Khawja jamil

Khawja jamil

Share

sharing of ideas and views for socialist revolution.

16/02/2026

بھارت: مودی سرکار کے جبر تلے دبے تضادات

راہول

بھارت کی سیاست، ثقافت اور معیشت ایک منظم طریقے سے ہندو بنیاد پرستی کے نظریاتی شکنجے میں جکڑی جا رہی ہے۔ مودی سرکار نے ہندوتوا کو محض ایک انتخابی نعرہ نہیں بلکہ ریاستی طاقت، سنیما، کرکٹ، تعلیمی نصاب اور عوامی شعور کے ہر کونے میں سرایت کر جانے والا ہمہ گیر بیانیہ بنا دیا ہے۔ جس کی بھاری رجعت تلے محنت کشوں کی غربت، نوجوانوں کی بیروزگاری، کسانوں کی بربادی اور عام سماجی ناانصافیوں کو دفن کر دیا جاتا ہے۔ مصنوعی اور کھوکھلے قومی تفاخر، مذہبی جنون، ہندو شاونزم اور ’’چمکتے ابھرتے بھارت‘‘ کے فریب کی یلغار ہے۔ بنیادی مقصد یہ ہے جب لوگ بھوک کی بات کریں تو انہیں ایودھیا کے رام مندر میں الجھا دیا جائے، جب نوجوان تعلیم و روزگار مانگیں تو انہیں ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جائے اور جب مفلوک الحال کسان سڑکوں پر احتجاج کریں تو انہیں علیحدگی پسند اور ملک دشمن کہہ کر کچل دیا جائے۔ یوں ہندواتو کا یہ ابھار ایک سوچے سمجھے سیاسی منصوبے کا نتیجہ ہے۔ ایک ایسا منصوبہ جسے بائیں بازو کے نظریاتی انحرافات اور پسپائی نے پنپنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

ہندتوا، بالی ووڈ اور کرکٹ

فسطائیت کا یہ بیانیہ اب فن و ثقافت کے میدان میں ریاستی پالیسی کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔ جس کا واضح اظہار انڈین سینما اور کرکٹ کی زوال پذیری کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کرکٹ کو سرمایہ دارانہ دنیا میں بالعموم ایک تفریح اور کاروباری سرگرمی سمجھا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان اور ہندوستان میں اسے ڈپلومیسی کے وسیلے اور سیاسی مقاصد کے لیے کئی دہائیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن حالیہ عرصے میں بھارت میں اس عمل کو ایک نئی انتہا پر لے جا کے کرکٹ کو ہندو شاؤنزم کے پرچار کا ایک کلیدی اوزار بنا دیا گیا ہے۔ حال ہی میں ایشیا کپ کے دوران بھارتی کھلاڑیوں کا پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ نہ کرنے اور ٹرافی وصول کرنے سے انکار اس بات کی علامت تھی کہ اب کس ڈھٹائی سے کھیل کو قومی و مذہبی نفرت پر مبنی ریاستی بیانئے کی نذر کیا جا رہا ہے۔ ایسی ہی واردات بالی ووڈ کو مسخ کرتی چلی گئی ہے۔ یہ سیاست کے ساتھ ساتھ سینما، میڈیا، کھیل اور ثقافت کو ایک ہی رجعتی نظریاتی سانچے میں ڈھال کر عوامی شعور پر ہمہ جہت تسلط قائم کرنے کا پراجیکٹ ہے۔ جس میں سوال اٹھانا جرم اور اختلاف غداری بنا دیا گیا ہے۔ بالی ووڈ، جو کبھی جزوی طور پر ہی سہی ‘سماج کی آئینہ داری کرتا تھا اور محروم طبقات کی آواز بنتا تھا، اب ہندوتوا ریاستی نظریے کا فلمی بازو بن چکا ہے۔ ’آرٹیکل 370‘، ’کشمیر فائلز‘ اور ’دھرندر‘ اس رجحان کی تازہ مثالیں ہیں۔ یہ فلمیں حقائق کو مسخ کر کے سینما کو مذہبی نفرت اور حقارت پر مبنی جذباتی ڈرامے میں بدل دیتی ہیں اور انہیں بجا طور پر انتہائی زہریلے پروپیگنڈا کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ جس میں کشمیر، پاکستان، مسلمان، طالب علم اور سوال اٹھانے والے انسان… سب کو ایک مشترکہ دشمن اور غدار کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ جبکہ ریاستی طاقت کو نجات دہندہ، سرکاری جاسوس کو ہیرو اور جبر و تشدد کو حب الوطنی کے استعارے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

