Jamia Ghousia Ijaz ul Quran Industrial Estate Multan

Jamia Ghousia Ijaz ul Quran Industrial Estate Multan

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jamia Ghousia Ijaz ul Quran Industrial Estate Multan, Educational Research Center, جامعہ غوثیہ اعجاز القرآن و جامعۃ السیدہ آمنہ – مدینۃ البنات, � انڈسٹریل اسٹیٹ لنک سوئی گیس روڈ، نزد چاہ رتے والا، ملتان, Multan.

26/05/2026

عید الاضحی کی خوشیوں کے اس عظیم موقع پر جامعہ کے مسافر و مستحق طلبہ کو ضرور یاد رکھیں شکریہ

25/05/2026

*قربانی: فضائل، مقاصد اور فقہی احکام*
*تحقیق و ترتیب: حافظ غلام عباس*
قربانی دینِ اسلام کا ایک عظیم شعار اور عبادتِ مقصودہ ہے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی لازوال قربانی کی یادگار اور سید الانبیاء ﷺ کی سنت متواترہ ہے۔ قربانی محض ایک رسم یا گوشت کھانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تسلیم و رضا اور بندگی کا والہانہ اظہار ہے۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور اس کا اصل مقصد دلوں میں تقویٰ الٰہی کو بیدار کرنا ہے۔
قربانی کے فضائل، اس کی تاریخی حیثیت اور بے حساب اجر و ثواب کا اندازہ اس مبارک حدیث سے ہوتا ہے جو سنن ابن ماجہ اور مسند احمد میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! ﷺ ان قربانیوں کی حقیقت (اور تاریخ) کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے (روحانی) باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔“ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! ﷺپھر اس میں ہمارے لیے کیا ثواب ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جانور کے) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! ﷺاور اون کا کیا حکم ہے؟ (کیونکہ مینڈھے اور دنبے پر بال کے بجائے اون ہوتی ہے)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اون کے ہر ریشے (بال) کے بدلے بھی ایک نیکی ہے۔“
*عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا هَذِهِ الأَضَاحِيُّ ؟ قَالَ : سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ قَالُوا : فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : بِكُلِّ شَعَرَةٍ ، حَسَنَةٌ قَالُوا : فَالصُّوفُ ؟ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ ، حَسَنَةٌ. (سنن ابن ماجه، حديث: 3127)*
اس حدیثِ مبارک سے واضح ہوتا ہے کہ قربانی کا یہ عمل ہمیں ابراہیمی تاریخ کے تسلسل سے جوڑتا ہے اور اس کے بدلے بندے کو بے حساب نیکیاں حاصل ہوتی ہیں۔ جانور کے جسم پر موجود بالوں اور اون کے ایک ایک ریشے کے عوض نیکی کا وعدہ اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت اور اس عبادت کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ قربانی ایک عظیم الشان ابراہیمی سنت ہے جس کا مقصد اللہ عز وجل کی رضا کے لیے خون بہانا ہے، تو شریعت مطہرہ نے اس کے درست طریقے، مخصوص وقت اور مقبولیت کی بنیادی شرط بھی مقرر فرمائی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے صحیح بخاری میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اہم ترین حدیث پاک رہنمائی کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحیٰ کے دن ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”اس دن ہم سب سے پہلے نمازِ عید پڑھیں گے، پھر واپس جا کر قربانی کریں گے۔ جس نے اس طرح کیا، اس نے ہماری سنت (اور طریقے) کو پا لیا۔ اور جس نے نماز سے پہلے ہی ذبح کر لیا، تو وہ محض گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی تیار کر لیا، قربانی کی عبادت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔“ اس پر آپ کے صحابی حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں نے نماز سے پہلے ہی ذبح کر لیا تھا، اور میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بچہ ہے جو گوشت کے لحاظ سے ایک سالہ جانور سے بہتر ہے (کیا وہ کافی ہوگا؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی جگہ اسے ذبح کر لو، لیکن تمہارے بعد یہ رعایت کسی اور کے لیے نہیں ہوگی۔“
*عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: «إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لِيسَ مِنَ النُّسُکِ فِي شَيْءٍ». فَقَامَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، فَقَالَ: «اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ». (صحيح البخاري، حديث: 968)*
فقہائے کرام نے ان احادیث مبارکہ کے امتزاج سے یہ مسائل اخذ کیے ہیں کہ قربانی صرف منیٰ کے ساتھ مخصوص نہیں(جیسا کہ بعض دانشوروں کاخیال ہے) بلکہ مدینہ منورہ اور پوری دنیا کے مقیم مسلمانوں کے لیے مستقل حکم ہے۔ مزید یہ کہ اس عبادت کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا؛ جیسےدو رکعت نماز کا متبادل گھنٹوں کا قیام و تلاوت نہیں ہو سکتے ، ویسے ہی قربانی کی رقم کا صدقہ کرنا یا رفاہی کاموں میں لگانا قربانی کا متبادل نہیں بن سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ وقت کی پابندی اور جانور کی عمر کی شرائط کی پاسداری بھی لازمی ہے۔
چونکہ قربانی اتنے عظیم اجر کی حامل اور دین کا بنیادی شعار ہے، اس لیے استطاعت اور مالداری کے باوجود اس کو ترک کرنا یا اس میں سستی برتنا بارگاہِ رسالت ﷺ میں سخت ناپسندیدہ ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص میں قربانی کرنے کی وسعت (طاقت) ہو اور پھر بھی وہ قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔“
*عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ، وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا». (مسند أحمد / سنن ابن ماجه، حديث: 3123)*
اس سخت وعید کے بعد ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ قربانی کے تمام فقہی احکام سے پوری طرح واقف ہو تاکہ اس کی عبادت شرعی اصولوں کے مطابق درست ادا ہو۔ فقہ کی معتبر کتب (جیسے ہدایہ، فتاویٰ ہندیہ اور الدر المختار) کی روشنی میں اہم احکام درج ذیل ہیں:
*قربانی کا شرعی حکم اور وجوب کی شرائط:* فقہ حنفی میں قربانی واجب ہے جبکہ باقی ائمہ کرام کے نزدیک سنت مؤکدہ ہے۔ یہ ہر اس مسلمان، مقیم (جو شرعی سفر پر نہ ہو) اور صاحبِ نصاب پر واجب ہے جس کے پاس عید کے تین دنوں میں اپنی بنیادی ضرورت اور قرض سے زائد اتنی رقم، سونا، چاندی، مالِ تجارت یا ضرورت سے زائد سامان موجود ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی (52.5 تولے) کی قیمت تک پہنچ جائے۔ یاد رہے کہ قربانی کے نصاب پر زکوٰۃ کی طرح سال گزرنا شرط نہیں ہے۔
*قربانی کا وقت:* قربانی کا وقت ۱۰ ذی الحجہ کی صبحِ صادق سے شروع ہو کر ۱۲ ذی الحجہ کے غروبِ آفتاب تک (کل تین دن اور دو راتیں) رہتا ہے، تاہم سب سے افضل دن پہلا دن یعنی ۱۰ ذی الحجہ ہے۔ اسی طرح رات کی بجائے دن میں افضل ہے۔ شہری علاقوں میں جہاں عید کی نماز ہوتی ہے، وہاں نمازِ عید کے خطبے اور سلام پھیرنے سے پہلے ذبح کرنا جائز نہیں، جبکہ دیہاتی علاقوں میں جہاں عید کی نماز قائم نہیں ہوتی، وہاں کے لوگ ۱۰ ذی الحجہ کی صبحِ صادق طلوع ہوتے ہی قربانی کر سکتے ہیں۔
