18/03/2022
پاکستان کے تعلیمی بورڈز کے سربراہان فورم انٹربورڈز کمیٹی آف چیئرمینز(آئی بی سی سی) نے کیمبرج کی طرز پر ملک بھر میں پرائیویٹ طلبا کو بھی سائنس کے مضامین سے میٹرک کرنے کی منظوری دے دی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ملک میں پہلی بار میٹرک سائنس گروپ کو پرائیویٹ کرنے کی اجازت ملنے کے بعد اب طلبہ اسکولوں میں داخلہ لیے بغیر پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے انرولمنٹ کراکے ملک کے کسی بھی سرکاری و نجی تعلیمی بورڈ سے میٹرک سائنس کا امتحان دے سکیں گے۔ مزید براں نویں جماعت میں انرولمنٹ کے لیے عمر کی حد 14 سے کم کرکے 12 سال کردی گئی ہے۔
پرائیویٹ طلبہ کو سائنس کے مضامین سے میٹرک اور انٹر کے امتحانات دینے کی اجازت دینے کی سفارش ضیاء الدین یونیورسٹی ایکزامینیشن بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر ناصر انصار کی جانب سے کی گئی تھی جس میں سے فی الحال میٹرک سائنس پرائیویٹ کرنے کی منظوری دی گئی جبکہ انٹر کے معاملے پر ایک کمیٹی بنا دی گئی جو آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔
07/03/2022
دیار غیر میں اپنا مقام پیدا کر
اک نٸ صبح اک نٸ شام پیدا کر
03/02/2022
جس ملک کا تعلیمی نظام کمزور ہو گا وہاں ملازمت کے مواقع اسی قدر کم ہوں گے ہمارا نظام تعلیم ہماری سماجی اور معاشی ضروریات کو پورا نہیں کرتا ہے ہمارا نظام تعلیم اس طرح بنایا گیا ہے جو صرف کلرک چپڑاسی مزدور اور غیر ہنرمندافرادی قوت تیار کرتا ہے جبکہ ہمیں ٹیکنیکل اور ہنر مند کارکنان کی ضرورت ہے حبيب کڈذ کالج ایسے ہنرمند افراد کی تیاری کی پہلے کوشش ہے
آیے اس کاوش و محنت میں ہمارا ساتھ دیجیے
01/02/2022
علم سے شعور و آگہی کے اس عظیم سفر میں بے سہارا لاکھوں بچوں کی مسکراہٹ کا زریعہ بنیے
حبيب کڈذ کالج نیلم
26/01/2022
ستر ماٶں سے بھی بڑھ کر چاہنے والے رب
کو راضی کر لیں ساری مشکلات آسان ہو جاٸیگی
حبيب کڈذ کالج نیلم
جی ایم مصطف کی ڈاٸری سے
23/01/2022
امید کا دیا روشن ہے ہر طلوع آفتاب سے قبل ایک روشن ہوتی صبح کا منظر پرورگار اللہ خالق کاٸنات نے انسانیت کو سبق سیکھنے کے لۓ اندہیرے کے بعد روشن صبح کا اہتمام رکھا
اس روشن دیے کی دلیل پیش کرتا ہے حبیب کڈذ کالج مرناٹ بالا نیلم ویلی
22/01/2022
حبیب کڈز کالج
گی افتتاحی تقریب انشا۶اللہ نٸے سیشن پہ
19/01/2022
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ علم کا دیا روشن رکھیے علم سے آگہیٕ و شعور کا سفر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
16/01/2022
آگہی نیلم ایک قیمتی پتھر کاتعارف کرواتے ہوۓ
قلم کو تھامے میری انگلیاں آنکھوں میں ایک روشن شمع لیۓ دہلیز نیلم میری پہلی دستک یہ عجب منظر لیےتعارف کرانا مقصود ہے، ایک قیمتی پتھر چٹان کا منظر لیۓ ھوۓ میرے لب کشاں ہیی ایک خوبصورت بچہ میر ی شمع روشن کرتا مجھے راہ دکھاتا ہے علم کے بنا انسان پتھر تو کیا پتھر کو نیلم پہچان کروانے والی انسانی انمول آنکھ کو بھی نہیں جان سکتا اس علم کو جاننا لاذم ہے اس بنیادی تاریخ سے نا آشنا رہتے ہوۓ انسانیت
نہیں حیوانیت میں پال کر صرف فہرست بے شمار ابدی غلامی صرف تالیاں بجھا نے اور بتوں کی شکل میں ہر دم استادہ بےذبان حیواں کی طرح ہر طرح کی سہولت سے محروم ہوتے ہوۓ بھی خاموش کیا وقت کا حکمران اس قدر خستہ حال ہو رہا ہے کہ وہ اس نیلم کی پہچان کرونے والے خالق کے دیے گۓ بنیادی حق سے اس بچے کو محروم رکھ کر بھی عدل و انصاف کا روشن باب لکھوانا چاہتا ہے یہ نا ممکن ہے جاری،،،،،،،،،،