ممبئی میں مقیم معروف فلمی نقاد مایانک شیکھر کے مطابق دھرندر جیسی فلمیں ان لوگوں نے تخلیق کی ہیں جنہوں نے کبھی کراچی دیکھا ہے ‘ نہ ہی شاید کبھی دیکھیں گے۔ اسی لاعلمی اور تعصب کا نتیجہ ہے کہ کروڑوں محنت کشوں سے آباد اور کاروباری سرگرمیوں سے بھرپور دنیا کے بڑے میٹروپولیٹن شہر کو فلم میں خاک آلود، کھنڈر نما اور مسلسل بمباری سے تباہ شدہ بستی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ جہاں نہ کوئی ثقافت ہے، نہ شہری زندگی کی جھلک اور نہ ہی جدت کی کوئی علامت۔ ایک حوالے سے دیکھیں تو افغانستان کے انتہائی جنگ زدہ علاقوں کے خدوخال کو زبردستی کراچی پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ شیکھر کے مطابق یہ رویہ محض بالی ووڈ تک محدود نہیں بلکہ وہی نو آبادیاتی تعصب زدہ نگاہ ہے جو ہالی ووڈ اکثر ’تیسری دنیا‘ کو دکھاتے وقت اپناتا ہے۔ جہاں پسماندہ یا ’دشمن‘ ممالک کو مخصوص زرد، سرمئی یا دھندلے رنگوں میں رنگ دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ فلم ’ایکسٹریکشن‘ میں ڈھاکہ کو محض تشدد اور غربت کی علامت بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ شیکھر کے مطابق یہ فلمی نمائندگی نہ حقیقت ہے‘ نہ فن۔ بلکہ تعصب پر مبنی ایک نو آبادیاتی بصری پروپیگنڈا ہے جو پورے معاشروں کو ایک مسخ شدہ آئینے میں دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔

اپنے مضمون ’’چرچ، ووڈکا اور سنیما‘‘ میں ٹراٹسکی جس سنیما کو عوامی شعور کی تشکیل کا سب سے طاقتور اوزار قرار دیتا ہے وہ مودی سرکار کے ہاتھ میں ہندوتوا کے پرچار کا ہتھیار بن چکا ہے۔ یہ درحقیقت سرکاری نظریات کی وہی’’غیر جانبدارانہ‘‘ شکل ہے جس کے بارے میں ٹراٹسکی خبردار کرتا ہے۔ دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ صرف ایک فلم دیکھ رہا ہے۔ لیکن اس کی آنکھ، احساس اور لاشعور میں دشمن کی مخصوص تصویر، ’’اپنی‘‘ ریاست کی حقانیت اور طاقت اور جنگ و جدل کے استعمال کے جواز کو خاموشی سے اتارا جا رہا ہوتا ہے۔ اس قسم کی فلموں میں زمینی حقائق کی پیچیدگی، حقیقی سماجی تضادات، تاریخی سیاق و سباق اور سیاسی اختلافات کو دانستہ طور پر غائب کر دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ ایک ایسا ضرورت سے زیادہ سادہ، جذباتی اور جارحانہ رجعتی بیانیہ رکھ دیا جاتا ہے جس کے ذریعے ٹراٹسکی کے مطابق ریاست عوام کو ’’سوچنے کے بجائے ماننے‘‘ پر مجبور کر دیتی ہے۔ درحقیقت یہ فن یا تفریح نہیں بلکہ ایک نظریاتی و نفسیاتی یلغار ہے۔ جس کا مقصد عوام کو سوچنے سمجھنے سے باز رکھنا، تشدد اور خوف کو معمول بنانا اور قومی سلامتی و تفاخر کے نام پر غربت، بیروزگاری، عدم مساوات اور جمہوری حقوق کی سلبی کو چھپانا ہے۔ تاہم فلمی پردے پر گھڑے گئے یہ انسان دشمن فسانے وقتی تالیاں تو سمیٹ سکتے ہیں لیکن معاشرے کے سلگتے مسائل اور تضادات کو حل بہرحال نہیں کر سکتے۔