*جانوروں کی اقسام اور عمریں:* قربانی صرف پالتو چوپایوں (بہیمۃ الانعام) کی جائز ہے۔ بکری، بھیڑ اور دنبے کی عمر کم از کم ایک سال مکمل ہونا ضروری ہے (البتہ اگر ۶ ماہ کا دنبہ یا بھیڑ اتنی موٹی تازی ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کی لگے، تو اس کی قربانی جائز ہے)۔ گائے، بیل اور بھینس کی عمر کم از کم دو سال مکمل ہو کر تیسرا سال شروع ہو، جبکہ اونٹ اور اونٹنی کے لیے کم از کم پانچ سال کی عمر مکمل ہونا شرط ہے۔
*جانوروں میں شراکت (حصے داری):* بکری، بکرا، بھیڑ اور دنبے میں صرف ایک ہی قربانی ہو سکتی ہے اور اس میں حصے نہیں کیے جا سکتے۔ گائے، بھینس اور اونٹ جیسے بڑے جانوروں میں زیادہ سے زیادہ سات (۷) حصے ہو سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ کسی بھی حصے دار کا حصہ ساتویں حصے (1/7) سے کم نہ ہو، اور تمام شرکاء کی نیت صرف قربانی یا عقیقہ کی ہو، محض گوشت حاصل کرنا مقصود نہ ہو۔
*جانوروں کے عیوب کا حکم:* قربانی کا جانور ہر قسم کے عیب سے پاک اور تندرست ہونا چاہیے۔ ایسا اندھا یا کانا جس کا کانا پن بالکل واضح ہو، ایسا بیمار جس کی بیماری بالکل ظاہر ہو کر اسے لاغر کر چکی ہو، یا ایسا لنگڑا جو ذبح کرنے کی جگہ تک اپنے پاؤں سے چل کر نہ جا سکے، اس کی قربانی جائز نہیں۔ اسی طرح جس جانور کے کان، دم یا چکتی کا ایک تہائی (1/3) یا اس سے زیادہ حصہ کٹ گیا ہو، یا سینگ جڑ سے اس طرح ٹوٹ گیا ہو کہ دماغ متاثر ہوا ہو، تو اس کی قربانی بھی درست نہیں (البتہ پیدائشی طور پر سینگ نہ ہونا کوئی عیب نہیں ہے)۔
*گوشت اور کھال کے احکام:* قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنا مستحب ہے؛ ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے، ایک حصہ رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے، اور ایک حصہ غریبوں اور مساکین کے لیے۔ قربانی کا گوشت یا کھال کسی قصاب کو اس کی مزدوری (اجرت) میں دینا جائز نہیں، قصاب کو اجرت اپنے پاس سے الگ رقم سے دی جائے۔ اگر قربانی کی کھال فروخت کر دی جائے، تو اس کی قیمت اپنے استعمال میں لانا ناجائز ہے، بلکہ اسے حقوق العباد کے تحت مستحقینِ زکوٰۃ (فقراء و مساکین) پر بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا واجب ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قربانی محض ایک مادی عمل، جانور ذبح کرنے یا گوشت تقسیم کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ دراصل دلوں کے تقویٰ اور خلوص کا امتحان ہے۔ بندے کی نیت جتنی صاف اور احکامِ شریعت کے مطابق ہوگی، بارگاہِ الٰہی میں وہ عمل اتنا ہی مقبول ہوگا۔ جیسا کہ قرآنِ کریم کی سورہ الحج میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
*لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (الحج:۳۷)*
”اللہ کو ہرگز نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اسے تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔“

25/05/2026
24/05/2026

قربانی کی کھالیں جامعہ غوثیہ اعجاز القرآن کے مسافر طلبہ کو دے کر دین دوستی کا ثبوت دیں شکریہ

02/05/2026

مولانا آصف متعلم جامعہ غوثیہ اعجاز القرآن اپنے مخصوص انداز میں بزم ھدایت میں اپنی حاضری پیش کرتے ہوئے

01/05/2026

ماہانہ محفل درودِ پاک جامعہ غوثیہ اعجاز القرآن
بحمدہ تعالیٰ اسلامی مہینے کے دوسرے جمعہ باقاعدگی سے سجائی جاتی ہے

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

جامعہ غوثیہ اعجاز القرآن و جامعۃ السیدہ آمنہ – مدینۃ البنات, � انڈسٹریل اسٹیٹ لنک سوئی گیس روڈ، نزد چاہ رتے والا، ملتان
Multan
60900