے کنٹرول(Air Way Control)۔
طریقہ کار سادہ ہے، مگر استعمال میں ex*****on میں احتیاط ضروری ہے:
* سب سے پہلے سیٹ اپ(Setup) درست کریں۔
* نیبولائزر مشین(Nebulizer Machine)، ماسک یا ماؤتھ پیس(Mask or Mouth Piece)، اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا (اکثر saline کے ساتھ dilute کی جاتی ہے) تیار رکھیں۔
* دوا ہمیشہ prescribed مقدار میں ہونی چاہیے
یہ non-negotiable ہے۔
* بچے کو سیدھا بٹھائیں؛
اگر شیر خوار ہے تو گود میں نیم سیدھی پوزیشن میں رکھیں۔
لیٹا کر نیبولائزیشن کرنے سے efficacy کم ہو جاتی ہے۔
* اب ماسک فِٹ کریں۔
* ماسک ناک اور منہ کو اچھی طرح کور (Cover)کرے، لیکج نہ ہو۔ رونے والا بچہ بھی دوا لے لیتا ہے
* یہ myth ہے کہ رونے سے نیبولائزیشن ضائع ہو جاتی ہے، مگر پرسکون بچہ بہتر drug delivery دیتا ہے۔
مشین آن کریں۔
* بچے کو نارمل سانس لینے دیں؛ گہری سانسیں کروانے کی ضرورت نہیں۔
* پورا سیشن عموماً 5–10 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے،
* جب تک مائع ختم نہ ہو جائے۔
اختتام پر post procedure care کریں۔
* اگر steroid نیبولائز ہوا ہو تو بچے کا منہ صاف کروائیں یا پانی کے چند گھونٹ پلائیں تاکہ thrush کا رسک کم ہو۔
* مشین کے حصے دھو کر سکھانا process hygiene کا حصہ ہے۔
اہم strategic نکات:
* نیبولائزیشن صرف wheeze، bronchospasm، یا ڈاکٹر کے واضح indication پر کریں، ہر کھانسی پر نہیں
* خود سے دوا یا frequency نہ بڑھائیں یہ overutilization ہے
بخار یا pneumonia میں نیبولائزیشن routine نہیں، indication-based intervention ہے
Bottom line:
* نیبولائزیشن کو جادو نہیں، ایک targeted drug-delivery system ہے۔
* درست مریض، درست دوا، درست طریقہ—
* تبھی optimal outcomes ملتے ہیں۔
29/12/2025
بچوں میں ہیلمٹ تھراپی (Helmet Therapy)
ہیلمٹ تھراپی ایک غیر جراحی (Non-surgical) طریقۂ علاج ہے جو بچوں کے سر کی شکل درست کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر جب سر ایک طرف سے چپٹا ہو۔
❓ ہیلمٹ تھراپی کیا ہے؟
یہ ایک خاص میڈیکل ہیلمٹ ہوتا ہے جو بچے کے سر پر پہنایا جاتا ہے۔ یہ ہیلمٹ نرم اور محفوظ ہوتا ہے اور سر کی نشوونما کو درست سمت میں بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔
👶 کن بچوں کو ضرورت ہوتی ہے؟
ہیلمٹ تھراپی عموماً ان بچوں میں کی جاتی ہے جن میں:
Plagiocephaly (سر ایک طرف سے چپٹا)
Brachycephaly (سر پیچھے سے زیادہ چپٹا)
Scaphocephaly (سر لمبا اور پتلا)
اکثر یہ مسئلہ:
ایک ہی پوزیشن میں زیادہ لٹانے
گردن کے پٹھوں کی کمزوری (Torticollis)
قبل از وقت پیدائش (Prematurity) کی وجہ سے ہوتا ہے۔
⏰ شروع کرنے کا بہترین وقت
4 سے 12 ماہ کی عمر بہترین سمجھی جاتی ہے
6 ماہ سے پہلے نتائج زیادہ اچھے ہوتے ہیں
18 ماہ کے بعد فائدہ کم ہو جاتا ہے
⌛ ہیلمٹ کتنی دیر پہنایا جاتا ہے؟
دن میں 20–23 گھنٹے
مدت عموماً 3 سے 6 ماہ (کیس پر منحصر)
✅ ہیلمٹ تھراپی کے فائدے
سر کی شکل بتدریج بہتر ہو جاتی ہے
دماغ پر کوئی دباؤ نہیں پڑتا
درد نہیں ہوتا
سرجری کی ضرورت نہیں پڑتی
⚠️ اہم باتیں
