29/09/2026
`مرجع اعلی آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی ( دام ـ ظله) کی نصیحت سے اقتباس`
*لڑکی کے سرپرست کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ انہیں شادی سے روکیں یا ایسے رسم و رواج کے ذریعے اس راہ میں رکاوٹیں کھڑی کریں جنہیں اللہ تعالیٰ نے لازم قرار نہیں دیا*
مثلاً مہر میں حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، چچا زاد بھائیوں یا خاص قبیلہ کے خاندان میں شادی کے انتظار میں لڑکی کی شادی مؤخر کرتے رہنا۔
اس طرزِ عمل میں ایسی بڑی خرابیاں پوشیدہ ہیں جن کا انہیں اندازہ بھی نہیں ہوتا۔
یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اللہ سبحانہٗ نے والد کو بیٹی پر سرپرستی کا حق صرف اس لیے دیا ہے کہ وہ ان کی خیرخواہی کریں اور ان کی بھلائی و مصلحت کا خیال رکھیں۔
لہٰذا جو شخص اپنی بیٹی کو اس کی بھلائی کے بغیر محض اپنی طرف سے روک کر رکھے گا وہ اس وقت تک مسلسل گناہ کا بوجھ اٹھاتا رہے گا جب تک وہ بیٹی اس کے کیے ہوئے عمل کے منفی اثرات سے دوچار رہے گی۔
یوں وہ اپنے لیے جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول لے گا۔