ریاستی انتخابات میں کامیابی کا فریب

گزشتہ سال ہونے والے بیشتر ریاستی انتخابات میں مودی کا انتخابی اتحاد بڑے پیمانے پر کامیاب ہوتا دکھائی دیا ہے (ان سطور کی تحریر کے وقت دہلی کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں بھی بی جے پی نے بڑی اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے)۔ جس کے بعد یہ تاثر دانستہ طور پر ابھارا جا رہا ہے کہ مودی کی گرتی ہوئی مقبولیت ایک بار پھر عوامی پذیرائی میں تبدیل ہو رہی ہے۔ خود بی جے پی کے دعوے کے مطابق 2014ء میں، جب نریندر مودی اقتدار میں آیا، پارٹی کے مختلف ریاستی اسمبلیوں میں ارکان کی تعداد محض 1035 تھی، جو بہار کے حالیہ انتخابات کے بعد بڑھ کر 1654 تک جا پہنچی ہے۔ پارٹی قیادت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ دو برسوں میں مزید 150 نشستوں کا اضافہ کوئی بعید از قیاس بات نہیں۔

تاہم اگر اس پوری صورتحال کا سنجیدگی اور گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ فتوحات مودی کی کسی قابل ذکر کارکردگی اور عوامی خوشحالی کا نتیجہ نہیں ہیں۔ یہ کامیابیاں ایک طرف اپوزیشن (خصوصاً کانگریس، مقامی پارٹیوں اور بائیں بازو) کی انتخابی بد انتظامی، نظریاتی دیوالیہ پن اور عوامی سیاست سے کٹ جانے کی بدولت حاصل ہوئیں۔ دوسری طرف انتخابی عمل میں بے تحاشہ دھونس اور پیسے کے استعمال اور ریاستی طاقت و کارپوریٹ سرمائے کے باہمی گٹھ جوڑ کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔

مودی سرکار گزشتہ ایک دہائی کے دوران روزگار، غربت، صحت اور تعلیم سے جڑے بنیادی عوامی مسائل میں سے کسی ایک کا بھی کوئی ٹھوس اور دیر پا حل پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مسلسل دس برس اقتدار میں رہنے کے باوجود یہ حکومت اپنے کسی اہم انتخابی وعدے کو عملی جامہ نہیں پہنا سکی۔ لیکن اس طویل اقتدار کے دوران مسلسل نفرت، دھونس اور فریب پر مبنی ریاستی پروپیگنڈا کے ذریعے نہ صرف بھارتی عوام بلکہ عالمی رائے عامہ کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش مسلسل کی جاتی رہی ہے۔ چاہے بات شوچالے (ٹوائلٹ) بنانے کی ہو یا ہر سال دو کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کی۔ یہ تمام منصوبہ جات محض تقاریر اور تشہیری مہمات تک ہی محدود رہے ہیں۔ جبکہ بدترین معاشی جبر اور غربت نے وسیع تر عوام کی زندگیوں کو مزید تباہی و بربادی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ کسانوں کے حقوق کے خلاف متنازع زرعی اصلاحات، پبلک سیکٹر کی تیز رفتار نجکاری اور لیبر قوانین میں اصلاحات کے نام پر محنت کش طبقے کے آئینی و جمہوری حقوق پر حملہ‘ یہ سب وہ پالیسیاں ہیں جو مودی کے دورِ اقتدار کی اصل ’’حاصلات‘‘ ہیں۔ ان اقدامات نے نہ صرف لاکھوں کروڑوں افراد کو روزگار سے محروم کیا ہے بلکہ ریاست کھلے عام کارپورٹ سرمائے کے مفادات کے ضامن کے طور پر بے نقاب ہوئی ہے۔ اس تناظر میں حاصل ہونے والی انتخابی کامیابیاں کسی عوامی خوشحالی، معاشی استحکام یا سماجی ترقی کی علامت نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ جبر، منظم ریاستی پروپیگنڈے اور اپوزیشن خصوصاً کانگریس اور بائیں بازوں کی جماعتوں کی اپنی سیاسی و نظریاتی کمزوریوں کی پیداوار ہیں۔