ہیلمٹ صرف ماہر ڈاکٹر (Paediatrician / Neurosurgeon / Orthotist) کے مشورے سے لگوائیں
یہ تھراپی دماغی نشوونما کو متاثر نہیں کرتی، صرف سر کی شکل درست کرتی ہے
صفائی اور فالو اپ بہت ضروری ہیں
❓ کیا ہر بچے کو ہیلمٹ کی ضرورت ہوتی ہے؟
نہیں۔
ہلکے کیسز میں:
پوزیشن بدلنا
فزیوتھراپی
سے بھی مسئلہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔
14/12/2025
کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں کوشش کریں کہ ہمیشہ سرکاری ہسپتال جائیں۔
سرکاری ہسپتال کا جونیئر ترین ڈاکٹر یا ہاؤس آفیسر یا پیرامیڈیکل سٹاف بھی ایمرجنسی صورت حال سے نمٹنے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہے اور سینئر ڈاکٹر بھی اگر بالفرض موقع پر ایمرجنسی میں موجود نہیں تب بھی وہ ہمیشہ رابطے میں ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری طور پر پہنچ بھی جاتے ہیں۔
خواہ آپ جتنے بھی امیر ہوں ایمرجنسی ہمیشہ سرکاری ہسپتال میں اچھی مینیج ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ریسکیو 1122 بھی ہمیشہ مریض کو سرکاری ہسپتال لے کر جاتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل کے ہاتھوں میں صرف کوشش کرنا ہے صحت دینا یا زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اس آگہی کو آگے پھیلائیں، شعور پھیلانا بھی صدقہ ہے
#1122
30/10/2025
🦟 ڈینگی فیور(Dengue fever)
کیا ہے؟
ڈینگی فیور ایک وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو ایڈیز ایجپٹائی (Aedes aegypti) نامی مچھر کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔
یہ مچھر دن کے وقت، خاص طور پر صبح اور شام کے وقت کاٹتا ہے۔
⚠️ ڈینگی کی علامات
ڈینگی کی ابتدائی علامات عام بخار کی طرح ہوتی ہیں، لیکن تھوڑے وقت بعد شدت اختیار کر سکتی ہیں:
1. تیز بخار (104°F یا اس سے زیادہ)
2. سر، آنکھوں، جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد
3. جلد پر سرخ دھبے یا ریش
4. الٹی یا متلی
5. کمزوری، بھوک میں کمی
6. بعض صورتوں میں خون بہنے کی علامات (مسوڑھوں یا ناک سے خون آنا)
🏥 ڈینگی کی پیچیدگیاں
اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری ڈینگی ہیمرجک فیور یا ڈینگی شاک سنڈروم بن سکتی ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
اس لیے مریض کو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
🛡️ ڈینگی سے بچاؤ کے اقدامات
یہ بیماری کا علاج نہیں بلکہ بچاؤ ہی بہترین طریقہ ہے۔
🌿 گھروں اور آس پاس کے علاقے میں:
• پانی جمع نہ ہونے دیں (گملے، ٹائروں، ٹینکیوں، پرانے برتن وغیرہ میں)
• ہر ہفتے پانی کے برتن صاف کریں
• گھروں میں مچھر مار اسپرے یا کوائل استعمال کریں
• دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں یا جالیاں لگائیں
👕 جسم کی حفاظت:
• پورے بازو والے کپڑے پہنیں
• بچوں کو مچھر سے بچانے والی کریم یا لوشن لگائیں
• رات کو مچھر دانی استعمال کریں
🩺 اگر بخار ہو جائے:
• فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں
• خود سے اسپرین یا بروفن استعمال نہ کریں
• پانی زیادہ پئیں اور آرام کریں
محفوظ رہیں، صحت مند رہیں!
