:اکبر نجیب آبادی اپنی کتاب قول حق امت مسلمہ کے زوال کے اسباب میں لکھتے ہیں کہ
اس بات کا فیصلہ کرنا بے حد دشوار ہے کہ ملت اسلامیہ کے حق میں پیشہ ور مولویوں کا گروه زیادہ موذی ہے یا دوکاندار پیروں کی جماعت زیادہ ہلاکت آفرین ہے۔ ایک طرف بھیڑیوں نے جبے اور عمامے سنبھال رکھتے ہیں تو دوسری طرف خون آشام چیتوں اور ریچھوں نے مصلوں اور تسبیحوں کی پناہ لے رکھی ہے اور اسلام کو سینہ فگار و زخم دار بنانے میں ایک دوسرے پر سبقت و فضیلت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اکثر خانقاہیں بد چلنی اور بے حیائی کی درسگاہیں بنی ہوئی ہیں۔ اکثر پیروں نے ناچنے گانے والی فاحشہ عورتوں اور بے دین آوارہ نوجوانوں کی سر پرستی اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ ان کے تعویز گنڈوں اور ان کی شیطانی چالاکیوں نے مسلمانوں کو قرآن و حدیث اور اللہ و رسول کلام سے ہزار ہا فرسنگ دور ڈال دیا ہے۔ مسلمانوں کو مشرک بنانے اور پیر پرستی و گور پرستی کی لعنت میں گرفتار کرنے کے لیے ان بگلا بھگت پیران پارسا نے جو عظیم الشان کامیابی حاصل کی ہے وہ اولاد آدم کی بے عزتی کا نہایت ہی المناک مظاہرہ ہے۔ ان ظالموں نے اپنے نذرانوں اور چراغیوں کو مریدوں کی نماز ، روزہ، حج ، زکوۃ اور تمام تکلیفات شرعیہ کا کفارہ قرار دے دیا ہے۔ دنیا کا شریر سے شریر انسان اور چالاک سے چالاک بد معاش جن چالاکیوں ، فریبوں اور دھوکا بازیوں کو ایجاد و استعمال کر سکتا ہے ان سب کی مثالیں ان دوکاندار پیروں کے اعمال اور ان کی زندگیوں میں موجود مل سکتی ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ ان پیروں کی اطاعت و پیروی میں عملاً حقیقتا اسلام سے بے تعلق اور نا آشنا ہو چکا ہے کہ اس میں سوائے اس اشتراک اور دعوائے اسلام کے اور کوئی اسلامی چیز نظرنہیں آتی۔
Islaheeman
Islamic Information
Quran and Sunnah
روز قیامت رسول کا رب سے شکوہ
وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا(الفرقان:30)
اور رسول کہے گاکہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سحر زدہ ماننے والے کبھی ہدایت نہیں حاصل کرسکتے۔
قرآن کا فیصلہ
وَقَالَ ٱلظَّٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا’’ اور ظالموں نے ( مومنوں سے ) کہا تم ایک سحر زدہ انسان کے پیچھے لگ گئے ہو ‘‘
سورۃ فرقان
"جادو میں اثر ماننے کا عقیدہ دنیا کی عالمگیر گمراہیوں میں سے ایک ہے، قرآن نے 1400 سال پہلے اس کے بے اثر ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔"
ابوالکلام آزاد کی تحریر سے
نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ایک مسیحی عقیدہ ہے جو کہ اسلامی شکل و لباس میں نمودار ہوا ہے۔
ابوالکلام آزاد
09/04/2024
صلوٰۃ عید الفطر 7 بجے ادا کی جاۓگی۔ ان شاء اللہ
محمد رسول اللہ کے راستے سے منہ موڑنے والے غور وفکر کریں۔
القرآن
سورۃ نمبر 25 الفرقان آیت نمبر 27
القرآن - سورۃ نمبر 25 الفرقان
آیت نمبر 27
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِى اتَّخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا ۞
ترجمہ:
اور جس دن (ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا (اور کہے گا) کہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔
02/06/2023
12/11/2022
عقیدہ ایصالِ ثواب قرآن کی نظر میں ایک مدلل اور ناقابل تردید مقالہ
تالیف
علامہ حبیب الرحمٰن صدیقی کاندھلوی
اس بات کا تو سبھی کوعلم ہے کہ بیشتر عجمی ممالک ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش و ایران وغیرہ میں ایصالِ ثواب کی رسمیں بشکل قرآن خوانی، تیجہ،ساتوں، چہلم، برسی اور عرس وغیرہ عام ہیں اور جزوِ دین اور مرنے والوں کے لئے جنت کا ویزہ تصور کی جاتی ہیں، لیکن اس حقیقت سے بہت ہی کم لوگ واقف ہوں گے کہ ایصالِ ثواب کا عقیدہ اور اس متعلق تمام رسومات کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ اس عقیدے پر عمل کرنا فعل عبث ہے۔ اوراس عقیدے سے قرآن حکیم کا انکار لازم آتا ہے۔ نیز یہ کہ یہ باطل عقیدہ ہندو، پارسی، عیسائی اور یہود و دیگر غیر مسلم اقوام کا زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے جس کو ہم عجمی مسلمانوں نے دوسروں کی دیکھادیکھی یا نومسلم ہونے کی بناپر مختصر تبدیلیوں کے ساتھ اپنالیا یا اپنائے رکھا اور مسلمان ہو کر بھی اس سے چھٹکارا حاصل نہ کرسکے۔ بلکہ آگے چل کر اس کو اتنی ترقی دے دی کہ ایصال ثواب کی رسمیں تقریب دعوت اور جشن کا سماں پیش کرنے لگیں اور ان کو ثواب دارین حاصل کرنے کا ذریعہ بھی سمجھا جانے لگا۔
کتاب پڑھنے کے لیئے لنک پر کلک کر کے ڈاؤن لوڈ کریں
https://kutubhub.blogspot.com/2022/11/blog-post_11.html?m=1
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Multan