اپوزیشن اور بائیں بازو کا زوال

کانگریس اور دوسری نام نہاد اپوزیشن کی حالت یہ ہے کہ وہ کئی انتخابات میں مودی کی کمزور پوزیشن اور ممکنہ شکست کو بھی اپنی جیت میں تبدیل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ بیشتر انتخابات میں کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں نیو لبرل معاشی ڈھانچے، سرمایہ دارانہ لوٹ مار اور ریاستی جبر پر کوئی بنیادی سوال اٹھانے کے بجائے خود کو محض ایک ’’مودی مخالف‘‘ اخلاقی اپوزیشن اور آئینی محافظ کے طور پر ہی پیش کیا۔ اس مفلوج اپوزیشن کے پاس نہ کوئی عوامی پروگرام اور نعرہ ہے، نہ ہی عوامی مسائل کا کوئی حقیقی اور قابل عمل حل۔ کانگریس کا انتخابی منشور سیکولرزم اور جمہوریت کے کھوکھلے نعروں کے ساتھ انہی نیو لبرل پالیسیوں کا تسلسل ہے جن پر مودی اور اس کے اتحادی پہلے سے عمل پیرا ہیں۔

دوسری طرف بھارت میں بائیں بازو کی جماعتوں کا زوال بی جے پی کے عروج کی نسبتاً خاموش لیکن بنیادی وجوہات میں سر فہرست ہے۔ وہ پارٹیاں جو کبھی مزدوروں، کسانوں اور دوسرے مظلوم طبقات کی آواز سمجھی جاتی تھیں‘ آج پارلیمانیت، طبقاتی مفاہمت، اصلاح پسندی اور نیو لبرل نظام سے مصالحت کے دلدل میں اس حد تک دھنس چکی ہیں کہ سوشلزم اور طبقاتی جدوجہد کا نام لینا بھی گوارا نہیں کرتی ہیں۔ ان کمیونسٹ پارٹیوں نے مرحلہ واریت اور اصلاح پسندی کے نظریات کے تحت سرمایہ داری پر کوئی بھرپور سیاسی ضرب لگانے کی بجائے اسے جمہوریت اور سیکولرزم کے نام پر ایک انسانی روپ میں ڈھالنے کی لاحاصل کوشش ہی کی ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ نہ ریاست اور سرمایہ داروں کو للکار سکیں‘ نہ موجودہ حالات میں عوام کو ہندوتوا کے فسطائی عفریت کے خلاف متحرک کرنے کے قابل ہیں۔ مغربی بنگال، کیرالہ اور تریپورہ جیسے خطے، جہاں کبھی بائیں بازو کی سیاست کا طوطی بولتا تھا، آج یا تو ہندوتوا کے حملوں کی زد میں ہیں یا لبرل سیاست کے رحم و کرم پر چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ بیشتر صورتوں میں یہ سٹالنسٹ بایاں بازو اپنے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں پسپائی کا شکار ہے یا دفاعی جنگ لڑنے پر مجبور ہو چکا ہے۔

یہ ایک المیہ ہے کہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی عام ہڑتالیں گزشتہ سالوں کے دوران بھارت میں ہوئیں اور کروڑوں محنت کش سڑکوں پر نکلے۔ لیکن یہ دیوہیکل تحرک بھارتی ریاست اور مودی سرکار کے لیے کسی سنجیدہ چیلنج اور خاطر خواہ نتیجے سے محروم رہا۔ بنیادی وجہ پھر بائیں بازو کا نظام کے خلاف جدوجہد کی بجائے اس کے اندر اصلاحات کا اسیر بن جانا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا سیاسی خلا پیدا ہوا ہے جسے ناگزیر طور پر بھارت میں ہندوتوا (اور دوسرے بہت سے خطوں میں دائیں بازو کے نئے پاپولسٹ یا انتہا پسند رجحانات) نے بھرا ہے۔

