12/09/2026
ازاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کا حل میرے نزدیک صرف کسی ایک مطالبے کو مان لینا یا حکومت تبدیل کرنا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ اعتماد کے بحران، کمزور حکمرانی، سیاسی نمائندگی، مراعات، وسائل اور عوامی احتساب کا مجموعہ ہے۔ حالیہ احتجاجی مطالبات بھی بجلی، آٹے اور مہنگائی سے آگے بڑھ کر سیاسی و آئینی اصلاحات تک پہنچ چکے ہیں۔
ممکنہ عملی حل
1. فوری طور پر غیر مشروط مذاکرات حکومت، JKJAAC، سیاسی جماعتوں، تاجروں، وکلا، سول سوسائٹی اور منتخب نمائندوں پر مشتمل ایک بااختیار مذاکراتی فورم بنایا جائے۔ مذاکرات کا مقصد صرف احتجاج ختم کرنا نہیں بلکہ تحریری اور قابلِ عمل معاہدہ ہونا چاہیے۔
2. 38 نکاتی چارٹر کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے
فوری مطالبات: بجلی، آٹا، ٹیکس، مہنگائی اور بنیادی سہولیات۔
6 ماہ کے اندر اصلاحات: حکومتی اخراجات، مراعات، بلدیاتی اختیارات، احتساب اور انتظامی اصلاحات۔
طویل مدتی معاملات: آئینی، انتخابی اور نمائندگی سے متعلق اصلاحات۔
یہ ضروری ہے کیونکہ ہر مطالبہ فوری طور پر پورا کرنے کا وعدہ عملی نہیں ہوگا۔
3. بجلی کے معاملے پر مستقل فارمولا منگلا سمیت AJK کے اندر پیدا ہونے والی بجلی، پیداواری لاگت، ترسیلی اخراجات اور صارفین کے ٹیرف کا شفاف حساب عوام کے سامنے رکھا جائے۔ بجلی کے نرخ کے لیے ایک آزاد ریگولیٹری/تکنیکی کمیٹی بنائی جائے۔
4. حکمران طبقے کی مراعات میں حقیقی کمی صرف اعلانات نہیں۔ وزراء، ممبران اسمبلی اور اعلیٰ سرکاری افسران کی:
گاڑیوں
غیر ضروری سرکاری اخراجات
سفری مراعات
سرکاری رہائش
غیر ضروری عہدوں
کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے اور سالانہ رپورٹ شائع کی جائے۔
5. انتخابی نظام پر سنجیدہ نظرثانی مہاجرین کی نشستیں، انتخابی حلقہ بندی، reserved seats اور نمائندگی جیسے معاملات جذباتی نعروں کے بجائے آئینی ماہرین، سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کی باقاعدہ کمیٹی کے ذریعے حل کیے جائیں۔ موجودہ بحران میں نمائندگی کا سوال مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
6. وسائل پر AJK کا زیادہ مؤثر اختیار AJK کے آبی، معدنی، جنگلاتی اور دیگر وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد کا شفاف حساب ہو۔ وفاق اور AJK کے درمیان Revenue/Resource Sharing Formula واضح کیا جائے۔
7. بلدیاتی اداروں کو حقیقی اختیار چیئرمین، میئر اور بلدیاتی اداروں کو صرف نمائشی عہدے نہ رکھا جائے۔ انہیں قانون کے مطابق:
فنڈز
عملہ
ترقیاتی اختیار
مقامی منصوبہ بندی
دیا جائے۔
8. احتجاج کے دوران طاقت کا استعمال آخری آپشن ہو پرامن احتجاج جمہوری حق ہے۔ تشدد، توڑ پھوڑ یا سرکاری املاک پر حملہ قابلِ قبول نہیں، لیکن ریاست کا جواب بھی متناسب ہونا چاہیے۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی حالیہ رپورٹ نے AJK میں civic space اور احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
سب سے اہم بات
میرے خیال میں AJK کا مسئلہ صرف "وفاق بمقابلہ آزاد کشمیر حکومت" نہیں ہے۔ اگر صرف حکومت تبدیل کردی جائے مگر وہی نظام، وہی مراعات، وہی کمزور احتساب اور وہی سیاسی طریقۂ کار برقرار رہے تو چند ماہ بعد بحران دوبارہ پیدا ہوگا۔
اس لیے بہتر راستہ یہ ہے:
عوامی احتجاج → بااختیار مذاکرات → تحریری معاہدہ → قانون سازی → ٹائم لائن → آزادانہ نگرانی → عوام کے سامنے عملدرآمد کی رپورٹ
اور ایک AJK Reform Charter بنایا جائے جس میں اگلے 100 دن، 1 سال اور 3 سال کے واضح اہداف مقرر ہوں۔
موجودہ سیاسی بحران میں صرف چہرے بدلنے کے بجائے نظام کی اصلاح ہی پائیدار حل ہے۔