International School of Cordoba Muridke

International School of Cordoba Muridke Commencing with the optimistic institution leads your child to demonstrate unusual Courtesy, Intelligence and unquestionable creativity in various fields

10/09/2021
حکومتی ہدایت کے مطابق کل 9جون سے سکول سوموار تا جمعرات اور ہفتہ کے دن صبح ساڑھے سات بجے سے دن بارہ بجے تک کھلے گا۔ جمعہ ...
08/06/2021

حکومتی ہدایت کے مطابق کل 9جون سے سکول سوموار تا جمعرات اور ہفتہ کے دن صبح ساڑھے سات بجے سے دن بارہ بجے تک کھلے گا۔ جمعہ مبارک کو سکول کی ٹائمنگ صبح ساڑھے سات بجے تا دن ساڑھے گیارہ بجے ہو گی

21/09/2020

بچوں کی اردو میں استعداد کیسے بڑھائیں؟
چھے باتیں، یعنی 6 ٹِپس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آزمودہ باتیں ہیں، یعنی خاص عملی تجربہ کی کسوٹی پر پرکھی ہوئی۔ نتیجہ حیرت انگیز ہے کہ خود میرے بچوں کی اردو پرافیشینسی نے پچھلے ایک ہفتہ میں ہی زبردست شُوٹ کیا ہے۔

پہلے یہ دو باتیں نوٹ فرمالیں:

اوّل، چونکہ باقی تمام مضامین اردو زبان میں ہیں، اِن بچوں کے دل و دماغ اور نگاہ انگریزی عبارت پر خوب جمے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُردو عبارت کی ریڈنگ ہو یا اِملا، دونوں سخت کمزور رہ جاتی ہیں۔ یہ کمزوری ساتھ ساتھ چلتی ہے، تاوقتیکہ بہت عرصہ بعد جب اچانک آپ کے مشاہدے میں آتی ہے تو میٹرک کی سطح تک جا پہنچے بچے کی اُردو استعداد دیکھ کر آپ لرز اٹھتے ہیں۔

دوئم، والدین developmental phase میں اس لئے مدد نہیں کر پاتے، یا ریگولر نہیں ہو پاتے کہ پڑھانا اور سِکھانا ایک سُست رو عمل ہے جو وقت دینے کا متقاضی ہے۔ اس میں تردّد ہے؛ یہ نرا دردِ سر ہے۔

اب اِس عمل کو آسان بناتی کچھ ٹپس ہو جائیں۔ خلوص اور کمٹمنٹ تو خیر چاہئیں ہی۔

1— بچے کی اردو کی کتاب میں سے 8 یا 10 اسباق کا انتخاب کریں، بچے کو پاس بٹھا کر۔ فہرست پر پنسل سے نشان لگا لیں۔

2— ایک کاپی یا رجسٹر مخصوص کر لیں۔ ہم نے رجسٹر کا دائیں طرف والا حصہ مخصوص کیا ہے۔ پہلے صفحہ پر کلرڈ پیڈ والے ٹیگز لگا دیں۔ اب ان پر مارکر سے اِن اسباق کے نام لکھ ڈالیں۔ یہ سب خود بچے سے ہی کروائیں۔ اس عمل سے جوش و خروش بڑھ جاتا ہے۔ پہلے صفحہ پر تاریخ بھی درج کی جائے۔ اور پھر ہر صفحہ پر۔

3— اب، بچے کی مرضی سے کوئی سا ایک سبق منتخب کریں، ان 10 اسباق میں سے۔ نثری سبق ہو یا نظم، اس کے دو حصے بنا لیں۔ اب کوئی موبائل فون لیں، یا ٹیب یا کمپیوٹر کے استعمال سے اس پورے سبق کی ریڈنگ اپنی آواز میں ریکارڈ کر ڈالیں۔ نیز، مشکل الفاظ کو انڈر لائن بھی کیا جائے۔ بچے سے کہیں کہ سبق کا پہلا حصہ اس ریکارڈنگ سے گائیڈ ہو کر تین چار بار پریکٹس کرکے لائے۔ پریکٹس کے دوران وہ pause کا بٹن دبا کر ذرا سہولت سے اُس ریکارڈنگ کو فالو کر سکتا ہے۔ نیز، اسے بتائیں کہ انڈر لائن ہوئے الفاظ کو الگ سے پروناؤنس کرنے کی پریکٹس بھی کر کے لائے۔ اس عمل سے آپ کا کچھ وقت بھی بچے گا اور بچے کے سر پر سوار رہ کر ہر ہر لفظ کے لئے اُلجھنے کا تردّد بھی کم ہوجائے گا۔ اسی طرح، سبق کا دوسرا حصہ بھی پریکٹس کرایا جائے۔

