Dar_E_ Arqam schools muridke

Dar_E_ Arqam schools muridke اللہ اکبر

21/03/2022
21/03/2022

نوجوان اکثر پوچھتے ہیں کہ زندگی میں کامیابی کیسے ملتی ہے۔ میرا جواب یہ ہے کہ کامیابی کے لیے دل کی آواز سننا اور پہلا قد م اٹھانا ضروری ہے ۔ ہم میں سے بہت سے لوگ کامیاب ہونا چاہتے ہیں لیکن وقت سوچنے میں لگ جاتا ہے۔

10/03/2022
28/01/2022

تمام بھائیوں سے گزارش ہے سفر کے دوران سگریٹ روڑ پر نہ پھینکیں گندم کی فصل پک کر تیار ہو گئی ہے کسی غریب کسان کا نقصان نہ ہوجاۓ !!!
پبلک سروس میسج

23/12/2021

یقین کجیۓ
زندگی بہت ہی مختصر سی ہے-اس کو لڑائی حسد کینہ بغض اور نفرت میں مت گزارۓ۰۰۰🤍

22/12/2021

*ہمیں وقت کی قدرکا احساس کیوں نہیں؟*
وقت مسلسل رواں دواں اور آگے ہی آگے بڑھتی رہنے والی ایک ایسی چیز کا نام ہے جس کی اہمیت اور قدر وقیمت کا موازنہ دنیا کی کسی بھی دوسری چیز سے نہیں کیا جاسکتا۔ گھڑی کی ٹک ٹک میں لمحہ لمحہ دوڑتا ہوا وقت منٹوں‘ گھنٹوں‘ دنوں‘ مہینوں اور سالوں کی منزلیں طے کرتا ہوا صدیوں اور پھر ہزارئیوں میں تبدیل ہوتا چلا جارہا ہے۔ انتہائی محدود اور مختصر انسانی زندگی بچپن سے لڑکپن‘ لڑکپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے کا روپ اختیار کرنے کے بعد موت کی تاریک وادیوں میں گم ہوجاتی ہے اس مختصر سی عمر میں مقصد حیات کا تعین کرنے کے بعد کامیابیوں اور کامرانیوں کی منزلیں طے کرنے کیلئے وقت کے ہرلمحے کو کام میں لانا ضروری ہے جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے ناکامیاں اور مایوسیاں ان کا مقدر بن جاتی ہیں۔ قوموں کی ترقی کا راز بھی یہی ہے کہ جو قومیں وقت کی رفتار کا ساتھ دیتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتے رہنے کی اہلیت حاصل کرچکی ہیں ان پر کامیابیوں اور ترقیوں کے نت نئے دور آتے ہی چلے جاتے ہیں ترقی یافتہ کہلانے والی ان قوموں کا ہر فرد خوشحال دنیا کی ہر آسائش اور سہولت کا حامل اور مالامال ہوتا ہے جبکہ وقت کی قدروقیمت کا احساس نہ کرتے ہوئے اسے برباد کرنے والی قومیں خود برباد ہوجاتی ہیں ان کا تقریباً ہر فرد بدحال دنیا کی ہر تکلیف اور پریشانی میں مبتلا اور کنگال دکھائی دیتا ہے۔

ہمیں وقت کی قدروقیمت کا کوئی احساس نہیں۔ سستی‘ کاہلی اور لاپرواہی کے ساتھ ساتھ فضول سرگرمیوں اور بے مقصد مصروفیات میں وقت ضائع کرکے ہم اپنے آپ کو برباد کررہے ہیں لیکن افسوس کہ ہمیں اس بربادی کا بھی کوئی احساس نہیں اس طرح انفرادی حیثیت میں تو ہر شخص اپنی زندگی برباد کرہی رہا ہے لیکن اجتماعی طور پر بھی پوری قوم غربت‘ بھوک اور تنزلی کی بھول بھلیوں میں الجھتی جارہی ہے۔

ہمارے ہاں وقت کی ناقدری کا یہ عالم ہے کہ یہاں کوئی بھی کام اپنے مقررہ وقت پر شروع نہیں ہوتا اور نہ ہی طے شدہ مدت میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ دئیے ہوئے وقت سے لیٹ پہنچنا فیشن بن چکا ہے جس کی وجہ سے پابندی وقت کا احساس کرنے والے لوگوں کی تعداد بڑی تیزی سے کم ہوتی جارہی ہے۔