علاقائی تنہائی اور اجارہ داری کا بحران

مودی سرکار اول دن سے بھارت کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت اور جنوب ایشیا کی اجارہ دارانہ قوت کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ لیکن اس معاملے میں زمینی حقائق بالکل برعکس نظر آتے ہیں۔حالیہ برسوں میں عالمی منظر نامے اور بھارت کے پڑوسی ممالک میں جو سیاسی و ثقافتی تبدیلیاں (بالخصوص نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا کی انقلابی تحریکیں) رونما ہوئی ہیں انہوں نے نئی پیچیدگیاں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت مخالف یا بھارتی سامراجیت مخالف جذبات کو ابھارا ہے اور اسے ایک خوفناک تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔ جنوب ایشیا میں بھارت کا اثر و رسوخ شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ خطے میں ایک ’’یونیورسل لیڈر‘‘ بننے کے دعوؤں کے برعکس بھارت کو آج اپنے ہی پڑوس میں عدم اعتماد، مزاحمت اور بغاوت کا سامنا ہے۔ سری لنکا میں انورا کمارا ڈسانایکے کا اقتدار میں آنا (جو تاریخی طور پر بھارت مخالف اور چین نواز موقف رکھتا آیا ہے) اور بنگلہ دیش شیخ حسینہ کے اقتدار کا خاتمہ (جو طویل عرصے تک بھارت کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی تھی) خطے میں بھارتی خارجہ پالیسی کے لئے سخت دھچکے کا باعث ہے۔ بنگلہ دیش کے طالبعلم رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد وہاں بھارت مخالف جذبات مزید بھڑک چکے ہیں اور اس کے لئے بنگلہ دیش کے معاملات پر اثر انداز ہونا بہت مشکل ہو گیا ہے۔

یہ صورتحال محض مسلمان اکثریتی ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ تاریخی ثقافتی اور مذہبی طور پر قریب سمجھے جانے والے ممالک بھی بھارت سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں۔ نیپال کے نئے سیٹ اپ سے بھی بھارت کی طرف گرمجوشی کی زیادہ توقع نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح مالدیپ میں ’’ ‘‘ مہم اور بھارتی فوجیوں کے انخلا کا معاملہ ہے۔ ڈوکلام تنازعہ اور بھارت کی جارحانہ خارجہ پالیسی کے بعد اب بھوٹان میں بھی کم و بیش یہی صورتحال ہے۔ یہ ملک گزشتہ لمبے عرصے تک بھارت کا قابل اعتماد اتحادی سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب خاموشی سے چین کے ساتھ سرحدی مذاکرات کر رہا ہے اور سفارتی توازن کی راہیں تلاش رہا ہے۔

اسی سلسلے میں پاکستان کے ساتھ حالیہ جنگی تصادم بھارت کی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی امیج کے لئے خاصا تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ عسکری برتری کے بلند و بانگ دعوؤں اور جارحانہ قوم پرستانہ نعروں کے برعکس بھارت نے میدانِ جنگ میں کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کی (الٹا اس کے جدید رافیل جنگی طیاروں کی تباہی کا چرچہ زیادہ ہے)۔ بلکہ سفارتی محاذ پر بھی کوئی قابلِ ذکر عالمی حمایت سمیٹ نہیں پایا۔ اس ناکامی کے بعد اسے مسلسل ڈونلڈ ٹرمپ کی مخصوص طنز اور بدتمیزی پر مبنی حملوں کا سامنا ہے۔ جبکہ آفیشل بھارتی سفارت کاری ان بیانات کی موثر تردید کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

اس تناظر میں ششی تھرور جیسے مودی مخالف‘ لبرل سیاست دان کو بین الاقوامی دوروں پر بھیجنا بھی بھارتی سفارت کاری کی ناکامی کا واضح اظہار ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جن آوازوں کو اندرونِ ملک غدار، مشکوک اور ملک دشمن قرار دیا جاتا رہا ہے‘ انہی سے بیرونِ ملک بھارتی ریاست کی ساکھ اور موقف کے دفاع کا کام لیا جا رہا ہے۔

اس سارے خون ریز تماشے کا ایک مضحکہ خیز پہلو یہ بھی ہے کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان جیسے بحران زدہ اور داخلی طور پر تضاد در تضاد کے شکار ملک کو غیر متوقع بین الاقوامی پذیرائی نصیب ہو رہی ہے۔

امریکہ بھارت تجارتی جنگ اور معاشی ترقی کا فریب

داخلی تضادات، کمزوریاں اور بیرونی دباؤ مل کر بھارت کی نام نہاد معاشی طاقت کا پول کھول رہے ہیں۔ امریکہ، جو بھارتی برآمدات کا سب سے بڑا خریدار ہے، اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں زرِ مبادلہ کے حصول کے یہ راستے نہ صرف بھارت بلکہ بیشتر دوسرے ممالک پر بھی بند کر رہا ہے۔ روسی تیل کی خریداری کے ردِعمل میں بھارت پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جانا بھارتی معیشت کے لیے شدید دھچکے کا باعث بن سکتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے گولڈمین سیکس کے مطابق صرف موجودہ ٹیرف ہی بھارت کی معاشی شرحِ نمو میں 0.3 فیصدی پوائنٹ کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ جبکہ اضافی پابندیوں کی صورت میں یہ کمی 0.6 فیصدی پوائنٹس تک پہنچ سکتی ہے۔

