01/07/2025
*میٹرک کے رزلٹ کی آمد پر والدین کے لیے ایک مشورہ*
تین بالکل نئی کاریں ہیں۔ ایک آلٹو 660 سی سی، ایک کرولا 1000 سی سی اور ایک ہیول 1500 سی سی ۔ کون تیز دوڑے گی۔ یقینا ہیول تیز دوڑے گی لیکن آلٹو کو ہم برا یا خراب نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس کا انجن اور پارٹس بالکل نئے اور ٹھیک ہیں۔ وہ سپیڈ کے حوالے سے تو دوسروں سے کچھ پیچھے ہے لیکن کئی حوالوں سے دوسری گاڑیوں سے بہتر ہے مثلاً وہ ان تنگ گلیوں میں بھی جا سکتی ہے جہاں دوسری سوچ بھی نہیں سکتیں۔ وہ رش میں بڑی گاڑیوں کے نسبت اپنا راستہ جلدی بنا لیتی ہے اور ٹوٹے پھوٹے روڈز پر بھی دوسری بڑی گاڑیوں سے تیز دوڑ سکتی ہے۔
انسانی ذہانت بھی اسی طرح سے ہر انسان میں مختلف ہوتی ہے لیکن ہر طرح اور ہر قسم کی ذہانت کے اپنے فائدے ہیں۔ کسی میں اگر رٹے والی ذہانت کم ہے تو پہلی بات اس کو الزام نہ دیں، اس کے بنانے والے کو الزام دیں جو آپ ہیں یا رب کریم ۔ دوسرا اس سے رزلٹ بھی بڑی گاڑیوں والے مت مانگیں۔
کسی ایک شعبے میں کسی کے آگے ہونے سے یہ بالکل مراد نہیں کہ وہ ہر شعبے میں آگے ہوگا اور دوسرا ہر شعبے میں پیچھے۔ آپ بچے سے صرف محنت کا تقاضا کر سکتے ہیں، مناسب محنت سے اچھی محنت تک۔
اس کے علاوہ کسی چیز کا خصوصاً نتائج کا تقاضا بالکل مت کریں کیونکہ نتائج اس کے ہاتھ میں نہیں رب کریم کے ہاتھ میں ہیں۔
*میٹرک کا رزلٹ آنے والا ہے۔ اپنے شعور کو بلند کیجئے۔ جو بھی رزلٹ آئے، اس میں سے کوئی نہ کوئی خوبی ڈھونڈیے اور اپنے بچے کی حوصلہ افزائی کیجئے* *کیونکہ اس نے کسی نہ کسی حد تک محنت کی ہے۔*
*اگر مطلوبہ نتائج نہیں آئے تو چار پانچ دن کے بعد جب بچہ پرسکون حالت میں ہو تو اس کے ساتھ بیٹھ جائیے۔ ٹھنڈے دل و* *دماغ سے صورتحال کا تجزیہ analysis کیجیے اور پھر اس میں سے بہتر حل نکالیے.*
بچے کے رزلٹ پر جذباتی ہونے سے اپنے آپ کو روکیے کہیں کوئی بڑا نقصان نہ ہو جائے اور *ہاں یاد رہے آپ سے زیادہ آپ کا بچہ سٹریس میں ہوگا اس وقت اس کو آپ کی سپورٹ، محبت اور اپنائیت کی* *ضرورت ہے**