ہمارے ہاں دفاتر میں کام کے آغاز کیلئے نو بجے کا وقت مقرر ہے لیکن دس بجے تک سوائے نچلے درجے کے چند ملازمین کے علاوہ تمام ارکان کی نشستیں خالی ہوتی ہیں جو چند لوگ دفتر میں موجود ہوتے ہیں وہ بڑی بے فکری سے قہقہے لگانے اور خوش گپیوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ کوئی چائے پی رہا ہوتا ہے تو کوئی میز پر ٹانگیں پسارے کرسی پر نیم دراز ہوتا ہے۔ ہم لوگوں کو کچھ احساس نہیں ہوتا کہ ہم کتنا قیمتی وقت یوں ہی ضائع کررہے ہوتے ہیں۔

اسی طرح شادی کی تقریب کو ہی لے لیں ہم بارات کی روانگی کا ٹائم 9 بجے رکھتے ہیں لیکن بارات 3 بجے تک بھی گھر سے روانہ نہیں ہوتی۔ اس طرح دلہن اور دولہے کے تقریباً 400 افراد کا قیمتی وقت برباد ہوتا ہے لیکن کسی کو اس بات کا احساس نہیں........!

ہم اپنے اردگرد جس بھی شعبے کو دیکھ لیں ہر کوئی اپنے وقت سے لیٹ آ جارہا ہے چاہے وہ بس اسٹیشن ہو‘ ریلوے اسٹیشن ہو یا کوئی اور جگہ.... کسی بھی وقت کی اہمیت کا احساس نہیں رہا۔

ہماری قوم اپنا وقت جس بے دردی سے برباد کررہی ہے یہ تو اس کی فقط چند مثالیں ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس سے ملتی جلتی بے شمار مثالیں ہمارے ہر قاری کے ذہن میں بھی موجود ہوں گی۔ ہر روز کروڑوں پاکستانی اس طرح قومی وقت کے اربوں گھنٹے بغیر کچھ کیے برباد کردیتے ہیں۔ کیا ہمیں واقعی وقت کی قدر وقیمت کا کوئی احساس نہیں رہا؟ ہم ہر کام میں تاخیر کے عادی ہوچکے ہیں۔ کسی بھی کام کیلئے گھر سے نکلتے وقت ہم اکثر اصل وقت گزار کر ہی روانہ ہوتے ہیں۔ گھر سے نکلنے کے بعد ہمیں تاخیر کا احساس ہونے لگتاہے اس احساس کے ساتھ ہمارے اندر ایک عجیب و غریب بے چینی اور فکر جاگ اٹھتی ہے اس کے بعد اگر اپنی گاڑی ہو تو انتہائی تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے ذریعے تاخیر کی تلافی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ایسی تمام کوششیں اکثر بے کار ہوتی ہیں بلکہ بعض دفعہ تو ان کے نتیجے میں بعض انتہائی بھیانک حادثات بھی وقوع پذیر ہوجاتے ہیں پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے کام پر جانے والے پہلے تو کافی دیر تک سٹاپوں پر کھڑے ہوکر اپنی مطلوبہ ٹرانسپورٹ کے انتظار میں خوار ہوتے رہتے ہیں اس کے بعد قدم قدم پر رکتی اورسست روی سے رینگتی ہوئی بس یا ویگن جب انہیں منزل مقصود پر پہنچاتی ہے تو وہ کم از کم ایک گھنٹہ لیٹ ہوچکے ہوتے ہیں۔

ہم نے ایک پرائیویٹ فرم میں کام کرنے والے تجربہ کار سے پوچھا کہ ان کے نزدیک ہمارے ہر کام میں تاخیر کی بڑی وجہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر ہم نے وقت کی قدر کرنا ہی چھوڑ دی ہے ہم ہر معاملے میں ”بے فکر رہو ہوجائے گا“ کی پالیسی پر گامزن ہیں ہم ہر کام کو وقت کی آخری حد پر لے جاکر سرانجام دینے کے عادی ہوچکے ہیں چونکہ پوری قوم ہی اس خراب عادت کا شکار ہوچکی ہے اس لیے عام طور پر ہمیں وقت کی بربادی کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی کا مسئلہ ہو یا کسی امتحان کیلئے داخلہ فیس ادا کرنی ہو ہم بڑی بے فکری سے آخری تاریخ کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور جب آخری تاریخ آجاتی ہے تو جرمانے یا ڈبل فیس کا خوف ہمیں ایک دم سے ہوشیار کردیتا ہے۔ بینکوں کی کھڑکیوں کے سامنے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہوکر کیشئر کی سستی کا گلہ کرتے ہوئے ہمارے دل میں اس بات کا کوئی ملال نہیں ہوتا کہ اگر ہم نے آخری تاریخ سے کچھ دن پہلے یہ کام کرلیا ہوتا تو اس تکلیف اور خجالت سے بچ سکتے تھے۔