دنیا کی اس پانچویں بڑی معیشت کی حقیقت یہ ہے مہنگائی، بیروزگاری، کچا روزگار اور بنیادی سہولیات کی قلت آج بھی دسیوں کروڑ لوگوں کے لیے روزمرہ کی حقیقت ہے۔ ترقی کے مصنوعی بیانئے کو عالمی منڈیوں میں بیچا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف عوام کی زندگی مسلسل زوال اور پریشانی کا شکار ہے۔

سماجی بحران

ہندوستان میں دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی موجود ہے۔ 66 فیصد سے زائد آبادی 35 سال سے کم عمر ہے۔ اس آبادی کے لیے بیروزگاری صرف نوکری نہ ملنے کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ پورے سماج کو تعفن کا شکار کر رہی ہے۔ جو باروزگار ہیں وہ بھی ’ری اسٹرکچرنگ‘ کی پالیسیوں کے تحت مسلسل اجرتوں، مراعات اور تحفظ سے محروم کیے جا رہے ہیں۔ مستقل روزگار کو منظم طریقے سے ختم کر کے کنٹریکٹ لیبر کو عام کیا جا رہا ہے۔ تاکہ کارپوریٹ منافعوں میں اضافہ کیا جا سکے۔

94 فیصد سے زائد محنت کش قانونی تحفظ سے محروم غیر منظم شعبوں میں دھکیلے جا چکے ہیں۔ دنیا میں غربت کا سب سے بڑا ارتکاز ہندوستان میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تیس برس قبل عالمی غربت کا پانچواں حصہ یہاں تھا۔ آج ایک تہائی سے زیادہ غربت اسی ’’چمکتے بھارت‘‘ میں پلتی ہے۔ کولن ٹوڈ ہنٹر کے بقول، ’’ہندوستان میں غربت ایک مستقل مسئلہ ہی نہیں بلکہ حکمران طبقے کے لیے ایک شرمندگی ہے۔ جسے وہ خلائی پروگراموں، جدید ہتھیاروں، فارمولا ون ٹریکس، فلک بوس عمارتوں اور جعلی ترقیاتی اعداد و شمار کے شور میں چھپانا چاہتے ہیں۔‘‘ یہ الفاظ آج پہلے سے کہیں زیادہ بامعنی ہو چکے ہیں۔

70 ملین (7 کروڑ) انسان روزانہ 62 روپے سے کم پر زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔ 830 ملین (تقریباً 83 کروڑ) شہری 171 روپے یومیہ سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ 300 ملین افراد دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں اور 800 ملین لوگ ریاستی راشن کے سہارے زندہ ہیں۔ یہ وہی ملک ہے جہاں 450 ملین تعلیم یافتہ نوجوان بیروزگار ہیں۔ کئی ریاستوں میں بیروزگاری کی شرح 42 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ زمینی اصلاحات کے نام پر حاصل کی گئی 20 ملین ہیکٹر زمین آج بھی جاگیرداروں اور سیاسی اشرافیہ کے قبضے میں ہے۔ جس کے نتیجے میں دیہی عوام جھگیوں اور جھونپڑ پٹیوں میں ذلت آمیز زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بہار جیسے صوبوں میں 75 فیصد خاندان 10 ہزار روپے ماہانہ سے کم آمدن پر زندہ ہیں۔

دوسری طرف اسی ملک میں صرف ایک فیصد اشرافیہ 40 فیصد سے زائد دولت پر قابض ہے اور 1687 سرمایہ دار نصف معیشت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ریاست عوامی زمین ایک روپے فی ایکڑ کے حساب سے کارپوریٹ اتحادیوں کے حوالے کر دیتی ہے۔ جبکہ ان گنت کسان ہر سال قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں خودکشی کرتے ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ سماجی تضاد اور بحران ہے۔ جو نظام کے اندر اصلاحات سے حل نہیں ہو سکتا۔ اور اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے اس مذہبی جنون، جبر، قومی شاونزم اور نفرت کی سیاست ناگزیر ہے جسے مودی سرکاری پچھلے دس سالوں سے آگے بڑھا رہی ہے۔

