23/01/2026
اب وقت آچکا ہے تمام طلبہ یکجا ہو جائیں۔ اس نظام کو ختم کر دیں.
University of Azad Jammu & Kashmir Examination Department
Higher Education Commission, Pakistan
آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں، بالخصوص تحصیل دہیرکوٹ، میں شدید برف باری کے باعث معمولاتِ زندگی مفلوج ہو چکے ہیں۔ لوگ گھروں تک محدود ہیں، ہر قسم کی ٹریفک بند ہے، مگر ایک مظلوم طبقہ — یعنی طلبہ — اس کٹھن موسم میں بھی امتحانات دینے پر مجبور ہے۔
آبھی رات جب میں دہیرکوٹ بازار میں موجود تھا تو چند نوجوان نظر آئے جو بظاہر مسافر لگ رہے تھے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ ڈگری کالج دہیرکوٹ کے طلبہ ہیں۔ آج ان کا پرچہ تھا مگر گھروں کے فاصلے اور راستوں کی بندش کے باعث وقت پر نہ پہنچ سکے اور پرچہ نہیں دے پائے۔ اب وہ رات دہیرکوٹ میں گزاریں گے تاکہ کل کا امتحان دے سکیں۔
سوال یہ ہے کہ گزشتہ دو ہفتے موسم خوشگوار ہونے کے باوجود کالجز بند رہے، اور اب جبکہ شدید برف باری ہے، امتحانات شروع کر دیے گئے ہیں۔ نہ پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب ہے اور نہ ہی کوئی اور گاڑی چلنے کے قابل ہے۔ ایسے میں رنگلہ، ڈنہ کچیلی، ساہلیاں اور دیگر دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ، خصوصاً طالبات، پیدل سفر کر کے کیسے امتحان تک پہنچ سکتے ہیں؟
طلبہ کی بارہا درخواستوں کے باوجود کالج انتظامیہ کی جانب سے یہی جواب دیا جاتا ہے کہ “ہم کچھ نہیں کر سکتے، یونیورسٹی ہماری بات نہیں مان رہی۔” المیہ یہ ہے کہ بھاری فیسیں ادا کرنے کے باوجود اگر طلبہ اپنے حق کی آواز بلند کریں تو اسے دبا دیا جاتا ہے۔ اگر کالج انتظامیہ واقعی بے بس ہے تو پھر وہ طلبہ کی جانوں اور مستقبل کے ساتھ کیوں کھیل رہی ہے؟
میرے چند جائز مطالبات یہ ہیں:
1. جن طلبہ و طالبات کے امتحانات رہ گئے ہیں، ان کے لیے کالج یا یونیورسٹی انتظامیہ کیا لائحہ عمل اختیار کرے گی؟
2. بجلی کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہے، جگہ جگہ تاریں زمین بوس ہیں۔ ایسے حالات میں طلبہ امتحان کی تیاری کیسے کریں، جبکہ بی ایس اور گریجویشن سطح پر زیادہ تر تعلیم آن لائن ہوتی ہے؟
تمام سول سوسائٹی اور اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ ان بچوں کی آواز بنیں، اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کریں۔