تاخیر کے معاملے میں ہم لوگوں کے روئیے اس قدر مستحکم ہوچکے ہیں کہ ہم دئیے ہوئے وقوت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ تقریبات کیلئے روانہ ہوتے وقت دیا گیا وقت عام طور پر گھر سے ہی گزار کر روانہ ہوا جاتا ہے۔ کم از کم ایک گھنٹے کی تاخیر تو معمول کی بات ہے اس لیے پانچ بجے شروع ہونے والی کسی تقریب کے مہمان چھ بجے سے پہلے تقریب میں پہنچ ہی نہیں پاتے اور جب وہ پہنچ جاتے ہیں تو پھر بھی انہیں تقریب کے آغاز کیلئے کچھ نہ کچھ انتظار کرنا پڑتا ہے۔

اگر ہم وقت کی پابندی کا شیوہ بنالیں تو قومی ترقی کی راہ میں مائل ہر رکاوٹ کو ختم کرکے سالوں کا سفر مہینوں اور مہینوں کا سفر دنوں میں طے کرسکتے ہیں۔ تقریبات میں مہمانوں کے دیر گئے تک انتظار کی روایت ختم کرکے عین وقت پر تقریب کا آغاز کرکے لوگوں کو وقت کی پابندی پر آمادہ کیا جاسکتا ہے۔ قوم کے ہر طبقے میں پھیلی ہوئی اس بہت بڑی خامی کو درست کرنے کیلئے سب سے پہلے حکام اور افسران اپنے آپ کو وقت کا پابند بنائیں۔

فی الدنیا حسنہ وفی الاخرۃ حسنہخوبصورت دنیا، بہترین آخرتہم تراشتے ہیں آپ کے بچوں کا مستقبلاچھے سکول کا انتخاب، پورا کرے ....
22/12/2021

فی الدنیا حسنہ وفی الاخرۃ حسنہ
خوبصورت دنیا، بہترین آخرت
ہم تراشتے ہیں آپ کے بچوں کا مستقبل
اچھے سکول کا انتخاب، پورا کرے ....

15/12/2021

بچے کی اولین درسگاہ اسکا گھر اور اساتذہ اسکے اہلِ خانہ ہوتے ہیں۔۔
سکول کا مقصد بچے کا ایک گائیڈ لائن فراہم کرنا ہے،اسکو ایک رستہ دکھانا ہے۔۔
استاد کو بچے کی ذمہ داری سونپ دینے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بچہ والدین کی ذمہ داری سے خارج ہوگیا ، نیز ذمہ داری کا مفہوم بہت وسیع ہے ۔۔۔
دارارقم سکولز مریدکے۔۔۔۔۔

14/12/2021

سکول میں قرآن مجید کی تعلیم کو لازمی قرار دینا چاہئے ۔یہ حقیقت ہے کہ ہم قرآن مجید سے بہت دور ھو چکے ہیں تو ہم اپنے بچوں کو کیا قرآن مجید پڑھیے گے ۔ قرآن پاک کی تعلیم کے لئے ہر ادارہ کو لازم اقدامات کرنے چاہئیں ۔

  یہ  وقت کس کس کو یاد ہے کس کس نے پلاسٹک کے ٹاٹ پر بیٹھ  کر اس دور میں تعلیم حاصل کی تھی اگر مناسب سمجھیں  تو اپنے دور ...
14/12/2021


