02/05/2026
Saad Arshad Masoodi
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Saad Arshad Masoodi, Educational consultant, محمدیہ چوک، بائی پاس روڈ گوجرہ, Muzaffarabad.
02/05/2026
13/11/2025
The scariest part of pursuing your goals isn't starting — it's continuing when nothing is working.
When things get tough and progress seems invisible, that’s exactly when strength is built. Keep going — your consistency today will become your success story tomorrow.
12/11/2025
کبھی یوں بھی سوچیے...
کبھی زندگی میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم ایک ہی دائرے میں بار بار گھوم رہے ہیں۔ ہر کوشش، ہر قدم، وہیں واپس لے آتا ہے جہاں سے چلے تھے۔ مایوسی گھیر لیتی ہے کہ شاید کچھ بدلنے والا نہیں۔ لیکن کیا واقعی ہم ایک ہی جگہ کھڑے ہیں؟
اگر ہمیں لگتا ہے کہ ہم دائروں میں بھٹک رہے ہیں، تو ذرا زاویۂ نظر بدل کر دیکھئیے۔ وہی دائرہ، جب اوپر سے نہ دیکھ کر سائیڈ سے دیکھا جائے تو ترقی کی سیڑھی بن جاتا ہے۔ ایک اسپائرل، جو ہر چکر کے ساتھ ہمیں بلند تر مقام پر لے جاتا ہے۔ فرق صرف دیکھنے کے انداز کا ہے۔
زندگی میں بھی بہت بار ہمیں صرف "تناظر" بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاید ہم وہیں نہیں کھڑے جہاں کل تھے، بس ہماری نظر ابھی اس تبدیلی کو محسوس نہیں کر پائی۔
اپنی کوششوں کو بے کار نہ سمجھئے۔ ہو سکتا ہے ہم منزل کے بہت قریب ہوں... بس اب خود کو نئی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
کبھی رک کر، ایک قدم پیچھے ہٹ کر دیکھئیے... شاید ہم آگے بڑھ رہے ہوں، بس اندازِ نظر بدلنے کی دیر ہے۔
07/11/2025
محترم اساتذہ کرام
چند روز سے سوشل میڈیا پر بعض تحریریں گردش کر رہی ہیں جن میں “سکیم آف سٹڈی” کی بنیاد پر نئے ماڈل پیپرز پر اعتراض کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ کچھ نکات ہم اساتذہ کے لیے سمجھنا ضروری ہیں۔
اولاً یہ کہ سکیم آف سٹڈی (Scheme of Study) کا بنیادی مقصد صرف تدریسی ایام کی تقسیم، امتحانات کے شیڈیول، تعطیلات، ہم نصابی سرگرمیوں اور نصابی مواد کی تدریسی ترتیب کو منظم کرنا ہوتا ہے۔ یہ دراصل Academic Calendar یا Teaching Plan کی طرز پر ایک تدریسی رہنمائی دستاویز ہے — نہ کہ امتحانی پیٹرن یا پرچے کی ساخت طے کرنے والا دستاویز۔
ثانیاً ماڈل پیپر (Model Paper) کا تعین نصاب (Curriculum) کی روشنی میں کیا جاتا ہے، جس کے بنیادی اجزاء Benchmarks، Competencies، اور SLOs (Student Learning Outcomes) ہیں۔ یہ وہ عناصر ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ طلبہ سے امتحان میں کون سی مہارتیں، تصورات اور سیکھنے کے نتائج متوقع ہیں۔
لہٰذا ماڈل پیپر کی تشکیل یا تبدیلی ہمیشہ Curriculum کے مطابق کی جاتی ہے، نہ کہ “Scheme of Study” کے مطابق۔ اگر کسی جگہ ماڈل پیپر اور سکیم آف سٹڈی میں بظاہر فرق دکھائی دیتا ہے تو وہ فرق تدریسی شیڈیول کی نوعیت کا ہے، نہ کہ نصابی یا امتحانی۔
مزید یہ کہ ماڈل پیپرز کا مقصد اساتذہ اور طلبہ کو امتحانی طرز سے آگاہی اور رہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ تدریسی تسلسل کو متاثر کرنا۔ یہ ایک تربیتی و تشخیصی آلہ ہے، جسے نصاب کے Benchmarks اور SLOs کے مطابق ہی ڈیزائن کیا جاتا ہے۔
اساتذہ کرام سے گزارش ہے کہ وہ تدریس کا عمل ہمیشہ نصاب اور اس کے جملہ عوامل بشمول SLOs کی بنیاد پر جاری رکھیں، نہ کہ ماڈل پیپرز کے ذریعے۔ کیونکہ اگر تدریس نصاب اور SLOs کے تقاضوں کے مطابق کی جائے تو طلبہ جس بھی ماڈل پیپر کے تحت پرکھے جائیں، وہ کامیابی کے ساتھ مطلوبہ نتائج حاصل کریں گے۔
