22/09/2026
*"ایران، حوثی، اسرائیل، امریکہ کا گٹھ جوڑ بے نقاب مسقط معاہدہ اصل حقیقت ہے"*
آج ہر مسلمان یہ سوال کر رہا ہے کہ *حوثی اور ایران اسرائیل کو چھوڑ کر سعودی عرب اور عرب دنیا پر میزائل کیوں مار رہا ہے؟*
یہ ایک حقیقت ہے
کہ اسرائیل ایران ایک سکہ دو رخ ہے
حوثیوں نے مسقط میں امریکہ اور اسرائیل سے یہ ڈیل کی ہے کہ *"بحیرہ احمر میں ہم تمہارے جہازوں کو کچھ نہیں کہیں گے، تم ہمیں سعودیہ پر حملے کرنے دو"*۔ اسی لیے آج امریکی اور اسرائیلی جہاز باب المندب سے آرام سے گزر رہے ہیں جبکہ حوثیوں کے سارے میزائل جدہ، ریاض اور مکہ مکرمہ کی طرف جا رہے ہیں۔
*ایران کا اصل ٹارگٹ اسرائیل نہیں، عرب خصوصاً سعودی معیشت ہے۔*
ایران جانتا ہے جب تک سعودی عرب کی معیشت مضبوط ہے، پاکستان مضبوط ہے، اور پاکستان مضبوط ہے تو اسرائیل محفوظ نہیں۔ اس لیے ایران کا پلان ہے کہ سعودیہ کو اندر سے توڑا جائے۔
یہ یاد رکھیں! خمینی کو سپیشل فرانس سے لانچ کیا گیا تھا۔ 1979 میں خمینی پیرس میں تھا، اسے فرانس، امریکہ اور اسرائیل نے خصوصی طیارے پر بٹھا کر ایران بھیجا تاکہ شاہ کو ہٹا کر عرب دنیا میں فرقہ واریت پھیلائی جائے۔ شاہ ایران اسرائیل کا دوست سہی لیکن وہ عرب کو نہیں توڑ رہا تھا، اس لیے اسے ہٹا کر خمینی کو لایا گیا جس نے آتے ہی اسلام کے نام پر عرب کو توڑنا شروع کر دیا۔
تاریخ گواہ ہے، ایران نے ہمیشہ اسی ملک کو توڑا جس نے اسرائیل سے جنگ کی:
گزشتہ 20 سالوں میں ایران نے عراق، شام، یمن و دیگر عرب ممالک میں سوا کروڑ مسلمانوں کا قتل عام کیا، لیکن ایک دن بھی فلسطین کے مسلمانوں کا مددگار نہیں بنا۔
*1- عراق* نے 1948، 1967، 1973 میں اسرائیل سے جنگ لڑی، ایران نے 8 سال جنگ مسلط کر کے عراقی فوج کو ختم کر دیا۔ فائدہ اسرائیل کو ہوا۔
*2- شام* نے 4 بار اسرائیل سے جنگ لڑی، گولان شام کا تھا۔ ایران نے بشار کے نام پر شام میں داخل ہو کر 5 لاکھ سنیوں کو مروایا اور شامی فوج کو ختم کر دیا۔ آج اسرائیل روز شام پر بمباری کرتا ہے، کوئی جواب نہیں۔ فائدہ اسرائیل کو ہوا۔
*3- لبنان* جس کی سرحد اسرائیل سے ملتی ہے، ایران نے وہاں حزب اللہ بنا کر لبنانی فوج کو کمزور کر دیا۔ فائدہ اسرائیل کو ہوا۔
*4- یمن* نے 1948 میں اسرائیل کے خلاف فوج بھیجی تھی، ایران نے وہاں حوثی بنا کر یمن کو تین ٹکڑے کر دیا۔ فائدہ اسرائیل کو ہوا۔
*5- مصر* جس نے اسرائیل کے خلاف 4 جنگیں لڑیں اور 1973 میں اسرائیل کو شکست دی۔ ایران نے حماس کو ہائی جیک کر کے مصر کو رفح بارڈر پر الجھا دیا تاکہ وہ اسرائیل پر دباؤ نہ ڈال سکے۔ فائدہ اسرائیل کو ہوا۔
*6- لیبیا* جس نے اسرائیل کے خلاف سب سے زیادہ پیسہ اور اسلحہ دیا، قذافی نے 1973 میں مصر و شام کو اربوں ڈالر دیے۔ 2011 میں ایران نے وہاں بھی اپنے گروپ بھیج کر لیبیا کو دو ٹکڑے کر دیا۔ فائدہ اسرائیل کو ہوا۔
اور اب آخری نشانہ سعودی عرب ہے۔ کیونکہ مصر، عراق، شام، لبنان، یمن، لیبیا سب توڑ دیے گئے، اب صرف دو ملک بچے ہیں سعودی عرب اور پاکستان۔
ایران چاہتا ہے حوثیوں سے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ کروا کر سعودی معیشت تباہ کرے اور مکہ مکرمہ کو "اوپن سٹی" بنا کر اس روحانی مرکز پر قبضہ کرے۔
*سمجھو اس کھیل کو! جو تمہیں کہتے ہیں حرمین کو چھوڑ کر اسرائیل پر جاؤ، وہ دراصل تمہیں کہہ رہے ہیں کعبہ کو چھوڑ کر کہیں اور جاؤ تاکہ پیچھے سے ایران کعبہ پر قبضہ کر لے۔*
*حقیقت یہ ہے کہ حوثی امریکہ اور اسرائیل کا دشمن نہیں، حوثی ایران کا ہتھیار ہے اور ایران امریکہ اور اسرائیل کا محافظ ہے۔*
*پہلے حرمین شریفین کی حفاظت، پھر اسرائیل کا حساب۔ اسلام زندہ باد، حرمین شریفین پائندہ باد۔*