07/08/2020

پِگھلنا اُس پہاڑ کا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی unruly قسم کے ایک عدد خود سَر بچے سے آپ کا واسطہ پڑا ہو؟ 🙂 ۔۔۔ خیر، برسوں گذرے، تب میں کڑیل جوان تھا۔ ایک سکول میں ایک بچہ دیکھا — وہی جسے پرابلیمیٹک چائلڈ کہا جاتا ہے: باتونی، کام چور، اوپر سے خود سَر اور "بےخوف"۔

ظاہر ہے، بچوں کی اس سے متعلق شکایات الگ تو ٹیچرز الگ سے مشتعل ہوئے جاتے ۔۔۔ المختصر، اس لڑکے سے نمٹنا ایک کارِ دشوار تھا۔ مَیں خود ڈانٹ ڈپٹ کر، رعب جما کر ہی کام چلایا کرتا۔ اُدھر فی میل ٹیچرز کے بس کی بات ہی نہ تھی۔

البتہ ایک لیڈی ٹیچر نے مجھے حیران کیا۔
ایک روز کوئی مسئلہ الجھ گیا، یعنی سنگین نوعیت کا تھا۔ بات بڑھ گئی تو کوآرڈینیٹر نے کہا اسے مِس سحر (یہاں فرضی نام) کے پاس لے جائیں۔

مجھے بھی اسی کلاس روم میں بلا لیا گیا۔

میں مِس سحر کی شخصیت کے اس پہلو سے ناواقف تھا، یعنی عمدہ کونسلنگ والی صلاحیت و قابلیت، اگرچہ اتنا دیکھ رکھا تھا کہ اُس کی زبان، اس کی تہذیب جداگانہ تھی۔ مثلاً چلنے کا انداز، مڑ کر دیکھنے، بات کرتے ہوئے لفظوں کو articulate کرنے، کچھ ایکسپلین کرتے یا بات کرتے میں بالکل سافٹ لفظوں کا انتخاب اور سافٹ ڈیلیوری، اپنے مخاطب کو خاموشی سے بہ دھیان سُن کر مناسب سا جواب دینے میں ایک خاص جینیٹک میک اپ اور گرُومنگ والا charisma جھلکتا اور متاثر کرتا۔

باقی سب ٹیچرز tensed نظر آتے تو مِس سحر کے پرسکون دِکھتے چہرے پر تبسّم ۔۔۔ خیر، اس نوع کی پیچیدگی کو وہ ایسی آسانی سے ہینڈل کر لے گی، اس کا مجھے اندازہ نہ تھا۔

پرانی بات ہے، اس لیے ٹھیک سے یاد نہیں مسئلہ تھا کیا، اور مِس سحر نے بچے کے ساتھ precisely کیا سوال و جواب کیے تھے، مگر انجامِ کار بچے کا سہم کر، شرمندہ سا ہو کر اپنی غلطی کا اعتراف کر جانا اب بھی یاد ہے۔

نفسیاتی حربے تھے، جیسے:
— پہلے تو حال احوال پوچھ لیا، جیسے کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔ بچے کا تَنا ہوا جسم فوراً ڈھیلا پڑ گیا۔

— پھر اس کی گیم کی تعریف کر دی, جیسے 'کمال باؤلنگ کرتے ہو۔ کہیں سے سیکھی ہے یا بس نیچرل ٹیلنٹ ہے؟'
ماحول خوشگوار ہو گیا۔

— تب اُس مخصوص ایشو پر آ کر اسے خوب بولنے کا موقع دیا، اور مداخلت کیے بنا وہ خاموشی سے سنتی رہی۔