یہ وقت کس کس کو یاد ہے کس کس نے پلاسٹک کے ٹاٹ پر بیٹھ کر اس دور میں تعلیم حاصل کی تھی اگر مناسب سمجھیں تو اپنے دور کی کچھ حسین یادیں ہمارے ساتھ شیئر کریں
کتنا اچھا وقت تھا وہ جب ہر طرف صرف قدرتی خوبصورتی ہوتی تھی رشتوں میں میں حقیقی محبت ہوا کرتی تھی سچی دوستیاں ہوا کرتی تھی لوگوں میں اخلاق پائے جاتے تھے سٹوڈنٹس میں اساتذہ کا ادب احترام انتہائی عمدہ لیول کا پایا جاتا تھا اس دور میں کوئی بھی استاد کی کرسی پر بیٹھنے کی جرات نہیں کیا کرتا تھا اگر کوئی شرارتی بچہ ایسی حرکت کرتا تو ایسی حرکت کو بہت ہی گری ہوئی حرکت سمجھا جاتا تھا اس دور میں سکول جانے کے لیے ہمیں گھر سے دھکے دے کر نہیں بھیجنا پڑتا تھا بلکہ ہم صبح سویرے بیدار ہوجایا کرتے تھےکیوں کہ اس دور میں نہ تو بچلی تھی اسلیئے نہ تو ٹی وی پر فالتو وقت ضائع ہوتا تھا نہ موبائل کا جھنجٹ تھا جس وجہ لوگ رات کا کھانا سورج کے غروب ہونے سے پہلے ہی کھا لیتے تھا اور تب کو اب کے حساب سے دیکھیں تو ہم شام 7 بجے گہری نیند سوچکے ہوتے تھے جس بچے کو بیدار ہوتا ماں باپ دیکھ لیتے ڈانٹ پڑتی اس وقت کی ڈانٹ آج کل کی مار کٹائی سے زیادہ سخت ہوتی تھی ولدین کا بہت ڈر ہوتا تھا بچوں میں
سچ پوچھیں تو ہمارا اتوار کا دن گھر میں گزرتا ہی نہیں تھا کہ کب اتوار گزرے گی اور ہم سکول جائیں گے آگے بہت سی یادیں ہیں تختیوں پر قلم کے ساتھ خوش خطی کے مقابلے ایک دوسرے سے تختیاں دھونے والی مٹی ادھار لینا ایک دوسرے کی سیاہی کی دوات میں سے قلم لگا لینے پر ٹیچر کو اس کی شکایت لگا دینا اس دور کی لڑائی بھی کچھ عجیب طرح کی ہوتی تھی ہم اس دور میں شرارتیں اس طرح کی کرتے تھے تختیوں کو تختیوں پر مارنا جس کی تختی ٹوٹ گئی وہ ہار گیا جس کی تختی بچ گئی وہ جیت گیا اسی بہت سی یادگار یادیں ہیں جو کہ بیان کرنا بہت ہی مشکل ہیں آپ بھی ذرا اپنے اس وقت کی کوئی ایک اچھی یاد بیان کریں ۔۔۔۔

