04/06/2024
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں آواز بلند ہو جاتی، غصہ تیز ہو جاتا (یوں محسوس ہوتا) گویا آپ (دشمن کے) لشکر سے خوف دلاتے ہوئے کہہ رہے ہیں: وہ صبح یا شام کو حملہ آور ہونے والا ہے اور آپ اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر فرماتے: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے جس طرح دو انگلیاں (ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں) “ علاوہ ازیں آپ فرماتے: ”اما بعد! بہترین بات اللہ کی کتاب ہے بہترین طریقہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین میں) جاری کیے جانے والے نئے نئے کام ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“ [مسلم: 867]