آئیں، خود کا اور ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔
08/10/2025
ذیابیطس (شوگر) اور HbA1c ٹیسٹ
ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس میں خون میں شکر (گلوکوز) کی مقدار نارمل سطح سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر دو اقسام میں پائی جاتی ہے:
ذیابیطس کی اقسام
1. ٹائپ 1 ذیابیطس
یہ زیادہ تر بچوں یا کم عمر افراد میں ہوتی ہے۔اور اکثر پیدائشی بھی ہوتی۔
اس میں جسم کا مدافعتی نظام انسولین بنانے والے خلیوں پر حملہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں انسولین بالکل نہیں بنتی۔
مریض کو زندگی بھر انسولین لگانی پڑتی ہے۔
2. ٹائپ 2 ذیابیطس
یہ عام طور پر بڑی عمر کے افراد میں پائی جاتی ہے، لیکن اب نوجوانوں میں بھی بڑھ رہی ہے۔ آجکل کا غیر صحت مند لائف سٹائل بڑی وجہ ہے۔
اس میں جسم یا تو انسولین صحیح مقدار میں نہیں بناتا یا پھر انسولین کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔
اس کی بڑی وجوہات میں موٹاپا، کم ورزش، غیر متوازن خوراک اور وراثتی تاریخ بھی شامل ہیں۔
علاج میں دوا، خوراک کا کنٹرول اور ورزش اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
HbA1c ٹیسٹ کیا ہے؟
HbA1c ایک خون کا ٹیسٹ ہے جو پچھلے تین مہینے میں خون میں موجود شکر کی اوسط سطح دکھاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ ڈاکٹر کو بتاتا ہے کہ مریض کی شوگر کتنی کنٹرول میں رہی ہے۔ یہ ٹیسٹ 30 سال کی عمر سے زیادہ ہر فرد کو کرانا چاہیے بعض اوقات انسان شوگر میں مبتلا ہوتا ہے لیکن اسکا علم نہیں ہوتا کیونکہ شوگر کی کوئی بڑی علامات نہیں ہوتی۔
HbA1c کے نتائج:
5.6% یا کم → نارمل
5.7% سے 6.4% → پری ڈائیبیٹیز (یعنی ذیابیطس ہونے کا امکان زیادہ)
6.5% یا زیادہ → ذیابیطس
ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطس میں HbA1c کا کردار
ٹائپ 1 ذیابیطس میں یہ ٹیسٹ بتاتا ہے کہ انسولین کے استعمال سے مریض کی شوگر کتنی بہتر کنٹرول ہوئی ہے۔
ٹائپ 2 ذیابیطس میں یہ ٹیسٹ ظاہر کرتا ہے کہ دوا، خوراک اور ورزش سے مریض کی حالت کتنی بہتر ہو رہی ہے۔
دونوں اقسام میں یہ ٹیسٹ علاج میں تبدیلی کے لیے ڈاکٹر کو رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
ذیابیطس کنٹرول کرنے کے طریقے۔
باقاعدگی سے HbA1c اور بلڈ شوگر ٹیسٹ کروانا۔
صحت مند اور متوازن غذا کھانا۔
سفید آٹے اور بیکری آئٹم کا کم استعمال
جوس اور سوفٹ ڈرنک کا کم استعمال
روزانہ واک یا ورزش کرنا۔
ٹائپ 1 میں انسولین کا استعمال لازمی ہے۔
ٹائپ 2 میں ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دوا یا کبھی انسولین لینا پڑ سکتا ہے۔
تمباکو نوشی ، الکوحل اور زیادہ چکنائی والی غذا سے پرہیز کریں۔
01/10/2025
الرجی کیا ہے اور یہ کیوں ہوتی ہے؟؟
پارٹ ۔ 1
الرجی دراصل جسم کے مدافعتی نظام کی ایک غیر معمولی ردعمل ہے۔ جب جسم کو کوئی ایسا مادہ ملتا ہے جو عام طور پر نقصان دہ نہیں ہوتا، تو مدافعتی نظام اسے دشمن سمجھ کر ضرورت سے زیادہ ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس سے چھینکیں، خارش، سوجن، دمہ، جلد پر دانے یا سانس کی تکالیف جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