14/12/2021

الله والوں کی صحبت بہت بڑی نعمت ہے اگر کسی کو مل جائے ... اور یہ ملتی تب ہے جب انسان اپنے خالق اپنے بنانے والے الله کی سچی طلب شروع کر دیتا ہے ... میں نے بھی اسکی طلب میں کتابوں سے دوستی کی ہوئی تھی جن سے آہستہ آہستہ مجھ پر صحبت کا راز کھلنا شروع ہوا کہ حقیقی علم توصحبت کی شکل میں سینہ بہ سینہ چلتا آرہا ہے جبکہ میں کتابیں چھان رہا ہوں اس لئے مجھے ایک ایسے کامل صحبت کی تلاش تھی جو مجھکو حقیقت سے ملا دینے کاکام سرانجام دیتی اور بالاخر مجھے وہ چشمہ مل گیا لیکن یہ چشمے نصیب والوں کو ہی ملتے ہیں مگر اگر اسکو خلوص سے تلاش کیا جائے گا تو یہ راستے میں کہی نہ کہی مل ہی جائے گا مولانا رومی اس لئے تو فرماتے ہیں کہ تلاش جاری رکھو وہ بھی تمہیں تلاش کر رہا ہے ..کتابیں پڑھنا بہت اچھی بات ہے مگر مجھے واقعی میں یہ علم نہیں تھا کہ دنیا میں کوئی علم کا خزانہ ایسا بھی موجود ہے جو الفاظ و بول کی محتاج نہیں مگر یہ سینہ بہ سینہ الله والوں تک پہنچا ہوا ہے جو صرف انکی صحبت میں بیٹھ کر ہی حاصل کی جاتی ہیں ..میں نے اس پر مزید کام کیا تو معلوم ہوا کہ واقعی میں اس چیز کو راز رکھا جاتا ہے اور تاریخ کی تمام بڑی ہستیاں کسی نہ کسی کامل کی صحبت کے چھتری تلے اسکو حاصل کرنے کے جتن کیا کرتے تھے .. اور مجھ پر بھی علامہ اقبال کے کلام کے اصل رازتب ہی منکشف ہوئے جب میری بھرپور تلاش کے بعد ایک الله والے کی صحبت میں چلا گیا جہاں پہلی بار علم ہوا کہ مجھے علم نہیں ہوا ..علامہ اقبال نے بھی اپنے پورے کلام کے اندر اس پراسرار خودی کو بیدار کرنے کے لئے اسی خاص صحبت کی طرف لاتعداد اشارے کیے ہوئے ہیں . مگر ہماری آج کی نوجوان نسل نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ ہم اپنی علمی و فکری میعار پر کسی طور کام نہیں کرینگے بلکہ اسی طرح غفلت میں پڑے رہینگے ... کیا بحیثیت قوم یہ ہم سب کی غفلت نہیں کہ ہمارا آج کا فکر و تدبرسے عاری نوجوان زندہ باد مردہ باد کے چکر میں ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہے روز سڑکیں اور راستے بند کرکے نت نئی تحریکیں چل رہی ہوتی ہیں اوپر سے مختلف فرقوں اور جھنڈوں نے قوم کے شیرازے کو بکھیر کر رکھ دیا ہے. فلموں ڈراموں اور ٹک ٹاک نے تو رہی سہی کسر ہی نکال دی اور ایک ایسی ڈسکو نسل تیار کردی جو مغرب سے انتہا کی حد تک تو مرعوب ہے مگر دین کے معاملے میں یہ شدت پر اتر آتے ہیں اور جہالت میں اپنے ہی اجداد کی توہین کر دیتے ہیں . یہ ٹیکنالوجی پراس حد تک ایمان لے آئے ہیں کہ الٹا یہ کہتے ہیں کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی اور ہم وہی پرانے فرسودہ دور کی باقیات لئے پھر رہے ہیں جبکہ اگر دیکھا جائے تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم آج سے پندرہ صدیاں قبل چاند کو صرف انگلی کے اشارے سے دو ٹکڑے کیا تھا صد افسوس کہ اقبال کے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے اور ہمارے بڑے آپس میں دست و گریباں ہے یہ حالات دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ اقبال کو پہلے سے یہ سب کیسے معلوم تھا کہ اس قوم کے بچوں کے ساتھ کیا حشر کیا جائے گا اس لئے تو وہ بار بار مغرب کے اندھیروں سے بچنے کی نصیحتیں اپنے کلام میں کر چکا ہے مگر ہمیں معلوم تب ہوگا جب ہمیں خرافات سے فرصت ملے گی اور بابا اقبال کے کلام کو کھول کر غور و فکر کیا جائے گا . اقبال نے قرآن و سنّت کو قابلیت و بلندی کا معیار بنایا ہوا ہے اگر کسی قابل شخصیت کی جانچ پڑتال کرنی مقصود ہو تو قرآن و سنّت ہی کے ترازو میں انکو تولا جائے گا . اس وقت درحقیقت ہم پر اغیار نے ایٹم بم سے بھی زیادہ مہلک ہتھیاروں سے حملہ کرکے نتائج بھی حاصل کرلئے ہیں اس پر علامہ اقبال بابا نے کیا خوب کہا ہے.....
اپنی ملت پر قياس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکيب ميں قوم رسول ہاشمی
ان کی جمعيت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعيت تری