مزید برآں، حالیہ مباحث میں انگریزی اور اردو کے مضامین یا پیراگراف رائٹنگ کے حوالے سے جو اعتراض اٹھایا گیا ہے، اس کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ پیراگراف کے عنوانات بتانا نصاب سازی کے عمل کا حصہ نہیں۔ نصاب میں واضح طور پر طلبہ کی تخلیقی لکھائی (Creative Writing) کو فروغ دینے کی بات کی گئی ہے، جس میں Expository, Descriptive، اور Narrative Essay Writing شامل ہیں، نہ کہ صرف چند پیراگراف یا مضامین کے عنوانات یاد کروا دینا۔
اس سال تیار ہونے والے پیپرز میں blooms taxonomy کے پہلے تین درجے کے مطابق امتحانات لیئے جائیں گے۔ جن میں Knowledge, Understanding, Application, ۔
اور اگر ہر استاد کریکولم ، ایسیسمنٹ فریم ورک ، ماڈل پیپرز اور ٹیبل آف سپیسیفیکیشں کو اچھی طرح مطالعہ کر کے سمجھ لے، اور ان کے مطابق پیپر پیٹرن کی طرز کے ٹیسٹ بچوں سے لے تو یقیناً بچے امتحانات کے لیئے تیار ہو جائیں گے۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ اس نوعیت کے اعتراضات دراصل نصاب کے بنیادی تصورات اور مقاصد سے عدم واقفیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک پیشہ ور استاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ نصاب، اس کے Benchmarks، Competencies، اور SLOs کو گہرائی سے سمجھے، تاکہ وہ طلبہ کی رہنمائی سائنسی اور جدید تعلیمی خطوط پر کر سکے۔
نصاب کے چند سٹینڈرڈز(معیارات) ور حاصلات تعلم ملاحظہ فرمائے جا سکتے ہیں۔
شکریہ
خیر اندیش
سعد مسعودی
06/09/2025
#منقول
دریا کے انڈے
سوات سے ایک دوست ہیں حالیہ سیلاب سے تباہی پر ان سے بات چیت ہو رہی تھی تو بتا رہے تھے کہ ہمارے علاقے میں ایک جگہ بہت اچھی قیمت پر ایک باغ مل رہا تھا میرے پاس پیسے فالتو پڑے ہوئے تھے سوچا باغ خرید لیتے ہیں، اپنے ایک بھائی، والد صاحب اور چچا کو ساتھ لیا اور باغ دیکھنے چلے گئے، میں اور بھائی پھلدار درختوں کی تعریف کیے جا رہے تھے جبکہ والد اور چچا جان اپنی لاٹھیوں سے باغ میں ایک جگہ زمین کھود رہے تھے انہوں نے تقریباً دو فٹ سے زیادہ گہرا کھڈا کھود لیا اور نیچے سے ایک گول پتھر ملا جسے والد صاحب نے ہاتھ میں پکڑا کر کچھ دیر گھورا پھر تھوڑا سا اور کھڈا گہرا کیا تو دو تین اسی طرح کے گول پتھر ملے تو والد صاحب نے ہماری طرف پتھر اُچھال کر گھبرائی ہوئی آواز میں پوچھا کہ جانتے ہو یہ کیا ہیں؟
ہم دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ تو عام سے نظر آنے والے پتھر ہیں، اور میں سوچ رہا تھا کہ جیسے والد اور چچا جان ان پتھروں کو دیکھ کر پریشان ہوئے ہیں ایسا لگ رہا ہے جیسے ان کو ان پتھروں میں کوئی بم نظر آ گیا ہو،
ابھی والد صاحب کی بات کا جواب دیا ہی تھا کہ والد صاحب نے کہا کہ ہم یہ باغ نہیں خریدیں گے کیونکہ یہاں وہ دور بہنے والے دریا کے انڈے پڑے ہوئے ہیں جن کو لینے وہ دریا کبھی بھی یہاں آ سکتا ہے اور پل بھر میں یہ باغ اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گا، دوست کہتا ہے کہ ہم واپس آ گئے دو سال کا عرصہ بیت گیا اور آخر وہ دن آ گیا کہ جب دریا اپنے انڈے لینے آیا اور باغ کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا، دوست کہتا ہے کہ جب والد صاحب اور چچا نے منع کیا تو مجھے دل میں بہت برا لگا کہ یہ بُڈھے کتنے پرانے خیالات کے ہیں، پر میں نے یہ بات فوراً دل سے جھٹک دی، اور اپنی خواہش اور غصے پر قابو پا لیا مگر جس دن سیلاب کے بعد وہ جگہ دیکھی جہاں باغ کا نام و نشان تک نا تھا اُس دن والد اور چچا کی بات کی سمجھ آئی
#منقول
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Muzaffarabad
13100