— اگلا مرحلہ acknowledgement دینے اور لفظوں کو rephrase کرنے کا تھا۔ یعنی بچے کو جس بات پر تکلیف تھی، غصہ تھا، اس کا اعتراف، 'ہاں، کوئی آپ کے ساتھ ایسا کرے تو دُکھ تو ہوتا ہے نا پھر۔' (حالانکہ بنیادی غلطی اسی شیطان کی تھی!) اور جو سخت لفظ اس بچے نے بولے، انہیں شائستہ لفظوں میں دوہرا دیا۔

— تب یہ جملہ 'ویسے ہم ایک دوسرے سے جھگڑتے اس لیے ہیں کہ ایکدوسرے سے expectations بہت ہوتی ہیں۔'

— تب نتائج سے خوفزدہ کرنے کو بارُعب آواز میں دو تین جملے جو براہِ راست بچے کو ہٹ نہیں کر رہے تھے، بلکہ بالواسطہ طور۔

— تب ایک ادا سے یہ کہنا، 'بھلا میں آپ کی جگہ ہوتی تو کیا کرتی؟' ۔۔۔ پھر یہ کہ ایسا کیوں کرتی؟ یعنی ذرا اخلاقی اور فلسفیاتی ٹَچ۔

— "یہ بتاؤ، بہادر کون ہوتا ہے؟" ۔۔۔ بچے نے کچھ اوٹ پٹانگ بَک دیا۔ "ہوں ں ں ۔۔۔ اصل بہادر وہ ہوتا ہے جس میں شرم ہوتی ہے، احساس ہوتا ہے۔ گاٹ اِٹ؟ یعنی اگر غلطی ہو جائے تو اعتراف کر جائے۔۔۔ وہ بہادر ہے۔ جو اِنکار کرتا ہے، وہ بزدل۔۔۔اندر سے ڈرا ہوا۔۔۔"

— پھر، والدین کو آگاہ کرنے والی 'دھمکی' کا tool غیر محسوس طور ایپلائی کر جانا۔ (ورنہ ایلیٹ سکولز کے بچے اس بات کی پروا نہیں کرتے، الٹا اکڑ جاتے ہیں۔ اُدھر ماں باپ کو جھوٹ موٹ کہانیاں سنا دیا کرتے ہیں، یا ان بچوں کو اعتماد ہوتا ہے کہ والدین بس ہماری طرفداری ہی کریں گے) ۔

— تب آخری وار کے بطور یہ سوال کہ اگر اس ساری سیچویشن کو رِی پلے کریں تو بتاؤ اب کیا کرو گے؟

گریڈ 8 کا وہ بچہ اَنا و خود سری کا پہاڑ تھا۔ وہ پہاڑ میں نے اپنی آنکھوں پگھلتے دیکھا۔ ایک نئی بصیرت insight میسر آئی۔

اگرچہ سنگین نوعیت کے معاملات میں بچے سکول سے خارج بھی کیے جاتے ہیں، یا ایک دو روز کے لیے suspend کر دئیے جاتے ہیں، مگر بیشتر معاملات میں اِن اداروں میں سزا کی بجائے کونسلنگ دینے کا رواج ہے۔

کونسلنگ کیا ہے؟ ایک فن ہے۔

دُنیائے کونسلنگ کے، یعنی پُربصیرت رہنمائی فراہم کرنے کے اپنے کچھ tools ہیں۔ اِن آلات کو ماہرانہ طور برتنے کی ٹیکنیکس ہیں۔ نیز، مکینک بھی اچھا چاہئیے، یعنی ایک charismatic شخصیت کی دستیابی الگ سے ضروری ہے۔

بچے کے تعلیمی و تربیتی سفر میں ایسے متوازن الطبع اور سمجھدار استاد کا میسر آنا نعمتِ عظمیٰ ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمایوں مجاہد تارڑ

Address

Sui Gas Bazar, Canal Park
Muridke

Opening Hours

Monday 07:30 - 02:00
Tuesday 07:30 - 02:00
Wednesday 07:30 - 02:00
Thursday 07:30 - 02:00
Friday 07:30 - 02:00
Saturday 09:00 - 12:00

Telephone

03008000724

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when International School of Cordoba Muridke posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to International School of Cordoba Muridke:

Shortcuts

Share