الرجی کیوں ہوتی ہے ؟؟
اس کے کئی عوامل ہیں
موروثی وجہ: اگر خاندان میں الرجی ہے تو امکان بڑھ جاتا ہے۔
مدافعتی نظام کی حساسیت: کچھ لوگوں کا جسم چند مخصوص چیزوں پہ زیادہ ردعمل دیتا ہے
الرجی کی اہم اقسام
1. سانس کی الرجی (Respiratory Allergy)
دمہ (Asthma)
ناک کی الرجی (Allergic Rhinitis, Hay Fever)
2. جلدی الرجی (Skin Allergy)
ایگزیما (Eczema)
چھپاکی/خارش (Urticaria, Hives)
کانٹیکٹ ڈرماٹائٹس (کسی چیز کو چھونے سے)
3. خوراک کی الرجی (Food Allergy)
مچھلی، جھینگا، مونگ پھلی، خشک میوہ جات وغیرہ۔
4. دوائی کی الرجی (Drug Allergy)
اینٹی بائیوٹکس (مثلاً پینسلن)
درد ختم کرنے والی دوائیں (NSAIDs)
5. کیڑے یا ڈنک کی الرجی (Insect Allergy)
شہد کی مکھی، بھڑ یا چیونٹی کے ڈنک سے۔
6. موسمی الرجی (Seasonal Allergy)
بہار میں پولن (Pollen Allergy)
موسم بدلنے پر چھینکیں، آنکھوں میں پانی، سانس کی تنگی۔
سانس کی الرجی کیوں ہوتی ہے؟
سانس کی الرجی اس وقت ہوتی ہے جب ہمارا مدافعتی نظام (Immune System) سانس کے راستے سے داخل ہونے والے عام ذرات کو دشمن سمجھ کر زیادہ ردعمل دیتا ہے۔ اس کی بڑی وجوہات:
پولن الرجی: درختوں اور پودوں کے پھولوں کا زرد ذرّہ
فضائی آلودگی: گرد و غبار دھول مٹی کے جراثیم اور دھول کے کیڑے
پالتو جانوروں کے بال یا ان کی خشکی (Animal dander)
کپڑا، قالین یا پرانے فرنیچر میں چھپی الرجی والی چیزیں
سگریٹ کا دھواں، آلودگی یا کیمیکل
موسمی تبدیلی (خاص طور پر بہار اور خزاں میں)
یہ سب چیزیں سانس کے راستے میں سوزش، تنگی یا بلغم پیدا کرتی ہیں۔
سانس کی الرجی کی اقسام
1. ناک کی الرجی (Allergic Rhinitis / Hay Fever)
بار بار چھینکیں
ناک بہنا یا بند ہونا
آنکھوں میں پانی یا خارش
2. دمہ (Asthma)
سانس لینے میں دشواری
سیٹی جیسی آواز (Wheezing)
سینے میں جکڑن
کھانسی، خاص طور پر رات کو یا صبح کے وقت
3. ایٹاپک الرجی (Atopic Allergy)
یہ الرجی اکثر بچپن سے شروع ہوتی ہے اور سانس کے ساتھ جلد پر بھی اثر ڈالتی ہے۔
4. موسمی سانس کی الرجی (Seasonal Respiratory Allergy)
بہار یا خزاں کے موسم میں ہوا میں نمی اور پولن زیادہ ہونے پر ظاہر ہوتی ہے۔
5. پریینئیل الرجی (Perennial Allergy)
سال بھر رہتی ہے، خاص طور پر گھر کی دھول یا پالتو
جانوروں کی وجہ سے۔
علاج !
ویکسینیشن اس کا مناسب علاج ھے
صفائی کا خاص خیال رکھیں
متعلقہ پولن یا الرجن سے بچاؤ یا حفاظتی تدابیر اختیار کی جاۓ
28/09/2025
اگر کوئی پاگل کتا (احتیاطی طور پر کوئی بھی کتا) کاٹ لے تو فوری انٹی باڈی RIG لگوائیں اور ریبیز کی ویکسین کا کورس ضرور مکمل کریں . . چاہے بظاہر زخم بلکل معمولی یا خراش کیوں نہ ہو اور مریض بلکل ہشاش بشاش کیوں نہ ہو۔
اس سلسلے میں ہمارے ہاں آگاہی کی کمی ہے۔
اکثر لوگ اس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
پچھلے سال مجھے میرے بلے Cat نے کاٹ لیا تھا جو کہ غلط فہمی میں واقعہ ہوا ۔
ڈاکٹر کہتا کوئی ایسا مسلہ نہیں تو میں نے اسے مجبور کیا کہ مجھے ریبیز کی وکسین لگائی جاۓ،