نئی نسل کی پکار

رجعت کی بے رحم یلغار اور گھٹن سے بھرپور اس منظر نامے کے باوجود تاریخ کے پہیے کو روکا نہیں جا سکتا۔ قیادت کے فقدان اور تلخ ترین سماجی حالات کے باوجود بھارت کا محنت کش طبقہ اور طلبہ بار بار اپنے وجود کا اعلان کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی عام ہڑتالیں اسی سرزمین پر ہوئی ہیں۔ جن میں دسیوں کروڑ محنت کشوں نے مہنگائی، اجرتوں میں کٹوتی، نجکاری، عوام دشمن زرعی قوانین اور کارپوریٹ لوٹ مار کے خلاف فیکٹریوں، کھیتوں اور سڑکوں کو جام کیا ہے۔ کسان تحریکوں نے ریاستی جبر اور میڈیا کی الزام تراشیوں کے باوجود مودی سرکار کو متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے پر مجبور کیا ہے۔ جے این یو اور جامعہ ملیہ جیسے یونیورسٹی کیمپس ہندوتوا کے تابڑ توڑ حملوں کے خلاف جدوجہد کا مرکز بنے رہے ہیں۔ ان واقعات نے ثابت کیا ہے کہ ہندوتوا کی فسطائی طاقت کے سامنے ڈٹا جا سکتا ہے، مزاحمت کی جا سکتی ہے اور اسے پسپا ہونے پر مجبور بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایک کے بعد دوسرے جنوب ایشیائی ملک میں نوجوانوں کی بغاوتیں واضح کرتی ہیں کہ ان کی بڑی تعداد مروجہ سیاست سے بیزار بھی ہے اور کارپوریٹ و سوشل میڈیا کے سرکاری پراپیگنڈا کے پیچھے چھپے تلخ زمینی حقائق سے بخوبی واقف بھی ہے۔ وہ روزگار، تعلیم، آزادی اور وقار کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں اور دولت و طاقت کے بیہودہ ارتکاز پر سوال اٹھاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں سے لے کر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک ‘ اس پورے خطے میں مزاحمت اور بغاوت کے نئے طریقے اور نئی زبان جنم لے رہی ہے اور پاکستان ہو یا ہندوستان‘ ریاست کی مسلط کردہ بنیادی پرستی، قومی شاونزم اور نان ایشوز کے لایعنی شور کو چیرتے ہوئے ایسے سوالات اٹھا رہی ہے جو اپنی اساس میں طبقاتی جبر و استحصال کو چیلنج کرتے ہیں۔ یہ ریاست کا نہیں مظلوم عوام کا بیانیہ ہے۔ جو اس خطے کے کروڑوں انسانوں کے ذہنوں میں ایک خام شکل میں موجود ہے۔ یہ آنے والے وقت کی پکار ہے۔ جس کا ایک انقلابی پروگرام اور قیادت کے ذریعے دیوہیکل اظہار سارے برصغیر پاک و ہند کا منظر نامہ بدل سکتا ہے۔

16/02/2026

Crowds are celebrating outside the High Court after the decision came down that the ban on Palestine Action is unlawful. Thousands have so far been arrested for holding signs in support of the group, in the most extreme attack on UK civil liberties in decades.

12/02/2026

ڈسپیرٹی الاؤنس و دیگر مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم!
لاہور میں ہزاروں سرکاری ملازمین و محترم اساتذہ کا اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کا
احتجاجی دھرنا تیسرے روز میں داخل۔

11/02/2026

No to impearlism

11/02/2026

مجھے کوئی طاقت دبائے گی کیا
چھلکتا ہی رہتا ہے جام حیات
میں ہی راز تخریب و تعمیر ہوں
میں موجد حرف و تدبیر ہوں
بغاوت پسندوں کا سردار ہوں
جہاں ظلم ہے گرم پیکار ہوں

05/08/2025

Beautiful view of bhall padhri

21/06/2025

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم،
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے،
جن کی راہ طلب سے ہمارے قدم،
مختصر کر چلے درد کے فاصلے۔

28/07/2021
Want your school to be the top-listed School/college in Muzaffarabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Sos Village Makri Muzaffarabad
Muzaffarabad
0099