دامن ديں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعيت کہاں
اور جمعيت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی
یعنی بڑی عجیب بات ہے کہ علامہ اقبال جیسی ہستی یہ اشارہ دے رہا ہے کہ اگر تمہارا سب کچھ ہاتھ سے جاتا ہے تو جانے دیں مگر ایمان نہ جانے پائے یعنی اپکا سرمایہ ہی درصل ایمان ہے .حیرانگی کی بات ہے کہ علامہ اقبال سمیت تمام بڑی ہستیاں ایک ہی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ کسی کامل کی صحبت کو لازم پکڑو کیونکہ صحبت میں انسان کی بصیرت والی تیسری آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ اپنے علم و حکمت اور فکر و تدبر سے مرد مومن کا مقام پا لیتا ہے جس کے بارے میں اقبال ہی نے اپنے کلام میں فرمایا کہ مومن وہ طاقت ور وجود ہے کہ اسکی صرف ایک نگاہ سے تقدیریں بدل جاتی ہے یعنی مومن کے پاس الله تعالیٰ کی طرف سے کس قدر بڑے اختیارات موجود ہوتے ہیں جن سے تقدیریں تک بدل دیتا ہے . اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکا کی ٹیکنالوجی یہ کام کیوں نہیں کر سکتی حالانکہ انکے پاس تمام وسائل موجود ہیں اس لئے تو بابا اقبال نے بار بار مغرب پر طنز کیا ہے انکو نشانہ بنایا ہے کہ تم جب تک حضورصلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم کی غلامی میں نہیں آؤگے تب تک تمہاری ترقی مکڑے جالا ہے اس لئے پاکستان کی یوتھ سے کہتا ہوں اپنے آپکو پہچانو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم سے تعلق بناؤ تاکہ مغرب کی مفلسی کا راز تم پر کھل جائے اس لئے صحبت ڈھونڈو ایسی صحبت جو تمہیں حضورصلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم کی سنّت پر لے آئے انکے محبت میں مبتلا کر دے علامہ اقبال کے پورے کلام میں جابجا آپکو مولانا رومی سے صحبت کے جلوے دیکھنے کو ملتے ہیں حالانکہ ان دونوں کے بیچ صدیاں حائل ہے مگر اس کے باوجود علامہ اقبال نے مولانا رومی کی صحبت سے بھی فیض پایا یہاں تک کہ ترکی میں مولانا رومی کی قبر کے بغل میں علامہ اقبال کی ایک مصنوعی قبر اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ اگر انسان کی خودی بیدار ہو تو صدیاں کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ انسان باطن کے سفر میں وہاں پہنچ جاتا ہے جہاں عقل بھی کام چھوڑ کر دنگ رہ جاتی ہے . انسان پر نور اور معرفت کے دروازے کھلنا شروع ہوجاتے ہیں جسے دیکھ کر عقل ہمیشہ کی طرح بار بار دنگ رہ جاتی ہے کہ باطن کی ایسی دنیا بھی آباد ہے جہاں اصل حکومتیں چلتی ہیں جہاں فیصلے بھی ہوتے ہیں اور سزاؤں کے آرڈر بھی جاری کیے جاتے ہیں . آخر میں بس اتنا ہی کہونگا کہ الله کے لئے اپنے بچوں کی تربیت پر کام کرو انکو نبی کریم کی سنّت پر لاؤ انکو بتاؤ کہ بادشاہت چھوڑ کر کیوں غیروں کی غلامی پر تلے ہوئے ہو ہمارے پاس بہت کم وقت ہے ہم نے اس مسافر خانے سے کوچ کر جانا ہے اور جس جگہ ہم جا رہے ہیں وہاں ہمارا سامنا الله اور اسکے نبی صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم سے ہوگا کیا ہم اس قابل ہے کہ ہم سامنا کر پائینگے کیوں ہم اقبال کی خودی کو نہیں پڑھتے جس نے ہمارے آج کے لئے لکھا ...
خوار جہاں ميں کبھی ہو نہيں سکتی وہ قوم
عشق ہو جس کا جسور ، فقر ہو جس کا غيور

دارارقم سکولز مریدکے الحمداللہ ماضی روایت برقرار.......
13/12/2021

دارارقم سکولز مریدکے الحمداللہ ماضی روایت برقرار.......

Address

Muridke
39000

Opening Hours

Monday 07:00 - 14:00
Tuesday 07:00 - 14:00
Wednesday 07:00 - 14:00
Thursday 07:00 - 14:00
Friday 07:00 - 14:00
Saturday 07:00 - 14:00

Telephone

+923016805653

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dar_E_ Arqam schools muridke posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Dar_E_ Arqam schools muridke:

Shortcuts

Share

Category