اس طرح میں نے کورس مکمل کیا۔
ریبیز کے جراثیم سال دو بعد بھی ایکٹو ہو سکتے ہیں
اور جب ایسا ہو جاۓ تو یہ تقریبا لا علاج ہے،
اس لئے کبھی بھی کوتاہی نہ کریں ڈسٹرکٹ ہسپتال میں یہ موجود ہے اور بلکل فری ہے۔
یہاں ایک مریض آپ دیکھ سکتے ہیں جس نے کوتاہی کی اور اب شدید بیمار ہے،۔چوہنگ کا 27 سالہ نوجوان حامد بن اسلم کئی دنوں سے الخدمت کے فلڈ ریلیف کیمپ میں کام کر رہا تھا۔ ایک متاثرہ علاقے میں کھانا تقسیم کرنے کے دوران اسے پاگل کتے نے کاٹ لیا ، کچھ دن پہلے اس میں (Rabies) کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں تو میو ہاسپٹل میں ایڈمٹ کرایا گیا ، سوشل میڈیا پر یہ کیس ہائی لائٹ ہوا ۔ بتایا گیا کہ پرسوں حالت کچھ بہتر ہوئی، وہ کھانے پینے اور بات چیت کرنے لگا۔ خوشی ہوئی کہ حامد اب ٹھیک ہو رہا ہے ۔ لیکن آج اس کی طبیعت پہلے سے بھی بگڑ گئی ہے ۔اور اسے زنجیروں سے باندھنا پڑا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ربیز میں وقتی بہتری دھوکہ ہوتا ہے، ربیز دنیا کی سب سے جان لیوا بیماریوں میں سے ایک ہے۔ یہ وائرس جیسے ہی یہ دماغ پر حملہ کرتا ہے، اس کے بعد دنیا کی کوئی جڑی بوٹی، کوئی ٹوٹکا، کوئی دوا، کوئی ڈاکٹر، کوئی ہسپتال، کوئی ویکسین کام نہیں آتی۔ربیز کی علامات ظاہر ہو جائیں تو مریض کے زندہ بچنے کے امکانات تقریباً صفر (0–1%) رہ جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں اب تک صرف 4,5 ہی کیسز ایسے ہیں جہاں مریض بچ پایا، اور وہ بھی نایاب مثالیں ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے سے ہر سال کئی لوگ ربیز کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ، اول تو چھوٹے ہسپتالوں میں ربیز کی ویکسین ہی میسر نہیں ہوتی ، ہو بھی تو لوگ لگوانے میں اتنی دیر کردیتے ہیں کہ یہ وائرس اعصاب اور دماغ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ، پھر دنیا کا کوئی علاج ۔۔۔ اس کو ٹھیک نہیں کرسکتا ۔ پاگل کتے کے کاٹنے کے بعد علاج میں سستی ، جھاڑ پھونک، دیسی علاج یا انتظار کرنا ۔۔۔ سیدھا سیدھا موت کو آواز دینا ہے ۔
کل ایک سرکاری ڈاکٹر صاحب بتا رہے تھے کہ اگر کاٹنے کی جگہ چہرے، گردن یا انگلیوں پر ہو، یا زخم بہت گہرا ہو تو ویکسین کے ساتھ ساتھ Rabies Immunoglobulin (RIG) لگانا بھی لازمی ہوتا ہے۔ یہ وائرس کو فوراً زخم پر ہی بے اثر کرتا ہے۔ لیکن ہمارے ہسپتالوں میں (RIG) انجیکشن بروقت دستیاب نہیں ہوتا۔ مریض کو کہا جاتا ہے کل آنا ، ویکسین شارٹ ہے۔ ۔ جبکہ صرف اینٹی ریبیز ویکسین اس صورت میں ناکافی ہوتی ہے
حامد کی زندگی اور صحت کے لیے ہم سب دعا گو ہیں۔ اللہ تعالی ہی کوئی معجزہ کردے ، اس اسٹیج پر میڈیکل سائنس تو بےبس ہے ۔ لیکن کتے کے کاٹنے کے بعد ، چاہے وہ باؤلا نہ بھی ہو ، 24 گھنٹے کے اندر ویکسین لگوائیں ۔ اور حکومت سے بھی درخواست ہے جگہ جگہ آوارہ کتے پھر رہے ہیں ، کوئی گلی ، کوئی محلہ محفوظ نہیں ، ان کا بندوست کریں ، نہیں ہوسکتا تو ہسپتالوں میں (RIG) ویکسین کا تو بندوبست کرکے رکھیں ۔۔۔تاکہ کسی کا جان کا ٹکڑا ، کسی کا حامد یوں ہسپتال میں نہ تڑپے